Novel Hunterss

Novel Hunterss Most Welcome Novelists 🥰♥️😘
if You Are Novel Reader You Are At The Right Place This Page is All About Novels
Like, Follow, Comments, Share, Thanku

URoobroo e ishq Part 5 Romantic part بغیر ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے، وہ فوراً اپنے دونوں ہاتھ ماہا کے وجود پر رکھ چکا تھ...
20/06/2026

URoobroo e ishq Part 5 Romantic part

بغیر ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے، وہ فوراً اپنے دونوں ہاتھ ماہا کے وجود پر رکھ چکا تھا اور انہیں زور زور سے دبانے لگا۔ ماہا اس کے انداز پر ہڑبڑا چکی تھی، کہنے لگی، "یہ کیا کر رہے ہو؟ چھوڑو مجھے!"
لیکن وہ فوراً اپنے دانت اس کی گردن پر گاڑ کر، اسے زور سے بھینچتے ہوئے کہنے لگا، "تمہارے کہنے پر سب کچھ تو کرتا ہوں، اب اتنی حق وصولی کرنا تو میرا بھی حق بنتا ہے۔ قسم سے، ہوٹل میں گزرے لمحات یاد کر کر کے میرا وجود بڑی سختی سے اکڑ جاتا ہے، اور آج سوچ چکا ہوں کہ اسے تمہارے وجود میں اتارے بغیر دم نہیں لوں گا۔"
ماہا اس کے بے باک الفاظ پر شرما چکی تھی۔ وہ بڑی شدت سے اس کی گردن پر اپنا چہرہ رکھ کر لو بائٹس (Love bites) کے نشان ڈالتا چلا گیا۔ وہ اس کی پوری گردن پر نشان ڈال چکا تھا، پھر اسے اٹھا کر سیدھا صوفے پر پھینک دیا۔ ماہا کے لبوں سے ایک چیخ نکلی تھی، وہ غصے سے کہنے لگی، "حد ہے! اتنے زور سے گرایا ہے مجھے۔"
لیکن وہ فوراً اپنی شرٹ کے بٹن کھول چکا تھا اور ایک جھٹکے سے ماہا کی شرٹ کو اوپر کر کے ریڈ کلر کی برا (Bra) میں اس کے حسن کو دیکھنے لگا۔ کہنے لگا، "اف! یہ حسین چوٹیاں تم نے میرے لیے سجا کر رکھی ہیں؟"
ماہا کے چہرے پر ایک سرشاری بھری مسکراہٹ آئی، وہ انگڑائی لے کر کہنے لگی، "ہاں، اتنا سرپرائز تو اب میری طرف سے بھی تمہارے لیے بنتا تھا نا۔"
وہ فوراً اس پر ٹوٹ پڑا تھا اور لبوں سے اس کے وجود کو چھونے لگا۔ وہ اس قدر شدت سے اس کی نازکی پر دانت گاڑ رہا تھا کہ ماہا کی چیخیں نکلنے لگیں۔ وہ دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ کر اسے دور کرنے لگی، "پلیز، آرام سے کرو! کاٹو مت، درد ہو رہا ہے مجھے۔"
لیکن وہ رکا نہیں، جب تک کہ اس نے اسے سرخ نہ کر دیا۔ وہ دیوانہ وار اس کا رس پی رہا تھا، جبکہ ساتھ ہی اس نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر اس کے ٹراؤزر میں ڈالا۔ ماہا کے پورے وجود میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا۔ جب وہ اپنی انگلیوں سے اس کی نازکی کو چھیڑنے لگا، تو نمی سے اس کی انگلیاں شرابور ہو چکی تھیں۔ وہ کسی ماہر کھلاڑی کی طرح اپنی انگلیوں سے اسے سرشاری بخش رہا تھا۔ ماہا کی سسکیاں اس وقت لاؤنج میں گونج رہی تھیں، "پلیز نہ کرو، بس کرو... میرا حلق خشک ہو رہا ہے، مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔" وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بول رہی تھی لیکن وہ رکا نہیں تھا۔ اپنی انگلیوں کی تیز حرکت سے وہ اسے سرشاری کی بلندی تک پہنچا گیا، یہاں تک کہ اس کا ٹراؤزر مکمل طور پر نمی سے بھیگ گیا۔
ماہا گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی اور پسینے سے مکمل شرابور ہو چکی تھی۔ جب وہ اس کے لبوں کو چومنے کے بعد اس سے الگ ہوا، تو نڈھال سی صوفے پر گری ہوئی ماہا کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگا، "بس اتنی ہمت تھی تمہاری؟ میرے سامنے تو تم ایک منٹ بھی نہیں ٹک سکتی۔"
یہ کہہ کر اس نے اپنی پینٹ کی زپ کھولنا شروع کر دی اور پھر خود کو ہر پردے سے آزاد کر دیا۔ اس کی مردانہ سختی اس وقت ماہا کے بالکل سامنے تھی، جسے دیکھ کر ماہا کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کا حلق خشک ہو چکا تھا، جب وہ کہنے لگا، "سویٹ ہارٹ! پکڑو اس کو۔ کل تو میں نے تمہیں بخش دیا تھا، لیکن آج نہیں بخشی جاؤ گی۔"
یہ کہہ کر وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سخت وجود پر رکھ چکا تھا۔ ماہا کو وہ ایک گرم راڈ کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے اپنا ہاتھ وہاں ٹکا سکی۔ وہ اس کا ہاتھ کلائی سے پکڑ کر اسے دھیرے دھیرے موو (Move) کرنے لگا اور کہنے لگا، "شرما کیوں رہی ہو یار؟ سیدھی اٹھ کر بیٹھو اور جیسے میں کہہ رہا ہوں، ویسے کرو۔"
ماہا اس وقت مکمل طور پر لذت میں ڈوب رہی تھی، مگر اسے یہ سب کرنا کچھ عجیب بھی لگ رہا تھا۔ کہنے لگی، "یہ کیا الٹے سیدھے کام کروا رہے ہو تم مجھ سے؟ رومانس کی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن میں اسے ایسے نہیں پکڑ سکتی۔"
اس کے انکار پر وہ اس کی بے پردہ نپل کو اپنی انگلیوں سے گھمانے لگا اور اسے زور سے کھینچ کر کہنے لگا، "زیادہ باتیں مت کرو، سمجھی؟ چپ چاپ میرا ساتھ دو اور انجوائے کرو۔" وہ لذت سے بھرپور انداز میں بولا اور پھر اس سے اپنی سختی کو تیز تیز موو کروانے لگا۔ ماہا کے پاس جتنی قوت تھی، وہ دونوں ہاتھوں سے اسے موو کر رہی تھی۔
وہ جیسے ہی مزے کی بلندی پر پہنچنے لگا، اس نے ماہا کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور پھر اس سے الگ ہو کر گہرے گہرے سانس لینے لگا۔ ماہا سرشاری بھرے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی، جب وہ دوبارہ اس پر جھکا اور اس کے لبوں کو چوسنے لگا۔ پھر وہ اس کی گردن پر آیا اور وہاں اپنے لب گاڑنے کے بعد اس کے سینے کی طرف بڑھا۔ اس کے نازک وجود پر جگہ جگہ کاٹے جانے کے نشانات بن چکے تھے۔ جب وہ نیچے اس کے پیٹ تک آ گیا، تو وہاں پر اپنے لب رکھ کر اپنے دانت گاڑ گیا۔ اس وقت لاؤنج میں ماہا کی سسکیوں بھری چیخیں گونج رہی تھیں۔ وہ تڑپ رہی تھی، چیخ رہی تھی، لیکن وہ شخص رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ سرکتا ہوا اس کی ناف تک پہنچ چکا تھا اور پھر وہاں پر اپنے لبوں سے شدتیں لٹانے لگا۔ وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن وہ شخص جنونی انداز میں بالکل پاگل ہی ہو چکا تھا۔
اگلے ہی لمحے اس نے ٹراؤزر کو بھی اس کے وجود سے الگ کر دیا۔ ماہا خوف اور لذت سے سرخ انگارہ ہو چکی تھی اور کانپتے ہوئے کہنے لگی، "نہیں... میں مزید تمہیں کچھ نہیں کرنے دوں گی، بس اتنا کافی ہے۔ میں تم سے کچھ بول رہی ہوں نا!"
لیکن وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔ کسی چھوٹی معصوم سی گڑیا کی طرح اس نے ماہا کو اپنے حصار میں اٹھایا اور پھر صوفے پر بیٹھے ہوئے ہی اسے اپنی گود میں لٹا لیا۔ وہ پوری طرح سے اس کے قبضے میں تھی، ہر پردے سے آزاد... اور وہ خود بھی اس وقت بے لباس تھا۔ اس کے وجود کی سختی اس وقت ماہا کی پشت سے ٹکرا رہی تھی، جب وہ اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگا، "اپنی ٹانگیں کھولو۔"
لیکن وہ انہیں سختی سے جوڑ کر لیٹی رہی اور کہنے لگی، "ہرگز نہیں، میں نے نہیں کھولنی! کیا کرو گے تم؟"
وہ اپنی آنکھوں میں تپش لیے اسے دیکھ کر کہنے لگا، "جو بھی کروں، تم صرف اور صرف میری ہو۔ تمہارے وجود پر میں اپنی مہر ثبت کرنا چاہتا ہوں ۔"
ماہا اس کے جذبات کے آگے بالکل ڈھیر ہو چکی تھی۔ جب اس نے خود ٹانگیں نہ کھولیں، تو اس نے سختی سے اس کی ٹانگوں کو پھیلا دیا اور پھر اس کی نازکی پر اپنی انگلی پھیرنے لگا۔ ماہا کی سسکیاں ایک بار پھر سے بلند ہوئیں، وہ مکمل طور پر نمی سے بھیگ چکی تھی۔ جب ماہا نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا، تو وہ اپنی انگلی کا دباؤ بڑھانے لگا۔ ماہا کو جیسے ہی کچھ ہونے کا احساس ہوا، اس نے اسے روکنا چاہا، لیکن تب تک وہ ایک جھٹکے سے اپنی انگلی اس کی گہرائیوں میں اتار چکا تھا ۔
ماہا کی ایک دل خراش چیخ نکلی، وہ سسک رہی تھی، لیکن وہ اسے اپنی گود میں لٹائے اس کے لبوں کو چوسنے لگا اور اس کے حسن کو بھینچتے ہوئے کہنے لگا، "کیا ہو گیا؟ میں تو صرف جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہوں، ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ میری ایک انگلی نہیں برداشت ہو رہی تم سے؟ ابھی تو تم نے میرے پورے وجود کو اس کے اندر برداشت کرنا ہے۔"
ماہا کانپ اٹھی تھی، جب وہ دھیرے دھیرے اپنی انگلی اندر باہر کرنے لگا۔ ماہا کو پہلے شدید جلن ہوئی، لیکن رفتہ رفتہ ایک سکون سا ملنے لگا۔ وہ بالکل ہی نڈھال ہو چکی تھی، جب وہ تیز تیز اپنی انگلی موو کرنے لگا۔ ماہا کی سسکیاں ابھر رہی تھیں، وہ اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ انگلی سے اس کے وجود کو چھیڑتا ہوا اپنی دوسری انگلی بھی اس کی گہرائیوں میں ڈالنے کی کوششوں میں لگ گیا۔ ماہا کانپتے ہوئے بول رہی تھی، "نہیں پلیز مت کرو، میں مر جاؤں گی! مجھ سے ایک ہی انگلی برداشت نہیں ہو رہی۔"
لیکن وہ شخص سننے کو تیار نہیں تھا، اس نے دوسری انگلی بھی اندر اتار دی۔ ماہا ٹانگیں کھولے اس کے ہاتھ کی حرکت کو دیکھ رہی تھی۔ انگوٹھے سے وہ اس کی نازکی کا اوپری حصہ رب (Rub) کر رہا تھا اور ساتھ دو انگلیاں اندر باہر کرتا ہوا اس کی چیخیں نکلوا رہا تھا۔ ماہا سمجھ چکی تھی کہ آج وہ نہیں بچنے والی۔ اس نے تو سوچ رکھا تھا کہ شادی سے پہلے کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دے گی، لیکن آج وہ ہار چکی تھی۔
وہ اسے صوفے پر ہی لٹائے اپنے وجود کی سختی کو اس کی نازکی پر رب کرنے لگا۔ اس کی دونوں ٹانگوں کو پکڑ کر وہ اپنے کندھوں پر رکھ چکا تھا۔ ماہا کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے ہی رہ گیا تھا۔ وہ اس کی منتیں کرتی رہ گئی، "نہیں، پلیز کچھ مت کرنا... اندر پش (Push) مت کرنا۔"
لیکن وہ اس کی بات سن ہی کہاں رہا تھا؟ کہنے لگا، "ڈارلنگ، پلیز! یہ تمہاری اور میری محبت کی نشانی ہے۔ بہت تڑپایا ہے تم نے مجھے، اب مزید نہیں۔"
یہ کہہ کر وہ اپنی سختی کو اس کی نازکی پر جما چکا تھا اور پھر ایک زوردار جھٹکے سے وہ ادھا حصہ اس کے وجود میں شامل کر گیا۔ ماہا کی فلک شگاف چیخ گونجی، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ تڑپ رہی تھی اور بس کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی، جب اس نے ماہا کے دونوں ہاتھوں کو جکڑ لیا۔ وہ اس قدر اس پر جھک گیا کہ اس کی دونوں ٹانگیں اس کے سینے کے ساتھ لگ گئیں، اور اس نے ایک اور زوردار جھٹکا مار کر اس کے وجود کی گہرائی تک رسائی حاصل کر لی۔
ماہا کی آنکھیں جیسے ابل کر باہر آنے کو تیار تھیں۔ اس نے فوراً جھک کر ماہا کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر لیا اور ان کا رس پینے لگا۔ ماہا اس کی شدتوں سے بالکل بے دم ہو رہی تھی اور بن پانی کی مچھلی کی طرح کانپ رہی تھی۔ درد کی شدت پورے وجود میں رقص کر رہی تھی، لیکن وہ شخص اب دھیرے دھیرے موومنٹ کرنے لگا تھا۔ جیسے جیسے اس کی نازکی سن ہونے لگی، ماہا بھی ان لمحات میں گم ہونے لگی تھی۔ درد کے ساتھ ساتھ اسے لذت بھی محسوس ہونے لگی اور وہ شخص اس کے وجود میں جھٹکوں سے اپنا احساس دلاتا ہوا بالآخر اس کے وجود پر ہی ڈھیر ہو گیا۔
ماہا تو بالکل چلنے کے لائق ہی نہیں رہی تھی۔ جیسے ہی اس کا نشہ دماغ سے اترا، اس نے فوراً اسے خود سے الگ کیا اور کہنے لگی، "یہ کیا کر دیا تم نے؟ میں تمہیں کہہ رہی تھی نا کہ یہ سب مت کرنا... لیکن تم نے میری ایک سمسٹر کی فیس کیا ادا کر دی، بدلے میں مجھ سے میری پاک بازی ہی لے لی!"
وہ شخص ابھی بھی اس کے حسن سے کھیل رہا تھا۔ اسے گود میں بٹھا کر، اس کی نازکی سے نکلنے والا خون اس کے وجود کو سرخ کر چکا تھا۔ وہ مسکرا کر ٹشو سے خود کو اور اسے صاف کرتے ہوئے کہنے لگا، "میری جان! شادی کے بعد بھی تو تم نے میرا ہی ہونا تھا نا؟ ابھی لے لیا تو کیا ہو گیا؟" وہ ایک بار پھر اس کے لبوں کو چوم گیا، جبکہ ماہا اس کے سینے پر نڈھال سی لیٹ گئی۔ درد سے اس کی کمر اور پیٹ میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں، جب وہ شخص اس کے لیے پین کلر اور دودھ لے کر آیا، جسے پی کر اسے کچھ آرام ملا۔
وہ تو لیٹ کر آرام بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ یونیورسٹی کا ٹائم ختم ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ باقی تھا اور اسے واپس گھر جانا تھا۔ وہ ٹھیک سے چل بھی نہیں پا رہی تھی۔ اسے یوں لڑکھڑا کر چلتا دیکھ کر وہ قہقہے مار کر ہنسنے لگا، جیسے اپنی مردانگی پر جشن منا رہا ہو کہ اس نے ماہا افتخار کو چلنے کے لائق بھی نہیں چھوڑا۔ ماہا اسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھی اور کہنے لگی، "بچو گے نہیں تم میرے ہاتھوں! دوبارہ میں کبھی تمہاری باتوں میں آ کر تمہارے پاس نہیں آؤں گی، سمجھے تم؟"
لیکن وہ اپنے وجود کو سراہتے ہوئے کہنے لگا، "سوچ لو! تمہیں میری کشش اور جوانی دوبارہ میری طرف کھینچ لائے گی۔" وہ ایک آنکھ دبا کر بولا تھا، جبکہ ماہا اس کی بے باکی پر شرم سے سرخ ہونے لگی۔
جانے سے پہلے وہ پانچ پانچ ہزار کے کئی نوٹ اس کے پرس میں رکھ چکا تھا، جو کہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ تک کی رقم بنتی تھی، اور پھر اس نے ماہا کو ایک گولڈ بریسلیٹ بھی گفٹ کیا تھا۔ جسے دیکھ کر کافی حد تک اس کا درد ختم ہو چکا تھا۔ یہی تو وہ چاہتی تھی، اور ان سب کے لیے اگر اسے اپنی عزت بھی گوانا پڑتی، تو وہ ہر حد سے گزرنے کو تیار تھی۔
∆∆∆∆∆∆∆

ارحا کے پورے وجود میں سنسنی کی لہر دوڑ چکی تھی، وہ شرما رہی تھی۔ ہچکچاتے ہوئے کہنے لگی، "زیان، زیان، مجھے شرم آ رہی ہے، پلیز! مجھے ڈر لگ رہا ہے۔"
لیکن زیان نے اسے باہوں میں بھر کر اس کی کمر پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا اور پھر بڑی بے باکی سے وہ اس کی بیک (back) پر ہاتھ رکھ کر اسے دبانے لگا۔ ایک جھٹکے سے اس کی بیک سے پکڑ کر اسے اپنے ساتھ نیچے سے جوڑ چکا تھا۔ زیان کا وجود ایک دم سے اکڑ کر سخت ہو چکا تھا، جو کہ ارحا کو اپنی ٹانگوں کے بیچ محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ اس کا چہرہ اوپر کر کے اس کے لبوں پر اپنی شدتیں لٹانے لگا۔ اس کے نازک لبوں کا رس پی کر وہ اس کی زبان کو سک (suck) کر رہا تھا۔ جب ارحا کے لیے سانس لینا محال ہو گیا، تو وہ اسے چھوڑ چکا تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے اپنا چہرہ اس کی گردن کے قریب رکھ گئی۔ جب وہ اس کے کان کی لو کو کاٹ کر کہنے لگا، "قسم سے! بہت ہاٹ لگ رہی ہو یار۔ میں نے سوچا نہیں تھا کہ تم اس نائٹی میں اتنی پیاری لگو گی کہ مجھے گرم کر دو گی۔ آج رات میں تمہیں بالکل نہیں بخشنے والا۔"
ارحا بھی بے خود ہو رہی تھی، مدہوش ہو رہی تھی۔ جب اس نے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا اور بغور دیکھنے لگا۔ ارحا کی بھاری دھڑکنیں اور درمیان سے نظر آتی کلیویج (cleavage) دیکھ کر وہ بے قابو سا ہوا تھا۔ اپنا ہاتھ اس کی دھڑکنوں پر بڑھا کر وحشی کی طرح انہیں ہلانے لگا اور پھر اپنی زبان اس کے دھڑکنوں کے بیچ رکھ کر سک کرنے لگا تھا۔ ارحا کی جان لبوں پر آئی تھی، اس کا سارا کنٹرول ختم ہوتا جا رہا تھا۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی جب وہ اسے یوں ہی پکڑ کر اپنی گود میں اٹھا کر اور پھر بستر پر لٹا چکا تھا۔ ارحا کو اس کے وجود کی سختی سے خوف آ رہا تھا۔ جب وہ اس پر جھکا اور اس کی دھڑکنوں کو نائٹی کے اوپر سے زبان پھیر کر سک کرنے لگا۔ کمرے میں ان دونوں کی مدہوشی بھری آوازیں گونج رہی تھیں۔ وہ اس کی گردن پر لو بائٹس (love bites) کے نشان ڈالنے لگا، اس کی گردن کو سک کر کے وہ ریڈ کر چکا تھا۔ ارحا تو بس لٹتی جا رہی تھی۔
جب زیان نے اسے یوں بے سدھ مدہوشی میں پڑا دیکھا، تو کہنے لگا، "یہ کیا طریقہ ہوا؟ کیا صرف میں ہی کروں سب کچھ؟ تم کیوں بت بن کر بیٹھی ہو؟ میرا پورا پورا ساتھ دو۔ مجھے مزہ دو، میں بھی تو تمہیں دے رہا ہوں۔"
ارحا بے بسی سے اسے دیکھ کر کہنے لگی، "میں کیا کروں؟ اب سب کچھ تو آپ کر ہی رہے ہیں۔"
وہ نفی میں سر ہلا کر کہنے لگا، "کیوں؟ میں نے تمہیں اتنا سکون دیا ہے۔" وہ اس کی دھڑکنوں کو نائٹی سے آزاد کر کے اس کی گلابی نپل پر اپنی انگلی پھیر کر بولا، "اب تم مجھے بھی سکون دو، ایسے لیٹ لیٹ کر کام نہیں چلے گا۔"
ارحا بھی مدہوش ہو چکی تھی، اس کے کہنے پر فوراً اس کے لبوں پر ٹوٹ پڑی۔ اسے گردن سے پکڑ کر اس کے لبوں کو سک کرنا شروع ہو چکی تھی۔ زیان کو اصل سکون تو اب محسوس ہوا تھا، جب ارحا بڑی شدت سے اس کے لبوں کو چوس رہی تھی، کاٹ رہی تھی۔ اس کی زبان کو اپنے منہ میں لے کر سک کر رہی تھی۔ اور پھر گہرے گہرے سانس لیتی، منہ سے دھکا دے کر بستر پر گرا گئی اور پھر اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ شاید میاں بیوی کا رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ خود بخود ہی ہر شرم و لحاظ ختم ہو جاتا ہے۔ وہ بھی اس وقت مکمل طور پر سرشاری کے نشے میں گم اس کے اوپر بیٹھ چکی تھی، اور پھر زیان کے کہنے پر اس کی گردن پر اپنے لب رکھ چکی تھی۔ اپنے دانتوں کے نشان وہ اس کی گردن پر ڈال رہی تھی۔ دھیرے دھیرے وہ اس کے بالوں والے سینے کو زبان سے چاٹ رہی تھی۔ زیان سسک رہا تھا، "اوہ ہاٹ گرل! بہت سکون دے رہی ہو یار۔"
وہ اپنے ہاتھ اس کی تھائیز (thighs) پر رکھ کر اسے دبا رہا تھا جب وہ اس کے سینے پر آئی اور اس کا سینہ زبان سے رب (rub) کرنے کے بعد سک کرنے لگی۔ پھر اس کے چوڑے سینے پر وہ بار بار کسز (kisses) کر رہی تھی، جبکہ زیان اس کے تھائیز کو پکڑ کر اسے اوپر اٹھا کر اپنی سختی کے اوپر بٹھا چکا تھا۔ مسکرا کر کہنے لگا، "اسے اپنی نازکی پر ایڈجسٹ کرو تاکہ جب آگے پیچھے ہو تو مجھے سکون ملے۔"
ارحا شرم سے سرخ ہو رہی تھی، اس کی نمی کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔ جب وہ اس کی سختی پر اپنی نازکی رکھ چکی تو دونوں کے ہی اس وقت ایک بلند آہ نکلی تھی۔ اور پھر اس کی سختی پر وہ اپنی نازکی ٹکا کر دوبارہ سے جھک کر اس کے سینے کو سک کرنے لگی۔ زیان کو اس کا یہ روپ دل کو بھا چکا تھا، جب وہ شرماتے ہوئے کہنے لگی، "پلیز! اب بس نا۔ اس سے زیادہ مجھ سے کچھ نہیں ہوگا۔"
لیکن وہ اسے گھور کر دیکھ کر کہنے لگا، "کیوں نہیں ہوگا؟ تم وہ سب کرو گی جو میں تمہیں کرنے کو کہہ رہا ہوں۔ چلو، مجھے سکون دو! جب میں تمہاری دھڑکنوں کو سک کر سکتا ہوں، تمہیں لطف ملتا ہے نا؟" ارحا شرماتے ہوئے اسے دیکھنے لگی، پھر ہاں میں سر ہلا گئی۔ وہ مسکرا کر کہنے لگا، "جب تمہیں سکون ملتا ہے نا، تو ہم لڑکوں کو بھی ملتا ہے۔" یہ کہہ کر وہ اپنا لب کاٹ چکا تھا۔
ارحا اس کی بات کا مطلب سمجھتے بے ساختہ اس کے چوڑے سینے کو دیکھنے لگی، جہاں پر وہ چمکتی لائٹ براؤن کلر کی نازک سی جگہ کو دیکھ کر وہ شرم سے سرخ لال ہو چکی تھی۔ شرماتے ہوئے ہنستی، وہ زیان کے سینے پر سر رکھے کہنے لگی، "یہ آپ کیا کرنے کو کہہ رہے ہیں مجھے؟"
زیان کہنے لگا، "لو بھلا! جب میں تمہارے چوس چوس کر ریڈ کر رہا تھا تب میں تو نہیں شرمایا تھا۔ تمہیں کس لیے شرم آ رہی ہے؟ شاباش، مجھے سکون دو! جتنا مجھے سکون دو گی اتنا ہی میں تم پر رحم کروں گا، ورنہ میری سختی کو دیکھا ہے نا؟"
ارحا تو جھرجھری لے کر رہ چکی تھی۔ آنکھوں میں آنسو لائے، روحانسی ہو کر کہنے لگی، "ایک بات بولوں؟"
زیان کہنے لگا، "ہاں بولو۔"
وہ اپنی انگلی اس کے سینے پر ٹریس کر کے کہنے لگی، "میں آپ کی سختی کو جھیل نہیں پاؤں گی، بہت درد ہوگا، میں مر جاؤں گی۔"
لیکن زیان اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہنے لگا، "مجھ پر بھروسہ ہے نا تمہیں؟" وہ ہاں میں سر ہلا گئی۔ کہنے لگا، "پھر کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ چلو شاباش! اب ایموشنل ڈرامے بند کرو، جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔"
وہ فوراً اٹھ کر بیٹھی تھی، دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھے تھے اور پھر اگلے ہی لمحے اپنی زبان سے اس کے لائٹ براؤن کلر کی جگہ کو منہ میں لے چکی تھی۔ زیان کے لبوں سے لذت بھری آہ نکلی تھی۔ وہ اپنی زبان زیان کی حساس جگہ پر پھیر رہی تھی۔ زیان لطف کی بلندیوں پر پہنچ چکا تھا۔ نیچے سے اس کی سختی مزید سخت ہو چکی تھی، جو کہ ارحا کی نازکی پر لگ رہی تھی۔ ارحا اس کے سینے کے حساس حصے کو چوستی ہوئی انکھیں بند کر رہی تھی۔ زیان فل پاگل ہو چکا تھا۔ باری باری اس کے سینے پر موجود حساس حصے کو سک کرنے کے بعد وہ تھک کر ایک طرف گر چکی تھی۔
جبکہ زیان تو جیسے اس کے اس رومانس کے بعد جوشیلا ہو چکا تھا۔ اسے یوں بے راہ دیکھ کر اس نے ایک جھٹکے سے اس کے وجود سے اس نائٹی کو بھی الگ کر دیا۔ شرم کے مارے وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی دھڑکنوں کو چھپانے لگی اور ایک ہاتھ سے اپنی نازکی۔ زیان مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ کہنے لگا، "اتنی بڑی دھڑکنیں ہیں تمہاری، بھلا تمہارے ایک ہاتھ سے کہاں چھپیں گی؟ تمہاری عمر سے بڑی تو مجھے تمہاری دھڑکنیں لگتی ہیں، قسم سے! انہوں نے مجھے اپنا دیوانہ بنا کر رکھا ہوا ہے۔ آج یہ مجھ سے بچنے نہیں والی۔"
یہ کہہ کر وہ اس کا بازو ہٹاتا ان پر ٹوٹ چکا تھا۔ اتنا تو ارحا بھی جان چکی تھی کہ زیان اس کی دھڑکنوں پر دیوانہ ہو چکا ہے۔ وہ بڑی زور سے اس کی دھڑکنوں کو سک کر رہا تھا، پورے کمرے میں اس کے سک کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں، اور ارحا کی سسکیاں بھی۔ وہ تڑپ رہی تھی، مچل رہی تھی۔ جب وہ اس کی دھڑکنوں کا حشر بگاڑ چکا، تو اٹھ کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی اور اس کی دھڑکنیں اس کے سینے پر ہل رہی تھیں۔ زیان نے اپنی سختی کو پکڑا، ارحا سے کہنے لگا، "یہ اپنی دونوں ٹانگیں کھولو۔"
ارحا کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا۔ جس وقت کا اسے انتظار تھا، خوف تھا، وہ وقت آن پہنچا تھا۔ وہ ڈر کے مارے اپنی ٹانگیں زور سے بند کر گئی، جب زیان کہنے لگا، "کھولو ان کو! ریلیکس، ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، سب کچھ بالکل آرام سے ہوگا۔" وہ اس کی دونوں ٹانگیں خود دھیرے دھیرے کھول چکا تھا۔ پوری ٹانگیں کھولنے کے بعد وہ اس کی ٹانگوں کے بیچ آیا اور پھر اس کی نازکی کو بغور دیکھنے لگا جو اس وقت نمی کی وجہ سے چمک رہی تھی۔ اس نے اپنی سختی کو پکڑا، اسے اپنی سختی پر بھی اب جلن محسوس ہو رہی تھی، وہ مزید برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔ جب اس نے پکڑ کر اس کی نازکی کے ساتھ اسے لگایا تو ارحا تڑپ چکی تھی۔ فوراً گھبرا کر کہنے لگی، "نہیں! مجھ سے برداشت نہیں ہوگا، پلیز!"
لیکن زیان بڑے پیار سے اس کی نازکی پر انگلیاں پھیرنے لگا اور پھر دھیرے دھیرے اپنی ایک انگلی اس کی نازکی کی گہرائی پر رکھنے لگا۔ کہنے لگا، "میں کوئی ظالم انسان نہیں ہوں جو سختی کے ساتھ پیش آؤں گا۔" اس نے اپنی ایک انگلی کو دھیرے سے اس کی گہرائی میں شامل کیا تو ارحا تڑپ چکی تھی۔ اس نے اپنی انگلی کو اس گہرائی میں شامل کر کے اس کے لبوں کو چوم لیا تھا۔ ارحا کو جلن محسوس ہو رہی تھی، وہ ڈر رہی تھی اور اس بات سے زیان بھی واقف تھا۔ دھیرے دھیرے اس نے اپنی انگلی کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔, "سویٹ! تم بس میرے ساتھ یہ رات انجوائے کرو، میں تمہارے ساتھ کوئی سختی نہیں کروں گا۔ بس جب تک تم مجھے سہنے کے قابل نہیں ہو جاتی، تب تک میں تمہارے اندر اسے نہیں ڈالوں گا۔"
ارحا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے تو لگا تھا زیان ایک جھٹکے میں اس کے وجود کو تار تار کر دے گا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔ کتنی دیر وہ اپنی انگلی اس کے وجود میں اندر باہر کرتا رہا، پھر جب اپنے وجود کی سختی کو اس کی نازکی پر رکھا۔ وہ تڑپ رہا تھا، اس کے وجود میں اپنی سختی کو شامل کرنا چاہتا تھا، لیکن اسے ارحا اس وقت بہت ہی معصوم گڑیا جیسی لگ رہی تھی۔ اس کا وجود بہت ہی نازک تھا، بالکل کسی چھوٹی بچی جیسا۔ وہ اس سے عمر میں بھی بہت چھوٹی تھی اور دبلی پتلی سی تھی۔ ایسے میں اس کی نازکی میں اس کی سختی ایک دم سے جانا تکلیف کا باعث بن سکتا تھا۔
اس نے ایک بار اپنی سختی کو اس کے وجود میں داخل کرنا چاہا، لیکن ارحا کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔ اس نے مزید زور نہ لگایا اور وہیں اس کی نازکی پر اپنی سختی کو رکھ کر اس کے اوپر لٹ چکا تھا۔ اسے باہوں میں بھر کر کہنے لگا، "جب تک تمہارا ڈر ختم نہیں ہوگا، تب تک میں کیسے کچھ کر پاؤں گا یار؟" ارحا فوراً کہنے لگی، "آپ میرے ڈر کی پرواہ مت کریں، اندر ڈال دیں! میری وجہ سے اپنی سہاگ رات خراب مت کریں۔"
لیکن اسے تو اس معصوم سی لڑکی سے محبت ہو چکی تھی۔ کہنے لگا، "نہیں! پہلے میں تمہارے وجود کو خود کو سہنے کے قابل بناؤں گا۔ جب اندر جگہ بن گئی، اس کے بعد ہی تمہارے اندر اپنا سخت حصہ ڈالوں گا۔" یہ کہہ کر وہ اسے باہوں میں بھر چکا تھا۔ اس کی دھڑکنوں پر سر رکھے، نپل کو منہ میں لے کر سک کرنے لگا اور ایک ہاتھ سے اس کی نازکی میں بار بار انگلیاں ڈال رہا تھا۔ ارحا کو اس کا یوں کرنا اچھا لگ رہا تھا۔ جب اس کی انگلی اندر ایڈجسٹ ہو گئی، تو اس نے تیز تیز اسے موو (move) کرنا شروع کر دیا۔ ارحا مزے کی انتہا پر تھی، وہ کانپ رہی تھی، سسک رہی تھی۔ اس نے بڑے زور سے زیان کو جکڑ لیا تھا۔ وہ تیز تیز انگلی اس کے اندر باہر کرتا، اسے مزے کی بلندیوں پر پہنچا چکا تھا۔ وہ اپنی شدتیں اس کے ہاتھ پر انڈیل گئی تھی اور نڈھال سی ہو کر اپنا چہرہ زیان کے سینے میں چھپا گئی۔
لیکن زیان، جو اسے چوم رہا تھا، ابھی تک یوں ہی سخت تھا۔ اس کے کان کے قریب کہنے لگا، "تم تو منزل تک پہنچ گئی ہو، اب میرا کیا؟" وہ بھولی بھالی صورت بنائے اسے دیکھ رہی تھی، کہنے لگی، "بتائیے کہ کیا کرنا ہوگا مجھے؟" اسے پھر سے کل والا وقت یاد آیا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور پھر ارحا کی نازکی پر اپنی سختی کو زور سے رب (rub) کرنے لگا۔ پھر اس کے دونوں ٹانگوں کو پکڑ کر اپنے کندھوں پر رکھا تھا۔ ارحا سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ کرنے کیا والا ہے۔ جب زیان نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اپنے ایک کندھے پر رکھ دیا، اس کی ٹانگیں دونوں جڑ چکی تھیں اور نیچے سے اس کی نمی سے لبریز نازکی دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے اپنی سختی کو اس کی نمی پر رکھ کر زور سے اس کی نازکی پر رب کرنا شروع کر دیا۔ ارحا کی ٹانگیں جڑی ہوئی تھیں اس لیے نازکی میں زور سے رگڑ لگ رہی تھی۔ رانوں میں پش (push) کرتے ہوئے زیان کو الگ ہی درجے کا سکون مل رہ

Whatsapp Channel
https://whatsapp.com/channel/0029VbC7SyIHVvTclfdWZX2G

PDF Novels
https://chat.whatsapp.com/KZdInUFwGAa0vjfoMpTeNb

ناول فینٹسی🎀🎀میرا__بخت_ہو_تم🥀🥀رائٹر✍️✍️فائزہ__احمد☕🍫👇👇Don,t copy paste without my permission, 🙄😠لاسٹ قسط🎉🎉زرغون نے ہونٹو...
19/06/2026

ناول فینٹسی🎀🎀

میرا__بخت_ہو_تم🥀🥀

رائٹر✍️✍️
فائزہ__احمد☕🍫
👇👇
Don,t copy paste without my permission, 🙄😠

لاسٹ قسط🎉🎉

زرغون نے ہونٹوں ہر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھا وہ شان دار سا شخص اکے قدموں میں بیٹھا اسکے جواب کا طلب گار تھا۔
زرغون کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی چھلکی تھی ۔
زرغون آئی ایم ویٹنگ یور آنسر،

وہ اسے چپ دیکھ کر دھیمے سے بولا تھا ۔
مجھے آپکا ساتھ صرف اس دنیا میں ہی نہیں اس جہاں میں بھی چاہئیے جہاں ہمارا ساتھ ابدی ہو گا جہاں ہمیں کوئی الگ نہیں کر سکے گا میں اللہ سے یہی دعا مانگتی ہوں وہ آپ کو اُس جہاں میں بھی میرے بخت میں لکھے ۔

وہ اسکے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو ہونٹوں سے لگا کر دھیمی آواز میں بولی تھی ۔
جس پر وہ کھڑا ہوتا مسکرا دیا ۔
زرغون تم میرا بخت ہو پتا نہِیں میں نے کونسی ایسی نیکی کی تھی جس کے بدلے میں اللہ نے مجھے زرغون عطا کی زرغون تم میری زندگی ہو۔!۔۔۔۔۔۔
وہ بھی جواباً اسکے ہاتھ کی ہتھیلی ہونٹوں سے چھوتا گھمبیر لہجے میں بولا تھا ۔
وہ مسکرا دی تھی ۔۔۔
اوپر چمکتا چاند ستارے بھی اس لڑکی کی مسکان پر مسکرا دئیے تھے ۔۔
آپ اب مجھ سے کبھی ناراض مت ہوئیے گا میں آپکے بنا زرا بھی رہ نہیں سکتی آپ کی ڈانٹ سننا آپ کا پیار سا روپ دیکھنا آپ کو چڑانا مجھے بہت اچھا لگتا ہے میں آپ کو تنگ کیے رکھنا چاہتی ہوں ۔

وہ اس کی لمبی ناک انگلیوں سے کھینچتی ہوئی شرارت سے بولی تھی جس پر بخت نے اسے گھورا ۔

اور اگر میں تم سے کوئی شرارت کروں تو !
وہ اسکی طرف بڑھتا ہوا معنی خیزی سے بولا تھا ۔
وہ گھبرا کر تھوڑا پیچھے کی طرف کھسکنے لگی تھی ۔
آپ تو بڑے ہیں نا آپ پر شرارت تھوڑی نا سوٹ کرئے گئی۔
وہ گھبرا کر بولی ۔
اب اتنا بھی بڑا نہِیں ہوں بیوی سے شرارت تو کر ہی سکتا ہوں ۔
وہ بھاگتی ہوئی زرغون کی کلائی جھکڑتا ہوا آئی برو اچکا کر بولا ۔۔۔
زرغون گھبرائی اسکے گھمبیرتا لہجے سے ۔
وہ اسکا چہرہ اپنے چہرے کے بہت قریب کر چکا تھا ۔
زرغون تم اذلان بخت کی سانس ہو دور مت جایا کرو مجھ سے یہ دل رک سا جاتا ہے ۔
وہ اسکے ہاتھ کو دل کے مقام پر رکھتا سنجیدگی سے بولا ۔
وہ اسے دیکھتی مسکرائی پھر آہستہ سے جھکتی اسکے دل کے مقام پر ہونٹ رکھ گئی تھی دونوں کی دھڑکنوں نے ایک ادھم سا مچایا تھا ۔
وہ اسے اپنے ساتھ بھینچتا ہوا آسودگی سے مسکرایا تھا ۔۔
""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""
فاطمہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو نماز پڑھ کر اس پر پھونک مار رہا تھا وہ آنکھیں بند کیے پڑی رہی ۔
حنان اس کے اطراف پر بازوں رکھے اسکی رقص کرتی دراز پلیکں دیکھنے لگا ۔
فاطمہ آپ جاگ رہی ہیں ۔
وہ اس کی پلکوں کو انگلی سے چھوتا ہوا ہولے سے بولا ۔
وہ لب کاٹتی ہوئی دھیرے سے پلکیں وا کر گئی۔
صبح بخیر ۔
وہ اسے آنکھیں کھولتا دیکھ کر بولا۔
صبح بخیر ۔
وہ اٹھ کر بیٹھتی ہوئی بولی ۔
سر جھکا ہوا تھا تو پلیکیں بھی جھکیں ہوئیں تھیں چہرے پر شرمگیں مسکراہٹ تھی جو صرف حنان ہی دیکھ سکتا تھا ۔
مجھے نہیں پتا تھا یہ زندگی آپ کے ساتھ مجھے اتنی حسین لگے گٙی میں نے تو آپ کے ملنے کی امید ہی چھوڑ دی تھی لیکن اللہ نے آپکو میرے بخت میں ازل سے لکھ دیا تھا یہ دل ایسے ہی تو آپ کی طرف نہیں کھینچتا تھا ۔

وہ اسکے چہرے کو اپنی طرف موڑتا ہوا دھیمے سے مسکراتے ہوئے بولا۔
وہ دھڑکتے دل سے اسے دیکھے گئی ۔۔
آپ کچھ نہیں کہیں گئی ۔۔۔۔۔
حنان اسے چپ دیکھ کر بولا۔
میں کیا بولوں ۔
وہ پریشانی سے بولتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی ۔
آپ کچھ بھی بولیں لیکن پلیز بولیں میں آپ کو سننا چاہتا ہوں آپ کے ہونٹوں سے اپنا نام سننا چاہتا ہوں ۔
وہ اسکے قریب ہوتا ہوا بولا تھا ۔
جس پر فاطمہ کے دل کی دھڑکنوں نے انوکھا سا شور مچایا تھا کہ وہ شخص کسی کو بھی خود سے جوڑنا جانتا تھا ۔
حنان مسکرایا۔
آپ شرماتی کیوں ہیں اتنا !
یار بندا اب اتنا بھی شائے نا ہو کہ اپنے شوہر کو دیکھ تک نا سکے ۔
وہ بھرپور شرارت سے بولا تھا ۔
آپ مجھے تنگ نا کریں مجھے اٹھنے دیں ۔
وہ جھجھکتی ہوئی بولی تھی ۔
آپ کو تنگ کرنے کا حنان لاشاری کا ہی حق ہے ، آپ پلیز ایک بار مجھے میرے نام سے پُکاریں۔

وہ سنحیدگی سے اکے نقوش دیکھتا ہوا بولا ۔
فاطمہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔
جس کے خوبصورت چہرے پر صرف فاطمہ کا ہی عکس لہرا رہا تھا ۔
حنان مجھے جانے دیں ۔
وہ اسے دیکھتی ہوئی بولی ۔
جائیں لیکن ایک شرط پر ۔
وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولا ۔
کیا!
فاطمہ نے حیرت سے پوچھا۔
میرے گال پر کِس کرنا ہو گا آپ نے ورنہ یہاں سے آپ کو اٹھنے میرے تو فرشتے بھی نہیں دیں گئے ۔۔۔
وہ گھبرا گئی تھی اسکے شرارتی لہجے پر ۔۔
حنان میں ایسی نہیں ہوں ۔
وہ منہ بسور کر بولی ۔
ہاہاہا۔ ۔
سیریسلی فاطمہ آپ ایسی نہیں ہیں پلیزا یک بار پھر سے کہہ دیں حنان میں ایسی نہیں ہوں۔
وہ قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔
جس پر فاطمہ مبہوت سی ہوتی اسکا چہرہ دیکھنے لگی تھی ۔

حنان نے مسکراہٹ روکتے ہوِئے اسکے سانولے شفاف چہرے کو دیکھا جس پر قوس وقزاح کے بکھڑے رنگ حنان کو پھر سے شرارت پر اُکسا رہے تھے ۔
حنان نے اسکی ناک پر ہولے سے ہونٹ رکھے پھر اسکے گالوں پر وہ ہولے ہولے اسکے سب نقوش کو چوم رہا تھا جبکہ فاطمہ دھڑکتے دل سے اسے کے نقوش کی نرمی اپنے چہرے پر محسوس کرتی کسی اور ہی جہاں کی سیر کو نکل چکی تھی جہاں صرف رنگ ہی رنگ تھے محبت و چاہت کے۔۔۔
___________________________
وہ چل رہی تھی لیکن سر اتنا بھاری تھا کہ اس سے چلا نہیں جا رہا تھا وہ ہونٹ بھینچے ریلنگ کو تھام گئی سامنے سے آتے بخت کو دیکھ کر وہ مسکرا کر اسکی طرف بڑھی تھی جب وہ دھڑام سے نیچے گری تھی۔
زرغون !
وہ لیپ ٹاپ نیچھے پٹختا ہوا بلند آواز میں اسے پکارتا اسکی طرف دوڑا تھا ۔
کیا ہوا ہے تمہیں۔
وہ اسے فرش سے اٹھاتا ہو پریشانی سے پوچھنے لگا تھا ۔
سر چکرا گیا تھا میرا۔
وہ آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے بولی ۔
تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک تھی تو کیوں باہر آئی ڈاکٹر آ رہی ہے کچھ دیر میں تم کمرے میں چلو ۔
وہ اسے اٹھاتا ہوا سنجیدگی سے کہنے لگا تھا جبکہ وہ آنکھیں میچے اسکے سینے سے سر اٹکائے گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی ۔

وہ اسے بیڈ پر لٹاتا ہوا پھر سے ڈاکٹر کو فون کرنے لگا تھا۔
ڈاکٹر آخر آپ کب آئیں گئی میری وائف کی طبیعت خراب ہے آپ پلیز ارجنٹ آئیں ۔
وہ سرد لہجے میں کہتا ہوا فون صوفے پر پھینک گیا تھا۔
وہ سر تھامے بیٹھی تھی ۔
کیا زیادہ سر درد ہے ۔
وہ نرم لہجے میں اس سے پوچھنے لگا تھا ۔
وہ سر ہلا گئی تھی۔
وہ اسکا سر چومتا آہستہ سے اسکا سر اپنی گود میں رکھتا ہوا دبانے لگا تھا ۔
زرغون نے حیرت سے آنکھیں وا کیے اسے دیکھا ۔
وہ مسکرایا۔
حیرت کیوں ہے تمہیں زرغون تم میری بیوی میرے وجود کا حصہ ہو تمہارا سر دبانا میرا فرض ہے ۔
وہ بڑے نرم لہجے میں بولا تھا ۔
جس پر زرغون اسکا ہاتھ تھام کر آنکھوں پر رکھ گئی تھی ۔
وہ ہلکی مسکان سے اسے دیکھنے لگا پھر ایک نظر اسکے وجود پر ڈالی وہ آگاہ تھا اپنی بیوی کے وجود میں آئی تبدیلی سے لیکن وہ ڈاکٹر سے کنفرم کرنا چاہ رہا تھا کچھ اسکی طبیعت بھی بہت خراب تھی ایک دو دن سے ۔۔

ڈاکٹر کو آتے دیکھ کر سب ہی بخت منشن جمع ہو گئے تھے کہ ایسی کیا وجہ ہے جو ڈاکٹر آئی ہے زرغون اور بخت ٹھیک تو ہیں نا ۔

ڈاکٹر نے بخت کے شک کی تصدیق کر دی تھی ۔
جس سے سارے منشن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔
سب خواتیں اسکے پاس بیٹھی اسے مختلف قسم کی ہدایت دی رہیں تھیں فاطمہ تو اپنی بھابھی کی بلائیں لے لے نہیں تھک رہی تھی ۔۔
وہ ہونٹوں پر شرمگیں سی مسکراہٹ لیے سب کو دیکھتی رہی ۔
ہنہ بھی وہی بیڈ پر بیٹھی سب کو نا سمجھی سے دیکھ رہی تھی ۔
مما یہ سب کیا کہہ رہیں ہیں ۔
وہ زرغون کا کندھا ہلاتی ہوئی بولی تھی ۔
کچھ نہیں میری جان ۔
فاطمہ نے زرغون کی جگہ جواب دیا تھا جس پر ہنہ نے منہ بسور کر اپنی ماں کو دیکھا جو سفید دوپٹہ سر پر لیے نظریں جھکا بیٹھی کوئی الگ ہی زرغون لگ رہی تھی ۔۔۔۔
بخت بیٹھک میں مردوں میں گھرا تھا وہ کوئی مسلہ لیے آئے تھے ۔
لیکن وہ ہونٹوں پر دھیمی سی مسکان لیے اپنی بیوی کا چہرہ اپنی آنکھوں میں لیے ہوئے تھا ۔

بخت تم کیا کہتے ہو اس بارے میں۔
آغا جی نے اسے مخاطب کیا ۔
کس بارے میں ۔
وہ چونک کر بولا ۔
کیا مطلب کس بارے میں اس مسدلے کے بارے میں کہاں دھیاں تھا تمہارا کوئی حال نہیں بچے تمہارا۔
آغا جی غصے سے بولے تھے ۔
جس پر وہ بجائے سنجیدہ ہونے کے مسکرا دیا تھا ۔
جس پر آغا جی نے اسے دل ہی دل میں ہزاروں گالیوں سے نوازا تھا ۔
ڈیٹھ کہی کا ۔
وہ غصے سے جھنجھلائے تھے۔
""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""
ہنہ کو تیار کرتی وہ جھنجھلا رہی تھی آج مالا اور احمد کی مایوں تھی ۔۔
زرغون کے جھنجھلانے کی وجہ بخت تھا جو گیارہ دن سے آوٹ آف کنٹری تھا کل اس نے آنا تھا لیکن اسے کوئی کام پڑ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ آ نہیں سکا تھا ۔۔
زرغون کا سراپا بھرا بھرا سا بہت پیارا لگتا تھا ۔
گھنگھڑیالے بال کمر سے نیچے تک آتے تھے وائٹ فیروزی سوٹ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی لیکن منہ بسورے ہوئے تھی۔ ۔
آغا جی انکے ساتھ ہی رہ رہے تھے جس دن سے بخت آوٹ آف کنٹری گیا تھا۔
مما بابا جان کل آئیں گئے انہوں نے بتایا تھا مجھے ۔
ہنہ نے اسے پریشان دیکھ کر نرمی سے بتایا تھا ۔
جانتی ہوں آنے دو میں بھی ان سے بات نہیں کروں گئی ۔
وہ ہنہ کو کلپ لگاتے ہوٙے بولی ۔
بھابھی آپ تیار ہوں گئی ہوں تو باہر چلیں سب آپکا ویٹ کر رہیں ہیں ۔
فاطمہ اندر آتی ہوئی بولی ۔
ہاں میں بس آنے ہی لگی تھی ۔
وہ ہیٙئر برش ٹیبل پر رکھ کر کہتی ہوئی فاطمہ کی طرف بڑھی ۔
فاطمہ گرین سلک کا شرارہ اوپر گرین ہی شارٹ شرٹ پہنے ہوئے تھی سر پر پیلا دوپٹہ تھا وہ پہلے سے کافی خوبصورت دیکھتی تھی یہ سب حنان کی محبت تھی جس نے اسے نکھاڑ دیا تھا وہ خود اعتماد بھی ہو گئی تھی ۔
انکی شادی کو تین ماہ ہو چکے تھے جبکہ زرغون کی شادی کو پانچ ماہ ۔۔
مالا اور احمد کی شادی آسان نہیں تھی یہ بخت کا ہی کمال تھا جس نے یہ مشکل کام سر انجام تھا ۔
پہلے بلال کو بہت مشکل سے منایا پھر آغا جی کو پھر باقی گھر والوں کو جس طرح اس نے منایا تھا یہ صرف بخت ہی جانتا تھا ۔

لیکن اس نے سب کو منا کر ہی سکھ کا سانس لیا تھا آخر سب کو ماننا ہی تھا آخر اسکے ساتھ آغا جی تھے اور آغا جی کی بات کون ٹال سکتا تھا بھلا ۔
مالا نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا تھا آخر وہ کس کے سہارے اپنے ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھتی وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی حنان کی محبت سے نکل جانا چاہتی تھی جو راتوں کو اسے اذیت میں مبتلا رکھتی تھی وہ تھک چکی تھی یک طرفہ محبت کے بوجھ سے ۔
اسکے ہاں کرتے ہی سب نے منگنی کی بجائے شادی کو ہی ترجیع دی تھی ۔۔
ساتھ ہی زرگل اور خیام کی بھی رخصتی کرنا طے پایا تھا ۔۔
بخت کو شادی سے دس دن پہلے ایک ضروری کام کے سلسلے میں آوٹ آف کنٹری جانا پڑا تھا ۔
وہ زرغون کو چھوڑ کر تو نہیں جانا چاہتا لیکن یہ میٹنگ اسے ہی اٹینڈ کرنا تھی اور بہت اہم بھی تھی ۔۔۔
شازم اور ہما کی بھی منگنی کر دی گئی تھی ۔۔
باہر خوب رونق تھی جشن کا سا سماں تھا ڈیگ پر چلتے سونگ اور ارسلان شازم کا ڈانس واوا بھئی واوا ۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی اپنے بھائی کی طرف آئی جو مہمانوں کو اٹینڈ کرتا انہیں کرسیوں پر ادب سے بٹھا رہا تھا ۔۔

ہنی اپنے بھائی کو فون کرتے کے کل بھی ان آئیں اب پرسوں ہی آجائیں ۔
وہ غصے سے ہنی کے پاس آتی ہوٙئی بولی تھی ۔
جس پر حنان اپنی اپنی کی جھنجھلاہٹ پر مسکرایا تھا ۔۔
آپی انہیں ایک اہم کام پڑ گیا تھا یار آجائیں گئے نا کل ۔
وہ اپنی آپی کا گال کھینچتا ہوا محبت سے بولا ۔
وہ جواباً ناک سکوڑے سینے پر ہاتھ باندھے سامنے ناچتے شازم وغیرہ کو دیکھنے لگی تھی ۔
یار کیا بورینگ ڈانس کر رہے ہیں یہ سب ۔
وہ ناک چڑہا کر بولی تھی ۔
اففف میری آپی کا بخت بھائی پر غصہ ۔
وہ سر ہلاتا سوچ کر رہ گیا ۔

وہ سٹیج کی طرف بڑھ گئی ۔
جہاں گرین شرارہ سوٹ پہنے سر پر ریڈ چنڑی اوڑھے ناک میں بڑی سے نتھ لگائے وہ پہچانی نہیں جا رہی تھی احمد کے تو پاوّں ہی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔
احمد اسے دیکھ کر مسکرایا ۔
جواباً وہ بھی مسکرائی۔ ۔
کیسے ہو دلہے میاں ۔
وہ احمد کے ساتھ والی خالی چیئر پر بیٹھتی ہوئی بولی تھی ۔
ویسے اب میں آپ کو کیسا لگتا ہوں ۔
وہ شرارت سے اسکی طرف جھکتا ہوا بولا تھا ۔
مجھے تو تم پہلے بھی بہت اچھے لگتے تھے ۔
وہ بھی شرارت سے بولی۔
سچیییی۔
وہ مصنوعی حیرت سے بولا۔
مچیییی۔
وہ مسکرا کر بولی ۔
لیکن مجھے دیکھ کر آپکے چہرے پر جو بارہ بجتے تھے وہ کیوں بجتے تھے ۔
وہ آئی برو اچکا کر پوچھ رہا تھا۔
میرا چہرہ ہے کوئی ٹائم پیس تو نہیں جس پر بارہ بجیں گئے ویسے آپس کی بات ہے واقعے تم مجھے زرا وی چنگے نئیں لگدے سی لیکن ہن بڑے اچھے لگ رہے ہو ۔
وہ آدھی پنجابی اور آدھی اردو بولتی احمد کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گئی تھی ۔
جس پر پاس بیٹھی رقیہ دادی نے اسے گھورا تھا اور مالا نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
اگر آپ کے شوہر مجھے کڈنیپ نا کرواتے تو آپ کو میں اب بھی اچھا نا لگتا آئی نو آپ سمجھ گئی ہوں گئیں۔۔
وہ آہستہ سے بولا۔
زرغون حیرت زدہ ہوئی ۔
کڈنیپ کیا مطلب ۔
وہ حیرت سے نکلتی ہوئی بولی ۔
آپکو نہیں پتا ۔
وہ چونک کر بولا ۔
وہ لب کھولے حیرت سے سوچنے لگی کہ کیا بخت نے جان بوجھ کر حنان اور فاطمہ کی شادی کروائی تھی اففف میں کیسے نہیں سمجھ سکی تھی ۔
وہ حیرت سے بڑبڑائی تھی ۔۔
احمد اب مالا سے دھیمی آواز میں کوئی سرگوشی سی کر رہا تھا ۔۔

وہ مسکرائی۔ ۔۔
اففففف آپ اتنے اچھے کیوں ہیں بخت ۔
وہ سامنے کھڑے حنان ، فاطمہ کو دیکھتی ہوئی بولی تھی۔

تب ہی وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی ۔۔
ساکت سی وہ سامنے سے آتی شخصیت کو دیکھ رہی تھی ۔
بلیک ٹو پیس سوٹ پہنے ہونٹوں پر دھیمی مسکان لیے وہ آغا جی سے مل رہا تھا پھر اعظم صاحب کی طرف بڑھا تھا ۔
سب حیران سے اس سے مل رہے تھے جس کی شاندار شخصیت سے سب ہی امپریس رہتے تھے ۔
خاقان صاحب سے بھی اس نے حال چال وغیرہ پوچھا تھا ۔۔۔
سب سے ملتا وہ شازم لوگوں کے پاس سے گزرنے لگا تھا جب وہ سب لڑکے اسے اپنے گھیرے میں لے زبردستی لے چکے تھے ۔
وہ سب کو ڈانٹ رہا تھا لیکن وہ اسے زبردستی بھنگڑا ڈالنے کو کہہ رہے تھے ۔
زرغون مبہوت سی اسے دیکھ رہی تھی جو ایک ہاتھ سے ہلکا سا اشارا کرتا ان سے جان چھڑانا چاہ رہا تھا ۔
اففف ڈال دیں نا میں بھی دیکھوں یہ کیسے ڈانس کرتے ہیں ۔۔
وہ ایکسائٹمنٹ سے بڑبڑائی تھی ۔۔

اسکی امراد پوری ہوئی تھی ۔
اذلان بخت لاشاری انکے ساتھ آہستہ آہستہ بھنگڑا ڈالنے لگا تھا ۔
اففف اللہ نظر نا لگے کسی کی۔
اس نے دور سے ہی بلائیں لی تھیں ۔
اب حنان خیام بھی اسکے ساتھ شامل ہو چکے تھے وہ سب لڑکے گول دائرہ بنائے بھنگڑا ڈال رہے تھے ۔
آغا جی نے کئی نیلے نوٹ ان پر سے وار کر پھینکے تھے ۔۔

ہنہ دوڑ کر اپنے بابا جان سے لپٹی تھی ۔۔
بڑا پیارا سا سماں تھا ۔۔۔
وہ ان لڑکوں سے جان چھڑاتا احمد بلال سے ملتا ہوا اسکے قریب آیا تھا ۔
جو اسے ہی خفگی سے دیکھ رہی تھی ۔
اسلام علیکم ۔
وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا ۔
وعلیکم السلام !
وہ سینے پر ہاتھ باندھتی ہوئی جواباً بولی تھی ۔۔
کیسی ہو !
وہ پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اس پر نظریں جمائے دھیمے لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔
اففف میں اپ سے ناراض ہوں مجھے منائے نا کہ حال چال پوچھیں ۔
وہ خفگی سے بولی ۔
وہ مسکرایا ۔
لیکن میں جانتا ہوں میری وائف مجھ سے زرا بھی ناراض نہیں ۔
وہ ہنوز دھیمے لہجے میں بولا ۔
وہ ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگی تھی ۔
جس کی خوبصورت چہرے میں زرغون کے لیے صرف محبت ہی جھلکتی تھی ۔
لیکن آپ اتنے دن جو ہم تینوں سے دور رہے ۔
وہ خفگی سے بولی ۔۔
وہ مسکرایا۔
محنت بھی تو تم تینوں کے لیے کرتا ہوں نا ۔
وہ اسکے بالوں کو ہاتھوں سے چھوتا ہوا بولا تھا
وہ گھبرا کر ایک دو قدم پیچھے ہوئی ۔

پھر اپنی طرف آتے آغا جی کو دیکھنے لگی جو ان کے قریب آتے ہوئے بخت کو ایک سائیڈ پر لے گئے تھے ۔۔۔
اففف ایک تو میرے شوہر کو میرے پاس کوئی ٹھہرنے ہی نہیں دیتا میں کیا کروں ان سب کا ۔
وہ جھنجھلا کر سیڑیاں اترتی ہوئی اعظم صاحب کے پاس بیٹھ گئی تھی ۔۔
مالا نے دور کھڑے حنان کو دیکھا جو مسکرا مسکرا کر اپنی بیوی سے کوئی بات کر رہا تھا جو سر جھکائے مسکر رہی تھی ۔
مالا نے گہرا سانس لیتے ہوئے اس مکمل جوڑے سے نگاہیں ہٹا کر اپنے ساتھ بیٹھے احمد کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
مالا بھی مسکرا دی وہ خود سے محبت کرتے انسان کی قدر کرنا چاہتی تھی وہ یک طرفہ محبت کو بھول جانا چاہتی تھی جس میں سوائے حسارے کے کچھ نہیں تھا۔۔
بخت بھی زرغون کے ساتھ اعظم صاحب کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا ۔
بات ان سے کر رہا تھا لیکن دیکھ زرغون کو رہا تھا جو جوس پیتی اسے اگنور کر رہی تھی ۔
__________________________

افففف یہ بچہ ہے یا میرا ابّا ہر وقت مجھے پیچھے دوڑائے رکھتا ہے ایک باپ ہیں جنہیں آفس اور اپنی پولیٹکس سے ہی فرصت نہیں ۔۔۔
افنان کے پیچھے بھاگتی وہ بڑبڑا رہی تھی ۔۔
آفنان انتہا کا شرارتی بچہ تھا وہ ہر وقت ماں کو اپنے پیچھے ہی دوڑائے رکھتا تھا ۔۔۔
وہ سامنے سے آتے اپنے باپ کی طرف بانہیں بڑھا گیا تھا ۔
زرغون کمر پر ہاتھ رکھے رُک گئی تھی ۔
بابا مما مارتی ،
وہ ماں کی طرف اشارا کرتا ہوا کہہ رہا تھا ۔
بخت اسکا منہ چومتا مسکرایا پھر اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو جھنجھلا کر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
میں نہیں جانتی آپ اسے سمجھا دیں نا یہ دودھ پیتا ہے نا ہی کچھ اور کھاتا ہے سارا دن میں اسکے پیچھے بھاگ بھاگ کر دبلی سی ہو گئی ہوں آپ اسے اپنے ساتھ آفس لے کر جایا کریں تاکہ آپ کو پتا تو لگے ۔
وہ جھنجھلا کر بولی تھی بخت کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر۔ ۔

بخت آفنان کو نیچے کھڑا کرتا ہوا اسکی طرف آیا ۔۔
آفنان باہر کی طرف دوڑ گیا تھا ۔۔

زرغون میری جان میں تو تمہیں بھی اپنے ساتھ آفس لے جانا چاہتا ہوں لیکن تم ہی راضی نہیں ہو اس میں میرا کیا قصور ۔۔
وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتا ہوا لب دباتا مسکرایا تھا ۔
میں مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں میں سیریس ہوں ۔
وہ اسکی قربت سے پریشان ہوتی ہوئی بولی کہ یہاں کوئی بھی آ سکتا تھا ۔
میں بھی سیریس ہوں ۔
وہ اسکی ناک سے ناک جوڑتا ہوا دھیمے لہجے میں بولا ۔۔
وہ گھبرا گئی تھی اسکے لّو دیتے لہجے سے ۔
آپ چھوڑیں مجھے ہنہ سو رہی ہے آتی ہو گئی وہ۔ ۔
وہ اسکا ہاتھ کمر سے ہٹاتی ہوئی ارد گرد دیکھ کر بولی۔
میں چینج کر لوں تم تب تک آفنان کو بار سے لے آو ۔
وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا ٹائی کی نوٹ ڈھیلی کرتا ہوا آگے بڑھا ۔
وہ چمکتی آنکھوں سے اسکی پشت دیکھتی مسکرا دی ۔۔
وہ شخص اسکی پرچھائی تھا ۔
وہ سوٹ پہنے واش روم سے باہر آیا جب وہ اسکے لیے چائے اور پانی لے آئی ۔۔
ٹھینکس مائے لیڈی ۔۔
وہ پانی کا گلاس پکڑتا ہوا بولا ۔
وہ مسکرائی۔۔
انکا بیٹا ڈھائی سال کا تھا فاطمہ اور حنان کی بیٹی تھی تو خیام اور زرگل کی بھی ایک بیٹی تھی وہ سب خوش حال زندگی گزار رہے تھے ۔۔
مالا احمد کے ساتھ سپین ہوتی تھی وہ آسودہ تھی احمد کے ساتھ ۔
بالکنی میں کھڑا وہ چائے پیتا اسکی ارد گرد کی باتیں سن رہا تھا وہ بولے جا رہی تھی جبکہ وہ بڑے دھیان سے اسکی اوٹ پٹانگ باتیں سن رہا تھا ۔
زرش اپنی کھڑکی میں کھڑی بڑی حسرت سے انہیں دیکھ رہی تھی غرور کہی مٹی میں مل چکا تھا وہ گہرا سانس لیتی ہوئی رو دی۔

آپی پلیزز رونا چھوڑ دیجئے اور آگے بڑھنا سکھیں کب تک پیچھے مڑ کر دیکھتی رہیں گئی آپ آغا جی کے دوست کے بیٹے کا جو رشتہ آیا اسکے لیے ہاں کردیں پلیزز ۔
زرگل نے زرش کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سمجھایا ۔
اس آدمی کی دو بیٹیاں ہیں زرگل ۔
زرش نے لب بھینچتے ہوئے کہا۔
آپی پلیز خقیقت سے کام لیں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں خود کو نہیں مما بابا کو دیکھیں پھر فیصلہ کریں ۔
زرگل سنجیدگی سے کہتی ہوئی چلی گئی ۔
زرش نے لب بھینچتے ہوئے ایک فیصلہ نا چاہتے ہوئے بھی کر لیا تھا اور کرتی بھی کیا اورر کوئی راستہ بھی تو نہیں بچا تھا ۔
____________________________
خبر دار اگر مجھے ہاتھ بھی لگایا ہو تو ٹانگیں توڑ دوں گٙی میں تنہاری بڑا آیا ہاتھ لگانے والا ۔
وہ نیند میں ٹانگیں مارتی ہوٙئی بڑبڑائی تھی ۔
بخت کے پیٹ میں لگی تھی ا سکی ٹانگ وہ تو شکر تھا افنان آج ہنہ کے ساتھ سو رہا تھا ورنہ یہ ٹانگ اسے بھی لگ سکتی تھی اسکی یہ عادت نہیں گئی تھی نیند میں لڑنا دھمکیاں دینا اور ہاتھ پاوّں مارنا ۔۔
وہ گہری سانس لیتا اپنے پیٹ پر دھری اسکی ٹانگ بیڈ پر رکھ گیا تھا ۔
یہ لڑکی کبھی بڑی نہیں ہو گئی چاہے ساٹھ سال کی دادی اماں ہی کیوں نا بن جائے ۔
وہ اسکے نرم نقوش کو دیکھتا ہو بولا تھا ۔
(واوا جی واوا بڑے آئے مجھے مزہ چکھانے والے ایلی کے بچے پہلے تو تجھے پاگل خانے بھیجا تھا اب تمہِیں جیل بھیجوں گئی سمجھے جیل ۔۔)
وہ پھر سے سے ٹانگ اسکے پیٹ میں مارتی ہوئی بڑبڑائی تھی ۔
اففف اس ایلی کو نہیں جینے دے گئی یہ لڑکی ۔۔۔۔۔
وہ تاسف سے بولا ۔
وہ اسے اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا۔
بخت آپ میری نیند ہیں ۔
وہ نیم وا آنکھوں سے بولی تھی ۔
اور تم میرا سکون !
وہ اسکے ہونٹوں کو آہستہ سے چھوتا ہوا بولا تھا ۔
زرغون آسودگی سے مسکراتی ہوئی اسکے وجود میں گھم ہوئی تھی ۔۔
مما یہ آفنان مجھے نہیں سونے دے رہا !
ہنہ کی جھنجھلائی ہوئی آواز پر وہ دونوں کرنٹ کھاتے ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہوئے بیٹھے تھے ۔
دروازے سے ہنہ افنان کو گود میں لیے ہوئے آتی ہوئی جھنجھلائی تھی ۔
زرغون نے آفنان کو اس سے لے کر اپنے ساتھ لٹایا تھا جبکہ ہنہ بھی بخت کی دوسری سائیڈ لیٹی تھی ۔
زرغون آفنان کو تھپکتی مسکرائی تھی بخت کو دیکھ کر جو لیٹتا ہوا زرغون کے بال اپنے سینے پر بکھڑا گیا تھا ۔۔
زرغون نے بے چاری سے مسکان سے اپنے شوہر کو دیکھا کیونکہ وہ دونوں بچے بخت کے سینے پر سر رکھ گئے تھے ۔
بخت نے آہستہ سے اسکا سر اپنے کندھے پر رکھا تھا وہ کھل کر مسکرا دی تھی ۔
بخت کو اسکی جگہ بنانی آتی تھی ۔
___________________________
آئی نو بڑی لیٹ ہو گئی لاسٹ قسط لیکن مجبور تھی سو دیر سویر تو پھر ہو ہی جاتی ہے نا ۔
کیسا لگا آپکو میرا یہ ناول آج سب نے خاوشی توڑنی ہے پھر ہی کوئی ناول لکھوں گئی میں ۔
اپنی دعاوں میں یاد رکھئے گا مجھے ۔۔

--

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novel Hunterss posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share