Janoo Aur Manoo

Janoo Aur Manoo we are here to share useful information regarding all categories of the life . you can find history and useful information on our page

بائبل کے مطابق فرعون غرق نہیں ہوا تھایہودی عقیدے کے مطابق فرعون کی ساری فوج غرق ہوگئی تھی مگر فرعون کنارے پہ کھڑا رہا تھ...
13/08/2026

بائبل کے مطابق فرعون غرق نہیں ہوا تھا
یہودی عقیدے کے مطابق فرعون کی ساری فوج غرق ہوگئی تھی مگر فرعون کنارے پہ کھڑا رہا تھا اور زندہ سلامت واپس اپنے محل میں آگیا تھا پھر اس کے بعد وہ طبعی موت مرا تھا
عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں کسی ایک جگہ بھی فرعون کے غرق ہونے کی خبر نہیں ہے جبکہ قران اس کے الٹ بات کرتا ہے

سورہ یونس 90 تا 92 میں فرعون کے پانی میں غرق ہونے اس کے معافی مانگنے اور اس کی لاش کو محفوظ کرنے کی تفصیل آئی ہے
اب یہ بہت بڑا تضاد ہے بائبل اور قران کا جس پر یہودی علما اعتراض اٹھاتے رہے ہیں کہ اگر تمہارا قران یہ کہہ رہا ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ ہے تو پھر دکھاو وہ کہاں ہے؟

1898 میں مصر میں محکمہ آثار قدیمہ کھدائی شروع کرتا ہے تو وہاں سے فرعون کی ممی دریافت ہوجاتی ہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ آخری فرعون ہے یا کوئی پہلے والا فرعون ہے
1935 تک تحقیقات سے یہ فائنل ہو جاتا ہے کہ یہ آخری فرعون کی لاش ہے مگر یہ مرا کیسے تھا یہ فائنل نہیں ہوا
1952 میں حضرت موسی پر بننے والی مشہور زمانہ فلمThe Ten Comandmint میں بھی اینڈ پہ فرعون کو واپس اپنے محل میں جاتے دکھایا گیا ہے

1984 میں فرعون کے پاوں میں پھپھوندی لگ جاتی ہے
حکومت مصر اسے فرانس لے جانے کا پروگرام بناتی ہے
فرعون کا باقائدہ پاسپورٹ بنتا ہے اور فرانس کی حکومت فرعون کو دنیا کا سب سے بڑا گارڈ آف آنر دیتی ہے
فرانس کے ڈاکٹروں کی ٹیم ڈاکٹر مورس بکائلے کی سربراہی میں فرعون کی باڈی کا معائنہ شروع کرتے ہیں تو ڈاکٹر مورس بکائلے کو یہ دیکھ کر شاک لگتا ہے کہ باڈی کے اندر سمندری نمکیات موجود ہیں
ڈاکٹر مورس بکائلے مصر کا رخ کرتا ہے پھر وہ قران کے الفاظ سمجھنے کے لئیے اردن کے دیہاتی ایریاز میں جاتا ہے
وہ اپنی پوری تحقیق کے بعد 1990 میں مشہور زمانہ کتاب بائبل قران اور سائنس لکھتا ہے جس میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ قران تاریخ کیمسٹری طب اور سائنس پہ زیادہ بات کرتا ہے جبکہ بائبل زیادہ تر صرف اخلاقیات پہ بات کرتی ہے

ہم دکھائیں گے عنقریب تم کو اپنی نشانیاں افق میں اور تمہارے اپنے نفسوں میں تاکہ یہ بات کھل جائے کہ یہی حق ہے ( فصلت53)

ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ قران کی مکمل تفسیر لکھنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں
ایسئ ہزاروں آیات ہیں قران میں جن میں سے کچھ عیاں ہوچکی ہیں اور باقی وقت کی ترقی کے ساتھ ہوتی جائیں گی

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو، نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے۔
12/08/2026

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو،
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
۔

‏”زندگی میں ایک نہ ایک مرتبہ، آپ کی ملاقات ایسے شخص سے ہوتی ہے، جو نہ تو خود کسی کی مانند ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اور اس ...
12/08/2026

‏”زندگی میں ایک نہ ایک مرتبہ، آپ کی ملاقات ایسے شخص سے ہوتی ہے، جو نہ تو خود کسی کی مانند ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اور اس کی طرح...
یار من! بس اس کو کھونے کی غلطی مت کرنا!!“

کبھی کبھی ایسا شخص آ پ کو ایسے وقت میں ملتا ھے جب وہ کسی اور کی امانت ھوتا ھے اور اسکی یاد آ پکو ھمیشہ ستاتی رھتی ھے

ایک اھم سوال کا جواب نہیں، ہم *قاتل قابیل کی اولاد نہیں ہیں*۔*تفصیل سمجھیں:*1. *ہابیل کا قتل*     جی ہاں، قرآن میں ہے کہ...
12/08/2026

ایک اھم سوال کا جواب

نہیں، ہم *قاتل قابیل کی اولاد نہیں ہیں*۔

*تفصیل سمجھیں:*

1. *ہابیل کا قتل*
جی ہاں، قرآن میں ہے کہ قابیل نے حسد کی وجہ سے ہابیل کو قتل کر دیا تھا۔
`فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ`
"پھر اس کے نفس نے اس کے لیے اپنے بھائی کا قتل آسان کر دیا، پس اس نے اسے قتل کر دیا" - سورہ المائدہ 30

2. *پھر نسل کس سے چلی؟*
ہابیل کی کوئی اولاد نہیں تھی کیونکہ وہ قتل ہو گئے تھے۔
قابیل کی اولاد تھی، لیکن طوفانِ نوح میں قابیل کی ساری نسل ختم ہو گئی۔

*نسل حضرت شیث علیہ السلام سے چلی*
ہابیل کے قتل کے بعد اللہ نے حضرت آدم و حوا کو ایک اور بیٹا دیا: *شیث علیہ السلام*
`إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْبَدَلَ مِنْ هَابِيلَ`
"ہم نے تمہیں ہابیل کے بدلے شیث عطا کیا"

تمام انسانوں کی نسل آج *حضرت شیث علیہ السلام* کی اولاد سے ہے۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام کے 3 بیٹوں: سام، حام، یافث سے پوری دنیا آباد ہوئی۔

*خلاصہ:*
- *قابیل کی نسل* طوفان میں ختم ہو گئی
- *ہابیل* بے اولاد شہید ہوئے
- *ہم شیث علیہ السلام کی اولاد ہیں* جو کہ نیک اور نبی تھے

اس لیے ہم کسی قاتل کی اولاد نہیں ہیں۔ ہم انبیاء کی نسل سے ہیں۔

اللہ نے انسانیت کو دوبارہ پاک نسل سے چلایا۔

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Sobat Khan, Imran Ustad, Mehmood Khan, S...
05/08/2026

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Sobat Khan, Imran Ustad, Mehmood Khan, Shagufta Gul, Uzair Khan

وہ نغمے جن کو گلوکاروں نے امر کر دیا یوں تو کسی بھی نغمے یا غزل کی مقبولیت میں شاعر، موسیقار، گلوکار، ڈائریکٹر اور باقی ...
05/08/2026

وہ نغمے جن کو گلوکاروں نے امر کر دیا

یوں تو کسی بھی نغمے یا غزل کی مقبولیت میں شاعر، موسیقار، گلوکار، ڈائریکٹر اور باقی ٹیم کا برابر حصہ ہوتاہے لیکن سننے والوں کے سامنے شاعر اور گلوکار کی گائیکی ہی رہ جاتی ہے جس کی بنا پر وہ اس غزل یا گانے کے بارے میں فوری فیصلہ کرتے ہیں.آج میں پی ٹی وی کے کچھ ایسے نغموں اور غزلوں کا ذکر کروں گا جن کی شہرت اور مقبولیت چاردانگ عالم ہے لیکن اگر یہ گلوکار ان کو نہ گاتے تو باوجود اس کے کہ بیشتر کلام نامور شاعروں کا ہے، شاید کوئی اس کلام سے واقف بھی نہ ہوتا. ان گلوکاروں نے اس کلام کو گا کر امر کر دیا. کوشش کروں گا کہ طوالت سے گریز کرتے ہوئے جتنے نام ممکن ہوں ان کو شامل کروں.

گو کچھ گلوکاروں نے ایک سے زیادہ ایسے نغمے اور غزلیں گائی ہیں لیکن میں ہر گلوکار کی ایک دو غزلوں پر ہی اکتفا کروں گا. مرے خیالات سے آپ اختلاف بھی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ محض میرے تاثرات ہیں کوئی آفاقی حقائق نہیں. تحریر کا مقصد ان گلوکاروں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اس کلام کو اتنی خوبصورتی سے گایا کہ شاعر کی بجائے یہ گلوکار اس کلام کی پہچان بن گئے. ورنہ ان میں بیشتر شعرا کے نام سے بھی عام آدمی شنا سا نہیں ہے.

ملکہ ترنم نور جہاں - ہر لحظہ ہےمومن کی نئی شان نئی آن (علامہ اقبال)
ملکہ ترنم نے بیشمار شعرا کے کلام کو گا کر امر کی ہے لیکن میں نے اس غزل کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ خیال اور فن شاعری کے حوالے سی یہ غزل اگرچہ کمال کی ہے لیکن ملکہ ترنم نور جہاں نے اس کو گا کر امر ہی نہیں کیا بلکہ مقبول عام بھی کیا اور لوگ اس سے آگاہ بھی ہوے. اگر وہ اس کو نہ گاتیں تو یہ کلام علامہ اقبال کے شائقین کے علم میں تو ہوتا لیکن عوامی سطح پر اس طرح معروف نہ ہوتا.

مہدی حسن - کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
پروین شاکر کی یہ غزل صرف مہدی حسن کی گائیکی کی بنا پر مقبول عام ہے ورنہ کم لوگ اس سے واقف ہوتے.

غلام علی - چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یہ ہے
اس غزل کوساری دنیا غلام علی کے نام سے پہچانتی ہے اگرچہ یہ غزل مولانا حسرت موہانی جیسے نامور شاعر کا کلام ہے.

فریدہ خانم - وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا (اطہر نفیس)
یہ وہ غزل ہے جو فریدہ خانم کی پہچان ہے. جہاں فریدہ خانم کا نام آتا ہے وہاں اس غزل کا ذکر ہوتا ہے اور جہاں غزل کا ذکر ہو، صرف فریدہ خانم کا نام یاد آئے گا.

ملکہ پکھراج - ابھی تو میں جوان ہوں
حفیظ جالندھری کو تو ہم سب جانتے ہیں لیکن انکے کلام سے شاید اتنے آگاہ نہ ہوں. اس نظم سے بھی ہم واقف نہ ہوتے اگر ملکہ پکھراج نے اس کو گا کر امر نہ کر دیا ہوتا. آج اس نظم کے حوالے سے لوگ ملکہ پکھراج کا نام پہلے لیتے ہیں اور حفیظ جالندھری کا ذکر بعد میں آتا ہے.

ناہید اختر - چھاپ تلک سب چھین لی (امیر خسرو)
گو بے شمار گلوکاروں نے اس کلام کو گایا ہے لیکن عوامی سطح پر قبول عام کی سند اس کو صرف ناہید اختر نے ہی دی.
بلقیس خانم
١. انوکھا لاڈلا (اسد محمّد خان).... اس کے بارے میں تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں. مجھے تو یوں لگتا ہے کہ شاعرنے یہ کلام صرف اس لئے لکھا تھا کہ بلقیس خانم اس کو گا کر اس کی پہچان بن جائیں.
٢. وہ تو خشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا .... بلقیس خانم اگر یہ غزل نہ گاتیں تو پروین شاکر کی یہ غزل ان کئی اور کئی خوبصورت غزلوں کی طرح کتاب کے اوراق میں ہی دفن رہ جاتی.

اقبال بانو - داغ دل ہم کو یاد آنے لگے (باقی صدیقی)
اقبال بانو نے یوں تو اور بھی کئی شعرا کا کلام گایا ہے لیکن یہ غزل تو گویا ان کا سگنیچر مارک ہے. ممکن نہیں کہ اس غزل کا تذکرہ ہو اور اور اقبال بانو کے علاوہ کسی اور کا نام ذھن میں گونجے.

استاد امانت علی خان
انشا جی اٹھو، اب کوچ کرو (ابن انشا)...... ابن انشا کا معتد بہ کلام گلوکاروں نے گایا ہے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ شاعری زیادہ خوبصورت ہے یا گلوکار نے اس کو زیادہ خوبصورتی سے گایا ہے. تاہم مذکورہ غزل کے بارے میں تقریبا "اجماع" سمجھا جا سکتا ہے کہ استاد امانت علی اور یہ غزل لازم و ملزوم ہیں.

ہونٹوں پے کبھی انکے میرا نام بھی آئے (ادا جعفری)۔
ایک زمانہ تھا کی پی ٹی وی پر اگر استاد امانت علی خان کا نام آتا تھا تو غالب امکان یہی ہوتا تھا کہ انکی یہ غزل پیش ہو گی. ادا جعفری کی تمام شاعری اتنی مقبولیت حاصل نہیں کر سکی جتنی مقبولیت استاد امانت علی خان نے انکی یہ غزل گا کر انکو بخش دی.

نیرہ نور
١. اے جذبہ دل گر میں چاہوں (بہزاد لکھنوی)...... کتنے لوگ ہیں اردو ادب کو پڑھنے والے جن کو اس غزل کے شاعر بہزاد لکھنوی سے آگاہی ہو ؟ لیکن اردو غزل کو سننے والا ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا جو اس غزل کو نیرہ نور کے حوالے سے نہ جانتا ہو.
٢. کبھی ہم خوبصورت تھے ...... آپ میں سے کتنے لوگوں کو علم ہے کہ یہ شرح آفاق نظم احمد شمیم نامی شاعر کی ہے؟ لیکن آپ سب یہ جانتے ہیں کہ نیرہ نور نے یہ نظم گائی ہے اور اس نظم کے حوالے سے صرف انکا نام ہی ذھن میں گونجتا ہے.

غلام فرید صابری
١. بھر دو جھولی میری یا محمّد (پر نم الہ آبادی)
٢. تاجدار حرم ہو نگاہ کرم (حکیم مرزا مدنی)

آپ نے مذکورہ بالا شعرا کے نام تو شاید نہ سنے ہوں لیکن غلام فرید صابری کی یہ شہرہ آفاق قوالیاں ضرور سنی ہوں گی یا کم از کم ان سے واقف ضرور ہوں گے. غلام فرید صابری نے لا تعداد قوالیاں گائیں لیکن ان دو قوالیوں کو جو شہرت ملی وہ اپنی مثال آپ ہے. اور یہ دونوں قوالیاں صابری برادرز کے نام سے ہمیشہ کے لئے منسوب ہو گئیں۔

ٹینا ثانی - بول کہ لب آزاد ہیں تیرے (فیض احمد فیض)
یوں تو فیض کا کلام اپنے انقلابی مزاج کی بنا پر زبان زدعام ہے لیکن یہ نظم شاید ان کی دوسری شہرہ آفاق نظموں تلے دب جاتی اگر ٹینا ثانی اس کو گا کرعام زندگی میں تقریبا محاورے کی سطح پر لے آئیں. پی ٹی وی کے ایک یادگار ڈرامے "تپش" کے او ایس ٹی کے طور پر انہوں نے یہ غزل گائی تھی.

مہ ناز ..... اس بیوفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دودستو (منیر نیازی)
اس غزل کو پہلے تو مسرت نذیر نے گایا تھا اور اس پر اپنی فلم میں رقص بھی کیا تھا لیکن مرے خیال میں جس طرح مہناز نے گایا اس کی بنا پر یہ غزل منیر نیازی سے زیادہ ان کی شمار ہونی چاہیے.

مسرت نذیر ...... چلیں تو کٹ ہی جائےگا سفر آہستہ آہستہ (مصطفی زیدی)
لونگ گواچا کے علاوہ مذکورہ بالا غزل کے حوالے سے صرف مسرت نذیر کا نام ہی ذھن میں گونجتا ہے.

شاہدہ پروین ..... دیپک راگ ہے چاہت اپنی کہے سنائیں تمہیں (ظہور نذر)
شاہدہ پروین کلاسیکی کا شمار گانے والوں میں ہوتا ہے. 'دیپک راگ ہے چاہت اپنی' شاہدہ پروین کی ان غزلوں میں مئں سے ہے جس کو کو صرف انہوں نے گایا ہے اور موسیقی کی تاریخ میں یہ شاعرکی بجائے شاہدہ پروین کے نام سے زیادہ پہچانی جاتی ہے

یقینا اس کلام کے علاوہ بھی کلام ہوگا جو شاعر سے زیادہ گلوکار کی نسبت سے پہچانا جاتا ہو گا. اگر آپ کے ذھن میں ایسا کوئی اور کلام ہے تو کمنٹس میں ضرور شیئر کریں.

جبرائیل اصغر / Film Walay فلم والے

04/08/2026
لاہور، شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی لاش ملی۔ اس لڑکی کے ہاتھ ازاربند سے بندھے ہوئے تھے اور ا...
04/08/2026

لاہور، شاہدرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی لاش ملی۔ اس لڑکی کے ہاتھ ازاربند سے بندھے ہوئے تھے اور اسی کے دوپٹے سے گلا گھونٹ کر اسے مارا گیا تھا۔ لاش کی فوری شناخت نہ ہونے پر پولیس نے اسے امانتاً دفنا دیا اور لڑکی کی تصویر اخبارات میں چھپوا دی۔ کچھ دنوں بعد گڑھ مہاراجہ، جھنگ سے لڑکی کا والد شاہدرہ تھانے پہنچا اور بتایا کہ تصویر اسکی بیٹی کی ہے۔ اس نے واقعے کی تفصیل پولیس کو یوں بیان کی:_

"میں پڑھا لکھا ہوں، میں نے اپنی اولاد کو بھی پڑھایا لکھایا۔ میری یہ بیٹی اکثر بیمار رہتی اور اسے غشی کے دورے پڑتے تھے۔ روایتی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو میری بیوی کو لگا کہ لڑکی پر کسی کا سایہ ہے۔ بیوی کے اصرار پر میں سیالکوٹ کے ایک قبرستان سے 'بے شاہ' نامی ایک عامل پیر کو گڑھ مہاراجہ اپنے گھر لے آیا۔ عامل کی ہدایت کے مطابق اسے ایک علیحدہ کمرہ دیا گیا، جہاں وہ رات دو بجے سے فجر کی اذان تک لڑکی کے ساتھ مصلے پر بیٹھ کر اپنا 'عمل' کرتا تھا۔

چند دن گزرنے کے بعد عامل نے پیسوں کی بارش اور نوٹ دوگنا کرنے کا کرشمہ دکھا کر ہمارا اعتماد حاصل کر لیا۔ اسی لالچ میں آ کر میری بیوی نے اپنے سونے کے تمام زیورات بھی دوگنے کروانے کی غرض سے ایک پوٹلی میں باندھ کر مصلے کے نیچے رکھ دیے۔ اگلی صبح کافی دیر تک بیٹی کمرے سے باہر نہ آئی، حالانکہ عامل کے جوتے کمرے کے باہر معمول کے مطابق پڑے ہوئے تھے، ہم نے پریشان ہو کر کھڑکی سے اندر جھانکا۔ کمرے سے عامل، بیٹی اور زیورات کی پوٹلی غائب تھی، واضح تھا کہ عامل کھڑکی کے راستے ہماری بیٹی اور زیورات لے کر فرار ہو چکا ہے۔ میں نے مقامی تھانے میں اغوا کی رپورٹ لکھوائی، لیکن پولیس نے یہ کہہ کر دلچسپی نہ لی کہ لڑکی بالغ ہے، اپنی مرضی سے بھاگ گئی ہوگی۔ ہم بے بس ہو کر بیٹھ گئے۔ اتنے میں اخبار میں بیٹی کی تصویر اور قتل کی خبر پڑھ کر آپ کے پاس پہنچا ہوں۔"

اس بیان کی روشنی میں شاہدرہ پولیس نے گڑھ مہاراجہ میں موقع کا معائنہ کیا اور ملزم کا جوتا قبضے میں لیا۔ سیالکوٹ کے جس قبرستان میں عامل کا اڈہ تھا، وہاں سے اسکی معلومات لینے کی کوشش کی گئی، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ بالآخر پولیس نے جہاں (شاہدرہ) سے لاش ملی تھی، وہاں تلاش شروع کر دی۔ وہاں معلوم ہوا کہ ملحقہ مسیحی آبادی میں ایک نوجوان عورت اپنے معذور بچے کو کوارٹر میں اکیلا چھوڑ کر اسکا علاج کروانے کے لیے کسی مقامی راہب (پادری) کے پاس گئی تھی مگر واپس نہیں لوٹی۔

پولیس نے راہب کا اتا پتا معلوم کر کے قریب کی آبادی سے الگ تھلگ اسکی جھونپڑی پر چھاپہ مارا اور مسیحی عورت کو برآمد کر لیا۔ اس عورت نے بیان دیا کہ راہب نے بچے کے علاج کے بہانے اس کا زیور اور پیسے ہتھیا لیے ہیں۔ اسے ایک چارپائی سے باندھ کر جادو کا عمل کرتا اور اس دوران جنسی حملے بھی کرتا رہتا۔ کہتا کہ چالیس دن کے بعد بچہ بالکل صحت یاب ہو جائے گا۔

راہب کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسے جھنگ سے قبضے میں لیا گیا جوتا پہنایا گیا، جو نہ صرف اسے فِٹ آیا بلکہ اسکے پاؤں میں "چنڈی" بھی اسی مقام پر تھی جہاں سے جوتا پھٹا ہوا تھا۔ ملزم کی شناخت پریڈ کروائی گئی، جس میں مقتولہ کے والد نے اسے شناخت کر لیا کہ راہب ہی دراصل عامل ہے۔ حالانکہ بقول اسکے، عامل کی تو داڑھی تھی اور پگڑی باندھتا تھا، مگر راہب داڑھی منڈا اور ننگے سر تھا۔ بہرحال، مقتولہ کی ماں اسے نئے روپ میں نہ پہچان سکی۔

لاہور سیشن کورٹ میں زیور ہتھیانے، لڑکی کے اغوا اور قتل کا مقدمہ چلا۔ ملزم نے ارتکابِ جرم سے انکار کیا۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقتولہ کے باپ کی شناخت، جوتے کا فِٹ آنا، اور ملزم کے طریقۂ واردات میں یکسانیت، یعنی عورتوں کو اپنے دام میں پھنسانا اور جادو اور روحانی علاج کا ڈھونگ رچانا، ان تمام واقعاتی شواہد سے ملزم کا گناہ گار ہونا یقینی ہے۔ ملزم کو سزائے موت سنائی گئی۔

ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی، جو فرزندِ علامہ اقبال، جسٹس جاوید اقبال (مرحوم) کے بنچ میں لگی۔ وہ لکھتے ہیں:

"اس کیس میں قتل کا کوئی عینی شاہد نہ تھا، سارا کیس واقعاتی شہادت پر مبنی تھا۔ مجھے یہ کیس آج تک کھٹکتا رہا ہے۔ وجہ اسکی شاید یہ ہے کہ ملزم کا کہنا تھا کہ پولیس نے شناخت پریڈ سے قبل اسے مقتولہ کے باپ کو دکھا دیا تھا۔ یوں شناخت پریڈ کے اس ثبوت کو مشکوک سمجھ کر رد کر دیا جائے تو پیچھے صرف ایک واقعاتی شہادت، یعنی جوتا فِٹ آنا، باقی رہ جاتی ہے، جو پھانسی کی سزا کے لیے شاید ناکافی تھی۔

مگر اس کیس میں پھانسی کی جگہ عمر قید دینے کی گنجائش نہ تھی، اور بری کر دینا میرے ضمیر کو گوارا نہ تھا۔ دل کہتا تھا کہ یہی مجرم ہے، لیکن دماغ وسوسے پیدا کرتا تھا۔ جج کمپیوٹر مشین نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ اسے اپنا ذہن پورا استعمال کرنا پڑتا ہے، لیکن فیصلہ بالآخر اس کا دل یا ضمیر ہی کرتا ہے۔ بہرحال، میں نے اسکی سزا بحال رکھی اور سپریم کورٹ سے بھی اسکی اپیل خارج ہوئی اور سزائے موت برقرار رہی، جس پر بعد میں عمل درآمد بھی ہوا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ یہ قریب نصف صدی پرانا کیس ہے۔ اس وقت بھی یہ کیس اخبارات میں ہائی لائٹ ہوا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ جعلی عاملین کا کاروبار وقت کے ساتھ بڑھتا ہی گیا؟؟؟

از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Janoo Aur Manoo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share