15/09/2026
سچ پوچھیں تو پاکستانی فلم انڈسٹری کا یہ حال دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ نام انگریزی طرز کا "Red Line" رکھ دینے سے فلم جدید نہیں بن جاتی، جب سیٹ، گیٹ اپ اور پروڈکشن ویلیو وہی تیس سال پرانے لچھا اور شلوار قمیض والے دور کی ہو۔
آج کے دور میں جب شائقین معیاری ایکشن اور ملٹی پلیکس لیول کے سینما کی امید لگائے بیٹھے ہیں، وہاں ایسا مواد سامنے لانا ناظرین کے ساتھ مذاق ہے۔ گلو بھائی سے امید تھی کہ کچھ بہتر اور معیاری دیکھنے کو ملے گا، لیکن سیٹ کے مناظر دیکھ کر مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ اگر شروعات ہی ایسی ہے تو آگے کیا توقع رکھی جائے؟
خدارا اب پرانے فارمولے چھوڑ دیں اور سنیما بینوں پر رحم کریں.
تحریر:
طلحہ جنید