Hussain Mirza Pakistan ki awaz

Hussain Mirza Pakistan ki awaz benaaqab

انا للّٰہ وانا الیہ رجعون، ملتان اندرون شہر سے تعلق رکھنے والے، ٹک ٹاک سے شہرت پانے والے بابر قریشی ق ت ل۔ابتدائی رپورٹ ...
01/09/2026

انا للّٰہ وانا الیہ رجعون،
ملتان اندرون شہر سے تعلق رکھنے والے، ٹک ٹاک سے شہرت پانے والے بابر قریشی ق ت ل۔
ابتدائی رپورٹ میں پرانی رنجش کی بنا پر 3 گولیاں لگیں آج دن بھر نشتر ہسپتال ملتان کی ایمرجنسی کی انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا مگر جانبر نہ ہو سکا۔

22/08/2026

شوہر کے ہمبستری میں پہلی راؤنڈ میں بس ہو جانا ایک عام مسئلہ اور حل

بہت سے شوہروں کو یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ پہلے راؤنڈ میں ہی رک جاتے ہیں اور اپنی بیوی کو مکمل طور پر مطمئن نہیں کر پاتے۔ اس کے نتیجے میں وہ دوسرے راؤنڈ کی امید کرتے ہیں، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ اصل مسئلہ راؤنڈز کی تعداد کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ شوہر کو صحیح ٹائمنگ اور تکنیک کا علم نہیں ہوتا۔
یہ مسئلہ عموماً
جسمانی تھکاوٹ،
سٹریس ذہنی دباؤ،
ایرکٹائل ڈسفنگشن یا تکنیکی معلومات کی کمی کے باعث پیش آتا ہے، اور اس کا حل موجود ہے۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ زیادہ راؤنڈز یا بار بار کی کوششوں سے بہتر نتائج حاصل ہوں گے، لیکن ایسا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
اصل بات یہ ہے کہ ہر فرد کی جسمانی حالت اور ذہنی سکون پر منحصر ہے۔
♦️✿✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں۔
مقدار خوراک سے تجاوز نہ کریں۔

Yeh baat pichle juma ki hai jab humare mohalle ke Chacha Aslam ne naya smartphone khareeda. Unhe lagta tha ke Facebook s...
18/08/2026

Yeh baat pichle juma ki hai jab humare mohalle ke Chacha Aslam ne naya smartphone khareeda. Unhe lagta tha ke Facebook sirf doston ki photos par "Mashallah" likhne aur khabar dekhne ke liye bana hai. Phir ek raat sudden bijli chali gayi aur poora mohalla andhere mein doob gaya.
Chacha Aslam ne andhere se tang aakar mobile nikala taake torch light chala sakein, lekin galati se unka angotha Facebook ke "GO LIVE" button par lag gaya. Sab se mazedar baat yeh thi ke front camera open tha aur Chacha ko lag raha tha ke light chal rahi hai. Wo mobile ko aage piche karke inverter ka switch dhoond rahe the, jabke unka aadha chehra, badi badi aankhein aur haanpne ki awaz direct live stream par ja rahi thi.
Peeche se Chachi ki zor dar awaz aayi, "Aray sunte ho! Yeh jo kal aap saste wale aalu laye the, wo sab andar se kale nikle hain!"
Chacha ne wahi se chillakar jawab diya, "To main kya karoon? Kya ab dukaan par aaluon ka X-ray karwake laoon?"
Agle 5 minute mein mohalle ke 200 log live stream par jama ho gaye. Comments ki barish shuru ho gayi. Kisi ne likha, "Chacha, Aalu X-ray Machine kahan se milegi?" Toh kisi ne comment kiya, "Chachi vs Chacha, Live Match Day 1!"
Chacha ko lag raha tha ke mobile ki battery khatam ho rahi hai is liye wo screen par bar bar thumb mar rahe the, jis se live viewers ko laga ke Chacha sabko "Thumbs Up" de rahe hain. Tabhi unka chota beta Arsam bhagta hua aya aur bola, "Abba! Aapka live hit ho gaya hai, 1500 log dekh rahe hain!"
Chacha ne hairan ho kar pucha, "Konsa live? Main toh Torch dhoond raha hoon!"
Jab tak Chacha ko samajh aata ke hua kya hai, unki "Aalu X-ray" wali baat ka meme ban chuka tha. Agli subah jab Chacha doodh lene dukaan par gaye, toh dukaan dar ne hass kar kaha, "Chacha, aaj doodh ka bhi X-ray karwana hai ya aise hi de doon?"
Chacha Aslam ab mohalle ke certified Facebook celebrity ban chuke hain, lekin unhone ab apne mobile ke front camera par kaala tape laga diya hai taake dubara koi "X-ray moment" na ho jaye.

آج لاہور میں ایک مشہور بیکری کے باہر ایک 65 سالہ بزرگ سیکیورٹی گارڈ کو بیٹھے دیکھا۔ وہ روٹی کے اوپر صرف پیاز رکھ کر کھا ...
18/08/2026

آج لاہور میں ایک مشہور بیکری کے باہر ایک 65 سالہ بزرگ سیکیورٹی گارڈ کو بیٹھے دیکھا۔ وہ روٹی کے اوپر صرف پیاز رکھ کر کھا رہے تھے۔ پہلے مجھے لگا شاید دانتوں کی وجہ سے نرم سالن وغیرہ نہیں کھا سکتے، لیکن دل نے گوارا نہیں کیا اور میں ان کے پاس چلا گیا۔

میں نے پوچھا، “انکل کیا کرتے ہیں؟”

کہنے لگے، “بیٹا، سیکیورٹی گارڈ ہوں۔”

پوچھا، “تنخواہ کتنی ہے؟”

کہنے لگے، “25 ہزار روپے۔”

پھر میں نے پوچھا، “انکل، اتنی تنخواہ میں گھر کیسے چلتا ہے؟ بچے کتنے ہیں؟”

انکل نے بتایا کہ میری تین بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا ہے۔ گھر میں کمانے والا صرف میں ہوں۔

میں نے روٹی اور پیاز کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “انکل سالن وغیرہ نہیں کھاتے؟”

انکل کی اگلی بات نے دل توڑ دیا۔ کہنے لگے:

“بیٹا، دو دن سے گھر کے حالات بہت خراب ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بیٹی بیمار ہوگئی تھی، علاج کے لیے ایک شخص سے قرض لیا تھا۔ تنخواہ آئی تو سارا قرض واپس کردیا، اس کے بعد گھر کا راشن خریدنے کے لیے پیسے نہیں بچے۔”

ذرا سوچیں… ایک 65 سالہ بزرگ، جو دن رات ہماری دکانوں اور کاروبار کی حفاظت کرتا ہے، خود اپنے گھر کے لیے دو وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر پا رہا۔

ہم اکثر دکانوں، ہوٹلوں اور بیکریوں کے باہر بیٹھے سیکیورٹی گارڈز کو دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیچھے ایک پورا گھر ہوتا ہے، بچے ہوتے ہیں، بیماریاں ہوتی ہیں، بجلی کے بل ہوتے ہیں اور راشن کی ضرورت ہوتی ہے۔

میں نے انکل سے پوچھا کہ “یہ بیکری والے آپ کو کچھ کھانے کے لیے نہیں دیتے؟”

انکل نے بتایا کہ اگر کچھ چیزیں بچ بھی جائیں تو انہیں کھانے کے لیے نہیں دیا جاتا، بلکہ ضائع کردی جاتی ہیں۔

یہ سن کر واقعی دل دکھا۔ اگر کسی جگہ کا سیکیورٹی گارڈ پوری ایمانداری سے آپ کی دکان، آپ کی پراپرٹی اور آپ کے کاروبار کی حفاظت کر رہا ہے تو کم از کم انسانیت کے ناطے اس کا خیال تو رکھا جا سکتا ہے۔

کھانا ضائع کرنے کے بجائے کسی بھوکے انسان کو دے دینا کون سا مشکل کام ہے؟

میں نے انکل کو کچھ رقم دی اور الگ سے راشن کے پیسے بھی دیے اور کہا:
“انکل، کل گھر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے اچھا سا کھانا لے کر جانا، گھر کا راشن لے کر جانا اور بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا۔”

اللہ گواہ ہے، انکل کے چہرے پر آنے والی خوشی دیکھ کر دل بھر آیا۔ ❤️

میری پاکستان کے ہر صاحبِ حیثیت انسان سے ایک چھوٹی سی اپیل ہے: جب بھی کسی دکان، بیکری، ہوٹل یا مارکیٹ کے باہر کوئی بزرگ سیکیورٹی گارڈ نظر آئے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ اگر استطاعت ہو تو جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی ٹپ دے دیں، پانی پلا دیں یا کچھ کھانے کو دے دیں۔ شاید آپ کے لیے چند سو روپے معمولی ہوں، لیکن اس بزرگ کے لیے وہ پورے گھر کی خوشی بن سکتے ہیں۔

اور کاروبار کرنے والے تمام بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ جو لوگ آپ کی پراپرٹی کی حفاظت کرتے ہیں، ان کا خیال رکھا کریں۔ ان کے لیے کھانے کا انتظام کریں، ان کی ضروریات پوچھیں اور انہیں عزت دیں۔

کیونکہ ہر غریب انسان صرف مدد کا محتاج نہیں ہوتا، وہ عزت کا بھی حق دار ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس بزرگ کے گھر میں آسانیاں پیدا فرمائے، ان کے بچوں کے نصیب اچھے کرے اور ہمارے دلوں میں دوسروں کا درد محسوس کرنے والی انسانیت ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔ 🤲❤️

حقیقت ہے۔۔۔۔
17/08/2026

حقیقت ہے۔۔۔۔

پہلی بار دل خوش ہو گیا یہ وہ الفاظ تھے جو پہلی بار کسی ایم پی اے کو کہے گئے ورنہ کچھ افسران تو انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ...
17/08/2026

پہلی بار دل خوش ہو گیا یہ وہ الفاظ تھے جو پہلی بار کسی ایم پی اے کو کہے گئے ورنہ کچھ افسران تو انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی سیاسی ہمیں آرڈر دے اور ہم کالے کو سفید کر دیں

فیضان نے جو کچھ کیا مجھے شرمندگی بھی ہے اور افسوس بھی ، شاید میں اسکی ماں کو طلاق نہ دیتا تو وہ ہاتھ سے نہ نکلتا ۔۔۔۔ فی...
16/08/2026

فیضان نے جو کچھ کیا مجھے شرمندگی بھی ہے اور افسوس بھی ، شاید میں اسکی ماں کو طلاق نہ دیتا تو وہ ہاتھ سے نہ نکلتا ۔۔۔۔ فیضان و ریحان بٹ کے والد فیاض بٹ کا تہلکہ خیز انٹرویو سامنے آگیا ۔۔ یہ انٹرویو لگ بھگ 15 ماہ قبل فیاض بٹ نے شاہد چوہدری کے پاس آکر انہیں ریکارڈ کروایا تھا ۔۔۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب فیضان بٹ کی پولیس مقابلے میں ہلا.کت کو چند ہفتے گزرے تھے ، فیاض بٹ نے خود شاہد چوہدری سے رابطہ کیا اور اصل کہانی قوم کے سامنے رکھنے کی اپیل کی ۔۔۔۔ اس انٹرویو میں فیاض بٹ کے بقول ۔۔۔۔ میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ، فیضان اللہ کو پیارا ہو گیا ، میں نے کچھ سال قبل انکی والدہ کو گھریلو جھگڑے پر طلاق دی تھی ، پہلے تو سب بچے میرے پاس رہے لیکن پھر فیضان زیادہ وقت ماں کے پاس جاکر اپنے نانکے رہنے لگا انہی دنوں میں اسکا اٹھنا بیٹھنا آوارہ لڑکوں میں ہونے لگا ، 19 سال کا ہوا تھا اسے پولیس نے کسی کیس میں اٹھایا ، میرے خیال میں وہ کیس اس پر ناجائز ڈالا گیا اور اسے ایک سال قید کی سزا ہو گئی ، قید کے دنوں میں فیضان کی ملاقات چند ایسے لوگوں سے ہو گئی جو شاید باغی مزاج اور شر۔پسندانہ ذہن والے خطرناک مجرمان تھے ان لوگوں نے 19، 20 سالہ میرے بیٹے فیضان کی برین واشنگ کی اور اسے اس بات پر مائل کیا کہ پولیس والے حرام خور ہوتے ہیں یہ غریبوں پر ظلم کرتے ہیں پولیس والا جہاں نظر آئے اسے مار ڈالنا چاہیے اور پولیس والے کا ق۔ت۔ل جنت کا ٹکٹ ہے کیونکہ یہ کافر ہیں اور انہیں مارنا ثواب ہے ۔۔۔ فیضان ایک سال ان لوگوں کے ساتھ رہا تو انکی باتیں اسکے معصوم اور کچے دماغ پر قطرہ قطرہ لگتی رہیں اور اپنا اثر چھوڑ گئیں ایک سال بعد وہ جیل سے رہا ہوااور گھر آیا تو مجھ سے بھی ملنے آیا اور مجھے بتایا کہ پولیس نے اسے ناجائز پکڑ کر اس پر کیس ڈالا ۔ اس کے بعد کے دنوں میں وہ بہت کم بولتا اور گم سم رہنے لگا کبھی ہمارے پاس ٹھہر جاتا کبھی ماں کے پاس ۔۔ پھر وہ کئی روز مجھے ملنے نہ آیا تو خبروں میں مجھے پتہ چلا کہ اس نے پولیس والوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ہے ، اس نے دو تین ایسی وارداتیں کیں پھر پولیس اس تک پہنچ گئی وہ گرفتار ہوا اور پھر اسے مقابلے میں پار کردیا گیا ، بقول فیاض بٹ : شاہد چوہدری صاحب میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ میرا بیٹا معصوم تھا جیل میں بری صحبت نے اس کچے ذہن کو خراب کردیا ورنہ وہ اس سے پہلے شاید چھوٹا موٹا جرم کرتا ہو لیکن وہ د۔ہشت گرد نہ تھا اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے د۔ہشت گرد کا والد کہے یا اس کا اثر ہمارے خاندان پر پڑے ، باقی موت ہر کسی کو آنی ہے یہ اللہ کا حکم تھا کہ 20 ،21 سال کی عمر میں میرا بیٹا مارا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : فیاض بٹ نے اس ویڈیو میں اعتراف کیا کہ وہ دینی لگاؤ رکھنے والا ایک امن پسند انسان ہے ، اب چند روز پہلے وہی فیاض بٹ اپنے بیٹے ریحان بٹ بعمر 18 سال اور ایک اور شخص کے ساتھ بند۔وقیں اٹھائے لاہور کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلتا ہھر رہا تھا ، اور پھر لاہور میں تین پولیس ملازمین کو شہیید کرکے یہ لوگ شیخوپورہ پہنچے اور پولیس مقابلے میں خود بھی پار ہو گئے ۔یہ بات طے ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کا انجام ہمیشہ بھیانک ہی ہوتا ہے

Awam bas p*s ry ha awam by bas hogi ha kush ni kar skaty awam 3 waqt ki roty pata ni kasy pory kary ha bil pitrol . Dosr...
15/08/2026

Awam bas p*s ry ha awam by bas hogi ha kush ni kar skaty awam 3 waqt ki roty pata ni kasy pory kary ha bil pitrol . Dosry jaga ya police department 3 jaga chalan in sa jan chor wao pera forc.gareeb awam ko rany do is mulk ma plezzzzz hat jury ha plezzzzz cm sab pm sab plezzz hat juty ha humary ....kahah jay ya gareeb awam ...ab bas katdo cm or pm kia nikalna ha awam sa jiny do gareeb awam ko ......

دورانِ سروس وفات پانے والے کانسٹیبل کوثر رضا کی نمازِ جنازہ پولیس لائن فیصل آباد میں ادادورانِ سروس وفات پانے والے کانسٹ...
15/08/2026

دورانِ سروس وفات پانے والے کانسٹیبل کوثر رضا کی نمازِ جنازہ پولیس لائن فیصل آباد میں ادا

دورانِ سروس وفات پانے والے کانسٹیبل کوثر رضا کی نمازِ جنازہ پولیس لائن فیصل آباد میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں ریجنل پولیس آفیسر فیصل آباد سہیل اختر سکھیرہ اور سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد تنویر حسین نے شرکت کی۔ دیگر سینئر پولیس افسران اور پولیس ملازمین بھی اس موقع پر موجود تھے۔

آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا اور سی پی او فیصل آباد تنویر حسین نے مرحوم کانسٹیبل کوثر رضا کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ان کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کی محکمہ پولیس کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

پولیس افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ پولیس اپنے شہداء اور دورانِ سروس وفات پانے والے اہلکاروں کی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کوثر رضا کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔


رات کی سیاہی میں اچانک گولیوں کی تھرتھراہٹ سنائی دیتی ہے، اور اگلے ہی دن اخبار کے کسی کونے میں ایک چھوٹی سی خبر چھپتی ہے...
15/08/2026

رات کی سیاہی میں اچانک گولیوں کی تھرتھراہٹ سنائی دیتی ہے، اور اگلے ہی دن اخبار کے کسی کونے میں ایک چھوٹی سی خبر چھپتی ہے: "پولیس مقابلے میں خطرناک ملزم مارا گیا"۔ لیکن اس مختصر خبر کے پیچھے ایک ایسا نوجوان ہوتا ہے جس کی آنکھوں میں کل کے خواب تھے اور جس کے پاس اپنے دفاع میں بولنے کا موقع بھی نہیں تھا۔ سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کی یہ نام نہاد "انکاؤنٹر پالیسی" اب صرف ایک پولیس کارروائی نہیں رہی، بلکہ اس نے ایک ایسا زہریلا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں قانون اور انصاف کی گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔
جب کسی ریاست میں عدالتوں اور آئین کے دیے گئے حق یعنی شفاف ٹرائل کو پسِ پشت ڈال کر سڑکوں پر فیصلے سنائے جانے لگیں، تو قانون نافذ کرنے والے ادارے تحفظ کا احساس دینے کے بجائے خوف کا دوسرا نام بن جاتے ہیں۔ ایک ہی جیسی ایف آئی آرز، ایک ہی جیسا کہانی کا اسکرپٹ، اور ہر بار رات کے اندھیرے میں موٹر سائیکل سواروں پر فائرنگ کی کہانی—یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تفتیش اور سائنسی شواہد پر مبنی پولیسنگ کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔ جب ایک طرف درجنوں نوجوان اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں اور دوسری طرف قانون کے کٹہرے میں کوئی جوابدہی نہیں ہوتی، تو عام شہری کا عدالتوں اور نظامِ انصاف پر سے اعتماد بالکل اٹھ جاتا ہے۔
اس ہولناک صورتحال کا سب سے گہرا اور تباہ کن اثر ملک کے نوجوانوں پر پڑ رہا ہے۔ آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ پر مشتمل یہ نوجوان نسل اب ایک مستقل نفسیاتی خوف کے سایہ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ گلی کے موڑ پر قائم ناکہ اب تحفظ کے بجائے ڈر کی علامت بن چکا ہے، جہاں ہر نوجوان کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ محض شک کی بنیاد پر اس کی زندگی کا چراغ گل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بے یقینی اور ماورائے عدالت اقدامات نوجوانوں کے اندر گہری ناامیدی پیدا کر رہے ہیں۔ جن ہاتھوں میں قلم، کتابیں اور جدید ہنر ہونا چاہیے تھا، وہ اب اپنے مستقبل سے مایوس ہو کر ملک چھوڑنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ باصلاحیت نوجوانوں کا یہ فرار (برین ڈرین) ملک کی معاشی اور سماجی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اور جو نوجوان مجبوراً یہاں رہ جاتے ہیں، ان کے دلوں میں ریاستی اداروں کے خلاف تلخی، بیگانگی اور غصہ پروان چڑھ رہا ہے۔
اگر کوئی ریاست اپنے نوجوانوں کو قانون کی بالادستی کے بجائے گولی کا ڈر دکھائے، تو وہ ترقی کی طرف نہیں بلکہ انارکی کی طرف قدم بڑھاتی ہے۔ سی سی ڈی کے نام پر ہونے والے ان واقعات کی فوری اور آزادانہ عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ریاستیں گولیوں کے زور پر نہیں بلکہ عدل اور آئین کی پاسداری سے قائم رہتی ہیں۔ اگر اب بھی ان ماورائے عدالت قتل و غارت گری کو نہ روکا گیا، تو وہ دن دور نہیں جب قانون پر سے عوام کا بھروسہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

Address

Lahore
54700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hussain Mirza Pakistan ki awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share