25/02/2026
🐱 بلی نے توڑا روزہ – ایک سبق آموز کہانی
رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ گھر میں روحانیت اور سکون کا ماحول تھا۔ سب افراد روزہ رکھتے، نماز ادا کرتے اور افطار کا انتظار کرتے۔ اسی گھر میں ایک شرارتی مگر پیاری سی بلی بھی رہتی تھی جس کا نام "مِنو" تھا۔
مِنو کو اپنے مالکوں سے بے حد محبت تھی۔ وہ سارا دن گھر میں گھومتی پھرتی رہتی اور جب سب سحری کرتے تو وہ بھی ان کے ساتھ جاگ جاتی۔ ایک دن گھر کے سب افراد روزے سے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا اور گرمی کافی زیادہ تھی۔ مِنو کو زور کی بھوک اور پیاس لگی۔
کچن میں دودھ کا ایک پیالہ رکھا تھا۔ مِنو پہلے تو خود کو روکتی رہی، جیسے وہ بھی روزہ رکھے ہوئے ہو۔ مگر آخرکار بھوک سے بے حال ہو کر اس نے دودھ پی لیا۔ جب گھر والوں نے دیکھا تو وہ مسکرا دیے۔ انہوں نے پیار سے کہا:
"مِنو نے تو روزہ توڑ دیا!"
سب ہنسنے لگے۔ امی نے بچوں کو سمجھایا: "بیٹا، جانوروں پر روزہ فرض نہیں ہوتا۔ وہ معصوم ہوتے ہیں، انہیں اللہ نے معاف رکھا ہے۔"
یہ سن کر بچوں کو بھی سبق ملا کہ دین میں آسانی ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر مخلوق پر اپنی رحمت فرماتا ہے۔
شام کو جب افطار کا وقت ہوا تو مِنو سب کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ اس بار اس کے لیے بھی الگ سے دودھ رکھا گیا۔ سب نے پیار سے اسے سہلایا۔ گھر کا ماحول محبت اور شفقت سے بھر گیا۔
سبق:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
جانور معصوم ہوتے ہیں، ان پر عبادات فرض نہیں۔
دین اسلام میں آسانی اور رحمت ہے۔
ہمیں ہر مخلوق کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا