Hum Sa Koi Ho To Samney Aaye

  • Home
  • Hum Sa Koi Ho To Samney Aaye

Hum Sa Koi Ho To Samney Aaye Have Fun

ایک ‏خاتون کا شوہر بے وفا ہوگیا. افواہ تھی کہ وہ شائد کسی دوسری عورت سے خفیہ شادی کر چکا ہے. ایسے میں پھر پیر فقیر یاد آ...
14/10/2024

ایک ‏خاتون کا شوہر بے وفا ہوگیا. افواہ تھی کہ وہ شائد کسی دوسری عورت سے خفیہ شادی کر چکا ہے. ایسے میں پھر پیر فقیر یاد آتے ہیں۔ عورت کو پتہ چلا کہ آبادی سے دور فلاں پہاڑی پر ایک پہنچے ہوئے بزرگ کی خانقاہ ہے۔ خاتون اس بزرگ سے ملنے چل نکلی. بڑی مشکل سے جب خانقاہ پہنچی تو بزرگ نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا ؟
خاتون نے کہا۔ میں نے اپنی زندگی کے بیس بہترین سال جس کو دیئے، دن رات جس کی خدمت کی وہ مجھے بھول کر کسی دوسری عورت کے چکر میں پڑ گیا ہے.
بزرگ نے مٹھائی کا ایک ڈبہ کھولا اور خاتون سے کہا۔ لیں یہ مٹھائی چیک کریں اور پھر بتائیں کہ یہ کب سے ہوا.
خاتون نے ایک مٹھائی اٹھائی اور کھائی۔ اسے اچھی لگی تو دوسری اٹھائی اور کھالی۔ مٹھائی کھاتے کھاتے ساری سنی افواہیں دہرا دیں۔ افواہیں اور جن خواتین پر اسے شک تھا ان کی تعداد شائد زیادہ تھی کیونکہ مٹھائی کا ڈبہ ساتھ نہیں دے پایا.
بزرگ نے اس خاتون سے کہا۔ میں نے آپ کو ایک مٹھائی کھانے کو کہا تھا ، آپ سارا ڈبہ کھا گئیں. اس سے آپ کو کیا سمجھ آئی.؟
خاتون نے کچھ دیر سوچا اور پھر بہت فلسفیانہ انداز میں کہا۔ اچھا میں سمجھ گئی آپ کا مطلب ہے مرد کا مزاج ایسا ہے. ایک مٹھائی چھکنے کے بعد وہ پھر دوسری تیسری چوتھی کی طلب رکھ لیتا ہے.
بزرگ نے تپ کر کہا۔ نہیں بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ تم بہت زیادہ موٹی اور بھدی ہوگئی ہو. تمہارا اپنے کھانے پینے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے. تمہارے مسائل کوئی تعویذ کوئی دم ٹھیک نہیں کر سکتے۔ جاو اپنا منہ اور پیٹ کنٹرول میں رکھو۔ منہ پیٹ اگر کنٹرول ہوگیا تو عمر بھلے کم نہ ہو ، جسامت ضرور بیس سال پیچھے والی مل جائے گی.
سُنا ہے اس پہاڑی والے بزرگ کے پاس اب خواتین نہیں جاتی. بقول خواتین کے اس کے دم درود و تعویذ میں کوئی اثر نہیں ہوتا.

20/09/2024

مجھے نہیں معلوم کہ یہ الفاظ کس نےلکھےھیـــــں اگر وقت ھے تو پڑھ لیں پلیز
"""""""""""""""""
مرد کے کپڑوں میں عورت کی صفائی دکھائی دیتی ھے
عورت کے لباس میں مرد کی مردانگی ظاھر ھوتی ھـــــے۔۔۔
اور لڑکیوں کے لباس میں ماں کے اخلاق نظر آتے ھیـــــں...
ھم محبت، رواداری، وفاداری، احترام اور تمام اعلیٰ اقدار پر پلی ھوئی نسل ھیـــــں۔۔۔
ھم ان مردوں اور عورتوں کے درمیان رھتے تھے جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے، لیکن انہوں نے تعلقات اور احترام میں مہارت حاصل کی تھی...
انہوں نے ادب نہیں پڑھا لیکن ھمیں ادب سکھایا۔۔۔
انہوں نے فطرت کے قوانین اور حیاتیات کا مطالعہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے ھمیں شائستگی کا فن سکھایا۔
انہوں نے رشتوں کی ایک بھی کتاب نہیں پڑھی لیکن اچھا سلوک اور احترام سکھایا۔۔۔
انہوں نے مذھب کا گہرائی سے مطالعہ نہیں کیا لیکن ھمیں ایمان کا مفہوم سکھایا۔۔۔
انہوں نے منصوبہ بندی کا مطالعہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے ھمیں دور اندیشی سکھائی...
ھم میں سے اکثر کو گھر میں اونچی آواز میں بولنے کی ھمت نہیں ھوئی...
ھم وہ نسل ھیں جو گھر کے صحن میں بجلی بند ھونے پر سو جاتے تھے...
ھم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے تھے مگر ایک دوسرے کے بارے میں باتیں نہیں کرتے تھے...
میری دلی محبت اور تعریف ان لوگوں کے لیئے جنہوں نے ھمیں یہ سکھایا
کہ والدین کی عزت ھوتی ھـــــے...
استاد کی عزت ھوتی ھـــــے...
محلے دار کی عزت ھوتی ھـــــے...
رفاقت کی عزت ھوتی ھـــــے...
اور دوستی کی عزت ھوتی ھے...
ھم ساتویں پڑوسی کی عزت کرتے تھے.. اور بھائی اور دوست کے ساتھ اخراجات اور راز بانٹتے تھـــــے...
ان لوگوں کے لیئے جنہوں نے وہ خوبصورت لمحات گزارے، اور اس نسل کے لیئے جس نے ھمیں پرورش اور تعلیم دی، اور میں ان سے کہتا ھوں :کہ آپ میں سے جو زندہ ھیـــــں اللہ رب العـــــزت ان کی حفاظت اور صحت عطا فرمائـــــے
جو ھمیں چھوڑ کر اس دنیا فانی سے چلے گئے ان کی بخشش فرمائـــــے۔۔۔آمین

06/09/2024

#اﺳﻼﻣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﺗﯽ ﮬﮯ
-1
ﺍﯾﮏ ﻣﺴﯿﺤﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﯾﻮﺑﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﮬﮯ، " ﻣﯿﺮﺍ ﺷﻮﮨﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺮﭼﮧ ﺗﻢ ﺩﻭ ۔ "
ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺍﺱ ﺟﻨﮕﯽ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﻮ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺧﺮﭼﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ۔
-2
ﺍﯾﮏ ﻗﺒﻄﯽ ‏( ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ‏) ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮ ﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ
" ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ‏( ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ‏) ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﭙﮍ ﻣﺎﺭﺍ ﮬﮯ ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻗﺼﺎﺹ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
-3
ﺍﯾﮏ ﺫﻣﯽ ‏( ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ‏) ﺍﯾﮏ ﮈﮬﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺖ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ۔
-4
ﺍﻟﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﯾﻮﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺍن ﮑﮯ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﻤﺎﮈﺭﺯ ﻓﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﻮ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﻗﯿﺪﯼ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮩﯽ ﻓﻘﺮﺍﺀ ﮨﯿﮟ ۔
-5
ﻓﺘﺢ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺁﭖﷺ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
" ﺟﺎﺅ ﺁﺝ ﺗﻢ ﺳﺐ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮ " ۔
-6
ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﻗﺎﺿﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﺳﺘﻌﻔﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ
" ﺍﺏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ " ۔
-7
ﺳﺎﺭﯼ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺧﻠﯿﻔﮧ ‏( ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ‏) ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﺗﺎ۔
-8
ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﺌﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ‏( ﻋﻤﺮﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ‏) ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺟﻮ ﻧﺌﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ۔
-10
ﺗﺎﺗﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺗﮩﮧ ﻭ ﺑﺎﻻ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺎﺗﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ۔
-11
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻗﻮﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ‏( ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ‏) ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ
" ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﮨﻮ ﺑﺮﺳﻮ ﺳﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮬﮯ " ۔
-12.
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﺩﯼ ﺳﮍﮐﻮ ﮞ ﭘﺮ ﮔﮭﻮﻣﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
" ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ؟ ،ﮐﮭﺎﻧﮯ،ﭘﯿﻨﮯ ، ﻟﺒﺎﺱ ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ " ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﺳﺐ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺗﮭﮯ ۔
-13
ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮨﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﺎم ﺘﺮ ﻧﺌﮯ ﺍﯾﺠﺎﺩﺍﺕ یہیں ﺳﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
-14
ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﻤﺒﺮ ﺍﯾﮏ ﺯﺑﺎﻥ ﺗﮭﯽ ، ﺍﻧﺪﻟﺲ ﮐﻮ ﺭﻭﺋﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﻔﺎﺗﺢ 17 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ، 22 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﻄﻨﻄﯿﻨﯿﮧ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ۔
-15.
17 ﺳﺎﻟﮧ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﺯﯾﺪ ﺍﮐﺎﺑﺮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
-16
ﺟﺮﺍﺣﺖ ﮐﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﯿﺸﺘﺮﺁﻻﺕ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﯿﺎ ۔
ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮨﯽ ﻓﻮﺟﯽ ، ﻋﻠﻤﯽ ، ﻓﮑﺮﯼ ، ﺍﻗﺘﺼﺎﺩﯼ ، ﺗﮩﺬﯾﺒﯽ , ﮨﺮ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺗﮭﯽ ۔
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﺗﮭﺎ ۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﯾﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻋﺰﺕ ﺩﯼ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﺍ ﮨﻮﺋﮯ ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﭘﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ فرماے
منقول

17/08/2024
۔۔۔۔۔۔۔۔ایک آدمی ایک دانشمند کے پاس اپنی پریشانی لے کر گیا اور کہا:"اے دانشمند، میں اپنی بیوی، چھ بچوں، ماں اور ساس کے س...
31/07/2024

۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک آدمی ایک دانشمند کے پاس اپنی پریشانی لے کر گیا اور کہا:
"اے دانشمند، میں اپنی بیوی، چھ بچوں، ماں اور ساس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہتا ہوں۔ میں کیا کروں؟"
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک گدھا خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"
آدمی دو دن بعد واپس آیا اور کہا:
"اے دانشمند، صورتحال اور خراب ہوگئی ھے۔"
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک بھیڑ خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"
آدمی واپس آیا اور اس کا چہرہ زرد تھا، اس نے کہا:
"صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی ھے۔"
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک مرغی خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"
آدمی واپس آیا اور خودکشی کے قریب تھا...
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور گدھا بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"
آدمی واپس آیا اور کہا:
"صورتحال تھوڑی بہتر ہو گئی ھے۔"
پھر دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور بھیڑ بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"
آدمی واپس آیا اور کہا:
"اب سب ٹھیک ھے۔"
دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور مرغی بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"
آدمی واپس آیا اور کہا:
"اب میں بہترین حال میں ہوں، دل سے آپکا شکریہ"
۔۔۔۔۔
¤ اس طرح دنیا کی سیاسی بحرانوں کو حل کیا جاتا ھے ...
وہ آپ کو نئی مشکلات پیدا کر کے اصل مسئلے کو بھولنے پر مجبور کرتے ہیں، تاکہ آپ اپنے مسائل پر اللہ کا شکر ادا کریں اور ان کے احسان مند رہیں۔

16/07/2024

ایک لڑکی نے اپنے دادا سے پوچھا، "پاپا، آپ مجھے کیا سکھا سکتے ہیں جو میری زندگی میں مفید ہو؟"
دادا نے کہا، "ایک سبق سکھاتا ہوں، لیکن پہلے کچھ بڑا کرو جو سب کی توجہ حاصل کرے۔"
لڑکی نے پوچھا، "کیا؟"
دادا نے کہا، "محلے میں جا کر سب کو بتاؤ کہ میری شتر مرغ نے چھ سنہری انڈے دیے ہیں اور میں کروڑ پتی بننے والی ہوں۔"
لڑکی نے ایسا ہی کیا، لیکن کوئی مبارکباد دینے نہ آیا۔
اگلی صبح دادا نے کہا، "اب جا کے بتاؤ کہ ایک چور آیا، شتر مرغ کو مار ڈالا اور سنہری انڈے چرا لیئے۔"
لڑکی نے ایسا کیا اور فوراً بہت سے لوگ ان کے گھر آ گئے۔
لڑکی نے پوچھا، "پاپا، کل کوئی نہیں آیا، آج اتنے لوگ کیوں آئے؟"
دادا نے مسکرا کر کہا، "جب لوگ اچھی خبر سنتے ہیں، تو خاموش رہتے ہیں۔ لیکن بری خبر سنتے ہی فوراً آتے ہیں۔ لوگ تمہاری کامیابی سے زیادہ تمہاری ناکامی دیکھنا چاہتے ہیں۔"
"یاد رکھو، دوسروں کی رائے کی فکر نہ کرو۔ اپنے خوابوں کے پیچھے چلو اور کامیابی حاصل کرو۔

15/07/2024

ناکام معاشروں کی فطرت کے بارے میں پوچھا گیا، تو اس نے جواب دیا:
"ناکام معاشروں میں، ہر دانا کے مقابلے میں ہزار احمق ہوتے ہیں، اور ہر شعوری بات کے مقابلے میں ہزار بیوقوفانہ باتیں ہوتی ہیں۔ اکثریت ہمیشہ بے وقوف رہتی ہے اور مسلسل دانا لوگوں پر غالب آتی ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ کسی معاشرے میں فضول موضوعات بحث کی زینت بنے ہوئے ہیں اور بے وقوف لوگ منظر عام پر چھائے ہوئے ہیں، تو آپ ایک انتہائی ناکام معاشرے کی بات کر رہے ہیں۔
مثال کے طور پر، بے معنی گانے اور بولیاں لاکھوں لوگوں کو ناچنے اور گانے پر مجبور کر دیتی ہیں، اور اس گانے کا گلوکار مشہور، معروف اور محبوب بن جاتا ہے۔ بلکہ لوگ ان کی رائے کو معاشرتی اور زندگی کے امور میں بھی اہمیت دیتے ہیں۔
جبکہ مصنفین اور ادیبوں کو کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی انہیں اہمیت یا قدر دیتا ہے۔ اکثر لوگ فضولیات اور نشہ آور چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔ ایک شخص جو ہمیں بے ہوش کر کے ہماری عقلوں کو ماؤف کرتا ہے، اور ایک شخص جو ہمیں فضول باتوں سے ہنساتا ہے، اس شخص سے بہتر ہے جو ہمیں حقیقت کی طرف بیدار کرتا ہے اور حق بات کہہ کر ہمیں تکلیف دیتا ہے۔"

Address


Telephone

+923223265102

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hum Sa Koi Ho To Samney Aaye posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hum Sa Koi Ho To Samney Aaye:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share