Wasaib Times Pakistan

Wasaib Times Pakistan سرائیکی وسیب کے 23اضلاع سمیت ملک بھر کی خبروں کا ترجمان

عنائیت رینج چوک اعظم ۔جنگلات میں لگائے گئے نئے درختوں کا منظر شاندار پرورش ہے باعث درخت بڑھوتری کی طرف گامزن ہیں۔رینج آف...
27/04/2026

عنائیت رینج چوک اعظم ۔
جنگلات میں لگائے گئے نئے درختوں کا منظر شاندار پرورش ہے باعث درخت بڑھوتری کی طرف گامزن ہیں۔
رینج آفیسر عنائیت امجد ندیم رونگھا صاحب نے بتایا کہ نئی پلانٹیشن کے مطابق پنڈی مائنر کے ساتھ ساتھ 15ہزار پودے لگائے گئے ہیں

لیہ ایس پی سی سی ڈی لیہ سید  قیصر حسنین شاہ کھگہ اور ڈی ایس پی سرکل چوک اعظم سی سی ڈی چوہدری اشفاق رندھاوا کی لیہ رینج آ...
27/04/2026

لیہ
ایس پی سی سی ڈی لیہ سید قیصر حسنین شاہ کھگہ اور ڈی ایس پی سرکل چوک اعظم سی سی ڈی چوہدری اشفاق رندھاوا کی لیہ رینج آمد نئے رینج آفیسر میاں عبدالعزیز کو لیہ رینج آفیسر تعینات ہونے پر مبارک باد پیش کی
انہوں نے روائیتی پگڑی پہنائی اور نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا

21/04/2026

استاد محترم رانا اعجاز محمود صاحب کی ایک اور نایاب ویڈیو

انشاء اللہ 22اپریل 2026بروز بدھ ۔
20/04/2026

انشاء اللہ 22اپریل 2026بروز بدھ ۔

20/04/2026

استاد محترم رانا اعجاز محمود صاحب مرحوم کی نایاب ویڈیو جس میں وہ فیض صاحب کی غزل گنگنا رہے ہیں

بریکنگ نیوزایران جنگ بندی معاہدے کے تحت روزانہ زیادہ سے زیادہ 15 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا جس ک...
09/04/2026

بریکنگ نیوز

ایران جنگ بندی معاہدے کے تحت روزانہ زیادہ سے زیادہ 15 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا جس کی ٹرانزٹ فیس چینی یوآن میں ادا کی جائے گی۔

چوک اعظم:انسداد منشیات مہم ۔سیکورٹی انچارج کی نشان دہی پر غیر قانونی اسلحہ بر آمد تفصیل کے مطابق سیکورٹی آفیسر عدنان علی...
13/03/2026

چوک اعظم:انسداد منشیات مہم ۔سیکورٹی انچارج کی نشان دہی پر غیر قانونی اسلحہ بر آمد
تفصیل کے مطابق سیکورٹی آفیسر عدنان علی کی نشان دہی پر اے ایس آئی اشرف نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم میاں حسن آزاد سے غیر قانونی اسلحہ بر آمد کر لیا ہے
سیکورٹی آفیسر عدنان علی کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ چوک اعظم میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے

سرائیکی آزاد نظم "محبت جیہڑی کہاݨی ہے"شاعر۔محمد صابرعطاء کَل سانول مِلیَئے چوک دے وِچ میں آکَھئے اے کوئی رِیت تاں نہیں ت...
12/03/2026

سرائیکی آزاد نظم
"محبت جیہڑی کہاݨی ہے"
شاعر۔محمد صابرعطاء

کَل سانول مِلیَئے چوک دے وِچ
میں آکَھئے اے کوئی رِیت تاں نہیں
تُساں ہَفتہ ہَفتہ مِلدے نَئیں
میڈا سانول اے کوئی پَرِیت تاں نَئیں۔؟

سوہنڑےسانول ٹَھڈڑاساہ بَھریَئے۔

سَجے مُونڈھے سِرکُوں سَٹیاہِس
میڈے مُونڈھے تے ہَتھ رکھیا ہِس
وَت اَکھیاں دے وِچ اَکھیاں پاء کے
تھوڑا تھوڑا مُسکراء کے

ہولے ہولے آہدَۓ میکوں۔
صابِر ہالے اِی بھولا ہیں تُوں
کَہڑے دوراِچ رِیتاں لَبھدَئیں؟
کھوٹ اِچ سَچیاں نِیتاں لَبھدَئیں؟
دل وِچ پاک مَسیتاں لَبھدَئیں؟

صابِرعطاءتیکوں کِیاآکھاں میں۔۔۔
مُحبت جہڑی کہانڑی ہے
اوتاں گل پُرانڑی ہے۔

سرائیکی مجموعہ کلام"جوگی پہلے منتر سمجھے"میں سے ایک نظم
سال 2011

"سیکورٹی آفیسر کی نشان دہی  غیر قانونی اسلحہ بر آمد " چوک اعظم (کرائم رپورٹر) سیکورٹی آفیسر عدنان علی کی نشاندھی پر طارق...
12/03/2026

"سیکورٹی آفیسر کی نشان دہی غیر قانونی اسلحہ بر آمد "
چوک اعظم (کرائم رپورٹر)

سیکورٹی آفیسر عدنان علی کی نشاندھی پر طارق مسعود T/ASI نے کاروائی کرتے ہوئے غیر قانونی دو عدد رائفل ملزم محمد عثمان سے برآمد کرکے الگ الگ مقدمات درج کرلیے ہیں
سیکورٹی آفیسر عدنان کا کہنا ہے کہ ڈی پی او لیہ حسن جاوید بھٹی ،ایس ڈی پی او محمد کلیم کی ہدائیت پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے
انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ ایسے عناصر ہر کڑی نگاہ رکھیں کو سماج دشمن اور امن دشمن ہیں


لوک گلوکار عطاء محمد نیازی داود خیلویسرائیکی وسیب کا رانجھنڑ تحریر۔ملک اللہ یار تھہیم  سرائیکی وسیب کی مٹی الگ نصیب کی م...
12/03/2026

لوک گلوکار عطاء محمد نیازی داود خیلوی
سرائیکی وسیب کا رانجھنڑ

تحریر۔ملک اللہ یار تھہیم

سرائیکی وسیب کی مٹی الگ نصیب کی مالک ہے ۔ یہ مٹی کبھی کبھی ایسے ہیرے پیدا کرتی ہے جن کی چمک زمانے کو دکھائی تو دیتی ہے مگر قسمت کی گرد ان پر اس قدر جم جاتی ہے کہ وہ ہیرے اپنی اصل قیمت نہیں پا پاتے۔ ضلع میانوالی، داؤدخیل اور عیسیٰ خیل کی سرزمین بھی ایسے ہی فنکاروں کی جنم بھومی رہی ہے۔ اسی سرزمین نے ایک ایسا فنکار بھی پیدا کیا جسے سننے والے آج بھی حیرت سے کہتے ہیں کہ اگر بخت مہربان ہوتا تو یہ آواز پورے پاکستان کی پہچان بن سکتی تھی۔ اس فنکار کا نام ہے عطاء محمد نیازی۔
عطاء محمد نیازی کی آواز دراصل ایک خطے کی آواز ہے۔
جب وہ گاتے ہیں تو لگتا ہے جیسے:
کالاباغ کے پہاڑ بول رہے ہوں
دریائے سندھ کی لہریں گنگنا رہی ہوں
ٹرک ڈرائیور رات کے سفر میں تنہائی توڑ رہے ہوں
اور کوئی نوجوان عاشق اپنے دل کا دکھ ہلکا کر رہا ہو
یہی وجہ ہے کہ ان کے گیتوں میں مٹی کی خوشبو ہے۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ان چند گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں جو نہ صرف فنِ موسیقی سے واقف تھے بلکہ علمی اعتبار سے بھی بہت آگے تھے۔ مگر تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ علم اور صلاحیت کے باوجود ہر شخص کو وہ مقام نہیں ملتا جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔
سرائیکی وسیب کی موسیقی میں اگر ہم بڑے ناموں کا ذکر کریں تو یقیناً عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کا نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ خود عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ اگر ان کے اندازِ گائیکی میں کوئی خوبصورت انداز میں گا سکتا ہے تو وہ عطاء محمد نیازی ہیں۔ یہ اعتراف کسی معمولی بات کی نشانی نہیں بلکہ ایک بڑے فنکار کی طرف سے دوسرے فنکار کے کمال کا اعتراف تھا۔
مگر موسیقی کی دنیا میں صرف آواز یا فن ہی کافی نہیں ہوتا۔ یہاں بخت کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک گلوکار ایک گیت گا کر شہرت کی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے جبکہ بعض لوگ عمر بھر گاتے رہتے ہیں اور شہرت ان کے دروازے تک نہیں پہنچتی۔

عطاء محمد نیازی کی زندگی بھی اسی حقیقت کی ایک مثال ہے
ان کے کئی ایسے گیت تھے جو بعد میں دوسرے گلوکاروں گائے اور وہ گیت مشہور ہو گئے۔ مثال کے طور پر معروف گیت “میڈا رانجھراں” جب شازیہ خشک کی آواز میں سامنے آیا تو اس نے پورے پاکستان میں شہرت حاصل کر لی، مگر اس گیت کے پس منظر میں عطاء محمد نیازی کا تخلیقی اور موسیقیاتی کردار بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ اسی طرح کئی اور گیت بھی ایسے ہیں جنہیں دوسروں نے گا کر شہرت حاصل کی۔
میانوالی کے پرانے موسیقار بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک محفل میں کسی نے عطاء محمد نیازی سے کہ:
“آپ کے گانے دوسرے لوگ گا کر مشہور ہو جاتے ہیں، آپ کو دکھ نہیں ہوتا؟”

انہوں نے مسکرا کر جواب دیا:
“گانا اگر لوگوں تک پہنچ جائے تو یہی بڑی بات ہے۔ آواز کس کی ہے، یہ اتنا ضروری نہیں۔”
یہ جواب سن کر محفل میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
یہ جواب کسی فنکار کا نہیں بلکہ ایک درویش کا جواب تھا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
اس کی ایک بڑی وجہ ان کی سرکاری ملازمت تھی۔ ملازمت کی پابندیوں نے انہیں موسیقی کو وہ وقت دینے نہیں دیا جو ایک فنکار کو درکار ہوتا ہے۔ مگر اس سے بھی بڑی وجہ شاید ان کی درویشانہ طبیعت تھی۔ وہ شہرت کے ان راستوں پر نہیں گئے جہاں سے بعض گلوکار ایک ہی گیت کے ذریعے راتوں رات ستارہ بن جاتے ہیں۔
میانوالی کی سرزمین پر اگر آپ سفر کریں تو آپ کو تاریخ کے کئی باب ملیں گے۔ کالاباغ کے پہاڑ، دریائے سندھ کا کنارہ، عیسیٰ خیل کی قدیم بستیاں اور داؤدخیل کے گرد و نواح یہ سب صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی داستان ہیں۔ یہی وہ ماحول ہے جہاں لوک موسیقی نے جنم لیا، جہاں ٹرک ڈرائیوروں کے ٹیپ ریکارڈروں پر کیسٹیں چلتی تھیں، جہاں محبت کرنے والے نوجوان راتوں کو گیت سنتے اور اپنے دلوں کے دکھ ہلکے کرتے تھے۔
انیس سو اسی اور نوے کی دہائی وہ زمانہ تھا جب کیسٹوں کا دور تھا۔ بازاروں میں کیسٹ کی دکانیں ہوتی تھیں، ٹرکوں اور بسوں میں ٹیپ ریکارڈر لگے ہوتے تھے اور گلوکاروں کی شہرت انہی کیسٹوں سے بنتی تھی۔ عطاء محمد نیازی کے بھی بے شمار کیسٹ مارکیٹ میں آئے، لوگ انہیں سنتے بھی تھے مگر وہ اس شہرت کو کیش نہ کر سکے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ وہ ٹیلی وژن چینلز سے دور رہے۔ آج بھی موسیقی کی دنیا میں ٹی وی اور میڈیا شہرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ میں نے خود کئی ایسے گلوکار دیکھے ہیں جو اپنی تشہیر کے لیے بھاری رقم خرچ کرتے ہیں تاکہ ہر وقت ٹی وی سکرین پر نظر آئیں۔ مگر عطاء محمد نیازی جیسے درویش صفت انسان نے کبھی اس دوڑ میں شامل ہونا پسند نہیں کیا۔
وہ اپنی دنیا میں مگن رہے۔ گاتے رہے، تخلیق کرتے رہے اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔
عطاء محمد نیازی کے کئی گیت ایسے ہیں جو آج بھی سرائیکی اور پنجابی موسیقی کے شوقین لوگوں میں سنے جاتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر

آکھے واہ بلوچا
اساں میانوالی جاوناں اے
چلو پھر سے اپنے گاؤں چلتے ہیں
چاندی والی ونگ
سانول سوہنیاں
اساں تے یاراں دے یار ہاں
تیڈی وسے میانوالی ڈھولنا
گہرے رنگ کے کپڑوں میں
تیری طرح تیرا گاؤں بھی خوب صورت ہے
بھورے والوں والا
آرشاماں پار شاماں
کجلا
مار مکایا تیڈے پیار
ان کے گیتوں میں میانوالی کی مٹی کی خوشبو، محبت کی سادگی اور لوک شاعری کی روانی صاف محسوس ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج جب ہم سرائیکی وسیب کی موسیقی کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اگر قسمت تھوڑی سی مہربان ہوتی تو عطاء محمد نیازی کا نام شاید عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے بعد دوسرے نمبر پر لیا جاتا۔

تاریخ ہمیں صرف بادشاہوں اور جنگوں کی کہانیاں نہیں سناتی بلکہ وہ ایسے فنکاروں کی یاد بھی محفوظ رکھتی ہے جنہوں نے اپنی خاموش محنت سے ثقافت کو زندہ رکھا۔ عطاء محمد نیازی بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔

وہ شاید ملک گیر شہرت حاصل نہ کر سکے، مگر جو لوگ موسیقی کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس سرزمین کے اس درویش گلوکار نے سرائیکی وسیب کی موسیقی کو ایک خاص رنگ دیا ہے۔
اور شاید یہی کسی فنکار کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
کہ اس کی آواز وقت کے شور میں گم نہیں ہوتی… بلکہ خاموشی میں بھی سنائی دیتی رہتی ہے۔

Address

Zubair Medical Store Chowk Azam, Dist Layyah
Layyah

Telephone

+923008762337

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wasaib Times Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Wasaib Times Pakistan:

Share