27/11/2025
ڈیرہ غازی خان/تونسہ کے ایک علاقے میں ان چار نوجوانوں کو پولیس نے گولیاں مار کر مار ڈالا۔ ان پر الزام تھا کہ کسی
یوٹیوبر ویلھا منڈا کے باپ کو اغوا کیا تھا۔ اس کا باپ زندہ برآمد ہوگیا لیکن چار نوجوان مارے گئے۔
ان کے بوڑھے والدین اب مریم نواز صاحبہ سے مطالبعہ کررہے ہیں کہ انہیں انصاف دیں۔ ان والدین کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے۔ انہیں ثبوت دیں کہ ان کے بچے اس اغوا میں ملوث تھے۔ یہ کیسا انصاف ہے پولیس والے ان کے بچوں کی لاشیں حوالے کر گئے ہیں۔
اگر یہ ملوث بھی تھے تو کیا یہ قانون ہے کہ ان چار نوجوانوں کو یوں گولیوں سے بھون دیا جائے ؟
ریاست اور مجرم میں ایک ہی فرق ہوتا ہے ورنہ انسانی جان/ قتل تو دونوں کرتے ہیں۔ ریاست اخلاقی اور قانونی footings پر کھڑی ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی قاتل یا ملزم کو دفاع کا پورا موقع دے کر پھر اسے قانون کی اخلاقی قوت سے قتل کرتی ہے جبکہ قاتل یا مجرم یہ موقع کسی کو نہیں دیتا۔
اگر ریاستی ادارے اس قانونی اور اخلاقی قوت سے محروم ہوچکے ہیں تو پھر مجرم اور ریاست میں فرق نہیں رہے گا۔۔
ان چار نوجوانوں کا قتل ریاست یا ریاستی اداروں کی قانونی جیت نہیں بلکہ شکست ہے۔ ان نوجوانوں کا ٹرائل ہونا چاہیے تھا نہ کہ کہیں لے جا کر گولیاں مار کر والدین کو بلا کر دھمکیاں دیی جاتی کہ جا کر انہیں چپکے سے دفن کر دیں ورنہ ہم واپس آئیں گے۔
آپ خود بچوں کی ماں ہیں زر ان والدین کا سوچیں جن کے چار جوان بچے بغیر کسی عدالت جج یا قانون کا سامنا کیے بغیر سیدھے کھیت میں لے جا کر گولیوں سے بھون دیے گئے۔ مریم صاحبہ یہ انصاف نہیں ظلم ہورہا ہے۔