15/08/2026
تئیس سالہ رچرڈ ہیرک (بائیں جانب) گردے فیل ہونے کے ناقابلِ علاج مرض میں مبتلا تھے اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پاس زندگی کے صرف دو سال باقی تھے۔ ان کے لیے امید کی واحد کرن ایک جدید اور منفرد طبی عمل تھا، جس کے لیے ان کے جڑواں بھائی رونالڈ (دائیں جانب) کو اپنا ایک گردہ عطیہ کرنا تھا۔
23 دسمبر 1954 کو ان دونوں کو اس تجرباتی آپریشن کے لیے آپریشن تھیٹر لے جایا گیا۔ یہ دنیا کا پہلا کامیاب گردے کی پیوند کاری (kidney transplant) کا عمل ثابت ہوا۔
ان کے سرجن جوزف مِرے تھے؛ ان کا ماننا تھا کہ اگر ہو بہو ہم شکل جڑواں بھائی (identical twin) کا گردہ لگایا جائے تو جسم کی جانب سے عضو کو مسترد کرنے (organ rejection) کے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے ماضی کی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔ ان کا یہ مفروضہ درست ثابت ہوا۔ دونوں مریضوں کی صحت تیزی سے بحال ہوئی۔ رچرڈ نے تو ہسپتال میں اپنی دیکھ بھال کرنے والی نرس سے شادی بھی کر لی، اور ان کے ہاں دو بچے بھی ہوئے۔
وقت کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں نے اس علم کو مزید وسعت دی اور یہ طریقہ سیکھا کہ کس طرح ایسے افراد کے درمیان اعضاء کی پیوند کاری کی جا سکتی ہے جن کا آپس میں کوئی خونی رشتہ نہ ہو؛ اس کے لیے مریض کے مدافعتی نظام (immune system) کو عارضی طور پر دبا دیا جاتا ہے۔ اس آپریشن کی کامیابی نے جگر، لبلبے اور دل جیسے دیگر اعضاء کی پیوند کاری کی راہ ہموار کی۔
آج اعضاء کے عطیے اور رونالڈ جیسے فیاض لوگوں کی بدولت لاکھوں زندگیاں بچائی جا چکی ہیں، جنہوں نے ضرورت مندوں کو اپنے اعضاء عطیہ کیے۔