10/06/2026
بقلم ازخود : وقاص خان میرانی
سفر ابھی جاری ہے✍️
ہر ماں باپ اپنے بچوں کے لیے بہترین زندگی چاہتے ہیں۔ وہ یہہ چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا یا بیٹی کامیاب ہو، عزت کمائے، اچھا مستقبل بنائے اور زندگی کی مشکلات سے محفوظ رہے۔ ان کی نیت میں کوئی خرابی نہیں ہوتی، کیونکہ والدین کی محبت دنیا کی سب سے سچی محبتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن بعض اوقات یہی محبت غیر محسوس انداز میں دباؤ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر ذہن، ہر صلاحیت اور ہر خواب الگ ہوتا ہے۔ کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، کوئی وکیل، کوئی کاروباری شخص، کوئی لکھاری، کوئی استاد اور کوئی کسی اور میدان میں اپنا نام بنانا چاہتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچوں کے خوابوں کے بجائے ان پر دوسروں کے خواب مسلط کر دیے جاتے ہیں۔
بعض والدین اپنے بچوں کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں۔ فلاں کا بیٹا یہ بن گیا، فلاں کی بیٹی وہاں پہنچ گئی. تم کیوں نہیں کر سکتے؟ شاید یہ جملے وقتی طور پر معمولی محسوس ہوں. لیکن ایک نوجوان کے دل اور ذہن پر ان کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ خود پر شک کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ اپنے خوابوں سے زیادہ دوسروں کی توقعات کا بوجھ اٹھانے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈگری تو حاصل ہو جاتی ہے، لیکن خوشی کہیں راستے میں کھو جاتی ہے۔
میرے خیال میں والدین کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ ان کا بچہ کسی مخصوص شعبے میں جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بنے۔ ایسا انسان جو سچ بولے، حلال کمائے، لوگوں کا احترام کرے، اپنی ذمہ داریاں سمجھے اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔
بچوں کو اچھی تعلیم ضرور دیں، لیکن ان کی پسند کو بھی اہمیت دیں۔ ان کی رہنمائی کریں، مگر ان کی زندگی اپنے فیصلوں سے نہ چلائیں۔ ان کے دوست بنیں تاکہ وہ اپنے خوف، ناکامی اور خواب آپ سے بانٹ سکیں۔ اگر وہ کوئی اچھی عادت اپنائیں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر وہ غلط راستے کی طرف جا رہے ہوں تو محبت سے سمجھائیں۔ کیونکہ نصیحت دل تک تب پہنچتی ہے جب اس میں محبت شامل ہو صرف حکم شامل نہ ہو۔
زندگی کا ہر سفر الگ ہوتا ہے۔ بعض بچے جلد کامیاب ہوتے ہیں اور بعض کو وقت لگتا ہے۔ لیکن اگر گھر والوں کا اعتماد ساتھ ہو تو راستے کی مشکلات آدھی رہ جاتی ہیں۔ ایک ایسا بچہ جس پر یقین کیا جائے، وہ اکثر اپنی توقع سے زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے۔
شاید ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب بنانا نہیں، بلکہ مطمئن، باکردار اور خوش انسان بنانا سکھانا چاہیے۔ کیونکہ کامیابی کے ساتھ خوشی نہ ہو تو زندگی ادھوری رہ جاتی ہے۔