08/08/2025
اربعین مارچ مؤخر، حکومت اور ایم ڈبلیو ایم میں تاریخی 7 نکاتی معاہدہ طے پا گیا
کراچی:
اربعین مارچ سے متعلق زائرین اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی بالآخر کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہو گئی۔ وفاقی و صوبائی حکومت اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے درمیان 7 نکاتی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت اربعین مارچ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پیدل سفر پر پابندی عائد کی گئی، جو بظاہر ایک سخت مگر ضروری فیصلہ تھا۔ زائرین کے لیے متبادل انتظامات فوری طور پر شروع کیے جا رہے ہیں۔
✅ معاہدے کے اہم نکات:
1. زائرین کے لیے مخصوص فلائٹ آپریشن 48 گھنٹوں میں شروع کیا جائے گا
2. ایڈوانس میں دیے گئے بس کرایے واپس کیے جائیں گے
3. عراقی حکومت سے ویزہ میں توسیع کے لیے رابطہ کیا جائے گا
4. زمینی سفر کے دیگر متبادل پر غور جاری ہے
5. بارڈر پر پھنسے طلبا کے لیے فوری احکامات
6. پیدل مارچ پر پابندی پر حکومت کی معذرت
7. زائرین کے مسائل حل کرنے کے لیے مستقل رابطہ کمیٹی قائم کی جائے گی
ایم ڈبلیو ایم کے نائب سربراہ مولانا احمد اقبال رضوی نے مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفر امام حسینؑ سے عشق کا اظہار ہے، جو ہر صورت جاری رہے گا — چاہے فضائی ہو، زمینی یا بحری۔
طلال چوہدری نے یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں زائرین کے کسی سفر پر پابندی نہیں لگائی جائے گی، اور حکومت آئندہ ایسے تمام معاملات پر بروقت اقدامات کرے گی۔