28/07/2026
کسانوں کو پہلے اسٹاک مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی گندم فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا، اور اب انہی عناصر کے زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے گندم کی مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب کسانوں کو مفت ٹریکٹروں کے وعدوں اور اُن کے گریجویٹ بچوں کو عارضی انٹرن شپس دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کسانوں سے گندم کم قیمت پر خرید کر مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہے، اور اسی منافع کا ایک حصہ مختلف مراعات کی صورت میں واپس دکھا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اُن کی فلاح کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید یہ کہ ٹریکٹروں کی قیمتیں بڑھا کر پھر سبسڈی کے نام پر ریلیف دینے کا تاثر دیا جاتا ہے، جس سے کسان کو حقیقی فائدے کے بجائے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگر یہ دعوے درست ہوں تو اس صورتِ حال پر تنقید کرنے والوں کے مطابق ایسے اقدامات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشی فائدہ زیادہ تر بااثر طبقے کو پہنچتا ہے، جبکہ عام کسان اور عوام پر مالی دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔