29/05/2026
پچاس لاکھ کا کٹا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
تصویر میں نظر آنے والا یہ بھینس کا !!!کٹا !! یعنی بچہ ہے اس کی عمر لگ بھگ چھ ماہ ہے اور خریدنے والے شخص کا کہنا ہے کہ میں اسے ایک کروڑ میں بھی خرید لیتا یعنی اتنا قیمتی کٹا،،اس کی بلڈ لائن بھی بتائی گئی کہ یہ بادشاہ ون کے بیٹے کے بیٹے کا بیٹا ہے ہماری حکومتوں نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک گائے اور بھینس کی کوئی ایسی بریڈ تیار نہیں کی جو ہولسٹن فریزئن اور بہت سی ایس بریڈز ہیں جن کے جوبیس گھنٹے کا دودھ پچاس سے ساٹھ لیٹر ایوریج ہے تیار نہیں کر سکیں جبکہ ہمارے خطہ میں پائی جانے والی ساہیوال نسل جس کی ایوریج چوبیس گھنٹوں میں 36 لیٹر بتائی جاتی ہے لیکن میں پچھلے آٹھ سال سے محکمہ لائیو سٹاک کے ساتھ مل کر اس پہ کام کر کے تھک چکا ہوں لیکن میرے پاس اس کی ایوریج بارہ سے سولہ کلو بھی بمشکل آ سکی،،اب آتے ہیں بھینس کی طرف،،ہم نے بھینس کی طرف تو کبھی توجہ ہی نہیں دی اس لئے اکثر فارمر اس کو اب اپنے فارم پر نہیں رکھتے کیونکہ اس کی دودھ کی زیادہ سے زیادہ پیداوار دس سے سولہ لیٹر کے درمیان ہے شاد و نادر ہی کوئی ایسی بھینس نکل آتی ہے جس کا دودھ بیس سے بائیس لیٹر ہو اور بھینس رکھنے کے شوقین افراد جن کا مقصد دودھ لینا نہیں ہوتا وہ اس طرح کے سٹنٹ کر کے ڈیری فارمرز کو مبینہ طور پر لوٹتے ہیں کیونکہ ہمارے اداروں کی لائیو سٹاک کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے تو پھر ایسے لوگ سادہ لوح فارمر کو اپنے جال میں پھنسا کر خوب لوٹتے ہیں
میری حکومت وقت سے اپیل ہے کہ اس کٹے کی بلڈ لائن کو ان کے پاس جو دستیاب سہولیات ہیں سے چیک کیا جائے اور اس سے آنے والی نسل کی دودھ کی پیداور کو چیک کیا جائے اگر ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں تو اس کے بلڈ کو بیرون ملک کسی لیبارٹری سے چیک کروایا جائے اگر اس میں واقعی اتنا پوٹینشل ہے تو بھینس پر ہی کچھ کام کر لیں ساہیوال نسل کو تو ہم نے بہت اچھا کر لیا ہے اور اس پہ محکمہ لائیو سٹاک کا پندرہ سال سے کام کرنے کے باوجود رزلٹ صفر ہے
اگر حکومت کچھ بھی نہیں کر سکتی تو برائے مہربانی اس قسم کے مبینہ فراڈ سے لائیو سٹاک فارمر کو بچایا جائے،،میری حکومت وقت سے اپیل ہے کہ اس کٹے کی بلڈ لائن کو چیک کریں اور اگر واقعی اس میں کچھ پوٹینشل ہے تو اس کے سیڈ کو عام کریں تاکہ ہم عام فارمر بھی بھینس کے دودھ کی زیادہ پیداوار لے سکیں