Ahmad waqas

Ahmad waqas motivation can change

.:روحِ من جاناں۔۔۔۔آنکھیں بند کر کے تمہیں محسوس کرنے کے علاوہ،میرے پاس تم سے ملنے کا کوئی راستہنہیں ہے۔تم وہ احساس ہو،جو...
25/04/2026

.:روحِ من جاناں۔۔۔۔
آنکھیں بند کر کے تمہیں محسوس کرنے کے علاوہ،
میرے پاس تم سے ملنے کا کوئی راستہ
نہیں ہے۔
تم وہ احساس ہو،
جو زندگی کی تھکی ہوئی راہوں میں سکون بن کر اترتا ہے۔
تمہاری موجودگی کسی نرم روشنی کی طرح ہے۔
جو دل کے اندھیروں کو آہستہ آہستہ روشن کر دیتی ہے۔
جب میں تمہیں دیکھتا ہوں تو،
یوں لگتا ہے جیسے کائنات نے اپنی ساری نفاست،
اپنی ساری نزاکت اور اپنی ساری دلکشی تمہارے وجود میں سما دی ہے۔
تمہاری آنکھوں میں ایک ایسی گہرائی ہے جہاں خاموشیاں بھی بولتی ہیں۔
ایسا بھی سانس لیتے ہیں ان نگاہوں میں عجب سا جادو ہے ایسا جادو جو انسان کو خود سے بے خبر کر دے۔
تمہاری مسکراہٹ کی بہار کی پہلی خوشبو کی طرح ہے جو دل کے باغ کو مہکا دیتی ہے۔

شکر الحمدلله زندگی کی 32 بہاریں مکمل happy birthday🎂🎉🎁 to me
31/03/2026

شکر الحمدلله زندگی کی 32 بہاریں مکمل happy birthday🎂🎉🎁 to me

07/03/2026

ایک طرف حکومتی نمائندگان پورے اعتماد سے اعلان کرتے رہے کہ ملک میں اٹھائیس دنوں کا پٹرولیم سٹاک موجود ہے۔ یعنی یہ وہ تیل ہے جو پرانی قیمتوں پر خریدا جا چکا تھا۔ مگر عجیب منطق ہے کہ اسی پرانے داموں خریدے گئے تیل کی قیمت یک لخت پچپن روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی۔ اس خدشے کے تحت کہ شاید کل کو مہنگا تیل خریدنا پڑ جائے۔ یعنی مستقبل کے ممکنہ خرچے کی پیشگی وصولی آج ہی عوام کی جیب سے کر لی جائے۔

یا پھر شاید حکومت نے یہ سوچا ہو کہ ایسی ہنگامی فضا میں ذرا “عید” ہی منا لی جائے۔ اور اگر عید لگ جائے تو کیا بعید کہ کہیں سے کوئی اور دس ارب کا جہاز بھی ہاتھ آ جائے۔

اصل مسئلہ پٹرول کی قلت نہیں ہے مسئلہ حکومتی ترجیحات کا ہے۔ اگر واقعی مہنگا تیل خریدنا پڑتا تو اس کے مطابق قیمت بڑھا لی جاتی عوام بھی کم از کم یہ سمجھ لیتے کہ خرچ بڑھا ہے تو بوجھ منتقل کیا جا رہا ہے۔ مگر یہاں معاملہ الٹا ہے۔ خرچ ابھی نہیں بڑھا بوجھ پہلے ہی ڈال دیا گیا۔

ہمارے ہاں حکومتوں کی جانب سے موقع پرستی کی جو روایت بن چکی ہے اصل ظلم وہی ہے۔ بحران یہاں اکثر عوام کے لیے نہیں بلکہ حکومتوں کے لیے موقع بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے فیصلے کا اثر اشیائے خورد و نوش پر بھی پرتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے اور بداعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

بات ترجیحات کی ہے۔ عوام اشرافیہ کی ترجیح نہیں ہوتے۔ اگر ہوتے تو دیگر اللوں تللوں پر اربوں خرچنے کی بجائے عوامی مفاد میں صرف کیے جاتے۔ ۔۔۔۔

اب تک حکومت مسلسل دعویٰ کرتی رہی کہ ملک میں پیٹرول کا ایک مہینے سے زیادہ کا اسٹاک موجود ہے اور کسی قسم کے بحران کا کوئی ...
07/03/2026

اب تک حکومت مسلسل دعویٰ کرتی رہی کہ ملک میں پیٹرول کا ایک مہینے سے زیادہ کا اسٹاک موجود ہے اور کسی قسم کے بحران کا کوئی خطرہ نہیں۔ لیکن اچانک ہی عوام پر پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے کا اضافہ کر کے رمضان المبارک کا ایسا “تحفہ” دیا گیا جس نے پہلے ہی مہنگائی کے مارے عوام کی کمر مزید توڑ دی۔
سوال یہ ہے کہ ہر مشکل وقت میں قربانی صرف عام آدمی ہی کیوں دے؟ آخر کیوں ہر بحران، ہر مالی بوجھ اور ہر ناکامی کا ملبہ عوام پر ہی ڈال دیا جاتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ آج بھی عام آدمی پیٹرول کے ہر لیٹر پر 100 روپے سے زائد لیویز اور مختلف ٹیکسز حکومت کو ادا کر رہا ہے۔ یعنی عوام پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس کے باوجود قیمتیں بڑھا کر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔
لیکن کبھی یہ بھی سوچا گیا کہ کیا حکومت نے اپنی عیاشیاں کم کیں؟
کیا وزراء، مشیروں اور پارلیمنٹیرینز کی وہ چھ سو فیصد تک بڑھائی گئی تنخواہیں اور مراعات واپس لی گئیں؟
کیا حکمرانوں کے پروٹوکول، شاہانہ اخراجات اور سرکاری مراعات میں کوئی کمی کی گئی؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بھی معیشت مشکل میں آتی ہے تو سب سے آسان راستہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال دیا جائے۔ جبکہ حکمران طبقہ بدستور اسی آسائش اور شاہانہ طرزِ زندگی کے ساتھ قائم رہتا ہے۔
آخر کب تک اس ملک کا عام شہری مہنگائی، ٹیکسوں اور فیصلوں کا بوجھ اکیلا اٹھاتا رہے گا؟
کیا کبھی حکمران بھی اپنی غلط پالیسیوں کی قیمت خود ادا کریں گے، یا پھر ہر بار کی طرح قربانی کا بکرا صرف عوام ہی بنتے رہیں گے؟؟ ؟؟

ملتان ڈویژن کی احتجاجی ریلی میں شرکت
06/03/2026

ملتان ڈویژن کی احتجاجی ریلی میں شرکت

احتجاج
05/03/2026

احتجاج

دنیا کے 50 ممالک میں پاکستانی طلبہ کے لئے مفت تعلیم رہائش اور ساتھ میں تنخواہ بھی میرے پاکستانیو!  ہمارے زیادہ تر طلبہ ص...
21/01/2026

دنیا کے 50 ممالک میں پاکستانی طلبہ کے لئے مفت تعلیم رہائش اور ساتھ میں تنخواہ بھی
میرے پاکستانیو!
ہمارے زیادہ تر طلبہ صرف ایک 2 سکالرشپ پر اپلائی کرتے ہیں اور بس جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک انٹرنیشنل طلبہ کو سکالرشپ دیتے ہیں تو جس سکالرشپ کے لئے اہلیت پوری ہو تو اس کے لئے لازمی اپلائی کریں۔ اس پوسٹ میں ایسے 50 ممالک کی لسٹ دی گئی ہے جہاں یا تو سکالرشپ ہیں یا پھر وہاں تعلیم مفت یا سستی ہے۔ سکالرشپ سے ہٹ کر جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں تو وہ ایسے ممالک جا سکتے ہیں جہاں تعلیم سستی ہے اور معیاری بھی۔ اس پوسٹ کو اپنی "اسکالرشپ " سمجھیں اور اسے فوراً SAVE کر لیں، کیونکہ یہ لسٹ بنانے میں مہینوں کی ریسرچ لگی ہے!
یورپ: جہاں تعلیم تقریباً مفت ہے (The European Dream)
یہاں کی اکثر پبلک یونیورسٹیوں میں یا تو فیس نہیں ہے یا بہت بڑی اسکالرشپس موجود ہیں۔
1. جرمنی (Germany): (تقریباً تمام پبلک یونیورسٹیوں میں ٹیوشن فیس صفر ہے۔ DAAD اسکالرشپ سب سے بڑی ہے۔)
2. اٹلی (Italy): (DSU اور ریجنل اسکالرشپس پر 100% فری تعلیم + سالانہ 20 لاکھ وظیفہ۔ کم GPA والوں کے لیے جنت۔)
3. ہنگری (Hungary): (Stipendium Hungaricum: 5000+ پاکستانیوں کے لیے فلی فنڈڈ۔ بغیر IELTS کے بھی ممکن۔)
4. ناروے (Norway): (پبلک یونیورسٹیوں میں کوئی ٹیوشن فیس نہیں، معیار زندگی بہت بلند۔)
5. فن لینڈ (Finland): (ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے لیے شاندار فنڈنگ۔ دنیا کا بہترین تعلیمی نظام۔)
6. سویڈن (Sweden): (SI Scholarship برائے گلوبل پروفیشنلز، مکمل فلی فنڈڈ۔)
7. آسٹریا (Austria): (بہت کم فیس اور گورنمنٹ اسکالرشپس۔)
8. بیلجیم (Belgium): (VLIR-UOS اور Master Mind اسکالرشپس۔)
9. فرانس (France): (Eiffel Scholarship، اور پبلک یونیورسٹیوں میں بہت کم فیس۔)
10. نیدرلینڈز (Netherlands): (Orange Knowledge Programme اور یونیورسٹی بیسڈ اسکالرشپس۔)
11. سوئٹزرلینڈ (Switzerland): (Swiss Government Excellence Scholarship، پی ایچ ڈی والوں کے لیے سب سے زیادہ وظیفہ۔)
12. آئرلینڈ (Ireland): (Government of Ireland Postgraduate Scholarship۔)
13. پولینڈ (Poland): (کم خرچ اور یورپ میں انٹری کا آسان راستہ۔)
14. چیک ریپبلک (Czech Republic): (گورنمنٹ اسکالرشپس اور سستی تعلیم۔)
15. اسپین (Spain): (کچھ یونیورسٹیوں میں بہترین مواقع، خاص طور پر ریسرچ میں۔)
16. پرتگال (Portugal): (یورپ کا سستا ترین ملک اور اچھی یونیورسٹیاں۔)
17. رومانیہ (Romania): (وزارت خارجہ کی فلی فنڈڈ اسکالرشپ۔)
18. ڈنمارک (Denmark): (حکومت کی طرف سے مخصوص کوٹہ اسکالرشپس۔)
19. ایسٹونیا (Estonia): (آئی ٹی اور ڈیجیٹل فیلڈز کے لیے بہترین اور سستا۔)
20. لتھوانیا (Lithuania): (ریاستی اسکالرشپس برائے ماسٹرز۔)
21. لٹویا (Latvia): (یورپی یونین کی سستی ترین تعلیم۔)
ایشیا: ابھرتی ہوئی طاقتیں اور مکمل فنڈنگ (The Asian Giants)
یہ ممالک ٹیلنٹ کو کھینچنے کے لیے پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں۔
22. چین (China): (CSC Scholarship: دنیا کا سب سے بڑا پروگرام، ہزاروں پاکستانی ہر سال جاتے ہیں۔ IELTS کی ضرورت نہیں۔)
23. جنوبی کوریا (South Korea): (GKS Scholarship: بہت بھاری ماہانہ وظیفہ اور بہترین ریسرچ لیبز۔)
24. جاپان (Japan): (MEXT Scholarship: جاپانی حکومت کا مکمل فلی فنڈڈ پروگرام۔)
25. ترکیہ (Turkiye): (Turkiye Burslari: انڈرگریڈ سے پی ایچ ڈی تک سب فری، ٹکٹ بھی شامل۔ IELTS لازمی نہیں۔)
26. ملائیشیا (Malaysia): (MIS Scholarship اور یونیورسٹی فنڈز۔ مسلم کلچر اور سستا۔)
27. سنگاپور (Singapore): (SINGA Award: سائنس اور انجینئرنگ کے لیے دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیاں۔)
28. تھائی لینڈ (Thailand): (Chulabhorn اور شاہی اسکالرشپس، سائنس کے لیے بہترین۔)
29. برونائی (Brunei): (حکومت کی فلی فنڈڈ اسکالرشپ، پاکستانیوں کے لیے بہترین کوٹہ۔)
30. تائیوان (Taiwan): (حکومتی اور یونیورسٹی اسکالرشپس، ٹیکنالوجی میں بہت آگے۔)
31. ہانگ کانگ (Hong Kong): (HKPFS: پی ایچ ڈی کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ وظیفوں میں سے ایک۔)
32. آذربائیجان (Azerbaijan): (حکومتی اسکالرشپ برائے NAM ممالک۔)
33. قازقستان (Kazakhstan): (وسطی ایشیا میں ابھرتا ہوا تعلیمی مرکز۔)
مڈل ایسٹ: شاہانہ وظیفے (The Golden Opportunity)
یہاں وظیفے اتنے زیادہ ہیں کہ آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ فیملی کو بھی سپورٹ کر سکتے ہیں۔
34. سعودی عرب (Saudi Arabia): (KAUST اسکالرشپ کا ماہانہ وظیفہ 4-5 لاکھ روپے تک ہے! کنگ فہد اور کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی بھی فلی فنڈڈ ہیں۔)
35. قطر (Qatar): (قطر یونیورسٹی اور دوحہ انسٹیٹیوٹ: مکمل فری اور بہترین سہولیات۔)
36. متحدہ عرب امارات (UAE): (MBZUAI برائے آرٹیفیشل انٹیلی جنس، اور خلیفہ یونیورسٹی۔)
امریکہ، کینیڈا اور اوشیانا (The Big Leagues)
یہاں مقابلہ سخت ہے، لیکن اگر سلیکشن ہو جائے تو زندگی سیٹ ہے۔
37. امریکہ (USA): (Fulbright: سب سے بڑا اور معتبر نام۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کی اپنی فنڈنگ۔)
38. برطانیہ (UK): (Chevening, Commonwealth, اور Rhodes جیسی بڑی اسکالرشپس۔)
39. کینیڈا (Canada): (Vanier CGS, اور پروفیسرز کے ریسرچ فنڈز۔)
40. آسٹریلیا (Australia): (Australia Awards اور یونیورسٹیوں کی RTP اسکالرشپس۔)
41. نیوزی لینڈ (New Zealand): (Manaaki New Zealand Scholarships۔)
دیگر اہم خطے
42. برازیل (Brazil): (حکومتی اسکالرشپس برائے ترقی پذیر ممالک۔)
43. میکسیکو (Mexico): (AMEXCID اسکالرشپ پروگرام۔)
44. روس (Russia): (اوپن ڈورز اسکالرشپ اور حکومتی کوٹہ۔)
(اور یہ لسٹ بڑھتی جا رہی ہے، جیسے اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) جو دنیا بھر میں فنڈنگ کرتا ہے!)
اب آپ کا امتحان ہے! (The Challenge)
میں نے آپ کو 50 راستے دکھا دیے ہیں۔ ایجنٹ آپ کو ان میں سے صرف 2 یا 3 بتائے گا جہاں اس کا کمیشن سیٹ ہو۔
آپ کا ہوم ورک:
اس پوسٹ کو ابھی Save کریں۔
ان میں سے کوئی سے بھی 3 ممالک چنیں جو آپ کو پسند ہیں۔
گوگل پر جائیں اور لکھیں: "[ملک کا نام] Government Scholarship for Pakistani Students 2026".
کمنٹ میں بتائیں: آپ کا خواب کس ملک میں جانے کا ہے؟ جس ملک کا نام سب سے زیادہ کمنٹس میں آئے گا، اگلی تفصیلی گائیڈ (Step-by-Step) ہم اسی ملک پر بنائیں گے!
اسے اتنا شیئر کریں کہ ہر غریب اور لائق طالب علم تک یہ معلومات پہنچ جائے۔ ایجنٹ مافیا کو شکست دینے کا یہی واحد طریقہ ہے!
یہ تحریر ہمارے دوست سنی احمر کی محنت کا نتیجہ ہے اس کا فائدہ اٹھائیں۔ Sunny Ahmar

سبحان پور میں ایک خاں صاحب تھے۔ ان کی بیوی نہایت حسینہ جمیلہ تھی۔ خاں صاحب اکثر سفر میں ہوتے تو ان کی بیوی خط لکھوانے کے...
20/01/2026

سبحان پور میں ایک خاں صاحب تھے۔ ان کی بیوی نہایت حسینہ جمیلہ تھی۔ خاں صاحب اکثر سفر میں ہوتے تو ان کی بیوی خط لکھوانے کے لیے مسجد کے مولوی صاحب کو بلا لیتی۔ وہ ہمیشہ پردہ میں رہ کر ہی لکھواتی اور مولوی صاحب کو کوئی ڈش وغیرہ کھلوا کر واپس بھیج دیتی۔

ایک دفعہ وہ نیک بخت پردہ میں بیٹھی خط لکھوا رہی تھی تو ہوا نے پردہ اٹھا دیا۔ مولوی صاحب کی نگاہ اس پردہ نشین سے دوچار ہوگئی۔

اب کیا تھا مولوی صاحب کے ہوش و حواس جاتے رہے۔ اس کے بعد اس خاتون نے خط کا مضمون بتانا شروع کیا تو مولوی صاحب لکھنا بھول گئے۔ بار بار یہی کہتے کہ: کیا لکھوں؟ اب جب بھی وہ جو کچھ بھی کہتی اس کے جواب میں مولوی صاحب کی زبان سے یہی جاری رہا کہ: ’’کیا لکھوں؟‘‘

آخر وہ خاتون سمجھ گئی کہ یہ بیچارا مولوی اس کے حسن کی تاب نہ لاسکا ہے اور عشق کے شاہیں نے طائر عقل کے پر نوچ لیے ہیں۔ اس نے اپنی کنیز کو اشارہ کیا کہ مولوی صاحب کو جلدی سے مسجد میں پہنچا دے۔

کنیز مولوی صاحب کو مسجد میں چھوڑ گئی۔ نماز کا وقت آیا۔ مؤذن نے اذان دی۔ مولوی صاحب امامت کرنے لگے اور سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد شروع کردیا: ’’کیا لکھوں… کیا لکھوں؟‘‘

لوگوں نے سوچا مولوی صاحب پر شاید پاگل پن کا دورہ پڑا ہے۔ کسی نے حکیم کو بلایا، کوئی شربت صندل لے کر مولوی صاحب کی خدمت میں لگ گیا۔ دوسرے دن صبح ناشتہ کرنے کے بعد مولوی صاحب قلم دوات لے کر بیٹھ گئے اور ہاتھ میں قلم لے کر پھر ورد کرنا شروع کردیا کہ: ’’کیا لکھوں… کیا لکھوں؟‘‘

مؤذن نے پھر لوگوں کو اکٹھاکیا تو مولوی صاحب فرمانے لگے کہ وہ کسی بڑے شہر میں اپنا علاج کرانے کے لیے جارہے ہیں اور مسجد کے معاملات کو مؤذن سنبھالیں گے۔ اس جنون کی حالت میں بھی وہ اس راز کو افشا ہونے سے بچانے کی کوشش میں تھے۔

دس میل دور جنگل میں ایک خانقاہ تھی جہاں ایک ملنگ رہا کرتا تھا۔ مولوی صاحب شہر تو نہ گئے اس خانقاہ پر پہنچ کر وہیں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ نہ بھوک لگتی نہ چین آتا۔ اندر ہی اندر گھلنے لگے۔ تین ماہ کا عرصہ گزر گیا۔

خاں صاحب سفر پہ تھے تو بیگم نے مولوی کو بلوا بھیجا۔ اس مرتبہ مؤذن جب خاں صاحب کے گھر پہنچا تو بیگم نے پوچھا کہ وہ پرانے مولوی صاحب کدھر ہیں؟ مؤذن نے تمام ماجرا بیان کردیا کہ وہ پاگل ہوگئے تھے۔ ہر وقت: ’’کیا لکھوں… کیا لکھوں؟‘‘ کہتے رہے۔ آخر وہ یہ بستی چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں۔

عشق پر کبھی کبھی حسن کو ترس آجاتا ہے۔ بیگم نے خط وط تو کوئی نہ لکھوایا، مؤذن کو بھاری رقم دے کر کہا کہ آپ جائیں اور مولوی صاحب کو ڈھونڈ کر بتائیں کہ کہاں ہیں۔ مؤذن کو کچھ کچھ شک ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہی ہے۔

وہ ایک ہمدرد انسان تھا اور مولوی صاحب کے اس پر پر بہت احسانات تھے۔ خاموشی سے مسجد میں لوٹا اور مولوی صاحب کی تلاش کے لیے سوچنا شروع کردیا۔
ایک مہینہ اس نے مولوی صاحب کی تلاش کے لیے دن اور رات ایک کر دیئے۔ آخر بہت مشکلوں کے بعد اسے پتہ چل گیا کہ مولوی صاحب فلاں فلاں جگہ ایک خانقاہ میں وقت گزار رہے ہیں۔

ایک دن فجر کی نماز پڑھانے کے بعد مؤذن نے اس خانقاہ کی طرف سفر شروع کیا۔ سارا دن چلتے چلتے تھک گیا اور آخر پچھلے پہر وہ اس جگہ پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ملنگ ایک تازہ قبر پر پانی چھڑک رہا ہے۔ ’’یہاں مولوی صاحب آئے تھے؟‘‘ مؤذن نے پوچھا۔ ’’یہ پڑے ہیں!‘‘

ملنگ نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘
’’بس فنا ہوگئے ہیں۔‘‘ ’’وہ کیسے؟‘‘

’’عشق کی وراثت منصور یا مجنوں کے لیے ہی نہیں۔ یہ تحفہ اوروں کو بھی مل سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کے اہل ہوں۔‘‘

’’یہ شاید انہوں نے اچھا نہیں کیا۔‘‘
مؤذن نے سرکھرکتے ہوئے کہا۔

ملنگ جلال میں آگیا۔
بولا: ’’عشق حقیقی ہو یا مجازی،
اس کے آثار ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔

منصور نے اناالحق کا نعرہ لگایا
تو مجنوں نے لیلیٰ کو بدنام کردیا۔
مولوی تو ان دونوں سے بازی لے گیا۔
اس نے تو محبوب کا نام ہی نہیں لیا۔‘‘

’’مولوی کا جنازہ کس نے پڑھایا؟‘‘
’’تم ملاں کے ملاں ہی رہے۔‘‘ ملنگ چلایا۔

’’ارے مولوی صاحب کا جنازہ عام لوگوں نے نہیں پڑھایا۔

کیا تم نے نہیں سنا کہ اگر کوئی عشق میں مبتلا ہوجائے، راز افشا نہ کرے، دوسرے کو بدنام نہ کرے اور اگر اس گھٹن میں مر جائے تو وہ شہید ہے۔

‘‘ مؤذن نے اپنی پگڑی اتار کر اپنے گلے کے اردگرد لپیٹ لی اور واپسی کا سفر شروع کردیا۔

’’میں کسی سے کچھ بھی نہیں کہوں گا۔‘‘
ہر قدم پر وہ یہی دہرا رہا تھا۔

(کتاب’’ چھپن چھپائی‘‘ سے اقتباس) —
مصنف
مظہر سعید قریشی

**ہماری "انا" کی کشتی اور خضرؑ کی تلاش**ہمیں بڑا زعم ہے کہ ہم سب جانتے ہیں۔چار کتابیں کیا رٹ لیں، ڈگری فریم کروا کے دیوا...
18/01/2026

**ہماری "انا" کی کشتی اور خضرؑ کی تلاش**

ہمیں بڑا زعم ہے کہ ہم سب جانتے ہیں۔
چار کتابیں کیا رٹ لیں، ڈگری فریم کروا کے دیوار پہ ٹانک لی، تو بندہ خود کو "عقلِ کُل" سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اب ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔ لیکن سارا دھوکا ہی یہیں ہے۔ ہماری آنکھ صرف وہ دیکھتی ہے جو "سامنے" ہے، وہ نہیں جو "پردے کے پیچھے" ہے۔

قرآن ہمیں ایک واقعہ سناتا ہے۔ اور ہمارے شعور کو جھنجوڑتا ہے۔ کلیم اللہ کا قصہ سنا کر ہمیں سوچنے سمجھنے کی طرف مائل کرتا ہے۔

وہ ہستی جو اللہ سے ڈائریکٹ بات کرتی تھی۔ شریعت ان کے پاس، معجزے ان کے پاس۔ لیکن جس لمحے دل میں یہ خیال گزرا کہ "شاید مجھ سے بڑا عالم اس وقت کوئی نہیں"، قدرت نے فوراً کلاس لگا دی۔ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ "ہاں تم ٹھیک کہتے ہو"، بلکہ سیدھا حکم ملا:
"سفر کرو! جاؤ ہمارے اس بندے (خضرؑ) کو ڈھونڈو جس کے پاس وہ 'آنکھ' ہے جو کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ سو اس سے سیکھ لے کر پلٹو۔

یہ سفر بتاتا ہے کہ "معلومات" (Information) کا پہاڑ ہونا اور چیز ہے، اور "حکمت" (Wisdom) کا موتی ہونا اور چیز۔

جب ملاقات ہوئی تو موسیٰؑ کا انداز دیکھیں۔ یہ نہیں کہا کہ میں نبی ہوں، مجھ سے سیکھو۔ بلکہ عاجزی کی انتہا کر دی:
"کیا میں آپ کے پیچھے چلوں تاکہ کچھ وہ سیکھ لوں جو مجھے نہیں پتا؟"

خضرؑ کا انداز کمال تھا: چیلنج کرنے والا، موٹیویٹ کرنے والا، سیکھنے کی سمجھنے کی تڑپ کو جلا دینے والا۔
"تم میرے ساتھ صبر نہیں کر پاؤ گے۔"
کیونکہ سیدھی سی بات ہے، انسان اس چیز پر صبر کر ہی نہیں سکتا جو بظاہر اس کی "سمجھ" میں نہ آ رہی ہو۔

پھر تین واقعات ہوئے۔ ایسے واقعات کہ بندے کا دماغ واقعی گھوم جائے۔
چلتی کشتی میں سوراخ کر دیا، ایک بچے کی جان لے لی، اور ایک غریبوں کی بستی میں گرتی ہوئی دیوار مفت میں کھڑی کر دی۔

یہاں رکیے اور سمجھیے!
موسیٰؑ کی "لاجک" سو فیصد ٹھیک تھی۔ ظاہری طور پر یہ تینوں کام فائدہ مند نہیں تھے۔ تینوں کاموں کا نقصان سامنے تھا۔ کشتی توڑنا نقصان ہے، قتل جرم ہے، اور مفت کام کرنے کو کوئی عقلمندی نہیں کہہ سکتا۔
لیکن فرق کیا تھا؟
موسیٰؑ علیہ السلام "آج" کو دیکھ رہے تھے، اور خضرؑ "انجام" کو دیکھ رہے تھے۔

* موسیٰؑ کو کشتی میں سوراخ نظر آیا، خضرؑ کو وہ ظالم بادشاہ نظر آیا جو آگے کھڑا کشتیاں چھین رہا تھا۔
* موسیٰؑ کو ٹوٹی دیوار نظر آئی، خضرؑ کو اس کے نیچے دبا یتیموں کا خزانہ اور اس کے نکلنے کا "درست وقت" نظر آیا۔

کچھ مقام راہ میں آتے ہیں جہاں نظر الجھ جاتی ہے، سوچ پلچ جاتی ہے۔ اور ہمیں "مرشد"، "استاد" یا "کوچ" چاہیے ہوتا ہے۔
ہم اپنی زندگی کی کشتی لے کر بڑی اکڑ میں جا رہے ہوتے ہیں کہ سب سیٹ ہے، ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ آگے "بادشاہ" کھڑا ہے جو سب کچھ چھین لے گا۔
ایسے میں ایک مربی کوئی مینٹور آتا ہے، وہ ہماری کشتی میں سوراخ کرتا ہے۔ وہ ہمیں روکتا ہے، ٹوکتا ہے، راستہ بدلتا ہے۔
ہم چیختے ہیں، روتے ہیں، ہماری انا تڑپتی ہے کہ "میرا نقصان کیوں کیا؟ مجھے روکا کیوں؟" مجھے چیلنج کیوں؟ میرا کمفرٹ زون کیوں ٹوٹا؟

مگر ہمیں خبر نہیں ہوتی کہ وہ عارضی نقصان ہمیں کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے ہے۔

ہماری انا سے بھری ہوئی عقل کہتی ہے کہ ابھی کا "فائدہ" ہی کامیابی ہے، مگر کبھی کبھی "رک جانا" یا "چوٹ کھا لینا" اصل کامیابی ہوتی ہے۔ کمفرٹ زون سے باہر نکل آنا ہی کامرانی ہوتی ہے۔ یہ فرق سیلف لنرننگ کی ویڈیوز نہیں سکھا سکتی، رنگ برنگے شیشوں والی عینک سے دیکھتی نظر صاف شفاف اصلی حالت والا منظر نہیں دکھا سکتی۔ یہ صرف وہ بندہ سکھا سکتا ہے جو دیوار کے پار دیکھنے والی نگاہ رکھتا ہو۔

آج ہمارے زوال کی وجہ علم کی کمی نہیں، "تسلیم" کی خو میں کمی ہے۔
ہم سوال تو موسیٰؑ کی طرح کرتے ہیں، مگر جواب پر طرز عمل فرعون جیسا کرتے ہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں خضرؑ نہیں ملتے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی کشتی پر اتنا گھمنڈ ہے کہ ہم کسی کو اس کا تختہ الٹتے دیکھ ہی نہیں سکتے۔ ہم ہر اس ہاتھ کو جھٹک دیتے ہیں جو ہماری اصلاح کی کوشش کرے۔

پھر جب بیڑا غرق ہوتا ہے اور "انجام" سامنے آتا ہے۔۔۔ تو ہم اسے "تقدیر کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں، حالانکہ وہ ہماری اپنی اندھی "تدبیر" کا جنازہ ہوتا ہے۔

ہمارے نصاب تعلیم میں بہت کچھ ہوگا مگر بچوں کو انسان بنانے کیلئے تربیت کچھ نہیں۔ زندگی گزارنے کے اصول کچھ نہیں،زندگی سمجھ...
07/01/2026

ہمارے نصاب تعلیم میں بہت کچھ ہوگا مگر بچوں کو انسان بنانے کیلئے تربیت کچھ نہیں۔ زندگی گزارنے کے اصول کچھ نہیں،زندگی سمجھانے کو ادراک کچھ نہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں، لاہور یونیورسٹی میں ایک ہی جگہ سے دو خود کشیوں کی کوشش ہوئی۔ پہلی بار ایک سٹوڈنٹ جان کی بازی ہار گیا اور دوسری بار ٹھیک اسی جگہ سے ایک لڑکی کود گئی، جسے فورا گھسیٹ کر ہسپتال پہنچایا گیا اور اس کی جان بچ گئی۔ یہ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس تھے۔ میچور ، پڑھے لکھے مگر یہ زندگی کا سامنا نہ کرسکے اور جان دینے تک پہنچ گئے۔ہر بار امتحان کے بعد ضرور سکول کے بچوں کے نہر میں کود جانے کی خبریں میڈیا پر سامنے آنے لگتی ہیں۔ اخلاقیات کے متعلق بھی ہم بچوں کی تربیت نہیں کر پا رہے۔ شکریہ ادا کرنا، میٹھے لہجے میں بات کرنا، تکلیف دہ صورتحال میں ضبط کا مظاہرہ کرنا جیسی کئی چیزیں ہیں جو اگر بچوں کو سکھائی جائیں تو ان کا بہت بھلا ہوگا، قوم کا بھی بھلا ہوگا، ہم اچھی قوم بن سکیں گے، ہمارے بچے بہتر زندگی جی سکیں گے، کئی ضروری چیزیں ہیں جو زندگی بھر ان کے کام آتی ہیں، ہم انھیں وہ نہیں سکھا رہے۔ ہمارے بچے بجلی کا ٹھیک سے بل نہیں پڑھ سکتے۔ حکومت انھیں کہاں اور کیسے چونا لگا رہی ہے، کمپنیاں ان سے کیسے فراڈ کر سکتی ہیں،یہ انھیں سکھانا چاہئے۔ غذا کے بارے میں ہم انھیں پوری معلومات نہیں دے رہے۔ ہمارے ہسپتال ناقص ، غیر متوازن اور غیر صحت مند خوراک کی وجہ سے بھرے پڑے ہیں۔ موٹاپا ہم پر طاری ہے۔ بعد میں ڈائٹیشن جو بتاتے ہیں، یہ کیوں بچوں کو پوری طرح سکول میں سکھا نہیں دیا جاتا، وہ کام جو انھوں نے دن میں تین بار کرنا ہے اور جس پر ان کی صحت منحصر ہے۔ ہم انھیں یہ ضروری کام بھی نہیں سکھا رہے۔ہم انھیں صفائی اور پاکیزگی کے متعلق بھی کچھ نہیں بتا پا رہے۔ ہمارے بچے یونیورسٹی سے نکل جاتے ہیں مگر انھیں غسل کے مسائل نہیں آتے۔ ہوسکتا ہے ہم انھیں اچھے پروفیشنل بنا رہے ہوں مگر پروفیشنل زندگی سے زیادہ انھیں بطور انسان زندگی گزارنا ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ہماری تعلیم ناقص ہے۔ ہم فیل ہوچکے ہیں کہ بچوں کو حلال اور حرام ، قناعت اور دیانت سکھا سکیں، سوشل میڈیا اور اے آئی کے بعد بچوں کو نئے چیلجنجز درپیش ہیں، بچے وقت سے پہلے زندگی کی ڈارک سائیڈ سے ایکسپوز ہو رہے ہیں، مشقت اور محنت کے سفر کے بعد زندگی کی جو سہولیات ملتی ہیں، وہ یوں ان کے سامنے آتی اور دکھائی جاتی ہیں کہ یکایک یہ انھیں حاصل کرنا چاہتے ہیں ، اور بھی بہت کچھ پریشر اور دباؤ ان کی نفسیات پر بوجھ بڑھا رہا ہے، ہماری اس طرف بالکل توجہ نہیں۔
دنیا میں سکولنگ کا بہترین نظام فن لینڈ میں ہے۔ پچھلے دنوں میرے پوڈ کاسٹ میں ایک مہمان آئے، جن کے بچے فن لینڈ میں زیر تعلیم ہیں،بڑی اچھی باتیں سننے کو ملتی رہیں۔ سب سے اچھی بات یہ کہ وہاں ٹیوشن کا کوئی تصور نہیں، بچے کبھی گھر میں کتاب اور سکول بیگ تک نہیں لاتے۔ صرف تین کتابیں ان کے سکول ڈیسک میں پڑی رہتی ہیں۔ وہ آتے ہیں، ڈیسک کھول کے کتاب پڑھتے ہیں اور بند کرکے گھر چلے جاتے ہیں، صرف پانچ گھنٹے پڑھائی کا وقت ہے، جس میں ایک گھنٹہ سونے کا بھی دیا جاتا ہے۔ ننھے بچوں کے ڈائپر تک ٹیچر بدل دیتی ہے۔ ہر ٹیچر کے پاس دس کے قریب بچے ہوں گے اور اس ایک کلاس میں تین ٹیچرز ہوں گی۔ ایک اگر پڑھا رہی ہے تو دو خاموشی سے بچوں پر توجہ دے رہی ہوں گی۔ وہاں گھر کا یا چھٹیوں کا کوئی کام بچوں کو نہیں دیا جاتا۔ وہ کتابوں کا بوجھ لادنے سے گریز کرتے ہیں اور دنیا میں بہترین رزلٹ دے رہے ہیں، میٹرک تک کوئی بچہ فیل یا پاس نہیں ہوتا۔ کوئی امتحان ہی نہیں ہوتا۔ انھیں اعتماد ہوتا ہے کہ انھوں نے جس طرح اور جو پڑھایا ہے، بچہ سب سیکھ گیا ہے،وہ اگلی کلاس پڑھ سکے گا۔ ہاں ٹیسٹ ہوتے ہیں، لیکن اس کے نمبرز صرف والدین کو بتائے جاتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ نہ تو بچے نمبرز کیلئے پڑھتے ہیں اور نہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ ہماری طرح نہیں کہ کچھ بچوں کی نفسیات میں یہ بٹھا دیا جائے کہ وہ نکمے اور نکھٹو ہیں۔ خیر یہ تو بہت انقلابی باتیں ہیں، لیکن میں تو بات کر رہا تھا کہ ہمارے بچوں کے نصاب اور ہمارے تعلیم کے نظام میں زندگی جینے کے اسباق شامل نہیں، ہمارے بچے یا تو بلندیوں سے کود کے خود کشی کر رہے ہیں یا پھر زندگی کو ٹکریں مار رہے ہیں۔ ہم بھی کوئی حل ڈھونڈنے کے بجائے ٹکریں ہی مار رہے ہیں۔ اس پر غور نہیں کر رہے۔ حل نہیں نکال رہے۔ ہمارا میڈیا بھی سیاست کی بے سمت اور بے نتیجہ لڑائی میں استعمال ہورہا ہے اور بس

جاپان میں حال ہی میں ایک غیر معمولی مگر سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ ٹول سسٹم اچانک کریش ہو گیا اور پورے 38 گھنٹے تک بحال نہ ...
02/01/2026

جاپان میں حال ہی میں ایک غیر معمولی مگر سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ ٹول سسٹم اچانک کریش ہو گیا اور پورے 38 گھنٹے تک بحال نہ ہو سکا۔ ایسی صورت میں دنیا کے اکثر معاشروں میں افراتفری، جھگڑے، الزام تراشی اور بدنظمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ مگر جاپان میں منظر بالکل مختلف تھا۔
حکام نے سادہ سا فیصلہ کیا۔ ٹریفک کو روکنے کے بجائے ٹول گیٹ کھول دیے گئے۔ ڈرائیوروں سے بس اتنا کہا گیا کہ اگر ممکن ہو تو بعد میں آن لائن ادائیگی کر دیں۔ نہ کوئی جرمانہ، نہ کوئی زبردستی، نہ کوئی نفاذ۔ صرف ایک چیز تھی، اعتماد۔
جب سسٹم بحال ہوا تو حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ چوبیس ہزار سے زائد ڈرائیور خود اپنی مرضی سے آن لائن گئے اور ٹول ادا کیا۔ حالانکہ ان پر کوئی قانونی یا انتظامی دباؤ نہیں تھا۔ یہ صرف قانون کی پابندی نہیں تھی بلکہ اخلاق کی جیت تھی۔ یہ اس معاشرے کی جھلک تھی جہاں نظام عوام پر بھروسہ کرتا ہے اور عوام اس بھروسے کو ٹوٹنے نہیں دیتے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اعلیٰ اعتماد والا معاشرہ کیسا ہوتا ہے۔ جہاں قانون ڈنڈا نہیں بنتا، بلکہ ضمیر کی آواز بن جاتا ہے۔ جہاں ایمانداری کوئی غیر معمولی کارنامہ نہیں بلکہ روزمرہ کا معمول ہوتی ہے۔
لیکن یہ سوچنا بھی درست نہیں کہ ایسی قدریں صرف جاپان تک محدود ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں۔ شاید تعداد کم ہو، شاید خبریں نہ بنیں، مگر وہ ہیں۔
ہم نے اپنے ہاں یہ مناظر بھی دیکھے ہیں کہ موٹروے پر اضافی پیسے واپس کرنے والا کیشیئر ہو، یا پٹرول پمپ پر غلطی سے زیادہ رقم لینے پر خود گاہک واپس آ کر پیسے لوٹا دے۔ کورونا کے دنوں میں راشن کی دکانوں پر “جتنا حق بنتا ہے اتنا ہی لے جائیں” کی پرچیاں لگی ہوں اور لوگ واقعی اس پر عمل کریں۔ یہ سب اسی خاموش ایمانداری کی مثالیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں آج بھی سانس لے رہی ہے۔
اصل فرق لوگوں میں نہیں، نظام اور اعتماد میں ہوتا ہے۔ جب سسٹم ایمانداری کی حوصلہ افزائی کرے، اور شک کی بنیاد پر نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد پر کھڑا ہو، تو معاشرے خود بخود بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
جاپان کا یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر انسان پر بھروسہ کیا جائے تو اکثر انسان اس بھروسے کا مان رکھ لیتا ہے۔ اور یہ امید پاکستان کے لیے بھی زندہ ہے، کیونکہ یہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اعتماد کے قابل ہیں۔

Address

Mailsi
61200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmad waqas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share