17/08/2026
آج لاہور میں ایک مشہور بیکری کے باہر ایک 65 سالہ بزرگ سیکیورٹی گارڈ کو بیٹھے دیکھا۔ وہ روٹی کے اوپر صرف پیاز رکھ کر کھا رہے تھے۔ پہلے مجھے لگا شاید دانتوں کی وجہ سے نرم سالن وغیرہ نہیں کھا سکتے، لیکن دل نے گوارا نہیں کیا اور میں ان کے پاس چلا گیا۔
میں نے پوچھا، “انکل کیا کرتے ہیں؟”
کہنے لگے، “بیٹا، سیکیورٹی گارڈ ہوں۔”
پوچھا، “تنخواہ کتنی ہے؟”
کہنے لگے، “25 ہزار روپے۔”
پھر میں نے پوچھا، “انکل، اتنی تنخواہ میں گھر کیسے چلتا ہے؟ بچے کتنے ہیں؟”
انکل نے بتایا کہ میری تین بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا ہے۔ گھر میں کمانے والا صرف میں ہوں۔
میں نے روٹی اور پیاز کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “انکل سالن وغیرہ نہیں کھاتے؟”
انکل کی اگلی بات نے دل توڑ دیا۔ کہنے لگے:
“بیٹا، دو دن سے گھر کے حالات بہت خراب ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بیٹی بیمار ہوگئی تھی، علاج کے لیے ایک شخص سے قرض لیا تھا۔ تنخواہ آئی تو سارا قرض واپس کردیا، اس کے بعد گھر کا راشن خریدنے کے لیے پیسے نہیں بچے۔”
ذرا سوچیں… ایک 65 سالہ بزرگ، جو دن رات ہماری دکانوں اور کاروبار کی حفاظت کرتا ہے، خود اپنے گھر کے لیے دو وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر پا رہا۔
ہم اکثر دکانوں، ہوٹلوں اور بیکریوں کے باہر بیٹھے سیکیورٹی گارڈز کو دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیچھے ایک پورا گھر ہوتا ہے، بچے ہوتے ہیں، بیماریاں ہوتی ہیں، بجلی کے بل ہوتے ہیں اور راشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
میں نے انکل سے پوچھا کہ “یہ بیکری والے آپ کو کچھ کھانے کے لیے نہیں دیتے؟”
انکل نے بتایا کہ اگر کچھ چیزیں بچ بھی جائیں تو انہیں کھانے کے لیے نہیں دیا جاتا، بلکہ ضائع کردی جاتی ہیں۔
یہ سن کر واقعی دل دکھا۔ اگر کسی جگہ کا سیکیورٹی گارڈ پوری ایمانداری سے آپ کی دکان، آپ کی پراپرٹی اور آپ کے کاروبار کی حفاظت کر رہا ہے تو کم از کم انسانیت کے ناطے اس کا خیال تو رکھا جا سکتا ہے۔
کھانا ضائع کرنے کے بجائے کسی بھوکے انسان کو دے دینا کون سا مشکل کام ہے؟
میں نے انکل کو کچھ رقم دی اور الگ سے راشن کے پیسے بھی دیے اور کہا:
“انکل، کل گھر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے اچھا سا کھانا لے کر جانا، گھر کا راشن لے کر جانا اور بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا۔”
اللہ گواہ ہے، انکل کے چہرے پر آنے والی خوشی دیکھ کر دل بھر آیا۔ ❤️
میری پاکستان کے ہر صاحبِ حیثیت انسان سے ایک چھوٹی سی اپیل ہے: جب بھی کسی دکان، بیکری، ہوٹل یا مارکیٹ کے باہر کوئی بزرگ سیکیورٹی گارڈ نظر آئے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ اگر استطاعت ہو تو جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی ٹپ دے دیں، پانی پلا دیں یا کچھ کھانے کو دے دیں۔ شاید آپ کے لیے چند سو روپے معمولی ہوں، لیکن اس بزرگ کے لیے وہ پورے گھر کی خوشی بن سکتے ہیں۔
اور کاروبار کرنے والے تمام بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ جو لوگ آپ کی پراپرٹی کی حفاظت کرتے ہیں، ان کا خیال رکھا کریں۔ ان کے لیے کھانے کا انتظام کریں، ان کی ضروریات پوچھیں اور انہیں عزت دیں۔
کیونکہ ہر غریب انسان صرف مدد کا محتاج نہیں ہوتا، وہ عزت کا بھی حق دار ہوتا ہے۔
03066770004
اللہ تعالیٰ اس بزرگ کے گھر میں آسانیاں پیدا فرمائے، ان کے بچوں کے نصیب اچھے کرے اور ہمارے دلوں میں دوسروں کا درد محسوس کرنے والی انسانیت ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔ 🤲❤️