23/11/2022
💠💠💠💠💠 “ مرشد “ 💠💠💠💠💠
مرشد کا مطلب ہے
روحانی استاد 'رہنما' یا 'روحانی پیشوا'
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کیلیے وسیلہ تلاش کرو
آیت ۳۵ سورۃ المایدہ
اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ کون ؟
۱- قرآن
۲-رسول
قرآن و رسول تک پہنچنے کا وسیلہ
عالم علماء اکرام ، استاد ، مرشد
زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔اور رہنمائی کے لئے استاد کی جس کو اس پر عبور ہو آپ کو جو بھی راہِ راست دکھا دے، کامیاب زندگی کا گُر بتا دے وہی رہنما ہے استاد ہے اور پیر و مرشد بھی۔
مَن يَهْدِ اللَّـهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا
سورة الکہف آیت نمبر 17
ترجمہ : کہ جس کو میں گمراہ کرنا چاہوں پھر وہ ہرگز نہ پائے گا ولی اور مرشد۔
وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
سورة التغابن آیت نمبر 11
ترجمہ : اللہ جس کو مومن بنانا چاہتا ہے تو اُس کے قلب کو ہدایت دیتا ہے ،
اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ
سورة البقرة آیت نمبر 257
ترجمہ : اللہ مومنوں میں سے ولی بناتا ہے اورظلمات سے نکال کر نور کی طرف گامزن کرے گا۔
أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ
سورة الزمر آیت نمبر 22
ترجمہ : جس نےاسلام کے لئے اپنی شرح صدر کر لی تو اُسے اپنے رب کی طرف سے نور میسر ہو گا۔
تلاشِ حق کی پہلی سیڑھی ہے
کامل مرشد کا ملنا ہی کافی نہ ہوگا بلکہ اس کے ساتھ نسبت و محبت بھی کامل ہی درکار ہوتی ہے۔ کیونکہ مرشد کی شفقت اور توجہ مرید کے زنگ آلود دل کو نورحق سے منور کر دیتی ہے۔
حضور الصلوٰۃ والسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
اَلرَّفِیْقُ ثُمَّ الطَّرِیْقُ
ترجمہ: پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔
حضور الصلوٰۃ والسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ لَّاشَیْخَ یَتَّخِذُہُ الشَّیْطَان
ترجمہ: جس کا شیخ (مرشد) نہیں اس کا شیخ (مرشد) شیطان ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
انسان کے وجود میں اللہ تعالیٰ اس طرح پوشیدہ ہے جس طرح پستہ کے اندر مغز چھپا ہوا ہے۔ مرشد کامل ایک ہی دم میں طالب اللہ کو حضورِ حق میں پہنچا کر مشرفِ دیدار کر دیتا ہے’ کیا عالمِ حیات اور کیا عالمِ ممات کسی بھی وقت (طالب) اللہ تعالیٰ سے جدا نہیں ہوتا۔ (نور الہدیٰ کلاں)
بقول شاعر:
اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں ملتا
یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں
اللہ تعالیٰ خود بھی ایسے مرشد کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتا ہے جو ذکر میں کامل ہو۔
فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ۔ (الانبیاء۔7)
ترجمہ: پس اہلِ ذکر سے(اللہ کی راہ ) پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔
مرشد درخت کی مثل ہوتا ہے جو موسم کی سردی گرمی خود برداشت کرتا ہے لیکن اپنے زیرِ سایہ بیٹھنے والوں کو آرام وآرائش مہیا کرتا ہے مرشد کو دشمنِ دنیا اور دوستِ دین ہونا چاہیے اور طالب کو صاحبِ یقین، جو مرشد پر اپنی جان ومال قربان کرنے سے دریغ نہ کرے۔مرشد کو نبی اللہ کی مثل ہونا چاہیے اور طالب کو ولی اللہ کی مثل۔
مرشد کا ادب و تعظیم مرید کو عاشق سے محبوب بنا دیتا ہے اور عاشق تو رہتا ہی ہے
امتحان میں جب کے محبوب کی تو فقط دل میں ہی خواہش پیدا ہو تو پوری ہو جاتی ہے۔
حضرت پیر میاں محمد عبداللہ شاہؒ اکثر فرماتے کہ ’’ مرشد کے محبوب بن جاؤ، عاشق نہ بننا ۔‘‘
اللہ والوں کے ساتھ رہنا ان جیسا بنا دیتا ہے اور ان جیسا بننا اللہ سے ملا دیتا ہے۔
مرشد سے تعلق ایسا ہونا چاہیے۔ جیسا بچے کا ماں سے۔
محبت تب تک کامل نہیں ہوتی جب تک مرشد کا نام سن کر مزہ نہ آنے لگے ، دل پر کیفیت نہ طاری ہونے لگے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضور اکرمؐ سے کہا مجھے تین چیزیں محبوب ہیں۔
(۱) آپ کو دیکھنا
(۲) آپ کے پاس بیٹھ جانا
(۳) اپنا مال آپ پر فدا کرنا۔
کسی بزرگ نے انداز محبتِ خدا کی میزان محبتِ شیخ کو قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ
’’ مرید محبتِ حق جل و علیٰ براندازہ ءِ پیر خود حاصل می شود‘‘
یعنی مرید کو حق تعالیٰ کی محبت اپنے پیر کی محبت کی مقدار سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ سالک کو جتنی اپنے شیخ سے محبت ہے اسی قدر خدا سے محبت ہے۔
مولانا روم نے فرمایا
’’بے ادب محروم گشت از فضل رب‘‘
کوئی کتنا ہی علامہ کیون نہ ہو لیکن اگر اس کو اہل اللہ کی صحبت میں رہنا نصیب نہ ہو تو وہ اللہ والا نہیں بن سکتا
رومی ؒ نے کہا ہے کہ
خاصانِ خدا خدا نہ باشند
لیکن از خدا جدا نہ باشند
یعنی خاصانِ خدا خدا نہیں ہوتے لیکن اس سے جدا بھی نہیں ہوتے مرید جس قدر آداب کرنے والا ہوگا اسی قدر مرشد سے فیضیاب ہوگا۔ ادب کے بغیر کامل مرشد کی صحبت و مجلس سے نہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور نہ ہی گوہر مقصود حاصل ہو تا ہے۔
“راہ سلوک میں سب سے زیادہ خطرناک اورسب سے زیادہ حساس جو چیز ہے وہ ہے مرشد کی ذات پر انسان کا گمان کیسا ہے”
اللہ سبحان و تعالی ہمیں دین کی سمجھ اور عمل کرنے کی . توفیق عطا فرمائے