NUM TV

Call Website Contact the business

NUM TV 💖 وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ
Goal 100k Followers ! Keep Supporting

حضرت موسیٰؑ جب فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے اور اسے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، تو فرعون نے تکبر اور سر...
27/08/2026

حضرت موسیٰؑ جب فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے اور اسے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، تو فرعون نے تکبر اور سرکشی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے حضرت موسیٰؑ کی دعوت کو ماننے کے بجائے لوگوں کے سامنے اپنی بڑائی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
فرعون نے اپنے درباری ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک بلند عمارت بناؤ، اور اس کے لیے مٹی کو آگ میں پکا کر اینٹیں تیار کرو۔ پھر ایسی بلند عمارت تعمیر کرو کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰؑ کے معبود کی طرف جھانک سکوں۔ اس طرح فرعون نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں انتہائی گستاخانہ انداز اختیار کیا اور حضرت موسیٰؑ کی دعوت کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ ۝ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا﴾
ترجمہ:
اور فرعون نے کہا: اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت بنا، شاید میں ان راستوں تک پہنچ جاؤں، آسمانوں کے راستوں تک، پھر موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں، اور بے شک میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
📖 حوالہ: سورۃ القصص، آیت 38
ے۔

حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پہنچاتے تھے۔ ایک موقع پر حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کے ستر منتخب افراد ...
27/08/2026

حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پہنچاتے تھے۔ ایک موقع پر حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کے ستر منتخب افراد کو اپنے ساتھ لے کر کوہِ طور کی طرف گئے۔ قرآنِ کریم میں ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے ان ستر افراد کو مقرر کیا تھا۔ جب انہیں زلزلے یا صاعقے نے اپنی گرفت میں لیا تو حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا:
"اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو انہیں اور مجھے پہلے ہی ہلاک کر دیتا۔ کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بیوقوفوں نے کیا؟ یہ تو تیری آزمائش ہے..."
پھر حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا ذکر فرمایا۔
(سورۃ الاعراف، 7:155-15
اسی واقعے کے دوسرے پہلو میں قرآنِ کریم بنی اسرائیل کے ایک مطالبے کا ذکر کرتا ہے۔ انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے کہا کہ ہم اس وقت تک آپ کی بات پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں۔ اس گستاخانہ مطالبے کے نتیجے میں انہیں صاعقہ نے آ لیا اور وہ بے ہوش/ہلاک ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی موت کے بعد دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ شکر ادا کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم ہرگز تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں، تو تمہیں صاعقہ نے آ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔ پھر ہم نے تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھایا تاکہ تم شکر کرو۔"
(سورۃ البقرہ، 2:55-56)
📖 مستند حوالہ
سورۃ البقرہ: 55-56 — اللہ تعالیٰ کو علانیہ دیکھنے کا مطالبہ، صاعقہ اور دوبارہ اٹھایا جانا۔
سورۃ الاعراف: 155-156 — حضرت موسیٰؑ کے ساتھ ستر منتخب افراد، ان پر آنے والی گرفت، حضرت موسیٰؑ کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت۔
تفسیر ابن کثیر — مذکورہ آیات کی تفسیر میں ان واقعات کی تفصیل موجود ہے۔
معارف القرآن — سورۃ البقرہ اور سورۃ الاعراف کی متعلقہ آیات کی تفسیر میں بھی یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اہلِ جنت کے لیے کامیابی اور خوش حالی کا ذکر فرمایا ہے۔ احادیث میں جنت کے ایک عظیم درخت طوب...
27/08/2026

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اہلِ جنت کے لیے کامیابی اور خوش حالی کا ذکر فرمایا ہے۔ احادیث میں جنت کے ایک عظیم درخت طوبیٰ کا بھی ذکر آتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس درخت کی عظمت اور وسعت بیان فرمائی۔
روایت میں آتا ہے کہ طوبیٰ جنت کا ایک درخت ہے، جس کا سایہ بہت وسیع ہے۔ بعض روایات میں اس کے سائے کی وسعت سو سال کی مسافت کے برابر بیان ہوئی ہے۔ جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے کہیں بڑھ کر ہیں، اس لیے وہاں کی چیزوں کی حقیقت اور کیفیت ہماری دنیاوی چیزوں جیسی نہیں۔
ایک روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اہلِ جنت کے لباس اسی درخت کے پھولوں سے نکلیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے طوبیٰ کو ایسی عظیم نعمتوں کا ذریعہ بنایا ہے جو جنتیوں کے لیے لباس اور زینت کا سبب ہوں گی۔
📖 حوالہ
جامع الترمذی، حدیث 2523 — حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی روایت میں طوبیٰ کا ذکر آتا ہے۔
اسی مضمون کی روایات مسند احمد میں بھی منقول ہیں۔
اہم وضاحت: طوبیٰ کے بارے میں روایات کے بعض الفاظ اور صحت کے درجے میں محدثین نے گفتگو کی ہے، اس لیے سو سال کے سائے اور لباس کے پھولوں سے نکلنے والی تفصیل کو روایت کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے، قطعی عقیدے کے طور پر نہیں۔

حضرت مقداد بن اسودؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق کے بہت قریب کر دی...
26/08/2026

حضرت مقداد بن اسودؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق کے بہت قریب کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ لوگوں سے صرف ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں کہ یہاں میل سے مراد زمین کی مسافت کا میل ہے یا وہ میل ہے جس سے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔
اس وقت لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق پسینہ آئے گا۔ کسی شخص کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہوگا، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا کمر تک، جبکہ بعض لوگوں کا پسینہ اس قدر زیادہ ہوگا کہ وہ ان کے منہ تک پہنچ جائے گا، جیسے لگام۔
یعنی قیامت کے دن ہر انسان کی حالت اس کے اعمال کے مطابق مختلف ہوگی۔ کسی پر یہ سختی نسبتاً کم ہوگی اور کسی پر بہت زیادہ۔
یہ منظر قیامت کی ہولناکی، اللہ تعالیٰ کے سامنے انسان کی بے بسی اور دنیا میں کیے گئے اعمال کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دن نہ مال کام آئے گا، نہ دنیاوی مرتبہ، بلکہ ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق اس سخت مرحلے سے گزرے گا۔
📖 حوالہ
صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، حدیث 2864
راوی: حضرت مقداد بن اسودؓ

اہم وضاحت: حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ صرف کافر ہی منہ تک پسینے میں ڈوبیں گے۔ الفاظ عمومی ہیں اور لوگوں کے اعمال کے مطابق پسینے کی مقدار مختلف ہونے کا ذکر ہے۔

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم سے صور پھونکا جائے گا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي الس...
26/08/2026

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم سے صور پھونکا جائے گا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللّٰهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ
"اور صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب بے ہوش ہو جائیں گے، سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو اچانک وہ سب کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔"
(سورۃ الزمر 39:68)
اس طرح پہلی پھونک کے بعد اللہ کے حکم سے آسمانوں اور زمین کی مخلوقات پر موت یا بے ہوشی طاری ہوگی، سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ اس کے بعد تمام لوگ دوبارہ زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور قیامت کے میدان میں جمع کیے جائیں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا کہ دو نفخوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہوگا۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ چالیس دن؟ چالیس مہینے؟ یا چالیس سال؟ راوی نے اس کی تعیین نہیں کی۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا اور لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
(صحیح مسلم، حدیث 2955)
قرآنِ کریم ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ
"اور صور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑنے لگیں گے۔"
(سورۃ یٰسین 36:51)
📚 حوالہ
سورۃ الزمر: 68
سورۃ یٰسین: 51
سورۃ النمل: 87
صحیح مسلم: 2955

اہ

25/08/2026

"آزمائش کی وہ رات — جب نفس نے دستک دی"

ایک مرتبہ ایک طبیب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اسے ایک دوا تیار کرنی تھی اور اس دوا میں مینڈک استعمال کرنے کا اراد...
25/08/2026

ایک مرتبہ ایک طبیب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اسے ایک دوا تیار کرنی تھی اور اس دوا میں مینڈک استعمال کرنے کا ارادہ تھا۔
اس نے رسول اللہ ﷺ سے مینڈک کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
یعنی جب طبیب نے دوا کے مقصد سے مینڈک کو مارنے کی اجازت طلب کی تو نبی کریم ﷺ نے اسے اجازت نہیں دی
یہ مختصر واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مینڈک کو قتل کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا، حتیٰ کہ جب اسے دوا کے مقصد سے استعمال کرنے کی بات کی گئی تب بھی اجازت نہیں دی گئی۔
📖 حدیث کے الفاظ
حضرت عبدالرحمن بن عثمانؓ سے روایت ہے
أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ ضُفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ قَتْلِهَا۔
مفہوم:
"ایک طبیب نے نبی ﷺ سے مینڈک کے بارے میں پوچھا کہ اسے دوا میں شامل کیا جائے، تو نبی ﷺ نے اسے اس کے قتل سے منع فرمایا۔"
📚 حوالہ: سنن ابی داؤد، حدیث 3871
🌿 مینڈک کی تسبیح والی بات
یہاں ایک ضروری فرق سمجھنا چاہیے:
"مینڈک کی ٹرٹر اللہ کی تسبیح ہے" کو سنن ابی داؤد 3871 کی حدیث کا حصہ نہیں کہنا چاہیے، کیونکہ اس روایت میں یہ الفاظ موجود نہیں۔
البتہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا عمومی ارشاد ہے:
وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ
"اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو، لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔"
📖 سورۃ الإسراء: 44
لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ تمام مخلوقات اللہ کی تسبیح کرتی ہیں، لیکن مینڈک کی مخصوص ٹرٹر کو اسی حدیث 3871 کا لفظی سببِ ممانعت قرار دینا درست نہیں۔
ایک طبیب نے رسول اللہ ﷺ سے مینڈک کو دوا میں شامل کرنے کے لیے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے اسے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
📖 سنن ابی داؤد: 3871
اور ساتھ چھوٹے حروف میں:
قرآن: سورۃ الإسراء 17:44 — تمام مخلوقات اللہ کی تسبیح کرتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی بعض علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمانوں اور ترک قوم کے...
25/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی بعض علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمانوں اور ترک قوم کے درمیان جنگ نہ ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
"قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، اور یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی، ناکیں چپٹی ہوں گی اور ان کے چہرے تہہ در تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے۔"
ایک روایت میں ان لوگوں کے بارے میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ان کے چہرے ایسی ڈھالوں جیسے ہوں گے جن پر ہتھوڑا مارا گیا ہو۔
یہاں رسول اللہ ﷺ نے آنے والے زمانے میں مسلمانوں کے ایک ایسی قوم سے جنگ کرنے کی خبر دی جن کی ظاہری جسمانی خصوصیات دوسری اقوام سے مختلف ہوں گی۔
⚔️ "ترک" سے کیا مراد ہے؟
حدیث کے اصل الفاظ میں "الترك" یعنی ترک کا ذکر ہے۔
اس لیے یہ کہنا زیادہ محتاط ہے:
"رسول اللہ ﷺ نے ترک قوم کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ کی پیشگوئی فرمائی۔
بعد کے زمانے میں منگول حملہ آوروں کو بعض اہلِ علم اور مؤرخین نے ان روایات کے مصادیق میں شمار کیا ہے، کیونکہ منگول وسطی ایشیا سے آئے تھے اور ان کی ظاہری خصوصیات حدیث میں بیان کردہ اوصاف سے مشابہ سمجھی گئیں۔ لیکن صحیح حدیث میں "منگول" کا نام نہیں آیا۔
📖 مستند حوالہ
صحیح مسلم، حدیث 2912
اس روایت میں نبی کریم ﷺ نے ترکوں سے مسلمانوں کی جنگ اور ان کی بعض جسمانی خصوصیات بیان فرمائیں۔
صحیح البخاری، حدیث 2928
اس میں بھی ترک قوم سے جنگ اور ان کی ظاہری علامات کا ذکر ہے۔
اسیمضمون کی روایات صحیح البخاری 3587–3589 میں بھی موجود ہیں۔:
"آپ ﷺ نے 600 سال قبل منگولوں کے حملے کی پیشگوئی فرمائی"
"رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے ترک قوم کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ کی پیشگوئی فرمائی اور ان کی بعض جسمانی خصوصیات بیان فرمائیں۔"
📚 حوالہ: صحیح مسلم 2912، صحیح البخاری 2928، 3587–3589

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز قائم کرنے سے پہلے صحابہ کرامؓ کو صفیں درست کرنے کی تاکید فرمائی۔آ...
25/08/2026

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز قائم کرنے سے پہلے صحابہ کرامؓ کو صفیں درست کرنے کی تاکید فرمائی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اپنی صفیں سیدھی کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔"
یعنی رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ نماز کی صفوں میں کوئی ٹیڑھا پن یا بے ترتیبی نہ ہو، بلکہ سب لوگ اچھی طرح سیدھے کھڑے ہوں۔
حضرت انسؓ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ صفوں کو درست کروانے کی خصوصی تاکید فرمایا کرتے تھے، تاکہ نمازی ایک دوسرے کے ساتھ برابر کھڑے ہوں اور صف میں خلل نہ رہے۔
ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
"صفوں کو سیدھا کرو، صفوں کو برابر کرو، کیونکہ صفوں کا سیدھا کرنا نماز کے قائم کرنے کا حصہ ہے۔"
🌙 رسول اللہ ﷺ کی خاص کیفیت
اس واقعے میں حضرت انسؓ کی روایت کا ایک نہایت قابلِ توجہ حصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔"
یعنی آپ ﷺ نے صحابہؓ کو بتایا کہ آپ ﷺ نماز میں اپنے سامنے موجود لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنی پشت کے پیچھے کھڑے لوگوں کو بھی دیکھ رہے ہیں، اسی لیے آپ ﷺ صفوں کی درستگی کی تاکید فرماتے تھے۔
یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی ان خصوصی خصوصیات میں سے ایک کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
📖 مستند حوالہ
صحیح مسلم، حدیث 425
راوی: حضرت انس بن مالکؓ
صحیح البخاری، حدیث 725
راوی: حضرت انس بن مالکؓ
صحیح بخاری میں روایت کے الفاظ ہیں:
"سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي"
ترجمہ:
"اپنی صفیں سیدھی کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔"
📚 حوالہ: صحیح البخاری 725، صحیح مسلم 425
آپ کے اصل متن میں:
"رسول اللہ ﷺ کا ایک معجزہ یہ تھا کہ آپ ﷺ نماز میں اپنے پیچھے کھڑے صحابہؓ کو بھی دیکھ سکتے تھے"
یہ مفہوم حدیث سے اخذ کیا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ محتاط انداز یہ ہوگا:
"رسول اللہ ﷺ نے نماز کے دوران صحابہؓ سے فرمایا کہ میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔"
اس طرح عبارت حدیث کے اصل الفاظ کے زیادہ قریب رہتی ہے اور غیر ضروری اضافہ بھی نہیں ہوتا۔

ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:"یا رسول اللہ ﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کب...
25/08/2026

ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:
"یا رسول اللہ ﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی طرح وحی آتی ہے، اور یہ میرے لیے سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ جب وہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو فرشتہ جو کچھ کہہ چکا ہوتا ہے، میں اسے یاد کر چکا ہوتا ہوں۔"
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
"اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، اور میں اس کی کہی ہوئی بات کو محفوظ کر لیتا ہوں۔"
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ سخت سردی کے دن بھی جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو وحی کی کیفیت ختم ہونے کے بعد آپ ﷺ کی مبارک پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا تھا۔
یہ اس بات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے کہ نزولِ وحی ایک انتہائی عظیم اور بھاری کیفیت تھی۔
قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا
"بے شک ہم آپ پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔"
📖 سورۃ المزمل: 5
📖 مستند حوالہ
صحیح مسلم، حدیث 2333a
حضرت عائشہؓ کی روایت میں وحی کی مختلف کیفیات کا ذکر ہے۔
صحیح البخاری، حدیث 2
اسی روایت میں حضرت حارث بن ہشامؓ کا سوال، گھنٹی جیسی آواز کے ذریعے وحی آنے کی کیفیت اور انسانی شکل میں فرشتے کے آنے کا ذکر ہے
آپ کے دیے ہوئے متن میں:
"سخت جما دینے والی سردیوں میں بھی..."
یہ مفہوم درست ہے، لیکن حدیث کے اصل الفاظ کو زیادہ قریب رکھتے ہوئے "سخت سردی کے دن" کہنا بہتر ہے۔
اسی طرح:
"پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح ٹپکنے لگتے تھے"
میں "موتیوں کی طرح" تشبیہ اصل حدیث کا لفظ نہیں؛ اسے خوبصورت تشبیہی بیان کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر پوسٹ کو مکمل طور پر حدیث کے الفاظ کے قریب رکھنا ہو تو بہتر عبارت یہ ہوگی:
"سخت سردی کے دنوں میں بھی وحی نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ کی مبارک پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا تھا۔"

Address

Bhakkar
Mankera
30060

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NUM TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to NUM TV:

Shortcuts

Share