27/08/2026
حضرت موسیٰؑ جب فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے اور اسے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، تو فرعون نے تکبر اور سرکشی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے حضرت موسیٰؑ کی دعوت کو ماننے کے بجائے لوگوں کے سامنے اپنی بڑائی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
فرعون نے اپنے درباری ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک بلند عمارت بناؤ، اور اس کے لیے مٹی کو آگ میں پکا کر اینٹیں تیار کرو۔ پھر ایسی بلند عمارت تعمیر کرو کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰؑ کے معبود کی طرف جھانک سکوں۔ اس طرح فرعون نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں انتہائی گستاخانہ انداز اختیار کیا اور حضرت موسیٰؑ کی دعوت کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا﴾
ترجمہ:
اور فرعون نے کہا: اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت بنا، شاید میں ان راستوں تک پہنچ جاؤں، آسمانوں کے راستوں تک، پھر موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں، اور بے شک میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
📖 حوالہ: سورۃ القصص، آیت 38
ے۔