JK BBC Hazara

JK BBC Hazara JK Tanoli Media Networking Group Of Hazara

01/06/2026
ہر جگہ کرسی کا چکر
29/05/2026

ہر جگہ کرسی کا چکر

26/05/2026

*محکمہ تعلیم کا تجربہ نمبر 420 سرکاری سکولوں کیلئے سمسٹر سسٹم آؤٹ سورسنگ کیلئے راستہ ہموار کرنے کا پلان*
سرکاری اسکولوں کے سالانہ نتائج کا اعلان 25 مئی 2026ء کو کیا جا رہا ہے اور طلبہ کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ بھی کیا جا رہا ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نیا تعلیمی سیشن اور باقاعدہ تدریس کا آغاز یکم ستمبر 2026ء سے ہوگا۔ یعنی سرکاری اسکولوں کے طلبہ تقریباً تین ماہ تک عملی تدریس سے محروم رہیں گے۔ دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں نتائج پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور ان کا نیا تعلیمی سیشن یکم مارچ 2026ء سے شروع ہو چکا ہے۔ یہ فرق صرف کیلنڈر کا نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل، ذہنی نشوونما اور تعلیمی معیار کا مسئلہ بن چکا ہے۔

سب سے زیادہ متاثر سرکاری اسکولوں کا طالب علم ہوگا۔ دیہی اور متوسط طبقے کے اکثر بچوں کے پاس نہ تو تعلیمی ماحول ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مثبت تعلیمی سرگرمی۔ نتیجتاً یہ تین ماہ ان کے لیے ضائع شدہ وقت بن جاتے ہیں۔ اس دوران بیشتر بچے موبائل، غیر ضروری کھیل کود اور آوارہ گردی میں وقت گزارنے لگتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی عادت متاثر ہوتی ہے اور وہ پڑھائی سے دور ہو جاتے ہیں۔

ماہرینِ تعلیم کے مطابق طویل تعلیمی وقفہ بچوں کی یادداشت، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ ایک سال میں جو تعلیمی بنیاد بنتی ہے، وہ کئی ہفتوں کے وقفے سے کمزور پڑ جاتی ہے۔ جب دوبارہ اسکول کھلتے ہیں تو اساتذہ کو نئے اسباق شروع کرنے کے بجائے پرانی چیزیں دہرانا پڑتی ہیں، جس سے تعلیمی رفتار مزید سست ہو جاتی ہے۔

سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ان بچوں کی ہے جو ہشتم جماعت سے نہم میں پروموٹ ہوئے ہیں۔ چونکہ سرکاری اسکولوں میں باقاعدہ تدریس ستمبر 2026ء سے شروع ہوگی، اس لیے نہم جماعت کے طلبہ کے پاس فروری 2027ء تک صرف تقریباً چھ ماہ کا وقت ہوگا۔ انہی چھ ماہ میں انہیں مکمل بورڈ کورس پڑھنا، سمجھنا، ٹیسٹ دینا، پریکٹیکل تیار کرنا اور امتحانات کی تیاری بھی کرنی ہوگی۔ جبکہ دوسری طرف پرائیویٹ اسکولوں کے طلبہ کئی ماہ پہلے سے اپنی پڑھائی شروع کر چکے ہوں گے اور ان کے پاس تیاری کے لیے کہیں زیادہ وقت ہوگا۔ یہ فرق سرکاری اور پرائیویٹ طلبہ کے درمیان تعلیمی مقابلے کو غیر مساوی بنا دیتا ہے۔

اس پالیسی کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوگا کہ پرائیویٹ اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد تقریباً ختم ہو جائے گی۔ والدین ہمیشہ ایسے ادارے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں بچوں کا تعلیمی وقت ضائع نہ ہو۔ جب سرکاری اسکول تین ماہ بعد سیشن شروع کریں گے اور پرائیویٹ اسکول پہلے ہی پڑھائی میں کئی ماہ آگے نکل چکے ہوں گے تو کوئی بھی والدین اپنے بچے کو سرکاری اسکول میں منتقل کرنے کا خطرہ نہیں لے گا۔ اس کا براہِ راست اثر سرکاری اسکولوں کی انرولمنٹ پر پڑے گا اور داخلوں کی شرح خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔

حکومت ایک طرف سرکاری اسکولوں میں انرولمنٹ بڑھانے، ڈراپ آؤٹ کم کرنے اور تعلیمی انقلاب لانے کے دعوے کرتی ہے، مگر دوسری طرف ایسی پالیسیاں خود سرکاری تعلیمی نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا اور غریب طبقے کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا فرق اور بڑھ جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر سرکاری اسکولوں کے تعلیمی کیلنڈر پر نظرِ ثانی کرے، تعطیلات کو متوازن بنائے اور نئے تعلیمی سیشن کا آغاز جلد کرے تاکہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔ کیونکہ قوموں کی ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ مضبوط، منصفانہ اور مؤثر تعلیمی نظام سے ہوتی ہے۔

26/05/2026

*بغیر فریزر کے گوشت محفوظ رکھنے کا طریقہ !*

*گوشت کے کِلو کِلو کے شاپر بنالیں،*

*شاپروں پر ہلکی سی گانٹھ لگا دیں*

*لیکن تھوڑی بہت ہوا لگتی رہے۔*

*اب تمام شاپر ان گھروں میں پہنچادیں جنہوں نے قربانی نہیں کی۔*

*یہ گوشت قیامت تک خراب نہیں ہو گا۔*

*`شئیر کریں تاکہ کسی کا گوشت خراب نہ ہو۔`* ❤️🤭

24/05/2026

*"سندھ پولیس کے چند اہلکاروں کے مبینہ شرمناک اور قابلِ مذمت رویّے نے قانون، انسانیت اور وردی کے تقدس پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر واقعی محافظ ہی اجتماعی طاقت کے نشے میں ایک عورت کی حرمت پامال کرنے پر اتر آئیں، تو یہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف، حکمرانی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا نوحہ ہے۔ افسوس کہ برسوں تک “عورت کارڈ” کے نام پر سیاست اور منافقت کرنے والے آج ایسے واقعات پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ ظالم چاہے وردی میں ہو یا اقتدار میں، تاریخ اُسے کبھی عزت نہیں دیتی بلکہ لعنت، رسوائی اور عوامی نفرت اس کا مقدر بنتی ہے۔"*

کے پی کے گورنمنٹ کی کوئیک سروسز کو دونوں ہاتھوں سے سلام ایک سال سے لائسنس رینول پراسسز میں ہے فیس لینے کے بعد ادارے سوجا...
23/05/2026

کے پی کے گورنمنٹ کی کوئیک سروسز کو دونوں ہاتھوں سے سلام
ایک سال سے لائسنس رینول پراسسز میں ہے فیس لینے کے بعد ادارے سوجاتے ہیں دو ماہ ہوگئے ہیں ابھی تک کارڈ پرنٹ نہیں ہوا ہے
اس سے بڑی تبدیلی کیا ہوگی یہ ہے ہمارا آن لائن سسٹم
جبکہ یڈی سسٹم کے ذریعے یہی لائسنس ایک ماہ کے اندر رینوئل ہوکر آجاۓ گا

اطلاع گمشدگی
22/05/2026

اطلاع گمشدگی

Address

Head Office Lassan Nawab Sahib
Mansehra
21390

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JK BBC Hazara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share