26/05/2026
*محکمہ تعلیم کا تجربہ نمبر 420 سرکاری سکولوں کیلئے سمسٹر سسٹم آؤٹ سورسنگ کیلئے راستہ ہموار کرنے کا پلان*
سرکاری اسکولوں کے سالانہ نتائج کا اعلان 25 مئی 2026ء کو کیا جا رہا ہے اور طلبہ کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ بھی کیا جا رہا ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نیا تعلیمی سیشن اور باقاعدہ تدریس کا آغاز یکم ستمبر 2026ء سے ہوگا۔ یعنی سرکاری اسکولوں کے طلبہ تقریباً تین ماہ تک عملی تدریس سے محروم رہیں گے۔ دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں نتائج پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور ان کا نیا تعلیمی سیشن یکم مارچ 2026ء سے شروع ہو چکا ہے۔ یہ فرق صرف کیلنڈر کا نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل، ذہنی نشوونما اور تعلیمی معیار کا مسئلہ بن چکا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر سرکاری اسکولوں کا طالب علم ہوگا۔ دیہی اور متوسط طبقے کے اکثر بچوں کے پاس نہ تو تعلیمی ماحول ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مثبت تعلیمی سرگرمی۔ نتیجتاً یہ تین ماہ ان کے لیے ضائع شدہ وقت بن جاتے ہیں۔ اس دوران بیشتر بچے موبائل، غیر ضروری کھیل کود اور آوارہ گردی میں وقت گزارنے لگتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی عادت متاثر ہوتی ہے اور وہ پڑھائی سے دور ہو جاتے ہیں۔
ماہرینِ تعلیم کے مطابق طویل تعلیمی وقفہ بچوں کی یادداشت، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ ایک سال میں جو تعلیمی بنیاد بنتی ہے، وہ کئی ہفتوں کے وقفے سے کمزور پڑ جاتی ہے۔ جب دوبارہ اسکول کھلتے ہیں تو اساتذہ کو نئے اسباق شروع کرنے کے بجائے پرانی چیزیں دہرانا پڑتی ہیں، جس سے تعلیمی رفتار مزید سست ہو جاتی ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ان بچوں کی ہے جو ہشتم جماعت سے نہم میں پروموٹ ہوئے ہیں۔ چونکہ سرکاری اسکولوں میں باقاعدہ تدریس ستمبر 2026ء سے شروع ہوگی، اس لیے نہم جماعت کے طلبہ کے پاس فروری 2027ء تک صرف تقریباً چھ ماہ کا وقت ہوگا۔ انہی چھ ماہ میں انہیں مکمل بورڈ کورس پڑھنا، سمجھنا، ٹیسٹ دینا، پریکٹیکل تیار کرنا اور امتحانات کی تیاری بھی کرنی ہوگی۔ جبکہ دوسری طرف پرائیویٹ اسکولوں کے طلبہ کئی ماہ پہلے سے اپنی پڑھائی شروع کر چکے ہوں گے اور ان کے پاس تیاری کے لیے کہیں زیادہ وقت ہوگا۔ یہ فرق سرکاری اور پرائیویٹ طلبہ کے درمیان تعلیمی مقابلے کو غیر مساوی بنا دیتا ہے۔
اس پالیسی کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوگا کہ پرائیویٹ اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد تقریباً ختم ہو جائے گی۔ والدین ہمیشہ ایسے ادارے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں بچوں کا تعلیمی وقت ضائع نہ ہو۔ جب سرکاری اسکول تین ماہ بعد سیشن شروع کریں گے اور پرائیویٹ اسکول پہلے ہی پڑھائی میں کئی ماہ آگے نکل چکے ہوں گے تو کوئی بھی والدین اپنے بچے کو سرکاری اسکول میں منتقل کرنے کا خطرہ نہیں لے گا۔ اس کا براہِ راست اثر سرکاری اسکولوں کی انرولمنٹ پر پڑے گا اور داخلوں کی شرح خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔
حکومت ایک طرف سرکاری اسکولوں میں انرولمنٹ بڑھانے، ڈراپ آؤٹ کم کرنے اور تعلیمی انقلاب لانے کے دعوے کرتی ہے، مگر دوسری طرف ایسی پالیسیاں خود سرکاری تعلیمی نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا اور غریب طبقے کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا فرق اور بڑھ جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر سرکاری اسکولوں کے تعلیمی کیلنڈر پر نظرِ ثانی کرے، تعطیلات کو متوازن بنائے اور نئے تعلیمی سیشن کا آغاز جلد کرے تاکہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔ کیونکہ قوموں کی ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ مضبوط، منصفانہ اور مؤثر تعلیمی نظام سے ہوتی ہے۔