GupShap Corner 420

GupShap Corner 420 Digital Creator
chasing Dreams✨ Capturing Movement 📸 Spreading Positivity🤍

✨گھر داری – گھر کی شان🏡گھر داری صرف کھانا پکانا، صفائی کرنا یا کپڑے دھونا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا ہنر ہے جو گھر کو جنت بنا ...
26/05/2026

✨گھر داری – گھر کی شان🏡

گھر داری صرف کھانا پکانا، صفائی کرنا یا کپڑے دھونا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا ہنر ہے جو گھر کو جنت بنا دیتا ہے۔ جس گھر میں گھر داری سنبھالنے والی عورت ہوشیار، محنتی اور سمجھدار ہو، وہ گھر ہمیشہ پرسکون اور خوشحال رہتا ہے۔

گھر داری کی اہمیت
گھر داری گھر کا ستون ہے۔ جس طرح ایک درخت کو مضبوط جڑیں چاہیے ہوتی ہیں، اسی طرح ایک گھر کو سنبھالنے کے لیے گھر داری ضروری ہے۔ یہی وہ کام ہے جو بچوں کی تربیت، شوہر کی دلداری اور گھر کے ماحول کو خوشگوار بناتا ہے۔
ایک اچھی گھر داری کی خصوصیات
- وقت کی پابندی
: صبح جلدی اٹھنا، کام وقت پر کرنا۔
- بچت اور سمجھداری:
پیسے کو فضول خرچ نہ کرنا، گھر کا بجٹ سنبھالنا۔
- صفائی ستھرائی"
گھر صاف ستھرا رکھنا، کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے۔
-محبت اور اخلاق: ہر فرد سے نرمی اور محبت سے پیش آنا۔
- صبر و برداشت: چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ نہ کرنا، گھر کا ماحول خراب نہ ہونے دینا۔

گھر داری ایک عبادت بھی ہے
اسلام میں عورت کا گھر سنبھالنا عبادت کے برابر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عورت اپنے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس لیے گھر داری کو حقیر نہ سمجھو، یہ سب سے بڑی خدمت ہے۔

گھر داری کوئی چھوٹا کام نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ایک اچھی گھر داری سے ہی نسلیں سنورتی ہیں اور معاشرہ بہتر بنتا ہے۔ اگر ہر عورت یہ سمجھ لے کہ اس کا گھر اس کی دنیا ہے، تو کوئی بھی گھر اجڑا ہوا نظر نہ آئے
۔
۔
۔



میرا نام صائمہ ہے۔ عمر 32 سال۔ شادی کو 8 سال ہو گئے۔  شادی کے پہلے 2 سال ایسے گزرے جیسے کوئی پریوں کی کہانی ہو۔ وہ میرا ...
18/05/2026

میرا نام صائمہ ہے۔ عمر 32 سال۔ شادی کو 8 سال ہو گئے۔
شادی کے پہلے 2 سال ایسے گزرے جیسے کوئی پریوں کی کہانی ہو۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کہتا تھا "صائمہ، تم میرے بغیر ادھوری ہو۔ تم ہی میری دنیا ہو"۔ میں بھی اس کی ہر بات پر جان وار دیتی تھی۔

پھر وقت بدلا۔
پہلا بیٹا ہوا، پھر بیٹی۔ ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔ گھر، کھانا، بچوں کے اسکول، اس کے کپڑے، اس کے دوستوں کی مہمان نوازی — سب کچھ میری ذمہ داری بن گیا۔
میں نے آئینے کے سامنے کھڑا ہونا چھوڑ دیا۔ سادہ سوٹ، بالوں کا جوڑا، آنکھوں کے نیچے حلقے... یہ میری نئی پہچان بن گئی۔

مجھے لگا تھا کہ وہ سمجھے گا۔ کہے گا "تم تھک گئی ہو، آرام کر لو"۔
لیکن اس نے بس اتنا کہا: "تم اب پہلے جیسی نہیں رہی"۔

ایک رات 2 بجے میری آنکھ کھلی۔ وہ بیڈ پر نہیں تھا۔ میں کچن کی طرف گئی تو دیکھا وہ ڈارک روم میں بیٹھا فون پر ہنس رہا ہے۔
فون کی سکرین پر ایک لڑکی کی تصویر تھی — میک اپ، سجی ہوئی، ہنستی ہوئی۔
نیچے لکھا تھا: "Miss you baby ❤️ Kab milogi?"

میرا دل بیٹھ گیا۔
جب میں نے پوچھا، تو وہ پہلے گھبرایا، پھر ہنس کر بولا:
"ارے یار، بس ٹائم پاس ہے۔ دوستوں میں ایسا چلتا ہے۔ تم تو گھر کی ہو، سمجھدار ہو۔ تمہیں ان باتوں سے کیا لینا دینا"۔

*گھر کی ہوں... اس لیے عزت نہیں؟*
*گھر کی ہوں... اس لیے دل بہلانے کا کھلونا ہوں؟*

اس دن کے بعد میں نے خود سے بات کرنا چھوڑ دیا۔
رات کو بچوں کو سلاتی ہوں، اور خود چھت پر جا کر آسمان دیکھتی ہوں۔ سوچتی ہوں — کیا محبت کی عمر صرف 2 سال ہوتی ہے؟ کیا سالوں کی خدمت، راتوں کی جاگ، خاموش آنسوؤں کی کوئی قیمت نہیں؟

ایک دن بیٹی نے پوچھا: "مما، آپ کیوں روتی ہو جب ابو فون پر ہوتے ہیں؟"
میرے پاس جواب نہیں تھا۔

آج بھی وہی گھر ہے، وہی میں ہوں، وہی بچے ہیں۔
بس فرق یہ ہے کہ اب میں نے خود کو پہچان لیا ہے۔
میں نے یوٹیوب پر سلائی سیکھنی شروع کی۔ چھوٹے بچوں کے کپڑے سی کر آن لائن بیچتی ہوں۔ پہلے مہینے 4000 روپے کمائے۔
جب میں نے اپنی کمائی سے بیٹی کے لیے فراک لیا، تو اس کی آنکھوں میں جو چمک تھی، وہ میں سالوں سے ڈھونڈ رہی تھی۔

اب اگر وہ لوٹے تو ٹھیک، نہ لوٹے تو بھی ٹھیک۔
کیونکہ میں نے سیکھ لیا ہے —
جو شخص باہر عزت ڈھونڈے، وہ گھر میں محبت نہیں دے سکتا۔
اس واقعے کے 6 مہینے بعد اس کی "ٹائم پاس" والی لڑکیوں نے بھی اسے چھوڑ دیا۔
جس دن اس کے پاس پیسے کم پڑ گئے، جس دن اس کی نوکری میں مسئلہ آیا، اسی دن سب نے کہنا شروع کر دیا: "یار تم بور ہو، تم میں کوئی بات ہی نہیں"۔

جو لوگ کل تک "جانو، بےبی" کہتے تھے، وہی اب میسج سین کر کے چھوڑ دیتے تھے۔
وہ راتوں کو جاگتا، فون گھورتا رہتا، لیکن کوئی جواب نہ آتا۔

ایک شام وہ گھر آیا۔ چہرہ مرجھایا ہوا، آنکھیں سوجی ہوئی، جیسے کئی راتوں سے سویا ہی نہ ہو۔
میرے سامنے کھڑا ہوا اور بولا: "صائمہ... مجھے معاف کر دو"۔

میں نے اسے دیکھا۔ وہی آنکھیں تھیں جو کبھی کہتی تھیں "تم ہی میری دنیا ہو"،
لیکن اب ان میں شرمندگی تھی، خالی پن تھا، پشیمانی تھی۔

میں نے آہستہ سے کہا:
"معاف تو میں نے اسی دن کر دیا تھا جس دن تم نے کہا تھا 'تم تو گھر کی ہو'۔
لیکن معاف کرنا اور واپس اپنانا دو الگ باتیں ہیں۔
تم نے باہر عزت ڈھونڈی، وہاں تمہیں استعمال کیا گیا۔ میں نے گھر میں عزت بنائی، یہاں مجھے میری پہچان ملی"۔

آج میں اپنے بچوں کے ساتھ سکون سے سوتی ہوں۔
میرا چھوٹا سا سلائی کا کام چل پڑا ہے، مہینے کے 15-20 ہزار آرام سے آ جاتے ہیں۔
لوگ مجھے 'صائمہ آپی' کہتے ہیں، مشورہ لیتے ہیں، عزت دیتے ہیں۔

اور وہ... وہ اب بھی اکیلا ہے۔
کبھی کبھی دروازے پر کھڑے ہو کر بچوں کو دیکھتا ہے،
لیکن اندر آنے کی ہمت نہیں کرتا۔

کیونکہ جو شخص گھر کی عزت کو 'ٹائم پاس' سمجھے،
وقت اسے ہی ٹائم پاس بنا دیتا ہے
باہر کی چمک وقتی ہوتی ہے بہن۔ جو گھر کو چھوڑ کر باہر دل بہلائے،
وقت آتا ہے جب باہر والے بھی اسے چھوڑ دیتے ہیں، اور گھر والے بھی دور ہو جاتے ہی
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں
❤️‍🩹🎀 خود کی عزت سے بڑی کوئی محبت نہیں ہوتی

۔

`

💥 پانچ گھنٹے کی تھکی ہوئی مسافت کے بعد جب میں بیٹے کے گھر کے دروازے پر پہنچی، تو اس نے گھڑی دیکھی اور بولا،  "امی… آپ وق...
18/05/2026

💥 پانچ گھنٹے کی تھکی ہوئی مسافت کے بعد جب میں بیٹے کے گھر کے دروازے پر پہنچی، تو اس نے گھڑی دیکھی اور بولا،
"امی… آپ وقت سے پندرہ منٹ پہلے آ گئیں، ذرا باہر ہی ٹھہر جائیں۔" 🥹💔

ملتان سے کراچی تک کا لمبا سفر… عمر ستر برس کے قریب… لیکن دل ویسے ہی بے چین تھا جیسے برسوں بعد کسی ماں نے اپنے لختِ جگر کو دیکھنا ہو۔

دروازہ کھلا…
اور پھر وہی جملہ سنائی دیا:
"امی، آپ پندرہ منٹ پہلے آ گئیں ہیں، تھوڑی دیر باہر انتظار کر لیں۔"

مجھے لگا شاید مذاق کر رہا ہے۔
میرا وہی عادل… جو بچپن میں میری چادر پکڑ کر سو جایا کرتا تھا… آج مجھے ہی دروازے پر روک رہا تھا؟

ایک سال ہو گیا تھا میں نے اسے دیکھا نہ تھا۔ فون پر بھی بس دو منٹ کی بات، اور وہ بھی "امی کام ہے" کہہ کر کاٹ دیتا تھا۔
مگر مہینہ بھر پہلے اسی نے کہا تھا، "امی، آپ کبھی بھی آ سکتی ہیں۔"

بس یہی یقین لے کر میں چل پڑی۔

میں نے ہفتوں پہلے ٹکٹ لی، تاریخ پکی کی، اپنے چھوٹے سے بیگ میں نواسے نواسیوں کے لیے کھلونے، مٹھائی اور چوڑیاں رکھیں۔ میری خواہش بس اتنی تھی کہ اپنے بچوں کو ایک نظر دیکھ لوں۔

میں نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، رکشہ جلدی پہنچ گیا۔ تمہارے بچوں سے ملنے کی بے چینی تھی۔"

میں نے وہ ہلکی نیلی شلوار قمیض پہنی تھی جو خاص اسی ملاقات کے لیے سلائی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ گھر میں اجنبی نہ لگوں… ماں لگوں 🙂

مگر وہ نہیں مسکرایا۔

"فریحہ ابھی تیار ہو رہی ہے، گھر تھوڑا بکھرا ہے۔ بس پندرہ منٹ باہر بیٹھ جائیں۔"

اور دروازہ بند ہو گیا۔

اندر سے ہنسی کی آوازیں، برتنوں کی کھنک، ہلکی موسیقی آ رہی تھی۔

میں برآمدے میں کھڑی رہی۔

ستر سال کی عمر میں کوئی یونہی سفر نہیں کرتا۔ میں خود کو سمجھاتی رہی کہ شاید وہ مصروف ہے، میں ہی جلدی پہنچ گئی ہوں۔

پانچ منٹ…
دس منٹ…
پندرہ منٹ…

کوئی نہ آیا۔

ٹانگیں جواب دینے لگیں تو میں اپنا بیگ رکھ کر اسی پر بیٹھ گئی۔ اور تب مجھے سمجھ آئی…

میں جلدی نہیں آئی تھی۔
میں بلائی ہی نہیں گئی تھی۔

میں نے فون نکالا، عادل کا نمبر دیکھا… اور پھر بند کر دیا۔

میں نے دوبارہ دستک نہیں دی۔
سیڑھیاں اتر کر باہر آ گئی، بیگ گھسیٹتے ہوئے۔
گلی کے کونے پر کھڑے رکشے والے سے کہا، "بیٹا، جہاں سستا کمرہ ملے، لے چلو۔"

اس رات میں ایک چھوٹے سے گیسٹ ہاؤس میں اکیلی بیٹھی رہی… وہی نیلے کپڑے پہنے ہوئے جو میں نے پوتے پوتیوں سے ملنے کے لیے پہنے تھے۔

فون بند رکھا۔
اگلی صبح جب کھولا تو ستائیس مسڈ کالز اور لمبے لمبے میسجز تھے۔

ایک میسج نے دل دبا دیا:

"امی، آپ کہاں چلی گئیں؟ مہمان آئے ہوئے تھے، فریحہ کو لگا آپ کا سادہ انداز دیکھ کر لوگ باتیں بنائیں گے۔ میں کچھ نہ کہہ سکا۔ اب وہ چلے گئے ہیں، پلیز واپس آ جائیں۔ بچے آپ کو یاد کر رہے ہیں۔"

میں نے وہ میسج بار پڑھا۔
پھر اپنی ہتھیلیوں کو دیکھا… انہی ہاتھوں نے عادل کو پہلی بار چلنا سکھایا تھا، انہی ہاتھوں نے اس کے لیے اپنی نیندیں، اپنی خواہشیں قربان کی تھیں۔

میں نے آہستہ سے فون بند کر دیا۔

اس بار ہمیشہ کے لیے نہیں… مگر اس رشتے کے ایک حصے کے لیے ضرور۔

میں نے بیگ کھولا، بچوں کے لیے لائے ہوئے تحفے نکالے اور گیسٹ ہاؤس کی چھوٹی بچی کو دے دیے، جو حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھی۔

"یہ تمہارے لیے ہیں بیٹا،" میں نے کہا۔
وہ مسکرا دی۔

میں نے بھی پہلی بار دل سے مسکرانے کی کوش کی۔

اسی لمحے میں نے فیصلہ کر لیا…
میں واپس جاؤں گی، مگر اس دروازے پر نہیں جہاں مجھے باہر کھڑا رکھا گیا۔
میں اپنے لیے جاؤں گی…
اپنی عزت کے لیے…
اور شاید پہلی بار… اپنی زندگی کے لیے۔

کیونکہ بعض رشتے خون سے نہیں… رویے سے ٹوٹتے ہیں۔

اور اُس دن… میں نے ماں ہونا نہیں چھوڑا تھا…
میں نے بس خود کو کھونا بند کر دیا تھا۔

🥺😔

_مل لو کہ بہت دیر تلک ہم نہ رہیں گے_
_جب تک کہ ہے ملنے کی سہولت، میرے بچوں_

#ماں


#رشتے





17/05/2026

گلے کی سوزش کے علاج کے لیے کوئی گھریلو ٹوٹکہ یا نسخہ بتائیں ۔۔۔۔؟



یہ میرا 30 سال کا تجربہ ہے ❤️‍🩹🥺
15/05/2026

یہ میرا 30 سال کا تجربہ ہے ❤️‍🩹🥺






14/05/2026

محفل سماع
عرس مبارک پنگوڑی شریف

10/05/2026

کس کس شہر میں بارش کا موسم بنا ہؤا ہے
ہمارے ہاں بہت تیز بارش ہو رہی ہے
اللّٰه پاک رحم کرے
بہت طوفانی بارش ہو رہی ہے
'
'
'
'
'
'
'




💯🔥🔥🔥۔۔۔۔۔
10/05/2026

💯🔥🔥🔥
۔
۔
۔
۔

۔



ماں کے گھر کے سکون کو میری طرح کون کون بات بات پہ یاد کرتا ہے اب تو ہم بھی والدین کے عہدے پر فائز ہو گئے ہیں 🤭مگر جب بھی...
09/05/2026

ماں کے گھر کے سکون کو میری طرح کون کون بات بات پہ یاد کرتا ہے
اب تو ہم بھی والدین کے عہدے پر فائز ہو گئے ہیں 🤭
مگر جب بھی اپنے والدین کے گھر جاتے ہیں تو پھر سے وہی فیلنگ جاگ جاتی ہیں
اللّٰه پاک سب کے والدین کو لمبھی عمر دے اور جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کو اللّٰه پاک صبر عطا فرمائے اور ان کے والدین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین ❤️۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔






09/05/2026

Oyoo Maa😣🫣🤐



Address

Lassan Nawab
Mansehra

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GupShap Corner 420 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share