17/06/2025
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آپ اپنے بھوک سے مرتے خاندان اور بچوں کے لیے خوراک لینے جائیں، اور راستے میں گولیوں کا شکار ہو جائیں؟ آپ اپنے آخری لمحات میں کیا سوچیں گے؟ اپنے بھوک سے مرتے بچوں کے متعلق سوچیں گے؟ اپنی بےرحمانہ موت کا سوچیں گے؟
غ ز ہ میں کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے بھوک سے مرتے انسانوں کو ایک امید کا چراغ دکھایا گیا، اور جب وہ کھانا لینے وہاں گئے تو اسـرا-ئیـلیـوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پچھلے چند روز میں کھانے کی امید سے جانے والے 300 سے زائد لوگ شـہـیـد ہو چکے، اور ہزاروں زخمی ہیں۔
یہ انسانیت کا ذلیل ترین درجہ ہے، اور کیا ہم سب خاموش تماشائی بنے رہیں؟ بالکل نہیں ۔۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ اِس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہے، جس درجے تک ہم کر سکتے ہیں، ہمیں کرنا ہے۔ کم از کم سوشل میڈیا پر آواز تو اٹھا سکتے ہیں۔ چاہے نمرود کی آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے پرندے کی طرح ایک قطرہ ہی کیوں نہ ہو، ہمیں کوشش کرنی ہے۔
Devastating day in G@žza as Isr@ēli forces open fire on crowds waiting for food aid, kill-ing 38 P@l€stiniāns, mostly in R@fàh. This brings the total death toll to over 300 and more than 2,000 wounded since the new aid system was launched last month.
P@l€stiniāns are forced to choose between starvation and risking their lives to access aid distribution centers. The Isr@éli military claims warning shots were fired, but eyewitnesses paint a different picture.
The humanitarian crisis in G@zža continues to escalate, with food shortages and desperation gripping the population.