Mohammad Abid

Mohammad Abid مرتے مرتے پھر سے جینے لگ جاؤں
سوچ رہا ہوں پینے لگ جاؤں ?

Haahah
21/01/2026

Haahah

پولیس کی وردی بھی، سر پر دستارِ فضیلت بھیمردان پولیس کے جوان اسامہ احمد  گدر خمزہ خان کو بہت بہت مبارک ہو جنہوں نے دوران...
08/01/2026

پولیس کی وردی بھی، سر پر دستارِ فضیلت بھی
مردان پولیس کے جوان اسامہ احمد گدر خمزہ خان کو بہت بہت مبارک ہو جنہوں نے دورانِ ڈیوٹی اپنی ہمت اور لگن سے اسلامی تعلیمات مکمل کیں اور آج ان کی دستار بندی مدرسہ تخت بھائی ضیاء العلوم میں ہوئی۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو انسان دنیاوی فرائض کے ساتھ ساتھ دین کی سربلندی کے لیے بھی وقت نکال سکتا ہے۔ ہمیں اپنے اس جوان پر فخر ہے

Petrol ki qeemat mian kami
31/12/2025

Petrol ki qeemat mian kami

30/12/2025

2025.2026 happy new year
゚viralシfypシ゚viralシalシ

26/12/2025

جنے لاہور نہیں ویکھیاں او جمیا نہیں
لیکن
لاہور پہلے نظر تو آئے 🙄😕

Kaghan velly
24/12/2025

Kaghan velly

‏آج ہندوستان میں اہل سنت و الجماعت احناف دیوبند کے چشم و چراغ فاضل دارالعلوم ندوہ جناب مفتی شمائل مفتی شمائل ندوی صاحب د...
22/12/2025

‏آج ہندوستان میں اہل سنت و الجماعت احناف دیوبند کے چشم و چراغ فاضل دارالعلوم ندوہ جناب مفتی شمائل مفتی شمائل ندوی صاحب دامت فیوزھم اور ملـ۔ـحد جاوید اختر کے درمیان وجودِ باری تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے وجود) پر ایک بڑا مناظرہ تھا۔ یہ مناظرہ انتہائی اچھے انداز میں اور طے شدہ اصول و ضوابط کے تحت منعقد ہوا۔
پورے مناظرے میں دونوں اطراف نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے، لیکن علمی مناظروں میں کچھ باتیں انسان کو برتری دلاتی ہیں؛ وہ یہ کہ منتخب موضوع پر گفتگو کی جائے اور مخالف کی باتوں کا جواب دیا جائے۔
یہی وجہ تھی کہ مفتی شمائل پوری بحث میں واضح طور پر غالب نظر آ رہے تھے، جاوید اختر کا ایک نکتہ بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کا مفتی شمائل نے جواب نہ دیا ہو۔ دوسری طرف، جاوید اختر موضوع سے ہٹ کر بحث کر رہے تھے اور جذباتی باتوں کے ذریعے اپنا موقف ثابت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک جگہ ثالث (جج) نے بھی انہیں یاد دلایا کہ مفتی شمائل کی باتوں کا جواب دیں۔
مفتی شمائل منطق اور استدلال کے مالک ہیں اور انگریزی زبان پر ایسی مہارت کہ ہر اقت انگریزی ڈائلاگ مارنے والے جاوید اختر کی بوٹی بند کر دی بالآخر جاوید اختر نے آسان فہم زبان میں بات کرنے کی درخواست کی
الحمدلله آج تک کوئی مائی کا لال ایسا نہیں آیا کہ علماء دیوبند نے دلائل کے اس کو زیر نہ کیا ہو
الحمدللہ ثم الحمدللہ

21/12/2025

مانسہرہ ڈاکٹر۔ لاپروائی بچی کی جان لے گئی کنگ عبداللہ ہسپتال میں جان بحق ہونے والی بچی جس کا ڈاکٹر بول رہا تھا یہ سیریئس نہیں ہے جس۔ کے خلاف۔ چئیر مین۔ وحید نے احتجاج کیا اور جس پر۔ ڈاکٹروں۔ کی طرف سے وحید پر کار۔ سرکار میں مداخلت کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ جو کہ اک۔ جمعوری۔ نظام کے منہ پر بہت۔ بڑا طماچہ ہے۔ اب اس ڈاکٹر سے کون پوچھے گا کہ وہ بچی تو فوت ہوگئی جس کو تم چیک ہی نہیں کر رہے تھے کیا ہمارا مفلوج نظام اس اک قیمتی اور معصوم جان کے جانے کا ازالہ کر سکے گا آج اس بچی کے لواحقین۔ پریس کانفرس میں۔ حقائق۔ بتاتے ہوئے

Sameer minhas ny 113 balls pe 172 runs banay kia bating ki hia like to banata hia is kily
21/12/2025

Sameer minhas ny 113 balls pe 172 runs banay kia bating ki hia like to banata hia is kily

کاغان کالونی قتل کیس: ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق نیکی قاری صاحب کے گلے پڑ گئی۔ قاری صاحب واقع کے بعد روپوش ہو گ...
21/12/2025

کاغان کالونی قتل کیس: ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق نیکی قاری صاحب کے گلے پڑ گئی۔ قاری صاحب واقع کے بعد روپوش ہو گئے ہیں۔

مبینہ ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق کاغان کالونی میں تین معصوم بچوں کے قتل اور خاتون خانہ کو شدید زخمی کرنیوالے کاشف خان اپنے جرم کی اعترافی ویڈیو میں قاری کو پیغام دے رہا ہے کہ ان سب کے مرنے کے بعد ان کا مکان بیچ کر ایک کروڑ روپے لے لے اور دس لاکھ اس کی بہن کو دے دے۔

اس حوالے سے قاری صاحب کے بارے میں چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ کاشف خان نے تین چار ماہ قبل ایک شو روم سے جی ایل آئی کار خریدی تھی۔ جس کے پیسے بقایا تھے۔ ان پیسوں کی واپسی کیلئے کئی جرگے بھی ہوئے۔ قاری صاحب کاشف خان کا قریبی دوست تھا۔ کاشف خان کے کہنے پر قاری صاحب نے تقریباً 60 لاکھ روپے کی رقم جرگے میں ادا کی۔

قاری صاحب کاشف خان سے جب بھی اپنے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا تو کاشف خان کہتا کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو مار دے گا۔ ڈر کے مارے قاری صاحب کاشف خان کو پیسوں کی واپسی کیلئے مزید مہلت دے دیتے اور یوں چار مہینوں کا وقت گزر گیا۔

اس دوران کاشف خان جو کہ ٹریڈنگ کی لت میں بھی مبتلاء تھا اور بہت سا پیسہ اس کام میں برباد کر چکا تھا۔ کاشف خان کی اہلیہ کے پاس زیورات تھے اور ایک پلاٹ بھی اس کے نام پر تھا۔ کاشف خان اپنی اہلیہ سے زیورات اور پلاٹ بیچنے کا کہہ رہا تھا۔ لیکن اس کی اہلیہ اپنے زیورات اور پلاٹ بیچنے پر تیار نہیں تھی اور اس نے اپنے زیورات اپنی والدہ کے پاس امانتاً رکھوا دیئے تھے۔

کاشف خان کو اس بات کا بھی غصہ تھا کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔ پھر آخر کار اس نے اپنا یہ غصہ بچوں اور بیوی کو مار کر پورا کیا۔

Address

Township
Mansehra
21300

Telephone

+923462460046

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohammad Abid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mohammad Abid:

Share

Category