13/12/2025
اسلامی بینکنگ اور سودی نظام میں بنیادی فرق
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلامی بینکنگ اور سودی بینکاری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
✅ سودی بینکنگ میں:
پیسہ محض "پیسہ کمانے کا ذریعہ" ہوتا ہے، بغیر کسی حقیقی کاروباری سرگرمی کے۔
بینک قرض دے کر سود کماتا ہے، چاہے کاروبار کو نفع ہو یا نقصان۔
اسلام میں یہی "اضافے والا قرض" (ربا) حرام ہے۔
✅ اسلامی بینکنگ میں:
پیسہ محض ایک ذریعہ ہے، اصل بنیاد "تجارت، اجارہ، مضاربہ اور شرکت" پر ہوتی ہے۔
اسلامی بینک سرمایہ کاری کرتا ہے اور نفع و نقصان کی بنیاد پر شراکت داری کرتا ہے۔
اگر کاروبار کو نقصان ہو تو اسلامی بینک بھی اس میں شریک ہوتا ہے، جبکہ سودی بینکاری میں بینک ہمیشہ نفع لیتا ہے، چاہے کاروبار تباہ ہو جائے۔
یہ فرق ایک عام شخص بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے، مگر جن کے دلوں میں علمائے حق کے خلاف بغض ہو، وہ کبھی یہ فرق سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے۔
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا مؤقف – سود مکمل طور پر حرام ہے
یہ کہنا کہ "مفتی صاحب سود کو جائز کر رہے ہیں" سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔
✅ وہ سود کے خلاف سب سے زیادہ تحریری اور عملی کام کرنے والے علماء میں سے ہیں۔
✅ انہوں نے پاکستان کے وفاقی شرعی عدالت میں سود کے خلاف فیصلہ دلوایا، جس کے نتیجے میں سودی نظام کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا۔
✅ انہوں نے دنیا بھر میں اسلامی معیشت کے اصولوں کو نافذ کرنے کے لیے کوششیں کیں، تاکہ مسلمانوں کو سودی نظام سے بچایا جا سکے۔
✅ ان کی کتابیں اور فتاویٰ واضح کرتے ہیں کہ سود کسی بھی شکل میں جائز نہیں ہو سکتا۔
اگر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سود کو عام کر رہے ہوتے، تو وہ سودی بینکاری کے خلاف اتنا سخت مؤقف کیوں اپناتے؟
اسلامی بینکاری کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ "اگر سود حرام ہے تو اسلامی بینک ہی کیوں بنائے گئے؟"
☑️ اس کا جواب یہ ہے کہ جب پوری دنیا میں سودی نظام مسلط ہو چکا ہو، تو ایک دم پورے سسٹم کو اکھاڑ کر پھینکنا ممکن نہیں ہوتا۔
☑️ حکمت اور تدریج کے ساتھ حلال متبادل فراہم کرنا ہی اصل طریقہ ہوتا ہے، جو کہ نبی کریم ﷺ کی سنت بھی ہے۔
☑️ اگر اسلامی بینکنگ نہ ہو، تو مسلمان مجبوراً سودی بینکوں کے محتاج ہو جائیں گے، جو کسی بھی حال میں درست نہیں۔
اسلامی بینکنگ کا مقصد یہی ہے کہ مسلمانوں کو سودی بینکنگ سے نکال کر شریعت کے مطابق مالی معاملات کی طرف لے جایا جائے۔