07/03/2026
(امیر تیمور برلاس کا ہندوستان پر حملہ اور دیگر فتوحات)
( 1398ء 1399ء)
امیر تیمور قبیلہ برلاس کے منگول فاتح تھے جس نے وسطی ایشیاء میں بڑی تیموری سلطنت قائم کی۔ وہ اپنی تیز ترین فتوحات اور قتل عام کی وجہ سے بھی تاریخ میں جانے جاتے ہیں۔ 1398ء میں اس نے ہندوستان پر حملہ کیا، جسے تاریخ کی سب سے خوفناک اور تباہ کن جنگوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس حملے کا بنیادی مقصد دہلی سلطنت کیخلاف جہاد تھا۔ دہلی کے مسلم سلطان نے اپنے ہندو وزرا کو بہت نواز رکھا تھا اور مسلمان بےیارو مددگار تھے، حملے کے وقت دہلی سلطنت پر تغلق خاندان کی حکومت تھی۔اور سلطان ناصر، نصیرالدین محمود شاہ تغلق تخت نشین ثابت ہوئے۔ تغلق سلطنت پہلے ہی داخلی انتشار، خاندانی جھگڑوں اور علاقائی بغاوتوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھی۔ سلطان محمود شاہ اور ان کے وزیر مالو اقبال نے تیمور کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کی فوج میں گھوڑوں کے ساتھ جنگی ہاتھی بھی تھے جو تیمور کی جنگی چال سے الٹ بھاگ نکلے اور اپنی ہی فوج کو کچل ڈالا۔ جنگ کے بعد سلطان بھاگ گیا اور دہلی پر امیر تیمور کا قبضہ ہوگیا۔
امیر تیمور نے ہندوستان میں مستقل سلطنت قائم کرنے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ صرف خزانہ اپنے قبضے میں لیا تباہی پھیلائی اور 90 ہزار افراد کو قتل کرکے انکی کھوپڑیوں کے مینار بنائے جس سے آس پاس کے سلطان اور رعایا بہت ہراسان ہوئے۔ امیر تیمور نے دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد پہلا شہر تلمبہ ، مکمل طور تباہ و برباد کیا اور خوب قتل عام کیا۔
ملتان اور اُوچ شریف کو پہلے تیمور کے پسندیدہ بہادر پوتے "پیر محمد جہانگیر" نے فتح کیے تھے اور پھر تیمور نے مزید علاقوں پر بھی قبضہ کیا۔اس کے علاوہ دیپالپور، پاک پتن اور بھٹنیر شدید مزاحمت کے باوجود فتح کیے، ہزاروں ہندو اور مسلم افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ لاھور، پانی پت، سرسا، فتح آباد اور آس پاس کے علاقے فتح کرکے خزانوں پر قبضہ کیا قتل عام کے بعد شہروں کو تباہ و برباد کردیا۔ امیر تیمور نے اپنے مرکزی ہدف دہلی پر 17 دسمبر 1398ء کو حملہ کیا شدید جنگ کے بعد فتح حاصل کی اور خزانہ اپنے قبضے میں لیکر شہر دہلی کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہزاروں افراد قتل کیے گئے جن کے سر کاٹ کر ان کی کھوپڑیوں کے مینار بنا کر بنائے گئے۔ تیمور کی واپسی پر میرٹھ، ہردوار ہندوؤں کے عباداتی مقامات،مندر اور کنگرہ، جموں اور دیگر علاقوں کو برباد کر وہاں قتل عام کیا۔ تیمور نے پنجاب سے گنگا کے بالائی علاقوں تک شمالی ہندوستان کے بڑے حصے کو تباہ و برباد کیا تمام خزانے اپنے قبضے میں لیکر دہلی حکومت کے ہندو وزراء کو چن چن کر قتل کیا، تیمور دہلی میں صرف چند ماہ رکا اور 1399ء میں وہ واپس سمرقند پہنچ گیا،تیمور نے خضر خان کو ملتان، لاھور اور دیپالپور کا گورنر مقرر کیا جو بعد میں "سید خاندان" کا بانی اورسلطان بنا۔
امیر تیمور کا بھارت "دہلی" پر حملہ انتہائی خوفناک تھا۔ اس نے خاص طور پر ہندوؤں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ انہیں "کافر" سمجھتا تھا۔ تاریخی ذرائع اور تیمور کی خود نوشت "تزک تیموری"، یحیی بن احمد کی "تاریخ مبارک شاہی" اور دیگر معاصر کے مطابق، دہلی شہر فتح ہونے کے بعد 10 سے 15 دن تک مسلسل ہندوؤں کا قتل عام کیا گیا لاکھوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق صرف دہلی میں 100,000 سے زائد افراد کو قتل کیا گیا امیر تیمور نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ 100,000 ہندو افراد کو جنگ کے دوران قتل کیا گیا تاکہ کوئی مزید بغاوت نہ کر سکے۔صرف بھٹنیر میں 10,000 سے زائد ہندو ہلاک کیے گئے۔ ہردوار میں ہندو زائرین کا قتل عام کیا گیا، ہزاروں ہندو کسانوں کا قتل عام کیا گیا۔ تیمور نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا تھا کہ "کافروں" کو تلوار سے "جہنم" واصل کیا جائے۔ مجموعی طور پر شمالی ہندوستان میں لاکھوں افراد قتل ہوئے جن میں اکثریت ہندوؤں کی تھی جبکہ اس جنگ میں مسلمان بھی جانبحق ہوئے ہزاروں افراد غلام بنائے گئے اور خاص طور پر ہندو کاریگروں کو سمرقند لے جایا گیا۔ بھارتی شہر تباہ کیے گئے فصلیں جلائی گئیں، جس سے شدید قحط اور وبائیں پھیل گئیں۔ دہلی سلطنت تباہ ہو گئی، تغلق خاندان اور ہندو راجاوں کا خاتمہ ہوگیا، شمالی ہندوستان میں شدید طویل المدتی افراتفری پھیل گئی جو ایک صدی تک جاری رہی۔ ہندو معاشرے میں ہیبت اور خوف کی وجہ سے بچوں کی شادیاں کم عمری میں ہونے لگیں۔
تحریر کے مآخذ: ہندوستانی مورخین "اے ایل سریواستو" سلطنت تیموریہ "ایل پی شرما" یورپین مؤرخ ہیرولڈلیم، امیر تیمور، دی مارچ آف دی باربیرینز، سیموئیل نسنسن، تاریخ اسلام، سید سلمان ندوی اور امیر تیمور کی خودنوشت"تزک تیموری"
امیر تیمور کے ہندوستان، دہلی پر حملے اور فتوحات میں قتل عام اور انسانی کھوپڑیوں کے طویل ترین مینار بنانا معمول کا عمل تھا۔
یہ حملہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک خوفناک باب ہے، جس نے دہلی سلطنت کو مکمل طور کمزور کر دیا اور بعد میں امیر تیمور کی اولاد سے ہی "سلطنت مغلیہ" کے لیے راستہ ہموار ہوگیا اور یہ تاریخی حقیقت اسوقت آشکار ہوئی جب امیر تیمور برلاس کے پوتے سلطان ابوسعید مرزا کے پوتے عمر شیخ مرزا کے بڑے بیٹے ظہیر الدین محمد بابر نے 1526ء کو پانی پت کی جنگ میں لودھی خاندان کو شکست دیکر ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی جو 300 تین سو سال تک قائم رہی۔
امیر تیمور برلاس کی فتوحات تقریباً 37 سال تک جاری رہیں اور اس نے وسطی ایشیا، ایران، عراق، شام، اناطولیہ، روس اور ہندوستان تک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا۔ اس کی سلطنت تقریباً 22 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی تھی، جو تاریخ کے عظیم فاتحین جیسے سکندر اعظم اور چنگیز خان کے برابر تھی۔ تیمور کی فتوحات میں بے پناہ خونریزی اور تباہی شامل تھی،شہروں کو تباہ کرنا، قتل عام اور انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنانا، جو اسے ایک خطرناک فاتح کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
تیمور کا خاندان چنگیز خان کی اولاد سے تعلق رکھتا تھا۔دوران جنگ تیمور کے پاؤں پر تیر لگنے کیوجہ سے وہ ایک پاؤں دبا کر چلتا تھا۔لیکن اس نے اپنی اس کمزوری کو اپنی طاقت بنا لیا۔
تیمور فنونِ حرب میں بہت ماہر تھا اور 1360 کی دہائی میں وسطی ایشیا کے علاقے ازبکستان میں اقتدار حاصل کرنے لگا۔ 1370ء میں اس نے بلخ میں تخت نشین ہو کر چغتائی خانیت سلطنت کے باقی ماندہ حصوں پر قبضہ شروع کیا۔ اس نے اپنی سلطنت کو گورگانی کہا، جو چنگیز خان کی اولاد سے نسبت کی وجہ سے تھا۔
تیمور کی جنگوں کو "یورش سہ سالہ کہا جاتا ہے۔ 1370ء 1380ء: وسطی ایشیا کی فتوحات:
تیمور نے چغتائی سلطنت کے باقی حصوں پر مکمل قبضہ کیا۔ 1376ء میں کاشغر اور 1381ء میں خوارزم فتح کیا۔ اس نے مقامی حکمرانوں کو شکست دی اور اپنی سلطنت تیموریہ کو مستحکم کیا۔
1381ء1387ء خراسان، ایران اور فارس کی فتح، 1381ء میں ہرات کے خاندانِ کرت کو مطیع کیا۔ اگلے سال نیشاپور اور نواح پر قبضہ کیا۔ 1385ء میں قندھار اور سیستان فتح کیے۔ 1386ء میں "یورش سہ سالہ" شروع کی، جس میں مازندران، آذربائیجان اور شمالی ایران پر قبضہ کیا۔ اس دوران گرجستان بھی فتح ہوا۔ جلایر سلطنت کو بدترین شکست دی جبکہ خاندان مظفری سلطنت کا مکمل خاتمہ کردیا۔
1391ء 1395ء: روس اور گولڈن ہورڈ کی مہم، تیمور نے گولڈن ہورڈ کے سیر اوردہ کے خاقانن توقتامش کے خلاف دو جنگیں لڑیں، پہلی 1391ء میں دریائے سیحوں کے راستے، جہاں اس نے قازقستان کے میدانوں سے گزر کر دریائے قندزجہ "کونڈورچا" کے کنارے توقتامش کو شکست دی۔ اور دوسری جنگ 1395ء میں، جس میں ماسکو تک پیش قدمی کی اور توقتامش کو مکمل طور پر کمزور کرکے اسے زیر کر لیا۔ یہ جنگیں تیمور کے فنِ حرب کا شاہکار تھیں۔
1393ء 1401ء: عراق، شام اور مشرق وسطیٰ کی فتح 1393ء میں بغداد پر حملہ کر کے جلایر حکمرانوں کو شکست دی۔ اس کے بعد شام کی طرف پیش قدمی: حلب، حماہ، حمص، بعلبک اور دمشق فتح کیے۔ بغداد کو دوبارہ تباہ کیا۔ اس جنگ میں مملوک سلطنت کو شدید نقصان پہنچایا۔
1398ء 1399ء: ہندوستان "دہلی" کی مہم
تیمور نے سلطنت دہلی پر حملہ کیا۔ دہلی کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا، لاکھوں لوگ قتل ہوئے اور شہروں کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد میرٹھ اور دیگر علاقوں پر قبضہ کیا۔ یہ جنگیں تیمور کی سب سے خونریز مہموں میں سے ایک تھیں۔
1400ء 1402ء: اناطولیہ اور سلطنت عثمانیہ کی مہم:
1400ء میں سیواس فتح کیا۔ 1401ء میں بغداد دوبارہ فتح۔ 1402ء میں خلافت عثمانیہ کے سلطان بایزید اول کے خلاف جنگ انقرہ "معرکہ انگوریہ" لڑی اور یلدرم کو شکست دیکر اسے گرفتار کر لیا۔ اس فتح نے عثمانی سلطنت کو بحران میں مبتلا کر دیا۔ تیمور نے ایجیئن ساحل پر بھی پیش قدمی کی۔
1405ء: چین کی مہم
تیمور نے چین فتح کرنے کا منصوبہ بنایا، جو چنگیز خان کا خواب تھا۔ سردیوں میں لشکر کشی کی لیکن شدید سردی اور بیماری کی وجہ سے راستے میں اوترار کے قریب سخت بیمار ہوا اور بیماری کی حالت میں وفات پا گیا۔
اثرات اور میراث
تیمور کی فتوحات نے کئی سلطنتوں کو تباہ کیا، لیکن اس نے سمرقند کو دارالحکومت بنا کر فنون اور عمارتوں کو فروغ دیا۔ اس کی سلطنت اس کی موت کے بعد زوال پذیر ہونا شروع ہوئی، لیکن اس کے پوتے کے پوتے ظہیرالدین محمد بابر نے ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی۔ تیمور کو ایک طرف عظیم فاتح تو دوسری طرف خطرناک جنگجو حکمران کہا جاتا ہے، جس نے لاکھوں لوگوں کو قتل کیا۔تیمور کی خود نوشت "تزک تیموری" میں انہوں نے حکمرانی کے اصول بیان کیے ہیں، جو آج بھی قابل عمل اور قابل غور ہیں۔
#جاویدمرزا