27/04/2026
ممبر وہ مقدس جگہ ہوتا ہے جہاں سے انصاف، عدل اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے اور نیک انسان کی صفات بیان کی جاتی ہیں۔ صحابہؓ نے اس مقدس جگہ کو انسانیت کی سچی خدمت اور قربانی کے لیے استعمال کیا۔ جب ممبر خاموش ہو جائے یا انصاف کے فیصلے نہ ہوں تو عوام کے لہجے تلخ ہو جاتے ہیں اور لوگ سوال اٹھانے لگتے ہیں۔
آج سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے خلاف مساجد اور ممبروں سے جس شدت کے ساتھ فتووں کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے۔باقاعدہ ایک فتوے کی روایات قاٸم ہونے جارہے ہیں وہ لمحۂ فکریہ ہے۔ کوئی انہیں کافر کہہ رہا ہے تو کوئی مرتد لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی اتحاد اور یہی جوش و خروش ان مسائل کے لیے بھی دستیاب ہے جو اس مٹی کا اصل ناسور بن چکے ہیں؟
کاش ہمارے علماء اسی طرح متحد ہو کر بدامنی، ظلم، غنڈہ گردی,ڈالری اپریشنوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز اٹھاتے جو پشتون وطن کی گلیوں میں جاری ہیں۔ روزانہ گلیوں، بازاروں اور صحرا میں معصوموں کی لاشیں ملتی ہیں۔ اگر ممبر سے حق کی صدا بلند ہوتی۔ اگر ظالم کو ظالم اور غاصب کو غاصب کہا جاتا تو آج یہ نوبت نہ آتی کہ ایک سوشل ایکٹیوسٹ یا ٹک ٹاکر کو علماء کو ان کے اصل فرائض یاد دلانے پڑتے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ جب معصوموں کا خون بہتا ہے، جب دہشت گردی اور لوٹ مار عام ہوتی ہے تو انصاف کے دعویدار اکثر تماشائی بن جاتے ہیں۔ ظلم کے خلاف خاموشی دراصل ظالم کی حمایت کے مترادف ہے۔
افغانستان کے لیے فتوے دیے جاتے رہے، مدارس بنائے گئے، اربوں روپے خرچ کیے گئے اور لوگوں کو جنگ کے لیے آمادہ کیا گیا۔ مگر آج جب وزیرستان، مہمند، باجوڑ، لکی مروت، بنوں، سوات، کرم، اورکزئی اور جنوبی پشتونخوا میں بدترین حالات سے گزر
رہی ہیں۔ آۓ روز چادر اور چار دیواری کی پامالی ہو رہی ہے تو اس پر بھی آواز اٹھانی چاہیے۔
سوشل ایکٹیوسٹس کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے وہ سوال اٹھایا جو ہر اس شخص کے دل میں ہے جو اس بدامنی سے تنگ آ چکا ہے۔ آپ اچھائی کی تعریف تو کرتے ہیں مگر ظلم کو ظلم کہنے سے زبانیں کیوں بند ہو جاتی ہیں؟
عوام نے صرف یہ پوچھا تھا کہ پشتونوں کی سرزمین پر جاری قتل و غارت اور دہشت گردی پر ممبر و محراب سے مضبوط مذمتی آواز کیوں نہیں اٹھتی؟ جواب میں اصلاح کے بجائے کفر کے فتوے جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم دلیل کا مقابلہ دلیل سے نہیں بلکہ دھمکی سے کرنا چاہتے ہیں۔
علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں اور ان کے خلاف غلط الفاظ استعمال کرنا بھی مناسب نہیں۔ لیکن چند علماء کا ٹولہ ایسے بھی ہیں جو ظلم، بربریت، قتلِ عام اور فساد پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور مظالم کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہیں۔
سوال پوچھنا عوام کا حق ہے اور سوال کرنا ہرگز یہ مطلب نہیں رکھتا کہ کسی ایک کی وجہ سے سب پر داغ لگایا جائے۔
مزید ہم کو فتورے راج و روایات نامنظور ہیں