Awam Ki Awaz

Awam Ki Awaz Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Awam Ki Awaz, Media/News Company, Oghi Mansehra, Mansehra.

Big shout out to my newest top fans! 💎 Rashid Khaksar, Zeeshan KhanDrop a comment to welcome them to our community,
04/09/2026

Big shout out to my newest top fans! 💎 Rashid Khaksar, Zeeshan Khan

Drop a comment to welcome them to our community,

29/08/2026
29/08/2026

چند پیسوں کا ریلیف، کروڑوں کا بوجھ — آخر عوام کس سے سوال کرے؟

پاکستان میں مہنگائی اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی، یہ عام آدمی کی زندگی کا سب سے بڑا سوال بن چکی ہے۔

پٹرول مہنگا ہوتا ہے، ڈیزل مہنگا ہوتا ہے، بجلی اور گیس کے بل بڑھتے ہیں، ٹرانسپورٹ کے کرائے اوپر جاتے ہیں، بازار میں اشیائے ضروریہ کے نرخ بڑھتے ہیں، مگر پھر عوام کے سامنے چند پیسوں کی کمی کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے کوئی بہت بڑا معاشی ریلیف دے دیا گیا ہو۔

25 پیسے سستا، 50 پیسے سستا، 74 پیسے سستا!

سوال یہ ہے کہ اگر ایک طرف چند پیسوں کی کمی ہے تو دوسری طرف روزمرہ زندگی کے اخراجات میں ہونے والے مسلسل اضافے کا حساب کون دے گا؟

آخر عوام جائے تو جائے کہاں؟

ایک عام آدمی صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے سب سے پہلے پٹرول، کرایے، بجلی، گیس، آٹا، چینی، دال، سبزی، دودھ اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات کا سامنا ہوتا ہے۔

اس کی آمدن وہیں کھڑی ہے، مگر اخراجات مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔

دکاندار کہتا ہے میری خرید مہنگی ہے، ٹرانسپورٹر کہتا ہے ڈیزل مہنگا ہے، صنعت کار کہتا ہے بجلی مہنگی ہے، کسان کہتا ہے زرعی مداخل مہنگے ہیں۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر اس پورے معاشی بوجھ کا آخری شکار کون بنتا ہے؟

وہی عام پاکستانی!

پرائس کنٹرول کے ادارے کہاں ہیں؟

اگر حکومت کسی چیز کی قیمت مقرر کرتی ہے تو اس پر عمل درآمد بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اگر بازار میں کوئی دکاندار اپنی مرضی کا ریٹ وصول کر رہا ہے تو ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کے متعلقہ اداروں کو جواب دینا ہوگا کہ نگرانی کا نظام کہاں ہے؟

صرف سرکاری نرخ نامہ جاری کر دینا کافی نہیں۔

عوام کو ریٹ لسٹ نہیں، عملی ریلیف چاہیے۔

اور سیاسی جماعتیں کہاں ہیں؟

یہاں ایک اور بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔

جب ماضی میں پٹرول کی قیمت میں معمولی سا اضافہ ہوتا تھا تو سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنما ٹی وی چینلز پر آ کر عوام کی مشکلات کا ذکر کرتے تھے۔

بیانات آتے تھے، پریس کانفرنسیں ہوتی تھیں، احتجاج ہوتے تھے اور حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

آج جب مہنگائی نے عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے تو وہی سیاسی آوازیں نسبتاً مدھم کیوں دکھائی دیتی ہیں؟

جمعیت علمائے اسلام ہو، پی ٹی آئی ہو یا کوئی دوسری جماعت — عوام سب سے ایک ہی سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں:

جب عوام مشکل میں ہوں تو ان کی آواز کون بنے گا؟

جماعتِ اسلامی کا احتجاج — مگر عوام کہاں ہیں؟

اگر کوئی سیاسی جماعت مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے تو اس کے مؤقف کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سننا چاہیے۔

لیکن یہاں عوام سے بھی سوال بنتا ہے۔

اگر واقعی مہنگائی ہماری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو پھر ہم اس مسئلے پر اجتماعی طور پر بات کیوں نہیں کرتے؟

کیا ہم نے مہنگائی کو اپنی قسمت سمجھ لیا ہے؟

کیا ہم صرف سوشل میڈیا پر شکایت کریں گے یا اپنے منتخب نمائندوں سے بھی سوال کریں گے؟

میڈیا! آپ کی خاموشی بھی سوال ہے

میڈیا جمہوریت کا اہم ستون ہے۔

ہم میڈیا سے کسی جماعت کی حمایت کا مطالبہ نہیں کرتے۔

ہم صرف یہ کہتے ہیں:

سیاسی شور سے آگے بڑھیں، عوام کی آواز سنیں۔

ٹی وی اسکرین پر گھنٹوں سیاسی بحث ہو سکتی ہے، تو ایک عام مزدور کے بجٹ پر بھی پروگرام ہو سکتا ہے۔

اینکرز یہ سوال کر سکتے ہیں کہ:

ایک عام گھرانے کی ماہانہ آمدن اور اخراجات میں کتنا فرق ہے؟

پٹرول کی قیمت بڑھنے سے اشیائے ضروریہ پر حقیقی اثر کتنا پڑتا ہے؟

سرکاری اخراجات اور عوامی سہولیات میں کیا تناسب ہے؟

مہنگائی کے خاتمے کے لیے حکومت کے پاس طویل المدتی منصوبہ کیا ہے؟

یہ سوال بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے سیاست کے دوسرے سوالات۔

معیشت چوبیس گھنٹے کی پالیسی سے نہیں چلتی

دنیا میں سرمایہ کاری وہاں آتی ہے جہاں پالیسیوں میں تسلسل ہو، کاروباری ماحول قابلِ پیش گوئی ہو اور سرمایہ کار کو مستقبل کا اندازہ ہو۔

اگر پٹرول، بجلی، گیس، ٹیکس، کرایے اور کاروباری اخراجات مسلسل غیر یقینی کا شکار ہوں تو ایک کاروباری شخص طویل المدتی منصوبہ بندی کیسے کرے گا؟

کاروبار اعتماد سے چلتا ہے، غیر یقینی سے نہیں۔

پاکستان کو ایسی معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جو پانچ، دس اور پندرہ سال آگے کا سوچ سکے۔

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر قومی معاشی پالیسی کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

اصل مسئلہ صرف پٹرول نہیں، پورا نظام ہے

پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔

اس کا اثر ٹرانسپورٹ پر پڑتا ہے۔

ٹرانسپورٹ کا اثر سبزی، پھل، آٹا اور دیگر اشیاء پر پڑتا ہے۔

بجلی اور گیس مہنگی ہوں تو صنعت کی لاگت بڑھتی ہے۔

لاگت بڑھتی ہے تو مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں۔

اور آخر میں یہ پورا بوجھ صارف یعنی عام آدمی کے کندھوں پر آ جاتا ہے۔

یہ ایک ایسا چکر ہے جسے صرف چند پیسوں کی قیمت کم کرکے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اشرافیہ کے اخراجات اور عوام کی مشکلات

ایک طرف عام شہری اپنے بچوں کی فیس، گھر کے راشن، بجلی کے بل اور علاج کے اخراجات کے لیے پریشان ہے۔

دوسری طرف سرکاری مراعات، پروٹوکول، غیر ضروری اخراجات اور حکومتی وسائل کے استعمال پر مسلسل سوالات اٹھتے ہیں۔

ریاست سے سوال ہونا چاہیے:

جب عوام قربانی دے رہے ہیں تو حکمران طبقہ کتنی قربانی دے رہا ہے؟

یہ سوال کسی فرد کے خلاف نہیں۔

یہ احتساب کا سوال ہے۔

مہنگائی صرف جیب نہیں، معاشرے کو بھی متاثر کرتی ہے

جب گھر کا بجٹ مسلسل دباؤ میں ہو تو اس کے اثرات صرف بازار تک محدود نہیں رہتے۔

گھریلو پریشانی بڑھتی ہے، تعلیم متاثر ہوتی ہے، علاج مشکل ہوتا ہے، روزگار کا دباؤ بڑھتا ہے اور معاشرتی بے چینی جنم لے سکتی ہے۔

جرائم میں اضافے سمیت ایسے سماجی مسائل کو بھی معاشی پالیسی کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ایک مضبوط ریاست صرف اعداد و شمار نہیں دیکھتی، اپنے شہری کی زندگی بھی دیکھتی ہے۔

ہم حکومت کے مخالف نہیں، غلط پالیسی کے مخالف ہیں

یہ بات واضح ہونی چاہیے:

ہم پاکستان کے خلاف نہیں۔

ہم ریاست کے خلاف نہیں۔

ہم قانون اور آئین کے خلاف نہیں۔

بلکہ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ قانون، آئین اور جمہوری اصول مضبوط ہوں۔

جمہوریت میں سوال کرنا شہری کا حق ہے۔

حکومت سے سوال ہوگا۔

اپوزیشن سے سوال ہوگا۔

میڈیا سے سوال ہوگا۔

اور ضرورت پڑے تو عوام سے بھی سوال ہوگا۔

کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے جواب مانگنے کا نام بھی ہے۔

آخر میں صرف ایک گزارش

میری صحافیوں، سوشل ورکرز، سوشل ایکٹیوسٹس اور ہر باشعور شہری سے گزارش ہے:

فیکٹس کے پیچھے جائیں، شور کے پیچھے نہیں۔

اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھیں۔

حکومتی پالیسیوں کا تجزیہ کریں۔

مہنگائی کے اصل اسباب تلاش کریں۔

عوام اور حکمران طبقے کے اخراجات کا تقابلی جائزہ لیں۔

اور سب سے بڑھ کر، عوام کو سوال کرنا سکھائیں۔

کیونکہ جب عوام سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو حکمران جواب دینا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ وقت کسی ایک سیاسی جماعت کے زندہ باد یا مردہ باد کا نہیں؛
یہ وقت عوام کے بنیادی حقوق، معاشی انصاف اور جواب دہی کی بات کرنے کا ہے۔

پٹرول چند پیسے سستا ہو یا مہنگا،
اصل سوال یہ ہے کہ عام پاکستانی کی زندگی کب آسان ہوگی؟

اور شاید آج پاکستان کا سب سے بڑا سوال یہی ہے:

آخر عوام کب تک مہنگائی کا بوجھ اٹھاتی رہے گی؟

21/08/2026

عمران خان کو تین سال بعد ہسپتال منتقل کرنا — کیا یہ ریلیف پہلے نہیں مل سکتا تھا؟
تین سال کے طویل عرصے کے بعد عمران خان کو الشفا میڈیکل ہسپتال منتقل کیے جانے کی خبر نے ایک بار پھر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر طبی معائنہ اور علاج ضروری تھا تو کیا یہ سہولت پہلے فراہم نہیں کی جا سکتی تھی؟ کسی بھی سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر ایک قیدی کی صحت اور بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں بدقسمتی سے سیاست اختلافِ رائے سے نکل کر ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوشش تک پہنچ چکی ہے۔ عمران خان پر مختلف ادوار میں سنگین الزامات لگائے گئے، انہیں مختلف القابات دیے گئے، مگر سیاسی نعروں اور الزامات سے ہٹ کر اصل فیصلہ شفاف قانونی عمل اور قابلِ اعتماد شواہد ہی سے ہونا چاہیے۔
عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی شاید یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے نوجوانوں کو سیاست میں ایک نئی آواز دی۔ آج کا نوجوان اپنے حقوق، اپنے مستقبل اور اپنے ملک کے معاملات کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہے۔ یہی سیاسی شعور کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت ہوتا ہے۔
کئی دہائیوں تک پاکستان کی سیاست بنیادی طور پر دو بڑی جماعتوں کے گرد گھومتی رہی۔ پھر تحریکِ انصاف ایک بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی اور اس نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل دیا۔ اس تبدیلی کے بعد مختلف سیاسی قوتوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا بھی پاکستانی سیاست کا ایک اہم باب بن گیا۔
لیکن کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو ختم کرنے کا بہترین راستہ سیاسی انتقام نہیں بلکہ عوام کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی رہنما غلط ہے تو اسے دلیل، کارکردگی، آئین اور قانون کے ذریعے شکست دی جانی چاہیے۔ سیاسی مخالف کو ختم کرنے کی کوششیں بالآخر اداروں، جمہوریت اور عوام کے اعتماد کو کمزور کرتی ہیں۔
آج عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں حکمرانوں سے سادگی، شفافیت اور عوامی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی توقع کرنا عوام کا حق ہے۔ جب عوام کو کفایت شعاری کی تلقین کی جائے تو حکمران طبقے کو بھی اپنے پروٹوکول، غیر ضروری اخراجات اور شاہانہ طرزِ زندگی پر نظر ڈالنی چاہیے۔
اصل لیڈر وہ ہوتا ہے جو مشکل وقت میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑا رہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ثابت قدمی، حوصلہ اور مشکل حالات میں آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھنا کسی بھی سیاسی رہنما کے کردار کا اہم امتحان ہوتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کسی ایک جماعت، ایک خاندان یا ایک فرد کا نہیں؛ یہ 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا ملک ہے۔ ہمیں ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، احتساب ہو مگر انتقام نہ ہو، تنقید ہو مگر کردار کشی نہ ہو، اور اقتدار ہو تو عوام کی خدمت کے لیے ہو، ذاتی مفادات کے لیے نہیں۔
فرعون، قارون اور طاقت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے آخرکار تاریخ کے صفحات میں صرف ایک مثال بن کر رہ گئے۔ اقتدار اور دولت ہمیشہ باقی نہیں رہتے؛ اصل چیز کردار، انصاف اور عوام کی خدمت ہے۔
اگر عمران خان یا کوئی بھی سیاسی رہنما پاکستانی سیاست میں واپس آتا ہے تو اسے بھی آئین، قانون، جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کو شخصیات کی نہیں، مضبوط اداروں، شفاف نظام اور انصاف پر مبنی سیاست کی ضرورت ہے۔
پاکستان زندہ باد، عوام پائندہ باد۔

19/08/2026

سیاست، دوستی اور رشتے داریاں — ایک قابلِ غور حقیقت
دورِ حاضر میں سیاست ایک ایسا الجھا ہوا موضوع بنتی جا رہی ہے جس میں عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، کس کا مؤقف کیا ہے اور کس سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کس بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک ہی سیاسی جماعت کے اندر مختلف گروہ وجود میں آ جاتے ہیں اور ہر گروہ خود کو دوسرے سے زیادہ بااثر، مخلص اور حق دار سمجھنے لگتا ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: اگر ایک ہی گھر کا ایک فرد پاکستان تحریکِ انصاف میں ہو، دوسرا مسلم لیگ میں، تیسرا جمعیت علمائے اسلام میں، چوتھا جماعتِ اسلامی میں اور اسی خاندان کا کوئی اور فرد پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہو، تو پھر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست آخر ہے کیا؟ کیا سیاسی وابستگی واقعی اتنی گہری ہے کہ انسان اپنے خونی رشتوں، دوستیوں اور تعلق داریوں کو بھی بھول جائے، یا پھر سیاست دراصل اپنے اپنے مفادات اور مقاصد کے حصول کا ایک ذریعہ بن چکی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ سیاست ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ہر شخص کو یہ آزادی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ اپنی پسند کی سیاسی جماعت یا نظریے سے وابستہ ہو، سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے اور اپنے سیاسی مؤقف کا اظہار کرے۔ لیکن اس آزادی کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے: سیاست کو رشتوں سے بڑا نہیں ہونا چاہیے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی اختلاف اکثر ذاتی دشمنی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ بھائی بھائی سے ناراض ہو جاتا ہے، دوست ایک دوسرے سے تعلق ختم کر لیتے ہیں اور خاندانوں میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جن سیاسی شخصیات کے لیے عام لوگ ایک دوسرے سے الجھتے ہیں، وہ خود سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی خوشیوں اور غمی میں شریک نظر آتے ہیں۔ آج ایک دوسرے کے خلاف سخت سیاسی بیانات دینے والے لوگ کل ایک ہی تقریب میں بیٹھے ہنس رہے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی شادیوں میں شریک ہوتے ہیں اور خوشی کے لمحات بانٹ رہے ہوتے ہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم عام لوگ سیاست کو اپنی انا کا مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاست میں بعض اوقات عام کارکن کے بجائے بااثر اور کاروباری شخصیات کا اثر و رسوخ زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی کارکن اپنی محنت، وقت اور وفاداری کے باوجود پسِ منظر میں چلا جاتا ہے، جبکہ بااثر افراد کے گرد سیاسی سرگرمیاں گھومتی نظر آتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عام کارکن کو جذبات کے بجائے شعور سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت، کوئی بھی سیاسی شخصیت اور کوئی بھی سیاسی نظریہ ہماری خاندانی محبت، انسانی تعلقات اور باہمی احترام سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ سیاست آج ہے، کل بدل سکتی ہے؛ لیکن خون کے رشتے اور حقیقی تعلقات زندگی بھر کا سرمایہ ہوتے ہیں۔
لہٰذا سیاسی وابستگی ضرور رکھیں، سیاسی شعور ضرور پیدا کریں، اپنے پسندیدہ امیدوار اور جماعت کی حمایت بھی کریں، لیکن اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں۔ اپنے سیاسی مؤقف کو دلیل تک محدود رکھیں اور اسے ذاتی تعلقات کی دیوار نہ بننے دیں۔
یاد رکھیں:
سیاست میں اختلاف رکھیں، مگر دلوں میں نفرت نہ رکھیں۔
پارٹی بدل سکتی ہے، قیادت بدل سکتی ہے، حالات بدل سکتے ہیں؛
مگر اپنے سگے رشتے، مخلص دوست اور عزیز ہمیشہ دوبارہ نہیں ملتے۔
آخرکار سیاست کا مقصد معاشرے کو بہتر بنانا ہونا چاہیے، معاشرے کو خاندانوں، دوستوں اور برادریوں میں تقسیم کرنا نہیں۔
اس لیے خود کو سیاست کے اس دلدل میں اتنا نہ دھنسائیں کہ اپنے ہی عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں سے دور ہو جائیں۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی رائے پر قائم رہیں، مگر دوسروں کی رائے کا احترام بھی کریں۔
سیاست کریں، مگر انسانیت نہ چھوڑیں۔
اختلاف کریں، مگر رشتے نہ توڑیں۔
اپنی جماعت سے وفادار رہیں، مگر اپنے خاندان سے محبت کو سیاست کی نذر نہ کریں۔
یہی باشعور سیاست ہے، یہی مہذب معاشرہ ہے اور یہی ایک ذمہ دار شہری کی پہچان ہے۔

18/08/2026

مہنگائی، حکومتی نااہلی اور عوامی حقوق — اب سوال کرنے کا وقت ہے
پاکستان میں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایک بنیادی سوال ہر شہری کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے: اگر عالمی حالات نسبتاً سازگار ہو رہے ہیں تو پھر عوام کے لیے مہنگائی کا یہ طوفان کیوں ختم نہیں ہو رہا؟
1۔ مہنگائی کا بوجھ صرف عوام کیوں اٹھائے؟
آج عام آدمی بجلی، گیس، پٹرول، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاستی نظام کے اخراجات، حکمران طبقے کی مراعات اور بڑے بڑے انتظامی اخراجات کا بوجھ بھی آخرکار غریب عوام ہی کیوں برداشت کرے؟
اگر عوام ٹیکس ادا کرتی ہے تو حکمرانوں اور بااثر طبقات کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ قومی خزانے کے استعمال میں کفایت شعاری، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنا رہے ہیں۔
2۔ حکمرانوں کی مراعات اور عوام کی مشکلات
ایک طرف عام شہری بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہے، جبکہ دوسری طرف حکمران طبقے کی شاہانہ مراعات، بڑی گاڑیاں، پروٹوکول اور دیگر اخراجات پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔
عوام پوچھنے میں حق بجانب ہے:
کیا قومی وسائل صرف حکمران طبقے کی سہولیات کے لیے ہیں، یا ان کا بنیادی مقصد عام شہری کو ریلیف دینا بھی ہے؟
اگر ملک کے وسائل محدود ہیں تو سب سے پہلے غیر ضروری اخراجات اور شاہانہ مراعات میں کمی ہونی چاہیے۔
3۔ پٹرول کی قیمتوں میں آنکھ مچولی کیوں؟
عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پٹرول کی قیمتیں ہیں۔ کبھی معمولی کمی کا اعلان کیا جاتا ہے اور کبھی چند ہی دنوں میں نمایاں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
اگر عالمی منڈی میں حالات بہتر ہوتے ہیں تو عوام کو اس کا فائدہ کیوں نہیں پہنچتا؟
حکومت کو صرف اعلانات نہیں بلکہ واضح فارمولے، مکمل حساب اور شفاف وضاحت عوام کے سامنے رکھنی چاہیے کہ پٹرول کی قیمت کس بنیاد پر مقرر کی جاتی ہے۔
4۔ حکومتی دعوے اور زمینی حقیقت
حکومتیں بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں، لیکن اصل کامیابی کا پیمانہ تقریریں نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری ہے۔
اگر ایک عام خاندان اپنے بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی، گیس، پٹرول اور خوراک کے اخراجات پورے کرنے میں مسلسل مشکلات کا شکار ہے تو پھر حکومت کو اپنی کارکردگی کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔
ریاست کی کامیابی کا اصل پیمانہ عوام کا اطمینان اور معیارِ زندگی ہے۔
5۔ سیاستدانوں سے جواب طلبی ضروری ہے
عوام کو اب شخصیات کے بجائے کارکردگی اور پالیسیوں کی بنیاد پر سیاسی قیادت کا احتساب کرنا ہوگا۔
جو بھی اقتدار میں آئے، اس سے یہ سوال ہونا چاہیے:
مہنگائی کم کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟
روزگار کے مواقع کتنے پیدا کیے؟
سرکاری اخراجات میں کتنی کمی کی؟
عوام کو پٹرول اور بجلی کے نرخوں میں حقیقی ریلیف کتنا دیا؟
قومی وسائل کے استعمال میں کتنی شفافیت پیدا کی؟
کرپشن کے خاتمے کے لیے کیا مؤثر اقدامات کیے؟
6۔ مشکل وقت میں قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیں؟
جب ملک مشکل حالات سے گزرتا ہے تو سب سے زیادہ بوجھ عام شہری برداشت کرتا ہے۔ ٹیکس بھی عوام دیتی ہے، مہنگائی بھی عوام برداشت کرتی ہے اور معاشی بحران کا اثر بھی سب سے پہلے عام خاندان پر پڑتا ہے۔
لہٰذا حکمران طبقے کو بھی عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قومی مشکل کے وقت قربانی صرف عوام سے نہیں بلکہ اشرافیہ اور حکمران طبقے سے بھی مانگی جائے گی۔
7۔ اداروں کی ذمہ داری
ملک کے تمام ریاستی اداروں کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت، قانون کی بالادستی اور قومی وسائل کا تحفظ ہونا چاہیے۔
اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ طاقتور طبقہ ایک الگ نظام میں اور عام شہری ایک الگ نظام میں زندگی گزار رہا ہے تو ریاست پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو اور احتساب بلاامتیاز ہو۔
8۔ جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن شفافیت، جواب دہی، قانون کی حکمرانی اور عوامی شرکت ہے۔
اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو تو عوام کو آئینی اور جمہوری طریقے سے سوال کرنے، احتجاج کرنے، اپنی آواز بلند کرنے اور حکمرانوں سے جواب طلب کرنے کا مکمل حق ہونا چاہیے۔
لیکن یہ جدوجہد پُرامن، قانونی اور آئینی دائرے میں ہونی چاہیے، کیونکہ قومی املاک، انسانی جانوں اور امن کو نقصان پہنچانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
9۔ اب عوام کو کیا کرنا چاہیے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ عوام جذبات کے بجائے شعور کے ساتھ فیصلہ کریں۔
کسی ایک جماعت، خاندان یا شخصیت کے اندھے دفاع کے بجائے کارکردگی کا احتساب کیا جائے۔
عوام کو چاہیے کہ:
ووٹ بھی سوچ سمجھ کر دیں، سوال بھی کریں، حساب بھی مانگیں اور اپنے آئینی و جمہوری حقوق کے لیے پُرامن آواز بھی بلند کریں۔
اختتامی پیغام
یہ ملک کسی ایک سیاسی جماعت، خاندان یا طبقے کی ملکیت نہیں؛ یہ کروڑوں پاکستانیوں کا ملک ہے۔
عوام ٹیکس دیتی ہے، محنت کرتی ہے، کاروبار چلاتی ہے، ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہے اور ہر مشکل وقت میں قربانی دیتی ہے۔ اس لیے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں سے پوچھے:
ہماری قربانیوں کے بدلے ہمیں کیا ملا؟
اب وقت صرف وعدوں کا نہیں، کارکردگی کا ہے۔
اب وقت صرف دعووں کا نہیں، جوابدہی کا ہے۔
اور اب وقت صرف خاموشی کا نہیں، بلکہ پُرامن، آئینی اور جمہوری انداز میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا ہے۔
کیونکہ ایک مضبوط پاکستان وہی ہوگا جہاں
حکمران عوام سے خوفزدہ نہیں بلکہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوں،
ادارے طاقتور افراد کے نہیں بلکہ قانون کے تابع ہوں،
اور ریاست کے وسائل چند لوگوں کی آسائش نہیں بلکہ پوری قوم کی فلاح کے لیے استعمال ہوں
تحریر:زاہد اقبال

شاہین پبلک اسکول بیربٹ میں یومِ آزادی کی شاندار تقریب — تعلیم، تربیت، کامیابی اور قومی جذبے کا حسین امتزاجشاہین پبلک اسک...
16/08/2026

شاہین پبلک اسکول بیربٹ میں یومِ آزادی کی شاندار تقریب — تعلیم، تربیت، کامیابی اور قومی جذبے کا حسین امتزاج

شاہین پبلک اسکول بیربٹ میں 14 اگست، یومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر ایک شاندار، باوقار اور رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات، والدین، اساتذہ اور ادارے کی انتظامیہ نے بھرپور شرکت کی۔ یہ تقریب نہ صرف وطنِ عزیز سے محبت اور قومی جذبے کا اظہار تھی بلکہ اس موقع پر طلبہ کی تعلیمی و ہم نصابی کامیابیوں کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

تقریب کے دوران کلاس نہم کے طلبہ و طالبات کی شاندار تعلیمی کامیابی پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ ادارے میں منعقدہ فرسٹ ٹرم امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں انعامات اور اعزازات بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر بچوں کی حوصلہ افزائی نے تقریب کی رونق کو مزید بڑھا دیا۔

شاہین پبلک اسکول کی یہ خوبصورت روایت رہی ہے کہ ہر سال 14 اگست کو قومی جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس سال بھی والدین کی ایک کثیر تعداد نے تقریب میں شرکت کرکے اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔ طلبہ و طالبات نے تقاریر، ملی نغموں، ٹیبلو، خاکوں اور دیگر رنگا رنگ آئٹمز کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔

تقریب کو اس وقت مزید چار چاند لگ گئے جب فوجی جوانوں کے ایک دستے نے اسٹیج پر شاندار انداز میں اپنی پرفارمنس پیش کی۔ اس خوبصورت پیشکش کی نگرانی شاہین پبلک اسکول کے قابل اور محنتی استاد سر زبیر صاحب نے کی۔ ان بچوں کی شاندار پیشکش نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا اور پورا مجمع وطنِ عزیز کے بہادر جوانوں سے محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے کھڑے ہو کر بچوں کی حوصلہ افزائی پر مجبور ہوگیا۔ انتظامیہ کی جانب سے سر زبیر صاحب کی محنت، تربیت اور بہترین کارکردگی کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا۔

اسی طرح معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرنے والا ایک بہترین خاکہ/ڈرامہ بھی پیش کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ ان تمام سرگرمیوں نے ثابت کیا کہ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی، اعتماد، تخلیقی صلاحیت، نظم و ضبط اور معاشرتی شعور کی تعمیر بھی تعلیم کا لازمی حصہ ہے۔

کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں، پوری ٹیم کی ہوتی ہے

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی ادارے کی کامیابی اور ترقی کا کریڈٹ کسی ایک فرد کو نہیں دیا جا سکتا۔ ایک کامیاب ادارہ دراصل اساتذہ، طلبہ، والدین اور انتظامیہ کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

شاہین پبلک اسکول کی موجودہ کامیابی بھی اسی اجتماعی کوشش کا ثمر ہے۔ ادارے کے تمام اساتذہ اپنی بہترین صلاحیتوں، محنت، نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ والدین بھی ہر موقع پر ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔

شاہین پبلک اسکول کی روایت ہے کہ سال میں دو بڑے اور نمایاں پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں والدین کی بھرپور شرکت اور تعاون شامل ہوتا ہے۔ یہی باہمی اعتماد کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل طاقت ہوتا ہے۔

تعلیم کے ساتھ بچوں کی ہمہ جہت تربیت

شاہین پبلک اسکول صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ اس علاقے کے بچوں کی تعلیم، تربیت، حوصلہ افزائی اور شخصیت سازی کے لیے مسلسل کوشاں ایک ادارہ ہے۔ کھیل کا میدان ہو، بزمِ ادب ہو، یومِ آزادی کی تقریب ہو یا دیگر ہم نصابی سرگرمیاں، شاہین پبلک اسکول بچوں کے والدین کے ساتھ مل کر ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں پیش پیش رہتا ہے۔

یہی نمایاں خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے شاہین پبلک اسکول کے پروگراموں کو ضلع مانسہرہ کے تعلیمی حلقوں میں بھی خصوصی توجہ حاصل ہوتی ہے۔

کلاس نہم کا شاندار آغاز اور قابلِ فخر رزلٹ

شاہین پبلک اسکول بیربٹ کی انتظامیہ نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ علاقے میں بچوں کے لیے میٹرک سطح تک معیاری تعلیم کے مناسب مواقع موجود نہیں، جبکہ دور دراز علاقوں میں واقع اداروں تک ہر والدین کے لیے اپنے بچوں کو بھیجنا آسان نہیں۔

اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے نے کلاس نہم اور دہم کی تعلیم کا باقاعدہ آغاز کیا۔

الحمدللہ، سال 2026 میں شاہین پبلک اسکول کی ایک ہونہار طالبہ نے 600 میں سے 524 نمبر حاصل کرکے پہلے ہی سال ادارے کے لیے قابلِ فخر کامیابی حاصل کی۔ مزید یہ کہ کیمسٹری کے ایک پرچے میں 100 فیصد نمبر حاصل کرکے اس طالبہ نے اپنی قابلیت کا شاندار ثبوت دیا۔

یہ کامیابی صرف ایک طالبہ کی کامیابی نہیں بلکہ اساتذہ کی محنت، والدین کے اعتماد، طالبہ کی لگن اور ادارے کے تعلیمی نظام کی مشترکہ کامیابی ہے۔

کلاس نہم کی قابلِ فخر ٹیم

شاہین پبلک اسکول کی کلاس نہم میں ایک قابل اور تجربہ کار ٹیم طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں مصروفِ عمل ہے، جس میں:

سر محمد زاہد اقبال — انگلش

سر عمیر صاحب — بائیولوجی

سر ریاض صاحب — فزکس و میتھمیٹکس

سر امتیاز صاحب — اردو

قاری اختر زیب صاحب — اسلامیات

سر زبیر صاحب — بی ایس، پاکستان اسٹڈیز

سر عبداللہ صاحب — تدریسی خدمات

جبکہ فیمیل اسٹاف میں:

مس علیشبہ — بی ایس، بائیولوجی و کیمسٹری

مس نازمہ — بی ایس

مس شوبانہ — ایم اے

مس رافیہ — بی اے

مس شکیلہ — بی اے

مس مصباح — بی اے

مس رمشہ — تدریسی خدمات

شامل ہیں۔

ادارے کی سرپرستی اور انتظامی نظام میں جناب ڈاکٹر ظریف خان صاحب، جناب صداقت شاہ صاحب، جناب امجد خان صاحب (منیجنگ ڈائریکٹر) اور جناب صدیق جمال صاحب کی خدمات بھی قابلِ تحسین ہیں۔

یہ دراصل ایک مکمل ٹیم ہے، اور اس ٹیم کا بنیادی مقصد صرف ایک ہے: اس علاقے کے بچوں کو معیاری، باکردار اور قابلِ رسائی تعلیم فراہم کرنا۔

مناسب فیس، معیاری تعلیم

شاہین پبلک اسکول کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ معیاری تعلیم صرف صاحبِ استطاعت خاندانوں تک محدود نہ رہے بلکہ ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔

اسی سوچ کے تحت ادارے میں نرسری سے کلاس نہم تک معیاری تعلیم اور بہترین تدریسی عملے کے ساتھ خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ فیس کو بھی حتی الامکان مناسب رکھا گیا ہے تاکہ علاقے کے زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔

ایک پسماندہ علاقے کے لیے تعلیمی مشن

شاہین پبلک اسکول ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں بہت سے والدین کے لیے اپنے بچوں کو دور دراز علاقوں، اُوگی بازار یا مانسہرہ تک تعلیم کے لیے بھیجنا معاشی اور جغرافیائی طور پر مشکل ہے۔

اسی لیے ہماری اعلیٰ حکام سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے کہ یونین کونسل بانڈی شنگلی جیسے وسیع علاقے میں بچوں اور بچیوں کے لیے ہائی اسکول کی سطح پر مزید سرکاری تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں، تاکہ کسی بھی بچے کو محض فاصلے یا وسائل کی کمی کی وجہ سے معیاری تعلیم سے محروم نہ ہونا پڑے۔

یہ یونین کونسل ایک وسیع اور دشوار گزار جغرافیائی خطے پر مشتمل ہے، جہاں دور دراز علاقوں اور پہاڑی آبادیوں میں رہنے والے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی مزید ضرورت ہے۔

شاہین پبلک اسکول فی الحال بیربٹ، کوٹلہ اور گردونواح کے بچوں کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے، لیکن ہمارا خواب اس سے کہیں بڑا ہے:

علاقے کا ہر بچہ پڑھے، معیاری تعلیم حاصل کرے، اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور پاکستان کا ایک ذمہ دار، باکردار اور باصلاحیت شہری بنے۔

ہمارا عزم

شاہین پبلک اسکول کے لیے تعلیم صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، مشن اور قومی خدمت ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ آج کے بچے ہی کل کے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان، فوجی، افسر، کاروباری شخصیت اور پاکستان کے ذمہ دار شہری بنیں گے۔ اس لیے ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت، کردار سازی، اعتماد، نظم و ضبط اور حب الوطنی پر بھی خصوصی توجہ دینا ہماری بنیادی ترجیح ہے۔

شاہین پبلک اسکول بیربٹ — تعلیم بھی، تربیت بھی، کردار بھی۔

ہم اپنے تمام معزز والدین، قابلِ احترام اساتذہ، ہونہار طلبہ و طالبات اور ادارے سے وابستہ تمام افراد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جن کے تعاون، محنت اور اعتماد سے یہ خوبصورت سفر جاری ہے۔

تحریر پرنسپل شاہین پبلک سکول بیربٹ زاہد اقبال

پاکستان زندہ باد

16/08/2026

شاہین کی ننھی پری ہانیہ کلاس پریپ کی طلبا کا پر اعتماد انداز میں وطن عزیز سے عقیدت

15/08/2026

View the full image in ChatGPT.

Address

Oghi Mansehra
Mansehra
21400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awam Ki Awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share