30/10/2025
باچا خان کا فلسفہ انسانیت، عدمِ تشدد اور تعلیم پر مبنی تھا۔ ان کا اصل نام عبدالغفار خان تھا، لیکن انہیں محبت سے باچا خان یا سرحدی گاندھی کہا جاتا ہے۔ وہ پختون قوم کے عظیم رہنما، مصلح، اور امن کے داعی تھے۔ ان کے فلسفے کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں 👇
🌿 1. عدمِ تشدد (امن اور محبت)
باچا خان کا بنیادی فلسفہ عدمِ تشدد تھا۔
وہ کہتے تھے:
> "ہم پختون اپنی آزادی اور حق کے لیے لڑیں گے، مگر بغیر ہتھیار کے۔"
ان کا یقین تھا کہ اصل بہادری دشمن کو مارنے میں نہیں بلکہ خود کو قابو میں رکھنے میں ہے۔
📚 2. تعلیم کی اہمیت
باچا خان نے تعلیم کو قوم کی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے ازاد مدارس (خدائی خدمتگار اسکول) قائم کیے تاکہ پختون بچوں کو علم دیا جا سکے۔
وہ فرماتے تھے:
> "قومیں تعلیم سے بنتی ہیں، جہالت سے نہیں۔"
🤝 3. خدمتِ خلق
باچا خان نے خدائی خدمتگار تحریک شروع کی جس کا مقصد انسانیت کی خدمت، اتحاد، اور اخلاقی تربیت تھا۔
ان کے پیروکار سرخ کپڑے پہنتے تھے اور امن، صفائی، اور قربانی کا پیغام دیتے تھے۔
🕊️ 4. اتحاد اور قومی شعور
انہوں نے پختونوں کو قبیلوں میں بٹنے کے بجائے ایک قوم بننے کا درس دیا۔
وہ کہتے تھے:
> "پختون اگر متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں غلام نہیں رکھ سکتی۔"
💬 5. مذہب اور انسانیت
باچا خان مذہب کو انسانیت اور اخلاق کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
ان کے نزدیک اسلام کا اصل پیغام محبت، امن، اور برابری تھا۔
چند مشہور اقوالِ باچا خان:
> "میں پختونوں کو تعلیم، اتحاد، اور امن کا پیغام دیتا ہوں۔"
"جہالت سب سے بڑی دشمن ہے۔"
"انسان اگر انسان کو نقصان پہنچائے تو وہ انسان نہیں۔"