14/06/2017
واقعہ:۔
خال(راحیل اختر )حضرت عمر رضی اللہ عین کا زمانہ ہے جب یروشلم فتح ہوا۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دعوت دیتے ہے کہ آپ مدینہ سے چلےاور یروشلم میں پہنچے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ سے چلتے ہے کتنا بڑا قافلہ لے کرکے کتنا پروٹوکول ہےحضرت عمر رضی اللہ عنہ اکیلے اور ایک غلام اور اونٹ بھی ایک باری باری سوار ہوتے ہےکبھی عمر رضی اللہ عنہ اور کبھی غلام سوار ہوتے ہے۔
حکمران تو بہت ہیں آج کے حکمرانوں نے تمھیں رمضان المبارک کے اندر لوڈشیڈنگ کا پیکیج دیا ہےاور آج بچے بھی تڑپ تڑپ رہا ہےاور جوان بھی سسک رہے ہے اور ماہ ثیام جن اذیتوں کو قوم کو منڈلاتے ہوئے وہ کسی سے مخفی نہیں اور تو میں عمر رضی اللہ عنہ کی کہانی سناو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ دن کو تخت حکومت پر بیٹھتے تھےاور ان کا تخت سونے زبرجت کا نہیں تھامسجد نبوی کی چٹھائی تھی اور سارے دن وہاں بیٹھ کے لوگوں کی باتےسنتےاور جب رات کے اندھیرا گہرے ہوتےعمر رضی اللہ عنہ دیش بدل کے مدینے کے گلیوں کا گشت کرتے تھے ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آواز آئی عمر رضی اللہ پوچھتا ہے کہا تمہارا گھر سے دھواں نکلتے ہے اور بچے روتے ہے تم ان کو کھانا کیوں نہیں دیتے کہنے لگی عمر رضی اللہ عنہ کی جان کو رورہی ہوں عمر رضی اللہ کے تلے سے زمین نکل گئی کہا کیا ہوا کہاں تین دن سےہمارے یہاں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے روزانہ بچے روتے ہے اور میں ہڈیاں کے اندر پتھر ڈال کرکے نیچے سے آگ ڈالتی رہتی ہوں کہ بچے انتظار کرکے شو جائےکمبخت سو بھی نہ رے اور پتھر پکے گی بھی کیا اور میں عمر رضی اللہ عنہ کی جان کو رورہی ہوں حضرت عمر رضی اللہ کا کلیجہ ڈہلنے لگا جلدی پلٹے واپس بیت المال میں آئے گھی کا ایک کنستر لیا آٹا کی بوری لی مرچ مصالا جات بہت کچھ اٹھایا اپنے کندھے پر رکھا بوری اپنے کمر پے رکھ دی عمر رضی اللہ عنہ جب بیت المال سے نکلےتوآپ رضی اللہ عنہ کے خادم اسلم ان کے سامنے بڑھا کہاں میرے آقا میں اٹھاتا ہوں عمر رضی اللہ عنہ کے آنکھوں میں انڈوں آگئے کہاں اسلم قیامت کے دن میرے بھوج اٹھائیں گے کہاں قیامت کے دن تو اپنا اپنا بھوج اٹھانا پڑے گا کہاں ادھر تو نہیں اٹھالوں گا۔
حضرت عمر رضی اللہ گھی کے کنستر اور آٹے کی بوری سر پے اٹھاتے ہے اور اس خاتون کے گھر جاتے ہےاور دروازے پے دستک دیتے ہے وہ جب دیکھ لیا اس کی جان میں جان آجاتی ہےجہاں کہاں جلدی آٹا گھوندواور عمر رضی اللہ عنہ سبزی کاٹنے لگ جاتے ہےحضرت عمر رضی اللہ عنہ سبزی تیار کرلیتے ہےاور وہاں آٹا گھوند جاتا ہےاور پھر اوپر چھولا رکھا جاتا ہے چھولےکے اندر آگ لگ جاتی ہےاور کھانا پکھانا شروع ہوجاتے ہےآگ بجھتی ہے تاریخ نے لکھا ہے آگ بجنھے لگتی ہے عمر رضی اللہ عنہ جھونک کرکے پونک مارتے ہے کھانا پک گیا اور بچوں کے سامنے کھانا رکھ دیا بچے کھا رہے ہے اب بچے رو رو کے نڈھال ہوچکے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں کو اور اپنے گھٹنوں کو اور پاوں کو زمین پے لگاکے جس طرح بکری کا بچہ چلتاہے ویڑے کے اندر کبھی ادھر کبھی ادھر چلتے ہے تاکہ بچے مجھے دیکھ کے خوش ہوں اور دل میں کہتے عمر جتنے رولایاہے اب اتنا ہنسانا بھی پڑے گا یہ جو میں آج کے جو لوگوں کے ووٹوں پر منتخب ہونے والے حکمرانوں کی کہانی نہیں سنا رہا ہوں میں اس عمر رضی اللہ کی کہانی سنا رہا ہوں جو 23 لاکھ مربع میل کے حکمران ہے آدھی دنیا کا بادشاہ ہے جس طرح بکری کا بچہ چلتا ہے اس طرح عمر رضی اللہ عنہ چلتے ہےبچے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کے مسکراتے ہےجب بچے مسکرانے لگےتو حضرت عمر رضی اللہ نے اس خاتون سے کہاں بڑھیا عمر کو معاف کردے اس نے کہاں تو اتنی ہمدردی کیوں کرتاہے کہاں عمر رضی اللہ عنہ بہت پساں ہوا ہے۔فکر ہے یرموک کا فتح ہونا اور مصر کی تو تیاری ہے ایران کے آتے جاتے وفد کے ملاقات بھی کرنا ہوگااور شب کو حالات بھی معلوم کرنا ہو گا۔کانٹوں میں الجیریا ہوئی بے چینی بے چارے کی جان ہے نیند اس کو بھی آتے ہے آخر وہ انسان ہے میری بہن عمر کو معاف کردے اس نے نا نا عمر کی بات میرے سامنے نہ کرقیامت کا دن ہو گا عمر کی گریبان اور میری ہاتھ ہوگاجب اس نے یہ بات کہہ دی تو عمر رضی اللہ عنہ برداشت نہ کرسکے بچوں کی طرح پلٹ پلٹ کر رونے لگےوہ بد نصیب عمر تیرے سامنے ہے آج کہنا جو کہنا ہے قیامت کے دن مجھے معاف کرنااس نے کہا تو عمر رضی اللہ عنہ ہے کہا بد نصیب عمر تیرے سامنے کھڑا ہوں ۔
میرے عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہے اگر دجلا کے کنارےایک کتا بھی پیاسا مر گیااس کا حساب بھی عمر رضی اللہ عنہ سے لیا جائے۔
میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کہانی سنا رہا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نکلے یروشلم ایک اونٹ ہے ایک غلام ہے کبھی عمر رضی اللہ عنہ سوار ہوتےکبھی غلام باری مقرر کی ہےجب یروشلم قریب پہنچے تو عمر رضی اللہ عنہ کی باری نکیل پکڑنے کیاور غلام کی باری اونٹ پر سوار ہونے کی آئی غلام نے کہا آقا میری مرضی ہے اپنی باری چھوڑتاں ہوں آپ آجائے دشمنوں کے مجروح علاقے میں آرہے ہےتازہ تازہ علاقہ فتح ہوا ہے اسلام کی شان و شوکت ظاہر ہے عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اسلام کی شان و شوکت ایسے ظاہر نہیں ہوتے ہےآگ کی اپنی باری ہے تم خاماخا بیٹھیں گے لوگ منتظر کھڑے ہےدور سے جب دیکھا تو کہااس کے حیبت سے کانپتےتھے ہم یہ تو حبشی لگتا ہے رنگ کالا ہے ہونٹ موٹے ہےاس سے تو زیادہ حسین اس کے غلام ہے جو آگے آگے چل رہا ہےحضرت ابو عبیدہ نے کیا دھوکہ کھارہےہوں ہمارا آقا وہ نہیں ہے جو اونٹ پر سوار ہےہمارے آقا وہ ہےجو لگامتھامے آگے آگےچلتے رہا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر جابیہ کے مقام پہنچے حضرت ابو عبیدہ نے استقبال کیاتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھےاور حضرت ابو عبیدہ کےدونوں کندھوں پر ہاتھ رکھااور سنو حضرت عمر رضی اللہ نے کیا کہا اے ابو عبیدہ بن جراح ہم ایک ذلیل قوم تھےاور اللہ نے ہمیں اسلام کی وجہ سے عزت عطا کی ہےاور میں تمہیں ایک تاریخ ساز بات کہتا ہوں اور وہ یہ ہےکہ جب تک ہم اس عزت والی اسلام کے دامن کو تھامی رہیں گےہماری عزت قایم رہے گیا اور جب اسلام کی علاوہ کسی اور جگہ سے عزت ڈھونڈیں گے تو رسوا ہو جائیں گے۔
لیکوال:اختر بادشاہ یوسفزئی