Tariq Khan Yousafzai

Tariq Khan Yousafzai بین الاقوامی ، ملکی ،علاقائی اور مقامی خبروں کے لئے ہمارا نیوزپیج لائیک کریں۔اور دوستوں کے ساتھ شیر کریں۔

تحریر: طارق خان یوسفزئی سانحہ ٹکر28مئ 1930برصغیر کی آزادی کی تحریک میں صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے عوام نے بے مث...
28/05/2026

تحریر: طارق خان یوسفزئی
سانحہ ٹکر28مئ 1930
برصغیر کی آزادی کی تحریک میں صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے عوام نے بے مثال قربانیاں دیں۔ ان قربانیوں میں 28 مئی 1930 کا سانحۂ ٹکر ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک مقامی حادثہ نہیں تھا بلکہ برطانوی سامراج کے خلاف پشتون عوام کی سیاسی بیداری، مزاحمت اور قربانی کی علامت تھا۔ اس دن خدائی خدمتگار تحریک کے کارکنوں نے آزادی، حقِ خود ارادیت اور قومی وقار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔1930 میں خدائی خدمتگار تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اس تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا تھے۔ یہ تحریک عدم تشدد، سماجی اصلاحات، تعلیم اور برطانوی استعمار کے خلاف سیاسی جدوجہد پر مبنی تھی۔ تحریک کا مقصد پشتون معاشرے میں اتحاد، شعور اور آزادی کی روح پیدا کرنا تھا۔ٹکر، ضلع مردان کا ایک تاریخی گاؤں، اس تحریک کا مضبوط مرکز بن چکا تھا۔ یہاں کے عوام آزادی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ باچا خان نے انگریز حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کارکنوں کو رضا کارانہ گرفتاریاں دینے کی ہدایت کی تاکہ برطانوی ظلم دنیا کے سامنے بے نقاب ہو سکے۔اس سلسلے میں ٹکر کے معروف خدائی خدمتگار رہنماؤں، جن میں ملک معصم خان، ملک خان بادشاہ اور سالار شمروز خان شامل تھے، نے گرفتاریاں دینے کا فیصلہ کیا۔
26 مئی 1930 کو انگریز افسر اے ایس پی مسٹر مورپی انہیں گرفتار کرنے کے لیے ٹکر پہنچا۔ اس موقع پر خدائی خدمتگاروں اور مورپی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، تاہم کارکنوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اگلے دن خود گرفتاری پیش کریں گے۔27 مئی کو یہ کارکن جلوس کی صورت میں مردان روانہ ہوئے۔ گجر گھڑی کے مقام پر ہزاروں لوگ ان کے استقبال اور حمایت کے لیے جمع تھے۔ مورپی نے جلوس کا راستہ روک کر طاقت کا استعمال شروع کیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر مظاہرین پر حملہ کیا۔ اسی دوران سلطان پہلوان نامی ایک خدائی خدمتگار نے مورپی پر گولی چلائی جس سے وہ زخمی ہو کر گر پڑا۔ روایت کے مطابق سواتی ابئی نامی ایک خاتون نے پانی سے بھرا مٹکا اس کے سر پر دے مارا، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔مورپی کی ہلاکت کے بعد برطانوی حکومت مشتعل ہوگئی۔ 28 مئی کی رات انگریزی فوج نے ٹکر گاؤں کا محاصرہ کر لیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس وحشیانہ کارروائی میں تقریباً ستر آزادی پسند شہید جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔یہ واقعہ برطانوی سامراج کی سفاکیت اور ظلم کی واضح مثال تھا۔ نہتے عوام پر رات کی تاریکی میں حملہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انگریز حکومت عوامی بیداری سے خوفزدہ ہو چکی تھی۔سانحۂ ٹکر اس بات کا ثبوت ہے کہ پشتون عوام میں سیاسی شعور بیدار ہو چکا تھا۔ خدائی خدمتگار تحریک نے لوگوں کو غلامی کے خلاف متحد کیا اور انہیں آزادی کے لیے قربانی دینے پر آمادہ کیا۔اگرچہ خدائی خدمتگار تحریک بنیادی طور پر عدم تشدد پر یقین رکھتی تھی، لیکن برطانوی ظلم و جبر نے حالات کو شدید کشیدگی کی طرف دھکیل دیا۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ جب ریاستی طاقت حد سے بڑھ جائے تو عوامی ردعمل شدت اختیار کر سکتا ہے۔سواتی ابئی کا کردار اس جدوجہد میں خواتین کی شمولیت کی علامت ہے۔ آزادی کی تحریک صرف مردوں تک محدود نہیں تھی بلکہ خواتین نے بھی بہادری اور قربانی کی مثالیں قائم کیں۔یومِ شہدائے ٹکر پشتون قوم کی آزادی پسند تاریخ کا اہم باب ہے۔ یہ دن قربانی، مزاحمت اور قومی غیرت کی یاد دلاتا ہے۔ ہر سال 28 مئی کو شہداء کی یاد میں اجتماعات اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ نئی نسل کو اپنے اسلاف کی قربانیوں سے آگاہ رکھا جا سکے۔سانحۂ ٹکر برصغیر کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم اور دردناک واقعہ ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف برطانوی ظلم کو بے نقاب کیا بلکہ پشتون عوام کی آزادی سے محبت، قربانی اور اتحاد کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا۔ خدائی خدمتگاروں کی قربانیاں آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان شہداء نے اپنے خون سے آزادی، امن اور قومی وقار کی تاریخ رقم کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں اور نئی نسل تک ان کی جدوجہد کا پیغام پہنچائیں۔ہم یومِ شہدائے ٹکر کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ مبارک۔۔۔!!عیدالاضحیٰ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایثار، قربانی، محبت، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا عظی...
27/05/2026

عیدالاضحیٰ مبارک۔۔۔!!
عیدالاضحیٰ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایثار، قربانی، محبت، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا عظیم پیغام ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال اطاعت، صبر اور قربانی کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے رہتی دنیا تک ایمان و وفا کی روشن مثال قائم کی۔اس بابرکت موقع پر دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری تمام عبادات، قربانیاں، دعائیں اور نیک اعمال اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ اللہ پاک آپ کے گھر کو ہمیشہ خوشیوں، محبتوں، سکون، رحمتوں اور بے شمار برکتوں سے آباد رکھے۔ آپ کی زندگی سے ہر پریشانی، دکھ اور آزمائش کو دور فرمائے اور آپ کو صحت، کامیابی، عزت اور آسانیوں سے نوازے۔یہ مقدس دن ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنے، رشتوں میں محبت بڑھانے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور انسانیت کے لیے خیر بانٹنے کا درس دیتا ہے۔ آئیے اس عید پر ہم اپنے دلوں کو نفرت، حسد اور اختلافات سے پاک کر کے محبت، درگزر اور بھائی چارے کو فروغ دیں تاکہ ہمارا معاشرہ امن، اتحاد اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکے۔
اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے، آپ کی ہر جائز دعا قبول فرمائے اور آپ کی زندگی کو ایمان، خوشیوں اور کامیابیوں سے بھر دے عیدالاضحیٰ آپ سب کے لیے امن، محبت، رحمت اور خوشیوں کا پیغام لے کر آئے۔

آمین ثم آمین۔

ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر ناصر الدین کے ساتھ ایک نشست ۔۔۔۔خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں اساتذہ اس وقت متعدد معاشی، انتظامی ...
26/05/2026

ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر ناصر الدین کے ساتھ ایک نشست ۔۔۔۔
خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں اساتذہ اس وقت متعدد معاشی، انتظامی اور پیشہ ورانہ مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالیہ پروگرام میں ڈاکٹر ناصر الدین نے ریڈیو وطن تخت بھائی کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے اساتذہ کو درپیش مسائل اور مطالبات تفصیل سے بیان کیے۔ ان کے مطابق سرکاری اساتذہ برادری شدید معاشی اور انتظامی دباؤ کا شکار ہے جس کے اثرات تعلیمی نظام پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔اساتذہ کسی بھی قوم کے معمار ہوتے ہیں کیونکہ وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے ذریعے ملک کے مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ ہمیشہ اپنے اساتذہ کو عزت، مقام اور بہترین سہولیات فراہم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اساتذہ کو وہ مقام اور احترام نہیں دیا جا رہا جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔
اساتذہ کو معاشی مشکلات، کم تنخواہوں، ترقی میں تاخیر اور دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک استاد اس وقت اپنے فرائض منصبی بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے جب وہ ذہنی سکون اور معاشی آسودگی حاصل کرے۔ اگر استاد پریشانیوں میں گھرا رہے تو اس کی تدریسی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے، جس کا براہ راست اثر طلبہ کی تعلیم پر پڑتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اساتذہ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے، ان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرے اور انہیں وہ عزت و مقام دے جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ مضبوط تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور کم تنخواہوں کا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اس تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ موجودہ تنخواہیں گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہو چکی ہیں، اسی لیے وہ تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ معاشی دباؤ کے باعث اساتذہ ذہنی پریشانی اور بے چینی کا شکار ہو رہے ہیں جس سے تدریسی کارکردگی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ڈاکٹر ناصر الدین نے پنشن کے نظام میں تبدیلی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرانا پنشن سسٹم سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم سہارا تھا، مگر نئے نظام سے ریٹائرمنٹ کے بعد مالی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2010 اور 2015 کے ایڈہاک ریلیف کو دوبارہ پنشن میں شامل کیا جائے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے لیے اپ گریڈیشن اور ترقی کا مسئلہ بھی انتہائی اہم نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ کئی اساتذہ برسوں سے ایک ہی گریڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں بروقت ترقی نہیں مل رہی جس سے ان میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام کیڈرز کے لیے فوری اپ گریڈیشن اور ترقی ناگزیر ہے۔ریڈیو پروگرام کے دوران انہوں نے تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ کے فیصلے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے نہ صرف ملازمین کا مستقبل غیر محفوظ ہوگا بلکہ غریب طبقے کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ڈاکٹر ناصر الدین نے مزید کہا کہ ایم فل کی ڈگری کو ایم ایس کے برابر تسلیم کیا جائے، تمام الاؤنسز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے اور اساتذہ کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق دیگر محکموں کے ملازمین کو مختلف مراعات حاصل ہیں جبکہ اساتذہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس لیے ملازمین میں طبقاتی فرق ختم کر کے اساتذہ کو بھی مساوی سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے قاری ہوسٹ اساتذہ کو سکیل 16 دینے کا مطالبہ بھی دہرایا اور کہا کہ ان کے ساتھ طویل عرصے سے ناانصافی کی جا رہی ہے۔

تحریر: طارق خان یوسفزئی ایمل ولی خان نے حورین کیس میں انسان دوستی، جرات اور حقیقی قیادت کی مثال قائم کی پشاور سے اغواء ہ...
23/05/2026

تحریر: طارق خان یوسفزئی

ایمل ولی خان نے حورین کیس میں انسان دوستی، جرات اور حقیقی قیادت کی مثال قائم کی
پشاور سے اغواء ہونے والی معصوم بچی “حورین” کی بازیابی کا واقعہ صرف ایک خاندان کی خوشی کا سبب نہیں بنا بلکہ اس نے پورے معاشرے کو یہ احساس دلایا کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انسانیت، انصاف اور عوامی خدمت کو سیاست سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ اس پورے واقعے میں اگر کسی شخصیت نے سب سے زیادہ عوامی توجہ حاصل کی تو وہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ایمل ولی خان تھے، جنہوں نے اس حساس معاملے پر فوری، مؤثر اور بھرپور آواز بلند کی۔حورین کے اغواء نے پورے خیبرپختونخوا خصوصاً پشتون قوم کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ والدین کی بے بسی اور ایک معصوم بچی کی سلامتی کے خدشات ہر انسان کے دل کو تکلیف دے رہے تھے۔ ایسے وقت میں ایمل ولی خان نے نہ صرف اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا بلکہ مسلسل اس کیس کو اجاگر کرتے رہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی معصوم بچے کی حفاظت صرف خاندان کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ایمل ولی خان کی قیادت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے بغیر کسی حکومتی اختیار یا سرکاری منصب کے عوامی طاقت اور اجتماعی شعور کو متحرک کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا، عوامی بیانات اور مسلسل رابطوں کے ذریعے اس کیس کو زندہ رکھا، جس کے نتیجے میں متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھا اور بچی کی بازیابی ممکن ہوئی۔ ان کا یہ کردار اس بات کا ثبوت بنا کہ حقیقی قیادت صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ مشکل وقت میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔اس پورے واقعے میں عوام نے یہ بھی محسوس کیا کہ ایمل ولی خان نے سیاست سے بڑھ کر انسانیت کو ترجیح دی۔ انہوں نے نہ کوئی سیاسی فائدہ تلاش کیا اور نہ ہی اسے ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنایا، بلکہ ایک مجبور خاندان کی امید بن کر سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں ان کے بارے میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جو مظلوم، کمزور اور لاچار عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔حورین کیس نے یہ بھی ثابت کیا کہ اگر قیادت مخلص ہو تو عوام خود بخود متحد ہوجاتے ہیں۔ ہزاروں افراد نے سوشل میڈیا پر آواز بلند کی، دعائیں کیں اور بچی کی بازیابی کیلئے مہم چلائی۔ اس اجتماعی شعور کو منظم رکھنے اور اس کی سمت متعین کرنے میں ایمل ولی خان کا کردار نمایاں رہا۔ ان کی آواز نے نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا کہ خاموش رہنے کے بجائے ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا ہی حقیقی انسانیت ہے۔
سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس واقعے کے بعد یہ بحث بھی زور پکڑ گئی کہ پشتون قوم کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو صرف نعروں تک محدود نہ ہوں بلکہ عملی طور پر عوام کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ایمل ولی خان نے حورین کیس میں جس جرات، حساسیت اور عوامی ہمدردی کا مظاہرہ کیا، اس نے انہیں ایک بااعتماد، بہادر اور عوام دوست رہنما کے طور پر مزید مضبوط مقام دیا ہے۔حورین کی بازیابی ایک خوش آئند پیش رفت ضرور ہے، مگر اس واقعے نے معاشرے کو یہ سبق بھی دیا کہ بچوں کے تحفظ کیلئے اجتماعی بیداری ناگزیر ہے۔ اس پورے واقعے میں ایمل ولی خان کا کردار اس بات کی مثال بن گیا کہ جب قیادت مخلص ہو، آواز سچی ہو اور مقصد انسانیت ہو تو عوام بھی متحد ہوتے ہیں اور انصاف کی امید بھی زندہ رہتی ہے۔

از قلم :طارق خان یوسفزئی ۔۔۔3 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیِ صحافت منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی یادگار نہیں...
03/05/2026

از قلم :طارق خان یوسفزئی ۔۔۔
3 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیِ صحافت منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی یادگار نہیں بلکہ صحافت کی اصل روح، اس کی ذمہ داریوں اور اس پر آنے والے دباؤ کو سمجھنے کا ایک اہم موقع ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں صحافت کو چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ستون واقعی اتنا مضبوط ہے جتنا ہونا چاہیے؟ اور کیا صحافی آج بھی اسی آزادی کے ساتھ سچ لکھ سکتا ہے جس کا تصور اس دن کے پس منظر میں دیا گیا تھا؟۔آزادیِ صحافت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ صحافی بغیر کسی خوف، دباؤ یا لالچ کے سچ عوام تک پہنچا سکے۔ مگر عملی طور پر یہ تصور کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ کہیں سیاسی دباؤ ہے، کہیں معاشی مشکلات، کہیں ادارہ جاتی حدود اور کہیں خود احتسابی کے نام پر ایسی رکاوٹیں جن سے صحافی کی آواز متاثر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں صحافت ایک مسلسل امتحان بن جاتی ہے۔میری اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے تجربات نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ صحافت صرف خبروں کو الفاظ میں ڈھالنے کا عمل نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ ہر خبر اپنے اندر ایک اثر رکھتی ہے۔ ایک غلط لفظ کسی کی عزت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایک درست خبر معاشرے میں شعور پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت میں غیر جانبداری، تحقیق اور دیانت داری بنیادی ستون ہیں جن کے بغیر یہ پیشہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔آج کے ڈیجیٹل دور نے صحافت کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے خبر کی ترسیل کو تیز تر بنا دیا ہے، لیکن ساتھ ہی فیک نیوز، غیر مصدقہ معلومات اور سنسنی خیزی کو بھی فروغ دیا ہے۔ اب ہر شخص ایک رپورٹر بن چکا ہے، لیکن ہر رپورٹر صحافی نہیں ہوتا۔ صحافی کی پہچان اس کی تحقیق، اس کی تصدیق اور اس کی ذمہ داری سے ہوتی ہے نہ کہ صرف خبر پھیلانے کی رفتار سے۔عالمی یومِ آزادیِ صحافت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحافت صرف آزادی کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی ذمہ داریوں کا نام بھی ہے۔ آزادی اگر بغیر ذمہ داری کے ہو تو وہ انتشار میں بدل سکتی ہے۔ اسی طرح صحافت اگر اصولوں سے ہٹ جائے تو وہ عوام کی رہنمائی کے بجائے گمراہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
بدقسمتی سے دنیا کے کئی حصوں میں صحافی آج بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ کہیں ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، کہیں انہیں معاشی طور پر کمزور کیا جاتا ہے، اور کہیں انہیں سچ بولنے کی قیمت اپنی آزادی یا سلامتی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آزادیِ صحافت ابھی ایک مکمل حقیقت نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صحافت کو کئی اضافی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف عوام کی توقعات ہیں کہ انہیں فوری اور درست معلومات فراہم کی جائیں، تو دوسری طرف ادارہ جاتی اور معاشی دباؤ بھی موجود ہے۔ ایسے میں صحافی کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔میری نظر میں صحافت کا اصل مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔ ایک صحافی اگر اپنے قلم کو دیانت داری سے استعمال کرے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی قلم مفاد، دباؤ یا ذاتی فائدے کے لیے استعمال ہو تو وہی صحافت ایک خطرناک ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔
آج کے دور میں صحافی کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو محفوظ رکھے۔ ساکھ ایک بار خراب ہو جائے تو دوبارہ بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ہر خبر سے پہلے تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ صحافت میں جلد بازی اکثر غلطی کا سبب بنتی ہے، اور غلطی صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحافت کا میدان آج پہلے سے زیادہ مسابقتی ہو چکا ہے۔ ہر ادارہ چاہتا ہے کہ وہ سب سے پہلے خبر دے، لیکن اس دوڑ میں اکثر معیار قربان ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں صحافی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور جلد بازی کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔عالمی یومِ آزادیِ صحافت ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے اس آزادی کا صحیح استعمال کیا ہے؟ کیا ہم نے اس آزادی کو عوامی شعور کی بہتری کے لیے استعمال کیا ہے یا اسے محض سنسنی اور ریٹنگ کی دوڑ میں ضائع کر دیا ہے؟
اصل صحافت وہی ہے جو طاقت کے سامنے سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہو، جو کمزور کی آواز بنے اور جو معاشرے میں انصاف اور توازن قائم کرنے میں کردار ادا کرے۔ صحافت کا حسن اس کی سچائی میں ہے نہ کہ اس کی چمک دمک میں۔
بے شک آزادیِ صحافت ایک عظیم نعمت ہے، لیکن یہ نعمت صرف اسی وقت فائدہ مند ہے جب اسے ذمہ داری، دیانت اور اصولوں کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ صحافت اگر سچ کے ساتھ کھڑی ہو تو یہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، اور اگر یہ راستہ چھوڑ دے تو یہی طاقت معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔3 مئی کا دن ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ صحافی صرف خبر دینے والا نہیں بلکہ سچائی کا محافظ ہے، اور اس محافظ کی سب سے بڑی طاقت اس کا قلم اور اس کی سچائی ہے۔

کالو خان 16 ویں صدی میں افغان یوسف زئی قبیلہ کے لیڈر  اور فوجی رہنما تھے جنہوں نے 16 ویں صدی میں مغلوں کو  زبردست شکست د...
20/04/2026

کالو خان 16 ویں صدی میں افغان یوسف زئی قبیلہ کے لیڈر اور فوجی رہنما تھے جنہوں نے 16 ویں صدی میں مغلوں کو زبردست شکست دی. کالو خان یوسفزئی کا نام مغلوں کے خلاف مزاحمت میں بہت سے تاریخی نسخوں میں کیا گیا ہے. وہ ایک بہادر قبائلی کمانڈر ، ایک سفارت کار اور فوجی حکمران تھے ۔ اسٹریٹجک طور پر ، موجود دور کا خیبر پختونخوا اس وقت مغل سلطنت کے دفاع کے لئے بہت اہم تھا.

خیبر پاس کے ذریعے مواصلاتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے شہنشاہ اکبر جنوری 1586 میں خود اٹک پہنچا۔ کالو خان نے اکبر کے خلاف اس قدر جرات اور استقامت سے مقابلہ کیا کہ مغلوں کو دریائے سندھ کے کنارے قلعہ اٹک تعمیر کرنا پڑا۔ اکبر نے کالو خان کے خلاف ایک مضبوط فوج روانہ کی، جس کی قیادت زین خان کوکا، حکیم ابوالفتح، اور مشہور درباری راجہ بیربل کر رہے تھے۔۔

جب مغل فوج مالندری کے مقام پر پہنچی تو انہیں قریب آنے والے خطرے کا احساس ہوا۔ کچھ سپاہیوں نے دیکھا کہ یوسف زئی جنگجو پہاڑوں کی چوٹیوں پر مورچہ بند ہیں۔ کرہاپہ (بونیر) کی تنگ گھاٹیوں میں کالو خان کی قیادت میں یوسف زئی جنگجوؤں نے مغل افواج پر اچانک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مغل فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس معرکے میں ہزاروں مغل سپاہی مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں راجہ بیربل، خواجہ عرب بخشی، ملا شیرین، اور بٹانی کمانڈر حسن خان شامل تھے۔.

زین خان کوکا اور حکیم ابوالفتح کسی طرح جان بچا کر قلعہ اٹک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ روایت ہے کہ اکبر نے بیربل کی موت پر شدید رنج و غصے کا اظہار کیا اور دو دن تک ان دونوں کمانڈروں سے ملاقات سے انکار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے محبوب درباری بیربل کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا

اکبر کو اپنی پوری حکومت میں اب تک کی سب سے بڑی شکست تھی۔ مغل مورخ خفی خان کے مطابق ، اس لڑائی کے نتیجے میں 40،000 – 50،000 مغل جنگجوؤں کی ہلاکت ہوئی۔ تاہم ، بڈوانی کے مطابق ، اس پورے واقعے کے نتیجے میں 8000 کے قریب مغل جنگجوؤں کی ہلاکت ہوئی.

پختونخوا کے عوام اس فتح کو مغل مداخلت کے خلاف اپنی تاریخی مزاحمت کی ایک اہم علامت سمجھتے ہیں۔
کالو خان یوسف زئی کی قبر ضلع صوابی میں واقع ہے، اور وہاں ایک گاؤں بھی انہی کے نام سے منسوب ہے۔.
#یو

08/04/2026

پٹرول کی قیمت میں 100روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 150 روپے فی لیٹر کمی کاامکان۔۔۔اگلے چندگھنٹوں میں وزیراعظم کاخطاب متوقع۔۔۔

پاکستان نے بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں ایٹمی جنگ سے دنیا کو بچالیا ہے، امریکہ ،اسرائیل اور ایران کے درم...
08/04/2026

پاکستان نے بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں ایٹمی جنگ سے دنیا کو بچالیا ہے، امریکہ ،اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کیلئے جنگ روک دی ہے ۔،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں 2 ہفتے کی توسیع کر دی۔پاکستان نے دنیا کو تباہی سے بچا لیا، اور ایران پر امریکا کا انتہائی خوف ناک حملہ صرف ایک گھنٹہ قبل رکوانے میں کامیاب رہا، امریکی صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کر دی۔امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ لگائی، اور لکھا کہ ان کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو ہوئی، انھوں نے درخواست کی آج رات ایران میں تباہی کو روک دوں۔جس پر دوہفتوں کیلئے جنگ بندی کا اعلان کرتاہوں،وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران اور امریکا سمیت فریقین کی طرف سے مشرق وسطیٰ اور خلیج میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کا خیر مقدم کرتے ہوئے جمعہ کو دونوں ممالک کے وفود کو تنازعات کے حتمی اور جامع حل کیلئے مزید مذاکرات کیلئے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ بدھ کی صبح”ایکس ”پر اپنے تاریخ ساز پیغام جس کا پوری دنیا انتظار کر رہی تھی میں ،وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جو لبنان سمیت ہر جگہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس دانشمندانہ اقدام کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے ایران اورامریکا کے وفود کو کل تمام تنازعات کے حتمی اور جامع حل کیلئے مزید مذاکرات کیلئے اسلام آباد آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے غیر معمولی بصیرت، دانش اور فہم و فراست کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری انداز میں مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کا حصول ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں دنیا کو مزید خوشخبریاں سنانے کے خواہاں ہیں۔ قبل ازیں گزشتہ شب” ایکس” پر اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور امن کیلئے سفارتی کوششوں کے بار آور ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے مہلت میں دو ہفتوں کی توسیع ، ایران سے دو ہفتوں کیلئے آبنائے ہرمز کھولنے اور تمام متحارب فریقوں سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ وزیر اعظم کے اس اعلان کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ ٹلنے کا امکان پیدا ہوا تھا اور پوری دنیا کی نظریں اس اعلان پر مرکوز تھیں۔امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی برادری نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطی میں مستقل امن کے قیام پر زور دیا ہے اور پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔پاکستان میں تعینات برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اہم جنگ بندی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان کا خاموش، مؤثر سفارتکاری کا شکریہ۔وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنمائو ں نے امریکا ایران جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا

  پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ۔۔۔وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ بظاہر ایک معاشی ضرو...
03/04/2026


پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ۔۔۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ بظاہر ایک معاشی ضرورت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اس کے سماجی اور معاشی اثرات نہایت گہرے اور تشویشناک ہو سکتے ہیں۔ اس پالیسی کا سب سے بڑا بوجھ براہِ راست عام آدمی پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ دراصل پورے معاشی نظام میں مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خوردونوش، سبزیوں، دالوں اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ یوں ایک عام شہری کی روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے اور اس کی قوتِ خرید میں واضح کمی آتی ہے۔حکومت اگرچہ اس اقدام کو مالی خسارے پر قابو پانے یا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے تناظر میں ضروری قرار دیتی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کا متبادل صرف عوام پر بوجھ ڈالنا ہی ہے؟ بدقسمتی سے اکثر دیکھا گیا ہے کہ حکومتی پالیسیاں بالواسطہ یا بلاواسطہ کمزور طبقے کو ہی نشانہ بناتی ہیں، جبکہ اشرافیہ کو نسبتاً کم متاثر کیا جاتا ہے۔اس فیصلے کا ایک اور اہم پہلو غربت میں اضافہ ہے۔ جب بنیادی ضروریات مہنگی ہو جائیں تو کم آمدنی والے افراد کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً نہ صرف غربت کی شرح بڑھتی ہے بلکہ سماجی بے چینی اور عدم استحکام میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔تنقیدی طور پر دیکھا جائے تو حکومت کو ایسے فیصلے کرنے سے قبل ایک جامع حکمت عملی اپنانا چاہیے، جس میں متبادل ذرائع آمدن، اخراجات میں کمی، اور ٹیکس نظام کی بہتری شامل ہو۔ صرف پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کر دینا ایک آسان مگر غیر مؤثر حل ہے، جو وقتی طور پر تو مالی مسائل کم کر سکتا ہے، لیکن طویل المدتی طور پر عوامی مشکلات میں اضافہ ہی کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایسی پالیسیاں، جو عوامی فلاح کے بجائے ان پر مزید بوجھ ڈالیں، نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی طور پر بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی ریلیف کو ترجیح دے اور ایسے متوازن فیصلے کرے جو معاشرے کے تمام طبقات کے لیے قابلِ قبول ہوں۔

21/03/2026

Address

Kanda Ghar Faqeer Killy
Mardan

Telephone

+923179970041

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tariq Khan Yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tariq Khan Yousafzai:

Share