08/07/2026
تحریر: طارق خان یوسفزئی
اشرافیہ کے خلاف نعرے، اشرافیہ کے حق میں قانون سازی؟
سیاست میں وعدے اور عمل کے درمیان فاصلہ جتنا بڑھتا ہے، عوام کا اعتماد اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت بھی اسی امتحان سے گزر رہی ہے۔ وہ جماعت جو انتخابی مہم کے دوران خود کو اشرافیہ کے خلاف سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر پیش کرتی رہی، آج اس پر الزام لگ رہا ہے کہ اس کی قانون سازی کا رخ عام شہری کے بجائے خود سیاسی طبقے کی مراعات میں اضافے کی طرف ہے۔حالیہ منظور شدہ قوانین اور زیرِ بحث قانونی تجاویز نے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر منتخب نمائندوں کو تاحیات بلیو پاسپورٹ، اضافی سفری سہولیات، طبی مراعات، سرکاری گاڑیاں اور دیگر خصوصی مراعات دی جا رہی ہیں، تو یہ سوال فطری ہے کہ کیا یہی وہ تبدیلی تھی جس کا وعدہ عوام سے کیا گیا تھا؟ ایک ایسے وقت میں جب مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم اور امن و امان عوام کے بڑے مسائل ہیں، حکمران طبقے کی مراعات میں اضافہ عوامی ترجیحات سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔اس سے بھی زیادہ اہم بحث ان مجوزہ شقوں پر ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ منتخب نمائندوں کو غیر معمولی قانونی تحفظ یا صحافیوں کی رسائی اور رپورٹنگ پر پابندی جیسے اختیارات دے سکتی ہیں۔ اگر ایسی شقیں واقعی قانون کا حصہ بنتی ہیں تو ان کی آئینی حیثیت، آزادیٔ صحافت اور جمہوری احتساب کے تناظر میں باریک بینی سے جانچ ضروری ہوگی۔ دوسری طرف، اگر ان دعوؤں میں مبالغہ یا غلط فہمی موجود ہے تو حکومت پر لازم ہے کہ وہ مکمل مسودہ اور اس کی وضاحت عوام کے سامنے رکھے تاکہ ابہام ختم ہو۔اس قانون سازی کا سب سے بڑا سیاسی اثر شاید قانونی نہیں بلکہ اخلاقی ہے۔ جو جماعت خود کو مراعات یافتہ نظام کے خلاف متبادل کے طور پر پیش کرتی رہی ہو، اس سے عوام کی توقع بھی مختلف ہوتی ہے۔ اگر اس کے اقدامات روایتی سیاسی اشرافیہ جیسے دکھائی دینے لگیں تو اس کی اخلاقی برتری متاثر ہو سکتی ہے، اور اپوزیشن کو تنقید کا مضبوط موقع مل جاتا ہے۔البتہ تجزیے کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ بعض مراعات ریاستی ذمہ داریوں، سیکیورٹی تقاضوں یا انتظامی ضرورت کے تحت دی جاتی ہیں، اور کچھ اقدامات پہلے سے موجود قواعد کو قانونی شکل دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔ لیکن ایسے مؤقف کی کامیابی کا انحصار شفافیت، عوامی اعتماد اور قانون سازی کے مکمل حقائق سامنے لانے پر ہے۔آخرکار، جمہوریت کی اصل روح یہ نہیں کہ منتخب نمائندوں کے اختیارات اور مراعات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے، بلکہ یہ ہے کہ قانون ساز خود کو بھی اسی احتساب، شفافیت اور سادگی کا پابند بنائیں جس کی توقع وہ دوسروں سے رکھتے ہیں۔ عوام حکومتوں کو صرف قانون بنانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے وعدوں کو نبھانے کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہر حکومت کو بالآخر پرکھا جاتا ہے۔اگر آپ اسے اخباری کالم کے انداز میں زیادہ جاندار، طنزیہ اور ادبی رنگ کے ساتھ لکھوانا چاہتے ہیں تو میں وہ بھی تیار کر سکتا ہوں۔