Tariq Khan Yousafzai

Tariq Khan Yousafzai بین الاقوامی ، ملکی ،علاقائی اور مقامی خبروں کے لئے ہمارا نیوزپیج لائیک کریں۔اور دوستوں کے ساتھ شیر کریں۔

09/11/2025
24/06/2025


د پښتو ادبي فورم پيښور له خوا د 2025 کال د جون په 19مه نېټه، د زيارت په ورځ، يوه مهمه ادبي غونډه ترسره شوه. دا غونډه د دوو وتلو پښتو ليکوالو، ډاکټر چراغ حسين شاه او قاسم محمود، په درناوي وشوه.په دغه موقع، نامتو شاعر، ليکوال او محقق احمد جان مروت د ډاکټر چراغ حسين شاه په ژوند او ادبي خدمتونو تفصيلي مقاله واوروله. همداراز، بل وتلی عالم او ژبپوه ډاکټر يوسف جذاب د قاسم محمود پر ژوند، څېړنو او ليکنو تفصيلي معلومات شريک کړل.په غونډه کښې د پښتو ادبي فورم له خوا د ډاکټر عطاالرحمان عطا نوی چاپ شوی کتاب هم ګډونوالو ته وروپېژندل شو. دا غونډه د پېښور خېبر بازار کښې د ورځپاڼې وحدت دفتر کښې ترسره شوه، چې پکښې ګڼ شمېر ادبي شخصيتونو، ليکوالانو او مينه‌والو ګډون وکړ.
د غونډې ګډونوالو د دواړو ليکوالو علمي او ادبي خدمتونه وستايل او د پښتو ژبې د ودې لپاره يې دا ډول غونډې ډېرې مهمې وبللې.

تذکرہ طورو و کلپانیگاؤں طورو اور کلپانی کے نام سے اکثر لوگ واقف ہیں، مگر "کلپانی" کی وجہ تسمیہ سے زیادہ تر لوگ ناواقف ہی...
19/03/2025

تذکرہ طورو و کلپانی

گاؤں طورو اور کلپانی کے نام سے اکثر لوگ واقف ہیں، مگر "کلپانی" کی وجہ تسمیہ سے زیادہ تر لوگ ناواقف ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق، کلپانی کا نام درحقیقت "کمپانی" سے ماخوذ ہے۔

کلپانی کی تاریخی حیثیت

کمپانی ایک قدیم قصبہ تھا جو مردان اور تخت بھائی کے درمیان، گوجر گڑھی کے قریب واقع تھا۔ اس قصبے کے بیچ سے ایک ندی گزرتی تھی، جس پر ایک پل موجود تھا۔ اسی ندی کی نسبت سے یہ علاقہ "کلپانی" کہلایا۔ آج بھی یہ ندی موجود ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ قصبہ زوال پذیر ہوگیا اور صرف چند آثار باقی رہ گئے۔ ملاکنڈ روڈ پر "کمپانی" کے نام کا ایک بورڈ آج بھی نظر آتا ہے، جبکہ اس مقام پر ایک ریلوے اسٹیشن بھی موجود ہے۔

قدیم دور میں، کلپانی قبیلہ دلزاک کے زیرِ تسلط تھا اور اسے مرکزی حیثیت حاصل تھی، جو بعد میں مردان اور ہوتی کو ملی۔ ان ادوار میں مردان اور ہوتی کا کوئی نام و نشان بھی نہ تھا۔

نالہ کلپانی اور اس کے اثرات

کلپانی ندی، جسے "سفید پانی" بھی کہا جاتا ہے، کا ذکر معروف کتاب "دی پٹھانز" میں موجود ہے۔ یہ نالہ ڈھیری حسن خان کے قریب سے گزرتا ہے اور جب اس میں طغیانی آتی ہے تو قرب و جوار کے علاقے متاثر ہوتے ہیں۔

1953ء میں ایک شدید طغیانی کے باعث گاؤں طورو کا شمالی حصہ تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں کئی باشندے نقل مکانی کرکے کالا خیل، طورو میرہ اور دیگر قریبی علاقوں میں آباد ہوئے۔ اس کے باوجود، آج بھی گاؤں طورو کے زمیندار اس ندی کے پانی سے اپنی زمینیں سیراب کرتے ہیں، جس کی بدولت یہاں کی زمین نہایت زرخیز اور شاداب ہے۔

نالہ بلٹر اور تاریخی جنگ

نالہ کلپانی کو بعض تاریخی کتب میں "بلٹر" کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ سر اولف کیرو نے اپنی کتاب "دی پٹھان" میں اس کا ذکر کیا ہے۔ بلٹر کا نام قبیلہ دولت زئی کے سردار "ہو خان" سے منسوب ہے۔ یہ ندی گڑھی دولت زئی اور گڑھی اسماعیل زئی کے پاس سے گزرتی ہوئی گاؤں طورو کے مختلف مقامات سے ہو کر بہتی ہے۔
نالہ بلٹر تاریخی لحاظ سے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی مقام پر قبیلہ خٹک اور قبیلہ یوسفزئی کے درمیان ایک مشہور جنگ لڑی گئی تھی۔ قبیلہ خٹک کے نامور سردار شہباز خان خٹک نے یوسفزئیوں پر حملے کی کوشش کی، مگر ماضی میں وہ کئی بار ناکام ہوچکے تھے۔ جب انہوں نے ایک بار پھر اپنی فوج کے ساتھ ندی بلٹر کے کنارے پر یوسفزئیوں پر حملہ کیا، تو شدید جنگ ہوئی، جس میں یوسفزئی کامیاب رہے اور خٹک لشکر کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔اسی جنگ میں شہباز خان کا بھتیجا ساقی بیگ مارا گیا اور خود شہباز خان بھی شدید زخمی ہوگئے-وہ 1641ء میں انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ شہباز خان، پختونخوا کے مشہور شاعر خوشحال خان خٹک کے والد تھے۔

یہ تمام تاریخی واقعات اس علاقے کی عظمت اور بہادری کی داستان سناتے ہیں، جو آج بھی یہاں کے باشندوں کے لیے فخر کا باعث ہیں۔
تاریخ طورو کتاب سے اقتباس
ایڈمن یاسر علی طورو

Address

Kanda Ghar Faqeer Killy
Mardan

Telephone

+923179970041

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tariq Khan Yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tariq Khan Yousafzai:

Share