Tariq Khan Yousafzai

Tariq Khan Yousafzai بین الاقوامی ، ملکی ،علاقائی اور مقامی خبروں کے لئے ہمارا نیوزپیج لائیک کریں۔اور دوستوں کے ساتھ شیر کریں۔

تحریر: طارق خان یوسفزئی اشرافیہ کے خلاف نعرے، اشرافیہ کے حق میں قانون سازی؟سیاست میں وعدے اور عمل کے درمیان فاصلہ جتنا ب...
08/07/2026

تحریر: طارق خان یوسفزئی

اشرافیہ کے خلاف نعرے، اشرافیہ کے حق میں قانون سازی؟

سیاست میں وعدے اور عمل کے درمیان فاصلہ جتنا بڑھتا ہے، عوام کا اعتماد اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت بھی اسی امتحان سے گزر رہی ہے۔ وہ جماعت جو انتخابی مہم کے دوران خود کو اشرافیہ کے خلاف سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر پیش کرتی رہی، آج اس پر الزام لگ رہا ہے کہ اس کی قانون سازی کا رخ عام شہری کے بجائے خود سیاسی طبقے کی مراعات میں اضافے کی طرف ہے۔حالیہ منظور شدہ قوانین اور زیرِ بحث قانونی تجاویز نے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر منتخب نمائندوں کو تاحیات بلیو پاسپورٹ، اضافی سفری سہولیات، طبی مراعات، سرکاری گاڑیاں اور دیگر خصوصی مراعات دی جا رہی ہیں، تو یہ سوال فطری ہے کہ کیا یہی وہ تبدیلی تھی جس کا وعدہ عوام سے کیا گیا تھا؟ ایک ایسے وقت میں جب مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم اور امن و امان عوام کے بڑے مسائل ہیں، حکمران طبقے کی مراعات میں اضافہ عوامی ترجیحات سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔اس سے بھی زیادہ اہم بحث ان مجوزہ شقوں پر ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ منتخب نمائندوں کو غیر معمولی قانونی تحفظ یا صحافیوں کی رسائی اور رپورٹنگ پر پابندی جیسے اختیارات دے سکتی ہیں۔ اگر ایسی شقیں واقعی قانون کا حصہ بنتی ہیں تو ان کی آئینی حیثیت، آزادیٔ صحافت اور جمہوری احتساب کے تناظر میں باریک بینی سے جانچ ضروری ہوگی۔ دوسری طرف، اگر ان دعوؤں میں مبالغہ یا غلط فہمی موجود ہے تو حکومت پر لازم ہے کہ وہ مکمل مسودہ اور اس کی وضاحت عوام کے سامنے رکھے تاکہ ابہام ختم ہو۔اس قانون سازی کا سب سے بڑا سیاسی اثر شاید قانونی نہیں بلکہ اخلاقی ہے۔ جو جماعت خود کو مراعات یافتہ نظام کے خلاف متبادل کے طور پر پیش کرتی رہی ہو، اس سے عوام کی توقع بھی مختلف ہوتی ہے۔ اگر اس کے اقدامات روایتی سیاسی اشرافیہ جیسے دکھائی دینے لگیں تو اس کی اخلاقی برتری متاثر ہو سکتی ہے، اور اپوزیشن کو تنقید کا مضبوط موقع مل جاتا ہے۔البتہ تجزیے کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ بعض مراعات ریاستی ذمہ داریوں، سیکیورٹی تقاضوں یا انتظامی ضرورت کے تحت دی جاتی ہیں، اور کچھ اقدامات پہلے سے موجود قواعد کو قانونی شکل دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔ لیکن ایسے مؤقف کی کامیابی کا انحصار شفافیت، عوامی اعتماد اور قانون سازی کے مکمل حقائق سامنے لانے پر ہے۔آخرکار، جمہوریت کی اصل روح یہ نہیں کہ منتخب نمائندوں کے اختیارات اور مراعات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے، بلکہ یہ ہے کہ قانون ساز خود کو بھی اسی احتساب، شفافیت اور سادگی کا پابند بنائیں جس کی توقع وہ دوسروں سے رکھتے ہیں۔ عوام حکومتوں کو صرف قانون بنانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے وعدوں کو نبھانے کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہر حکومت کو بالآخر پرکھا جاتا ہے۔اگر آپ اسے اخباری کالم کے انداز میں زیادہ جاندار، طنزیہ اور ادبی رنگ کے ساتھ لکھوانا چاہتے ہیں تو میں وہ بھی تیار کر سکتا ہوں۔

21/06/2026

د پښتو ادبي فورم، پېښور، د سیوري لاندې د نوموړي شاعرانو منظر فریادي، ډاکټر اسلم تاثیر افریدي او د ستر صحافي شېر عالم شینواري د ادبي او صحافتي خدمتونو په اعتراف کې غونډه وشوه.په غونډه کښې د ادب، شعر و شاعرۍ او صحافت سره تړلو ګڼو شاعرانو، لیکوالانو، خبریالانو او د ادب مینه‌والو ګډون وکړو.ویناوالو د یادو شخصیتونو د ادبي او صحافتي خدمتونو ستاینه وکړه او ویې ویل چې دوی د پښتو ژبې، ادب او مېډيا لپاره د قدر وړ او نه هېرېدونکي خدمتونه ترسره کړي دي. دوي غوښتنه وکړه چې د داسې شخصیتونو درناوے د ادب او صحافت د ودې لپاره مهم ارزښت لري.د غونډې په پای کې درېواړو شخصیتونو ته د هغوی د خدمتونو په اعتراف کې ایوارډونه او د درناوي پېرزوینې هم وړاندې شوې.

تحریر: طارق خان یوسفزئی ۔شیرگڑھ میں غریب لڑکی کی عصمت دری کا اندوہناک واقعہبچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم: انصاف میں...
16/06/2026

تحریر: طارق خان یوسفزئی
۔
شیرگڑھ میں غریب لڑکی کی عصمت دری کا اندوہناک واقعہ

بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم: انصاف میں تاخیر اور عوامی اعتماد کا بحران،تخت بھائی کے علاقے شیرگڑھ میں ایک کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کے واقعے کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود تمام نامزد ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ پولیس کی جانب سے تفتیش جاری ہے، تاہم مقامی آبادی، سماجی تنظیموں، صحافی برادری اور تاجروں کی جانب سے شفاف اور بروقت تحقیقات کا مطالبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایسے حساس مقدمات میں انصاف کا صرف ہونا ہی نہیں بلکہ اس کا بروقت اور واضح طور پر نظر آنا بھی انتہائی ضروری ہے۔گزشتہ چند برسوں میں خواتین اور خصوصاً کمسن بچیوں کے خلاف جنسی جرائم کے واقعات نے معاشرے میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ ایسے جرائم نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو گہرے ذہنی، جسمانی اور سماجی صدمے سے دوچار کرتے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں، خصوصاً جب مقدمات میں غیر ضروری تاخیر یا معلومات کے فقدان کا تاثر پیدا ہو۔قانونی اور سماجی ماہرین کے مطابق، ایسے مقدمات میں غیر جانبدار، شفاف اور شواہد پر مبنی تحقیقات ناگزیر ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی بھی فرد کو مجرم قرار نہ دیا جائے، جبکہ اگر کسی کے خلاف جرم ثابت ہو جائے تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ متاثرہ بچوں اور خواتین کو قانونی تحفظ، نفسیاتی معاونت اور سماجی سہارا فراہم کرنا بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔شیرگڑھ میں جاری احتجاج، بھوک ہڑتال اور سڑک بند کرنے کے اعلانات اس بات کا اظہار ہیں کہ عوام اس معاملے میں فوری اور مؤثر پیش رفت چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف انداز میں تحقیقات مکمل کریں، قانون کے مطابق ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور عوام کو مناسب حد تک پیش رفت سے آگاہ رکھیں تاکہ افواہوں، بے اعتمادی اور بے چینی کا خاتمہ ہو۔ایک مہذب اور محفوظ معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی جائے، قانون سب کے لیے یکساں ہو، متاثرین کو بروقت انصاف ملے اور انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کا دباؤ، جانبداری یا غفلت برداشت نہ کی جائے۔ ایسے اقدامات ہی عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور مستقبل میں اس نوعیت کے جرائم کی مؤثر روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحریر: طارق خان یوسفزئی سانحہ ٹکر28مئ 1930برصغیر کی آزادی کی تحریک میں صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے عوام نے بے مث...
28/05/2026

تحریر: طارق خان یوسفزئی
سانحہ ٹکر28مئ 1930
برصغیر کی آزادی کی تحریک میں صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے عوام نے بے مثال قربانیاں دیں۔ ان قربانیوں میں 28 مئی 1930 کا سانحۂ ٹکر ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک مقامی حادثہ نہیں تھا بلکہ برطانوی سامراج کے خلاف پشتون عوام کی سیاسی بیداری، مزاحمت اور قربانی کی علامت تھا۔ اس دن خدائی خدمتگار تحریک کے کارکنوں نے آزادی، حقِ خود ارادیت اور قومی وقار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔1930 میں خدائی خدمتگار تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اس تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا تھے۔ یہ تحریک عدم تشدد، سماجی اصلاحات، تعلیم اور برطانوی استعمار کے خلاف سیاسی جدوجہد پر مبنی تھی۔ تحریک کا مقصد پشتون معاشرے میں اتحاد، شعور اور آزادی کی روح پیدا کرنا تھا۔ٹکر، ضلع مردان کا ایک تاریخی گاؤں، اس تحریک کا مضبوط مرکز بن چکا تھا۔ یہاں کے عوام آزادی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ باچا خان نے انگریز حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کارکنوں کو رضا کارانہ گرفتاریاں دینے کی ہدایت کی تاکہ برطانوی ظلم دنیا کے سامنے بے نقاب ہو سکے۔اس سلسلے میں ٹکر کے معروف خدائی خدمتگار رہنماؤں، جن میں ملک معصم خان، ملک خان بادشاہ اور سالار شمروز خان شامل تھے، نے گرفتاریاں دینے کا فیصلہ کیا۔
26 مئی 1930 کو انگریز افسر اے ایس پی مسٹر مورپی انہیں گرفتار کرنے کے لیے ٹکر پہنچا۔ اس موقع پر خدائی خدمتگاروں اور مورپی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، تاہم کارکنوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اگلے دن خود گرفتاری پیش کریں گے۔27 مئی کو یہ کارکن جلوس کی صورت میں مردان روانہ ہوئے۔ گجر گھڑی کے مقام پر ہزاروں لوگ ان کے استقبال اور حمایت کے لیے جمع تھے۔ مورپی نے جلوس کا راستہ روک کر طاقت کا استعمال شروع کیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر مظاہرین پر حملہ کیا۔ اسی دوران سلطان پہلوان نامی ایک خدائی خدمتگار نے مورپی پر گولی چلائی جس سے وہ زخمی ہو کر گر پڑا۔ روایت کے مطابق سواتی ابئی نامی ایک خاتون نے پانی سے بھرا مٹکا اس کے سر پر دے مارا، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔مورپی کی ہلاکت کے بعد برطانوی حکومت مشتعل ہوگئی۔ 28 مئی کی رات انگریزی فوج نے ٹکر گاؤں کا محاصرہ کر لیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس وحشیانہ کارروائی میں تقریباً ستر آزادی پسند شہید جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔یہ واقعہ برطانوی سامراج کی سفاکیت اور ظلم کی واضح مثال تھا۔ نہتے عوام پر رات کی تاریکی میں حملہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انگریز حکومت عوامی بیداری سے خوفزدہ ہو چکی تھی۔سانحۂ ٹکر اس بات کا ثبوت ہے کہ پشتون عوام میں سیاسی شعور بیدار ہو چکا تھا۔ خدائی خدمتگار تحریک نے لوگوں کو غلامی کے خلاف متحد کیا اور انہیں آزادی کے لیے قربانی دینے پر آمادہ کیا۔اگرچہ خدائی خدمتگار تحریک بنیادی طور پر عدم تشدد پر یقین رکھتی تھی، لیکن برطانوی ظلم و جبر نے حالات کو شدید کشیدگی کی طرف دھکیل دیا۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ جب ریاستی طاقت حد سے بڑھ جائے تو عوامی ردعمل شدت اختیار کر سکتا ہے۔سواتی ابئی کا کردار اس جدوجہد میں خواتین کی شمولیت کی علامت ہے۔ آزادی کی تحریک صرف مردوں تک محدود نہیں تھی بلکہ خواتین نے بھی بہادری اور قربانی کی مثالیں قائم کیں۔یومِ شہدائے ٹکر پشتون قوم کی آزادی پسند تاریخ کا اہم باب ہے۔ یہ دن قربانی، مزاحمت اور قومی غیرت کی یاد دلاتا ہے۔ ہر سال 28 مئی کو شہداء کی یاد میں اجتماعات اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ نئی نسل کو اپنے اسلاف کی قربانیوں سے آگاہ رکھا جا سکے۔سانحۂ ٹکر برصغیر کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم اور دردناک واقعہ ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف برطانوی ظلم کو بے نقاب کیا بلکہ پشتون عوام کی آزادی سے محبت، قربانی اور اتحاد کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا۔ خدائی خدمتگاروں کی قربانیاں آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان شہداء نے اپنے خون سے آزادی، امن اور قومی وقار کی تاریخ رقم کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں اور نئی نسل تک ان کی جدوجہد کا پیغام پہنچائیں۔ہم یومِ شہدائے ٹکر کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ مبارک۔۔۔!!عیدالاضحیٰ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایثار، قربانی، محبت، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا عظی...
27/05/2026

عیدالاضحیٰ مبارک۔۔۔!!
عیدالاضحیٰ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایثار، قربانی، محبت، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا عظیم پیغام ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال اطاعت، صبر اور قربانی کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے رہتی دنیا تک ایمان و وفا کی روشن مثال قائم کی۔اس بابرکت موقع پر دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری تمام عبادات، قربانیاں، دعائیں اور نیک اعمال اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ اللہ پاک آپ کے گھر کو ہمیشہ خوشیوں، محبتوں، سکون، رحمتوں اور بے شمار برکتوں سے آباد رکھے۔ آپ کی زندگی سے ہر پریشانی، دکھ اور آزمائش کو دور فرمائے اور آپ کو صحت، کامیابی، عزت اور آسانیوں سے نوازے۔یہ مقدس دن ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنے، رشتوں میں محبت بڑھانے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور انسانیت کے لیے خیر بانٹنے کا درس دیتا ہے۔ آئیے اس عید پر ہم اپنے دلوں کو نفرت، حسد اور اختلافات سے پاک کر کے محبت، درگزر اور بھائی چارے کو فروغ دیں تاکہ ہمارا معاشرہ امن، اتحاد اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکے۔
اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے، آپ کی ہر جائز دعا قبول فرمائے اور آپ کی زندگی کو ایمان، خوشیوں اور کامیابیوں سے بھر دے عیدالاضحیٰ آپ سب کے لیے امن، محبت، رحمت اور خوشیوں کا پیغام لے کر آئے۔

آمین ثم آمین۔

ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر ناصر الدین کے ساتھ ایک نشست ۔۔۔۔خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں اساتذہ اس وقت متعدد معاشی، انتظامی ...
26/05/2026

ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر ناصر الدین کے ساتھ ایک نشست ۔۔۔۔
خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں اساتذہ اس وقت متعدد معاشی، انتظامی اور پیشہ ورانہ مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالیہ پروگرام میں ڈاکٹر ناصر الدین نے ریڈیو وطن تخت بھائی کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے اساتذہ کو درپیش مسائل اور مطالبات تفصیل سے بیان کیے۔ ان کے مطابق سرکاری اساتذہ برادری شدید معاشی اور انتظامی دباؤ کا شکار ہے جس کے اثرات تعلیمی نظام پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔اساتذہ کسی بھی قوم کے معمار ہوتے ہیں کیونکہ وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے ذریعے ملک کے مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ ہمیشہ اپنے اساتذہ کو عزت، مقام اور بہترین سہولیات فراہم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اساتذہ کو وہ مقام اور احترام نہیں دیا جا رہا جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔
اساتذہ کو معاشی مشکلات، کم تنخواہوں، ترقی میں تاخیر اور دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک استاد اس وقت اپنے فرائض منصبی بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے جب وہ ذہنی سکون اور معاشی آسودگی حاصل کرے۔ اگر استاد پریشانیوں میں گھرا رہے تو اس کی تدریسی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے، جس کا براہ راست اثر طلبہ کی تعلیم پر پڑتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اساتذہ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے، ان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرے اور انہیں وہ عزت و مقام دے جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ مضبوط تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور کم تنخواہوں کا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اس تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ موجودہ تنخواہیں گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہو چکی ہیں، اسی لیے وہ تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ معاشی دباؤ کے باعث اساتذہ ذہنی پریشانی اور بے چینی کا شکار ہو رہے ہیں جس سے تدریسی کارکردگی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ڈاکٹر ناصر الدین نے پنشن کے نظام میں تبدیلی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرانا پنشن سسٹم سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم سہارا تھا، مگر نئے نظام سے ریٹائرمنٹ کے بعد مالی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2010 اور 2015 کے ایڈہاک ریلیف کو دوبارہ پنشن میں شامل کیا جائے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے لیے اپ گریڈیشن اور ترقی کا مسئلہ بھی انتہائی اہم نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ کئی اساتذہ برسوں سے ایک ہی گریڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں بروقت ترقی نہیں مل رہی جس سے ان میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام کیڈرز کے لیے فوری اپ گریڈیشن اور ترقی ناگزیر ہے۔ریڈیو پروگرام کے دوران انہوں نے تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ کے فیصلے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے نہ صرف ملازمین کا مستقبل غیر محفوظ ہوگا بلکہ غریب طبقے کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ڈاکٹر ناصر الدین نے مزید کہا کہ ایم فل کی ڈگری کو ایم ایس کے برابر تسلیم کیا جائے، تمام الاؤنسز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے اور اساتذہ کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق دیگر محکموں کے ملازمین کو مختلف مراعات حاصل ہیں جبکہ اساتذہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس لیے ملازمین میں طبقاتی فرق ختم کر کے اساتذہ کو بھی مساوی سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے قاری ہوسٹ اساتذہ کو سکیل 16 دینے کا مطالبہ بھی دہرایا اور کہا کہ ان کے ساتھ طویل عرصے سے ناانصافی کی جا رہی ہے۔

تحریر: طارق خان یوسفزئی ایمل ولی خان نے حورین کیس میں انسان دوستی، جرات اور حقیقی قیادت کی مثال قائم کی پشاور سے اغواء ہ...
23/05/2026

تحریر: طارق خان یوسفزئی

ایمل ولی خان نے حورین کیس میں انسان دوستی، جرات اور حقیقی قیادت کی مثال قائم کی
پشاور سے اغواء ہونے والی معصوم بچی “حورین” کی بازیابی کا واقعہ صرف ایک خاندان کی خوشی کا سبب نہیں بنا بلکہ اس نے پورے معاشرے کو یہ احساس دلایا کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انسانیت، انصاف اور عوامی خدمت کو سیاست سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ اس پورے واقعے میں اگر کسی شخصیت نے سب سے زیادہ عوامی توجہ حاصل کی تو وہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ایمل ولی خان تھے، جنہوں نے اس حساس معاملے پر فوری، مؤثر اور بھرپور آواز بلند کی۔حورین کے اغواء نے پورے خیبرپختونخوا خصوصاً پشتون قوم کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ والدین کی بے بسی اور ایک معصوم بچی کی سلامتی کے خدشات ہر انسان کے دل کو تکلیف دے رہے تھے۔ ایسے وقت میں ایمل ولی خان نے نہ صرف اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا بلکہ مسلسل اس کیس کو اجاگر کرتے رہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی معصوم بچے کی حفاظت صرف خاندان کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ایمل ولی خان کی قیادت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے بغیر کسی حکومتی اختیار یا سرکاری منصب کے عوامی طاقت اور اجتماعی شعور کو متحرک کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا، عوامی بیانات اور مسلسل رابطوں کے ذریعے اس کیس کو زندہ رکھا، جس کے نتیجے میں متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھا اور بچی کی بازیابی ممکن ہوئی۔ ان کا یہ کردار اس بات کا ثبوت بنا کہ حقیقی قیادت صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ مشکل وقت میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔اس پورے واقعے میں عوام نے یہ بھی محسوس کیا کہ ایمل ولی خان نے سیاست سے بڑھ کر انسانیت کو ترجیح دی۔ انہوں نے نہ کوئی سیاسی فائدہ تلاش کیا اور نہ ہی اسے ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنایا، بلکہ ایک مجبور خاندان کی امید بن کر سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں ان کے بارے میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جو مظلوم، کمزور اور لاچار عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔حورین کیس نے یہ بھی ثابت کیا کہ اگر قیادت مخلص ہو تو عوام خود بخود متحد ہوجاتے ہیں۔ ہزاروں افراد نے سوشل میڈیا پر آواز بلند کی، دعائیں کیں اور بچی کی بازیابی کیلئے مہم چلائی۔ اس اجتماعی شعور کو منظم رکھنے اور اس کی سمت متعین کرنے میں ایمل ولی خان کا کردار نمایاں رہا۔ ان کی آواز نے نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا کہ خاموش رہنے کے بجائے ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا ہی حقیقی انسانیت ہے۔
سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس واقعے کے بعد یہ بحث بھی زور پکڑ گئی کہ پشتون قوم کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو صرف نعروں تک محدود نہ ہوں بلکہ عملی طور پر عوام کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ایمل ولی خان نے حورین کیس میں جس جرات، حساسیت اور عوامی ہمدردی کا مظاہرہ کیا، اس نے انہیں ایک بااعتماد، بہادر اور عوام دوست رہنما کے طور پر مزید مضبوط مقام دیا ہے۔حورین کی بازیابی ایک خوش آئند پیش رفت ضرور ہے، مگر اس واقعے نے معاشرے کو یہ سبق بھی دیا کہ بچوں کے تحفظ کیلئے اجتماعی بیداری ناگزیر ہے۔ اس پورے واقعے میں ایمل ولی خان کا کردار اس بات کی مثال بن گیا کہ جب قیادت مخلص ہو، آواز سچی ہو اور مقصد انسانیت ہو تو عوام بھی متحد ہوتے ہیں اور انصاف کی امید بھی زندہ رہتی ہے۔

از قلم :طارق خان یوسفزئی ۔۔۔3 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیِ صحافت منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی یادگار نہیں...
03/05/2026

از قلم :طارق خان یوسفزئی ۔۔۔
3 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیِ صحافت منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی یادگار نہیں بلکہ صحافت کی اصل روح، اس کی ذمہ داریوں اور اس پر آنے والے دباؤ کو سمجھنے کا ایک اہم موقع ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں صحافت کو چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ستون واقعی اتنا مضبوط ہے جتنا ہونا چاہیے؟ اور کیا صحافی آج بھی اسی آزادی کے ساتھ سچ لکھ سکتا ہے جس کا تصور اس دن کے پس منظر میں دیا گیا تھا؟۔آزادیِ صحافت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ صحافی بغیر کسی خوف، دباؤ یا لالچ کے سچ عوام تک پہنچا سکے۔ مگر عملی طور پر یہ تصور کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ کہیں سیاسی دباؤ ہے، کہیں معاشی مشکلات، کہیں ادارہ جاتی حدود اور کہیں خود احتسابی کے نام پر ایسی رکاوٹیں جن سے صحافی کی آواز متاثر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں صحافت ایک مسلسل امتحان بن جاتی ہے۔میری اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے تجربات نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ صحافت صرف خبروں کو الفاظ میں ڈھالنے کا عمل نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ ہر خبر اپنے اندر ایک اثر رکھتی ہے۔ ایک غلط لفظ کسی کی عزت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایک درست خبر معاشرے میں شعور پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت میں غیر جانبداری، تحقیق اور دیانت داری بنیادی ستون ہیں جن کے بغیر یہ پیشہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔آج کے ڈیجیٹل دور نے صحافت کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے خبر کی ترسیل کو تیز تر بنا دیا ہے، لیکن ساتھ ہی فیک نیوز، غیر مصدقہ معلومات اور سنسنی خیزی کو بھی فروغ دیا ہے۔ اب ہر شخص ایک رپورٹر بن چکا ہے، لیکن ہر رپورٹر صحافی نہیں ہوتا۔ صحافی کی پہچان اس کی تحقیق، اس کی تصدیق اور اس کی ذمہ داری سے ہوتی ہے نہ کہ صرف خبر پھیلانے کی رفتار سے۔عالمی یومِ آزادیِ صحافت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحافت صرف آزادی کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی ذمہ داریوں کا نام بھی ہے۔ آزادی اگر بغیر ذمہ داری کے ہو تو وہ انتشار میں بدل سکتی ہے۔ اسی طرح صحافت اگر اصولوں سے ہٹ جائے تو وہ عوام کی رہنمائی کے بجائے گمراہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
بدقسمتی سے دنیا کے کئی حصوں میں صحافی آج بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ کہیں ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، کہیں انہیں معاشی طور پر کمزور کیا جاتا ہے، اور کہیں انہیں سچ بولنے کی قیمت اپنی آزادی یا سلامتی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آزادیِ صحافت ابھی ایک مکمل حقیقت نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صحافت کو کئی اضافی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف عوام کی توقعات ہیں کہ انہیں فوری اور درست معلومات فراہم کی جائیں، تو دوسری طرف ادارہ جاتی اور معاشی دباؤ بھی موجود ہے۔ ایسے میں صحافی کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔میری نظر میں صحافت کا اصل مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔ ایک صحافی اگر اپنے قلم کو دیانت داری سے استعمال کرے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی قلم مفاد، دباؤ یا ذاتی فائدے کے لیے استعمال ہو تو وہی صحافت ایک خطرناک ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔
آج کے دور میں صحافی کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو محفوظ رکھے۔ ساکھ ایک بار خراب ہو جائے تو دوبارہ بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ہر خبر سے پہلے تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ صحافت میں جلد بازی اکثر غلطی کا سبب بنتی ہے، اور غلطی صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحافت کا میدان آج پہلے سے زیادہ مسابقتی ہو چکا ہے۔ ہر ادارہ چاہتا ہے کہ وہ سب سے پہلے خبر دے، لیکن اس دوڑ میں اکثر معیار قربان ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں صحافی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور جلد بازی کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔عالمی یومِ آزادیِ صحافت ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے اس آزادی کا صحیح استعمال کیا ہے؟ کیا ہم نے اس آزادی کو عوامی شعور کی بہتری کے لیے استعمال کیا ہے یا اسے محض سنسنی اور ریٹنگ کی دوڑ میں ضائع کر دیا ہے؟
اصل صحافت وہی ہے جو طاقت کے سامنے سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہو، جو کمزور کی آواز بنے اور جو معاشرے میں انصاف اور توازن قائم کرنے میں کردار ادا کرے۔ صحافت کا حسن اس کی سچائی میں ہے نہ کہ اس کی چمک دمک میں۔
بے شک آزادیِ صحافت ایک عظیم نعمت ہے، لیکن یہ نعمت صرف اسی وقت فائدہ مند ہے جب اسے ذمہ داری، دیانت اور اصولوں کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ صحافت اگر سچ کے ساتھ کھڑی ہو تو یہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، اور اگر یہ راستہ چھوڑ دے تو یہی طاقت معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔3 مئی کا دن ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ صحافی صرف خبر دینے والا نہیں بلکہ سچائی کا محافظ ہے، اور اس محافظ کی سب سے بڑی طاقت اس کا قلم اور اس کی سچائی ہے۔

کالو خان 16 ویں صدی میں افغان یوسف زئی قبیلہ کے لیڈر  اور فوجی رہنما تھے جنہوں نے 16 ویں صدی میں مغلوں کو  زبردست شکست د...
20/04/2026

کالو خان 16 ویں صدی میں افغان یوسف زئی قبیلہ کے لیڈر اور فوجی رہنما تھے جنہوں نے 16 ویں صدی میں مغلوں کو زبردست شکست دی. کالو خان یوسفزئی کا نام مغلوں کے خلاف مزاحمت میں بہت سے تاریخی نسخوں میں کیا گیا ہے. وہ ایک بہادر قبائلی کمانڈر ، ایک سفارت کار اور فوجی حکمران تھے ۔ اسٹریٹجک طور پر ، موجود دور کا خیبر پختونخوا اس وقت مغل سلطنت کے دفاع کے لئے بہت اہم تھا.

خیبر پاس کے ذریعے مواصلاتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے شہنشاہ اکبر جنوری 1586 میں خود اٹک پہنچا۔ کالو خان نے اکبر کے خلاف اس قدر جرات اور استقامت سے مقابلہ کیا کہ مغلوں کو دریائے سندھ کے کنارے قلعہ اٹک تعمیر کرنا پڑا۔ اکبر نے کالو خان کے خلاف ایک مضبوط فوج روانہ کی، جس کی قیادت زین خان کوکا، حکیم ابوالفتح، اور مشہور درباری راجہ بیربل کر رہے تھے۔۔

جب مغل فوج مالندری کے مقام پر پہنچی تو انہیں قریب آنے والے خطرے کا احساس ہوا۔ کچھ سپاہیوں نے دیکھا کہ یوسف زئی جنگجو پہاڑوں کی چوٹیوں پر مورچہ بند ہیں۔ کرہاپہ (بونیر) کی تنگ گھاٹیوں میں کالو خان کی قیادت میں یوسف زئی جنگجوؤں نے مغل افواج پر اچانک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مغل فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس معرکے میں ہزاروں مغل سپاہی مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں راجہ بیربل، خواجہ عرب بخشی، ملا شیرین، اور بٹانی کمانڈر حسن خان شامل تھے۔.

زین خان کوکا اور حکیم ابوالفتح کسی طرح جان بچا کر قلعہ اٹک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ روایت ہے کہ اکبر نے بیربل کی موت پر شدید رنج و غصے کا اظہار کیا اور دو دن تک ان دونوں کمانڈروں سے ملاقات سے انکار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے محبوب درباری بیربل کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا

اکبر کو اپنی پوری حکومت میں اب تک کی سب سے بڑی شکست تھی۔ مغل مورخ خفی خان کے مطابق ، اس لڑائی کے نتیجے میں 40،000 – 50،000 مغل جنگجوؤں کی ہلاکت ہوئی۔ تاہم ، بڈوانی کے مطابق ، اس پورے واقعے کے نتیجے میں 8000 کے قریب مغل جنگجوؤں کی ہلاکت ہوئی.

پختونخوا کے عوام اس فتح کو مغل مداخلت کے خلاف اپنی تاریخی مزاحمت کی ایک اہم علامت سمجھتے ہیں۔
کالو خان یوسف زئی کی قبر ضلع صوابی میں واقع ہے، اور وہاں ایک گاؤں بھی انہی کے نام سے منسوب ہے۔.
#یو

Address

Kanda Ghar Faqeer Killy
Mardan

Telephone

+923179970041

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tariq Khan Yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tariq Khan Yousafzai:

Shortcuts

Share