Yaseen safi

Yaseen safi I have born to be true, not to be perfect.

17/05/2023

‏باقی پوسٹیں معطل کیجئےاورٹاپ_ٹرینڈ_بنا_دیں 💯
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ میرے نبی ﷺ
کا ذکر ہمیشہ بلند رہے گا💯
⁦❣️🥰⁩🥀

پاکستان میں انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروعآپ اب کسی رائیڈر سے کھانا منگوائیں تو ہو سکے تو سو دو سو روپے زیادہ دے دیں تاکہ ی...
13/05/2023

پاکستان میں انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
آپ اب کسی رائیڈر سے کھانا منگوائیں
تو ہو سکے تو سو دو سو روپے زیادہ دے دیں
تاکہ یہ ہمارے بھائی پچھلے کچھ دنوں میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کر سکیں
جو انکو انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہوا۔....
Follow page and share with others.

13/05/2023

مسلمان نے آئی ڈی بند ہونے کے ڈر سے یہ کہنا چھوڑ دیا 👇👇
تاجدارِ ختمِ نبوت زندہ باد

13/05/2023

رات کو بغیر دوائیوں کے سوتے ہو صبح بغیر تکلیف کے اٹھتے ہو تو کہو الحمداللہ❤

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دفعہ ایک چالاک اور دھوکے باز شخص نے کہیں سے ایک گدھا چوری کیا اور اسے فروخت کرنے کے لیے قریبی بازار لے گ...
02/05/2023

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دفعہ ایک چالاک اور دھوکے باز شخص نے کہیں سے ایک گدھا چوری کیا اور اسے فروخت کرنے کے لیے قریبی بازار لے گیا، بازار جانے سے پہلے اس نے گدھے کے منہ میں اشرفیاں ٹھونس کر کپڑے سے اچھی طرح بند کر دیا.
بازار کی پر ہجوم جگہ پر کھڑے ہوکر اس نے گدھے کے منہ سے کپڑا ہٹا دیا، جیسے ہی کپڑا ہٹا گدھے کے منہ سے اشرفیاں نکل کر زمین پر گرنے لگیں، سکوں کی چھنکار سن کر لوگ متوجہ ہوگئے، اور حیران ہوکر پوچھنے لگے کہ گدھے کے منہ سے سکے وہ بھی سونے کے ؟ یہ کیا ماجرا ہے؟
دھوکے باز کہنے لگا، بھائیو یہ ایک عجیب و غریب گدھا ہے اور میں اس سے بہت تنگ ہوں، میں جب بھی پریشان یا اداس ہوتا ہوں تو دن میں ایک بار اس کے منہ سے سونے کی اشرفیاں گرنے لگتیں ہیں، اب تو میرے گھر میں اشرفیاں رکھنے کی جگہ بھی نہیں بچی، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اسے کوئی ضرورتمند اور جانوروں سے پیار کرنے والا تاجر خرید لے، لوگوں نے اشرفیاں گرتی ہوئی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تھیں اور باقی کا قصہ سن کر ہر کسی کی خواہش یہی تھی کہ یہ گدھا جتنے میں بھی مل جائے سستا ہے. ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بولیاں لگاتے ہوئے، آخر کار ایک بڑے تاجر نے خطیر رقم کے عوض اسے خرید لیا، فروخت کرنے والے نے، رقم اور زمین پر گرے ہوئے سکے سمیٹے اور گھر چلا گیا.
جس تاجر نے گدھا خریدا تھا، وہ فخر سے گردن اکڑائے ہوئے چل رہا تھا اور اہل قریہ اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچ گئے، سارے لوگ مل کر اداس اور پریشان شکلیں بنا کر گدھے کے ارد گرد بیٹھ گئے، لوگ گھنٹوں بیٹھ کر انتظار کرتے رہے اور بالآخر وہ سچ مچ پریشان ہوگئے، اس دوران گدھا جو کب سے بھوکا تھا اس نے خوب چارہ کھایا مگر ایک سکہ تک نہ گرا. آخر وہاں سے کسی دانا کا گزر ہوا اس نے بتایا کہ تمھارے ساتھ دھوکا ہوچکا ہے، اس سے پہلے کہ فروخت کرنے والا بھاگ جائے، فوراً اس دھوکے باز کو پکڑو. وہ تاجر اور اہل قریہ اکٹھے ہو کر جب اس دھوکے باز کے گھر کے باہر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹا کر اس کے متعلق استفسار کیا تو اندر سے اس دھوکے باز کی بیوی نے کہا کہ وہ تو کہیں کام سے دوسرے گاؤں گئے ہوئے ہیں، آپ باہر ہی انتظار کریں میں اپنا پالتو کتا بھیجتی ہوں، یہ جاکر انہیں آپ کے متعلق بتائے گا اور انہیں ہر صورت ساتھ بھی لیکر آئے گا، لوگ دلچسپی سے دیکھنے اور سوچنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کتا اپنے مالک کو گھر لائے.
دراصل اس چالاک شخص نے جب دیکھا کہ تمام لوگ اس کے گھر کے باہر جمع ہیں تو اس نے اپنی بیوی کو کتے والی پٹی پڑھائی، گھر میں پہلے سے بندھے ہوئے کتے کو آزاد کیا اور خود گھر کی پچھلی سمت سے چپکے سے نکل گیا، دور جاکر اس نے کتے کو پکڑ لیا اور اس کے ساتھ واپس گھر کی طرف چل دیا.
تھوڑی دیر گزری تو لوگوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ وہی شخص جس نے گدھا فروخت کیا تھا، اسی کتے کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا آرہا تھا. اب سارے لوگ یہ بات بھول کر کہ وہاں کیوں آئے ہیں، کتے کے متعلق پوچھنے لگے کہ یہ کتا تو بڑے کام کا ہے، بتاؤ یہ کتنے کا ہے؟ اسے تو ہر صورت خریدنا ہوگا.
اس دھوکے باز اور چالاک شخص نے پہلے تو انکار کیا لیکن بعد میں اچھے دام ملنے پر وہ کتا اسی ہجوم میں سے ایک دوسرے تاجر کو فروخت کردیا.
اب لوگ ٹولی کی شکل میں صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ کتا گھر سے گئے ہوئے شخص کو کیسے واپس لے کر آتا ہے اس تاجر کے ساتھ چلتے گئے.
تاجر نے گھر جاکر غلام کو کہا کہ تم ساتھ والے گاؤں جاؤ تاکہ کتا تمھیں ڈھونڈ کر واپس لے آئے.
غلام جیسے ہی دوسرے گاؤں پہنچا وہاں سے بھاگ نکلا اور کتا بھی کہیں دور چلا گیا جو واپس نہ آیا. جب غلام اور کتا دونوں واپس نہ آئے تو لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ ایک بار پھر ہمارے ساتھ دھوکا ہوگیا ہے.
وہ دوبارہ اکٹھے ہوکر جب اسی دھوکے باز کے گھر گئے تو وہ ایک بار پھر گھر کے پچھلے خفیہ دروازے سے بھاگ نکلا، اور اس کی بیوی کہنے لگی وہ ساتھ والے گاؤں کسی کام سے گئے ہوئے ہیں، لوگوں نے کہا کہ آج ہم اسکا گھر کے اندر بیٹھ کر انتظار کریں گے، اور یوں دونوں تاجروں سمیت ارد گرد کے تمام لوگ اس کے گھر میں بیٹھ گئے، کافی دیر جب گزر گئی تو وہی دھوکے باز گھر میں داخل ہوا اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے ان کے سامنے جھک جھک کر آداب بجا لانے لگا، بیوی سے پوچھنے لگا کہ میرے خاص مہمانوں کی تکریم میں تم نے کیا کیا؟ ان مہمانوں کو کچھ کھانے پینے کو دیا یا بھوکا ہی بٹھایا ہوا ہے؟ وہ لوگ دل ہی دل میں شرمندہ ہونے لگے کہ ہم جسے دھوکے باز سمجھ رہے ہیں وہ تو بڑا سخی اور مہمان نواز بندہ ہے، اس کی بیوی نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ان فضول اور فالتو لوگوں کو کون اپنا مہمان بناتا ہے، میں نے تو انہیں پانی تک نہیں پوچھا، یہ سن کر وہ شخص غصے میں پاگل ہوگیا اور جیب سے ایک خنجر نکال کر بیوی کے پیٹ میں گھونپ دیا، فوراً لہو بہہ نکلا اور اور اس کی بیوی لہرا کر نیچے فرش پر گر پڑی، وہاں بیٹھے ہوئے لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے کہ ہمارے پیسوں کو تو رہنے دو لیکن ہمارے لیے اپنی بیوی کو قتل کرنا کہاں کی دانشمندی ہے، وہ چالاک اور دھوکے باز کہنے لگا، آپ لوگ فکر نہ کرو یہ ہمارا روزانہ کا کام ہے، میں اسے غصے میں آکر قتل کردیتا ہوں تو دوبارہ اس سینگ سے زندہ بھی کردیتا ہوں، یہ کہتے ہوئے اس نے دیوار پر ٹنگے ہوئے کسی جانور کے بڑے سے سینگ کی طرف اشارہ کیا، پھر وہ سینگ اتارا اور مری ہوئی بیوی کے پاس بیٹھ کر سینگ کو منہ میں دبا کر سپیروں کی طرح جھوم جھوم کر پھونک مار کر بجانے لگا، تھوڑی دیر بعد وہی مقتولہ جو کچھ دیر پہلے سب کے سامنے خنجر کے وار سے ہلاک ہوچکی تھی، اپنے زخم پر ہاتھ رکھے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی، تمام لوگ حیرت زدہ رہ گئے، اور ایک بار پھر وہ سب یہ بات بھول کر کہ یہاں کیوں آئے ہیں، اس سینگ کو خریدنے کے درپے ہوگئے، دھوکے باز نے بولی بڑھانے کی خاطر کہنا شروع کردیا کہ یہ طلسماتی سینگ پوری دنیا میں ایک ہی ہے جو صرف میرے پاس ہے اور میں اسے کسی بھی قیمت پر فروخت نہیں کروں گا، کرتے کرتے ایک بڑے تاجر نے سب سے زیادہ رقم ادا کرکے وہ سینگ خرید لیا، اور سینگ خرید کر وہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے.
جس نے سینگ خریدا تھا، کہنے لگا، میں جو اپنی بیوی کی چخ چخ سے تنگ ہوں، آج اگر اس نے لڑائی کی تو مار دوں گا اور رات سکون سے گزار کر صبح سینگ کی مدد سے زندہ کرلوں گا، لیکن درحقیقت اس دھوکے باز نے جب اپنے گھر کے باہر لوگوں کا اکٹھ دوبارہ دیکھا تو فوراً منصوبہ بنا کر اس میں اپنی بیوی کو شامل کرلیا، لال رنگ کو ایک تھیلی میں ڈال کر بیوی کے کپڑوں میں چھپا دیا، پھر ایک خنجر لیا جس کے دستہ میں خفیہ خانہ اور ایک بٹن تھا جس کو دبانے سے خنجر کا پھل اپنے دستے میں غائب ہوجاتا تھا. اور ایک پرانا بیکار سینگ لیکر دیوار پر ٹانگ دیا اور خود گھر کے خفیہ رستے سے نکل کر تھوڑی دیر روپوش رہ کر واپس آگیا، اور پھر بیوی کو زندہ کرنے کا ڈرامہ رچا کر بیکار سینگ فروخت کردیا تھا.
جس نے سینگ خریدا تو جیسے ہی گھر پہنچا تو اس کی بیوی نے حسب معمول لڑائی شروع کردی اس نے بے فکر ہو کر خنجر نکالا اور بیوی کے پیٹ میں گھونپ دیا، خون نکلا، وہ تڑپی اور ٹھنڈی ہوگئی. اس نے اٹھا کر کمرے میں لٹا دیا اور پوری رات ایسے ہی رہنے دیا، صبح اٹھ کر اس نے بہتیرا سینگ کو مختلف طریقوں سے بجایا مگر وہ تو مردہ ہوچکی تھی، دھیرے دھیرے اسے اپنی بیوقوفی کا احساس ہونے لگا، وہ پچھتاوے کے احساس کے ساتھ گھر سے نکلا تو باہر تمام لوگ اس کے منتظر تھے کہ پتا کریں رات کیا بیتی اور سینگ نے کیا کمال دکھایا. وہ شخص دکھ اور شرمندگی کو چھپانا چاہ رہا رہا تھا مگر کچھ لوگوں نے جب اصرار کیا تو اصل بات اگلوا ہی لی. اب کی بار انہوں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اس نوسرباز کی کسی بات میں نہیں آنا، اور اس کو دیکھتے ہی قابو کرکے ایک بوری میں بند کرکے سمندر برد کر دینا ہے.
سب نے اس پر اتفاق کیا، ایک بار پھر وہ لوگ اکٹھے ہوکر اس دھوکہ باز کے گھر پہنچے اور اندر جاکر اسے قابو کرلیا، بڑی سی بوری میں ڈال کر سمندر کی طرف چل دیئے.
سمندر وہاں سے کافی دور تھا، بوری میں بند دھوکہ باز شخص کو باری باری اٹھاتے ہوئے وہ سب لوگ تھک گئے تھے، سمندر سے نصف فاصلے پر پہنچ کر انہوں نے کہا کہ تھوڑی دیر سستا لیتے ہیں، اس کے بعد آرام سے اسے پانی میں پھینک دیں گے. وہ لوگ تھکے ہوئے تھے، اس لیے جیسے ہی آرام کرنے کے لیے رکے تو انہیں نیند نے آلیا اور وہ بے فکر ہو کر سو گئے. بوری میں بند شخص نے بھوک اور پیاس سے بے حال ہوکر چیخنا چلانا شروع کردیا، مگر وہ تمام لوگ تو خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے، اسی اثناء میں وہاں سے ایک چرواہے کا گزر ہوا اس نے دیکھا کہ لوگوں کا جم غفیر آڑھا ترچھا ہوکر سو رہا ہے، اور ایک طرف پڑی بوری سے چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی ہیں.
اس نے بھیڑ بکریوں کو ایک طرف کھڑا کیا اور آگے بڑھ کر جب بوری کھولی تو اس نے دیکھا کہ اس کے اندر تو کوئی شخص بند ہے، چرواہے نے پوچھا کہ ایک شخص تو کون ہے؟ یہ ارد گرد سوئے ہوئے لوگ کون ہیں؟ اور تجھے بوری میں کیوں بند کیا ہوا ہے، یہ ماجرا کیا ہے؟
دھوکے باز نے کہا سنو یہ تمام لوگ میرے خاندان کے ہیں، یہ میری شادی سمندر پار ایک شہزادی سے زبردستی کرانا چاہتے ہیں، مگر مجھے مال و دولت کی ذرا بھی ہوس نہیں ہے، میں تو اپنی چچا زاد لڑکی سے محبت کرتا ہوں. چرواہا اسکی باتیں سن کر بڑا متاثر ہوا، اور کہنے لگا بتاؤ کیا میں تمھارے کسی کام آسکتا ہوں؟ دھوکے باز کہنے لگا ہاں ہاں کیوں نہیں، تم میری جگہ اس بوری میں آجاؤ، اور جب شہزادی کے سامنے بند بوری کھلے گی تو پھر اس کا تم سے شادی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا. چرواہا یہ سن کر خوش ہوگیا اور ہنسی خوشی اس دھوکے باز کی جگہ بوری میں بند ہوکر بیٹھ گیا. دھوکے باز نے وہاں سے چرواہے کی بھیڑ بکریوں کو ساتھ لیا اور واپس اپنے گھر آگیا.
وہ لوگ جب نیند سے بیدار ہوئے تو انہوں نے بوری کو اٹھایا اور چلتے چلتے آخر کار سمندر میں پھینک دیا، اور مطمئن ہوکر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئے.
اگلے دن انہوں نے دیکھا کہ دھوکے باز شخص کے گھر کے باہر تین چار سو کی تعداد میں بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی ہیں. وہ بڑے حیران ہوکر جب وہاں گئے تو دیکھا کہ جس کو سمندر میں پھینک کر آئے تھے وہ تو گھر میں بیٹھا اپنی بیوی سے گپیں لڑا رہا ہے. انہوں نے تعجب سے پوچھا کہ، ہم نے تو تمھیں کل سمندر میں پھینکا تھا، اور آج تم صحیح سلامت اپنے گھر میں ہو اور باہر بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بھی ہے؟
وہ دھوکے باز شخص کہنے لگا، جب تم لوگوں نے مجھے سمندر میں پھینکا تو وہاں سے ایک جل پری نمودار ہوئی اور وہ مجھے اپنے ساتھ زیر سمندر بنے گھر میں لے گئی، وہاں ہیرے جواہرات اور موتیوں سے بنے ہوئے بے شمار محل اور ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی تھے.
جل پری نے مجھے مہمانوں کی طرح رکھا اور میری خوب خاطر مدارات کی، وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی اور وہاں کا حاکم بنانا چاہتی تھی ، مگر جب میں نے کہا کہ میری پہلے سے ایک بیوی ہے اور میں اپنے گھر جانا چاہتا ہوں تو اس نے کہا کوئی بات نہیں اور اپنی طرف سے بھیڑ بکریوں کا تحفہ دیکر کہنے لگی کہ اگر تمھارے علاقے میں کوئی ایسا ہوا جو یہاں کی جل پریوں سے شادی کرکے یہاں عیش و عشرت کی زندگی گزارنا چاہتا ہو تو اسے یہاں لے آنا، یہ بات سننے کی دیر تھی کہ وہاں آئے ہوئے تمام بوڑھے اور جوان کہنے لگے ہم وہاں جانا چاہتے ہیں اور وہاں جاکر حاکم بننا چاہتے ہیں.
اس دھوکے باز شخص نے کہا کہ تم تو صرف چند افراد ہو اگر اس قصبے کے تمام لوگ بھی وہاں چلے جائیں تو پھر بھی کم ہیں.
انہوں نے کہا کہ ہم قصبے کے ہر شخص کو اپنے ساتھ جانے کے لیے راضی کرلیں گے، دھوکے باز نے کہا ٹھیک ہے کل صبح کے وقت سمندر کے کنارے ہر شخص اپنے لیے ایک بوری اور ایک رسی لیکر پہنچ جائے، اور وہاں پہنچ کر ہر شخص ایک دوسرے کو بوری میں بند کرنے میں مدد کرے گا.
اگلے روز صبح کے وقت دھوکے باز شخص نے سب کو بوری میں بند کیا اور اپنی بیوی کی مدد سے تمام بوریوں کو سمندر میں پھینک دیا. اس کے بعد وہ بیوقوفوں کے قصبے کا تن تنہا مالک بن گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Follow Yaseen aziz

ہماری اور یورپ کی انسانیت میں فرق :یورپ میں چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور اگر کوئی جاننا چاہتا ہو تو بچے کی ...
02/05/2023

ہماری اور یورپ کی انسانیت میں فرق :
یورپ میں چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور اگر کوئی جاننا چاہتا ہو تو بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے۔
ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور %99 ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسی قسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔
عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اس کا خاوند پاس کھڑا اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے۔ ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈیلیوری کے لئے آتی ہے اور خاتون کے گھر والوں سے پہلے ہی پوچھ لیتی ہے کہ آپ کی بیٹی کی پہلی پریگنینسی ہے، اس کا کیس کافی خراب لگ رہا ہے جان جانے کا خطرہ ہے، آپریشن سے ڈیلیوری کرنا پڑے گی۔ %99 ڈاکٹر کوشش کرتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو آپریشن والی ڈیلیوری میں تبدیل کر دیا جائے۔
ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں کلوگرام کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں ڈیلیوری کے وقت خاوند تو دور کی بات خاتون کی ماں یا بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اندر ڈاکٹر اور نرس کیا کرتی ہیں یہ خدا جانتا ہے یا وہ خاتون۔
نارمل ڈیلیوری بیس تیس ہزار میں اور آپریشن والی ڈیلیوری اسی نوے ہزار میں ہو تو ڈاکٹر کا دماغ خراب ہے نارمل کی طرف آئے آخر کو اس کے بھی تو خرچے ہیں بچوں نے اچھے سکول میں جانا ہے نئی گاڑی لینی ہے بڑا گھر بنانا ہے۔ اسلام کیا کہتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے سچ کیا ہوتا ہے بھاڑ میں جائے، صرف پیسہ چاہئیے۔۔100 فیصد ڈاکٹر مافیا جن کو لوگ مسیحا سمجھتے ہیں اصل میں قصائی ہے اگر کسی کو شک ہے تو ان کے درمیان وقت گزاریں سب پتہ لگ جائیں گا کے صحت کا شعبہ پاکستان کے بڑے مافیاز میں سے ایک بن گیا ہے،جہاں مریض،انسانیت،دین ،اخلاقیات ،نہیں صرف کاروبار ہوتا ہے۔۔۔۔

یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائینسدان ابوریحان البیر...
02/05/2023

یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائینسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے، جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 ھے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البہرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی،
‏اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ورثہ کی کیسے قدر کرتے ہیں، اس میں ماسوائے چند بکریاں چرانے والوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت ہی جلد ہم اس عجوبہ سے محروم ہوجائینگے، اس کے علاوہ یہاں تک جانے کا راستہ بھی ٹھیک نہیں ہے، اس کے لئے تقریبا ایک گھنٹہ کا پیدل سفر کرنا پڑے گا،
‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائینسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے، جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 ھے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البہرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی،
‏ا
‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ Study Tours ایسے تاریخی مقامات پر کروایا کریں

یہ تصویر سعودی عرب کے شہر قصیم میں واقع کھجوروں کے ایک باغ کی ہے،اس باغ میں کھجور کے 20 لاکھ درخت ہیں اور یہ باغ راہ خدا...
02/05/2023

یہ تصویر سعودی عرب کے شہر قصیم میں واقع کھجوروں کے ایک باغ کی ہے،اس باغ میں کھجور کے 20 لاکھ درخت ہیں اور یہ باغ راہ خدا میں وقف ہے.

اس باغ میں 45 قسم کی کھجوریں ہوتی ہیں،یہاں کی سالانہ پیداوار 10 ہزار ٹن کھجور ہے.

یہ باغ روئے زمین میں پایا جانے والا سب سے بڑا وقف ہے.

اس باغ کی آمدنی سے دنیا کے مختلف ممالک میں مساجد کی تعمیر،خیراتی کام اور حرمین شریفین میں افطاری کے
دسترخوان لگائے جاتے ہیں.

یہ باغ سعودی عرب کے امیر ترین شخص سلیمان الراجحي
نے اللہ کی راہ میں وقف کیا ہے.

سلیمان الراجحي نے غربت میں آنکھ کھولی وہ سکول میں پڑھ رہے تھے کہ ایک دن سکول انتظامیہ نے تفریحی
ٹور تشکیل دیا اور ہر طالب علم سے ایک ایک ریال جمع کروانے کو کہا یہ گھر میں جاتے ہیں مگر والدین کے پاس ایک ریال تک نہیں ہوتی ہے،یہ بہت روتا ہے،ٹور کے لئے جانے کی تاریخ قریب آتی ہے ادھر ان کے سہ ماہی امتحانات کا رزلٹ آتا ہے یہ کلاس میں پوزیشن لیتے ہیں اور ایک فلسطینی استاد بطور انعام انہیں 1 ریال دیتا ہے.

یہ دوڑتے ہوئے تفریحی پروگرام کے مسئول کے پاس جاتے ہیں اور 1 ریال جمع کراتے ہیں.

وقت کو جیسے پر لگ جاتے ہیں،یہ اپنی تعلیم مکمل کرکے
جدہ شہر میں ایک کمرے کو بنک کا نام دے کر کام شروع
کرتے ہیں مختصر عرصے میں الراجحي کے نام سے بنکوں کا ایک جال پورے سعودی عرب میں پھیل جاتا ہے.

سلیمان الراجحي اپنے اس فلسطینی استاد کی تلاش میں نکلتے ہیں،استاد سے ملاقات ہوتی ہے،وہ ریٹائرڈ ہوچکے ہیں
معاشی حالات ایسے کہ گھر کا چولہا جلانا مشکل ہوا پڑا ہے
راجحی اپنے فلسطینی استاد کو گاڑی میں بٹھاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ میرے اوپر آپ کا قرض ہے.

استاد آگے سے کہتا ہے کہ مجھ مسکین کا کس پر قرض ہوسکتا ہے،راجحی اپنے استاد کو یاد کراتے ہیں کہ سالوں پہلے آپ نے مجھے 1 ریال انعام دیا تھا،استاد مسکراتا ہے کہ آپ اب وہ ایک ریال مجھے واپس کرنا چاہتے ہیں؟

راجحی ایک بنگلے کے سامنے گاڑی کھڑی کرتا ہے،بنگلے کے آگے ایک بیش قیمت گاڑی بھی کھڑی ہے،راجحی اپنے استاد سے کہتا ہے یہ بنگلہ اور گاڑی اب سے آپ کے ہیں،مزید آپ کے تمام اخراجات ہمارے ذمہ ہوں گے.

فلسطینی استاد کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں اور کہتا ہے کہ یہ عالی شان بنگلہ یہ مہنگی گاڑی یہ تو بہت زیادہ ہے.

راجحی کہتا ہے اس وقت آپ کی جو خوشی ہے
اس سے بڑھ کر میری خوشی کا عالم تھا جب آپ نے مجھے 1 ریال انعام دیا تھا .

ایسے محسن شناس انسان کو اللہ ضائع نہیں کرتا ہے.

2010 میں سلیمان الراجحي نے اپنے بچوں بیگمات اور عزیز و اقارب کو بلا کر اپنی دولت ان سب میں تقسیم کر دی اور اپنے حصے میں جو کچھ آیا وہ سب وقف کر دیا.

اس وقت سلیمان الراجحي کے وقف کی مالیت 60 ارب ریال سے زیادہ ہے۔

دیر کی ٹوپی عزت اور احترام کی علامتدیر کی روایتی سفید ٹوپی پوری دنیا میں پختون مردوں کی علامت بن چکی ہے لیکن ضلع سے باہر...
02/05/2023

دیر کی ٹوپی عزت اور احترام کی علامت
دیر کی روایتی سفید ٹوپی پوری دنیا میں پختون مردوں کی علامت بن چکی ہے لیکن ضلع سے باہر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ ٹوپیاں اس قدامت پسند معاشرے کی خواتین نے بنائی ہیں۔
دیر کی یہ ثقافتی ٹوپی جو پوری دنیا میں پشتونوں کی ایک پہچان ہے۔ یہ ٹوپیاں دیر کے مختلف علاقوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ لیکن ان ٹوپیوں کا مرکز "خال" کو مانا جاتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں یہ خوبصورت اور دلکش ٹوپیاں یہاں کے محنت کش عورتیں اپنے ہاتھوں سے بناتی ہیں۔ خال کے کافی لوگوں کا اس کسب سے روزگار وابستہ ہے اور یہ ہنر ان لوگوں کی رزق حلال کمانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔



*یکم مئی ۔ یومِ مزدور*مزدور کی بیوی نے شوہر کو پریشان بیٹھے دیکھ کر پوچھا تم پریشان کیوں ہو ؟ مزدور بولا: میں جن صاحب کی...
01/05/2023

*یکم مئی ۔ یومِ مزدور*

مزدور کی بیوی نے شوہر کو پریشان بیٹھے دیکھ کر پوچھا تم پریشان کیوں ہو ؟
مزدور بولا: میں جن صاحب کی کوٹھی پر مزدوری کر رہا ہوں کل ان کی چھٹی ہے۔ جس دن ان کی چھٹی ہوتی ہے وہ کوٹھی پر آ کر ایک ایک انچ کا جائزہ لیتے ہیں، کوئی نقص نکل آۓ تو ٹھیکیدار ہم مزدوروں کے پیسے کاٹ لیتا ہے۔ اس لیے پریشان ہوں مگر تم کیوں پریشان ہورہی ہو؟
بیوی بولی: جن ڈاکٹر صاحبہ کے گھر میں کام کرتی ہوں، کل اُن کی بھی چھٹی ہے اور جس دن ان کی چھٹی ہوتی ہے اس دن وہ سر پر کھڑے ہو کر کام کرواتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ ایک ایک tile میں تمہاری شکل نظر آنی چاہیے۔ پتہ نہیں کل کس بات کی چھٹی ہے؟
ان کا چھوٹا بیٹا بولا میں بتاتا ہوں کل یومِ مزدور ہے اس لئے سب بڑے صاحب چھٹی کریں گے۔
مزدور اور اس کی بیوی نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا اور پوچھا تمہیں کیسے پتہ ہے؟
بیٹا بولا: آج استاد کہہ رہا تھا کہ صبح 7 بجے سروس اسٹیشن پہنچ جانا دیر ہوئی تو پسلیاں توڑ دوں گا۔
آج یومِ مزدور ہے اور بڑے صاحب لوگوں کی چھٹی ہے، اس لئے روڈوں پر گاڑیوں کا رش بھی زیادہ ہوگا۔

*یکم مئی۔ یوم مزدور زندہ باد*😭

کل ھمارے پڑوس ملک بھارت میں مودی نے E 20 فیول کا افتتاح کیا مطلب ایک لیٹر پیٹرول میں 800 ملی لیٹر پیڑول اور 200 ملی لیٹر...
23/04/2023

کل ھمارے پڑوس ملک بھارت میں مودی نے E 20 فیول کا افتتاح کیا
مطلب ایک لیٹر پیٹرول میں 800 ملی لیٹر پیڑول اور 200 ملی لیٹر ethanol استمال ھو گا اور کیونکہ ethanol بھارت گنے کی مدد سے خود اپنے ملک میں بناتا ھے جسکی وجہ سے بھارت کو سالانہ 33000 کڑور ڈالرز (33 ارب ڈالرز) کی بچت ھوگی,, سوال یہ ہے کہ E20 فیول کیا ہوتا ہے اور اس کی قیمت پٹرول اور ڈیزل کی نسبت کیا ہوتی ہے ؟؟

Address

Safi Abad Post Office Hathian Tehsil Takht Bhai District Mardan
Mardan
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yaseen safi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share