29/04/2024
Bi-lingual clarity: English and Urdu explanations combined!
Urdu Unveiled;
"سرن" (CERN)
تاریخ کا سب سے بڑا انسانی معجزہ ہے‘،،
سرن انسانی کوششوں کی معراج ہے۔۔
سرن ہے کیا ؟؟
سوئٹزرلینڈ اور فرانس دونوں نے مل کر لیبارٹری بنانا شروع کی‘ یہ لیبارٹری سرن کہلاتی ہے‘ یہ کام دو ملکوں اور چند سو سائنس دانوں کے بس کی بات نہیں تھی چنانچہ آہستہ آہستہ دنیا کے 38 ممالک کی 177 یونیورسٹیاں اور فزکس کے تین ہزار پروفیسر اس منصوبے میں شامل ہو گئے‘
سائنس دانوں نے پہلے حصے میں زمین سے 100 میٹر نیچے 27کلو میٹر لمبی دھاتی سرنگ بنائی۔
اس سرنگ میں ایسے مقناطیس اتارے جو کشش ثقل سے لاکھ گنا طاقتور ہیں‘
مقناطیس کے اس فیلڈ کے درمیان دھات کا 21 میٹر اونچا اور 14 ہزار ٹن وزنی چیمبر بنایا گیا‘ یہ چیمبر کتنا بھاری ہے ؟
دنیا کے سب سے بڑے دھاتی اسٹرکچر کا وزن 7 ہزار تین سوٹن ہے‘ سرن کا چیمبر اس سے دگنا بھاری ہے‘ اس چیمبر کا ایک حصہ پاکستان کے ہیوی مکینیکل کمپلیکس میں بنا اور اس پر باقاعدہ پاکستان کا جھنڈا چھاپا گیا‘
سائنس دانوں کے اس عمل میں چالیس سال لگ گئے‘
یہ چالیس سال بھی ایک عجیب تاریخ رکھتے ہیں۔
ملکوں کے درمیان اس دوران عداوتیں بھی رہیں اور جنگیں بھی ہوئیں لیکن سائنس دان دشمنی‘ عداوت‘ مذہب اور نسل سے بالاتر ہو کر سرن میں کام کرتے رہے‘ یہ دن رات اس کام میں مگن رہے‘ سائنس دانوں کے اس انہماک سے بے شمار نئی ایجادات سامنے آئیں مثلاً انٹرنیٹ سرن میں ایجاد ہوا تھا‘ سائنس دانوں کوآپس میں رابطے اور معلومات کے تبادلے میں مشکل پیش آ رہی تھی چنانچہ سرن کے ایک برطانوی سائنس دان ٹم برنرزلی نے 1989ء میں انٹرنیٹ ایجاد کر لیا یوں www(ورلڈ وائیڈ ویب) سرن میں ’’پیدا‘‘ ہوا اور اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔
سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی بھی اسی تجربے کے دوران ایجاد ہوئیں ‘ سرن میں اس وقت بھی ایسے سسٹم بن رہے ہیں جو اندھوں کو بینائی لوٹا دیں گے‘ ایک چھوٹی سی چپ میں پورے شہر کی آوازیں تمام تفصیلات کے ساتھ ریکارڈ ہو جائیں گی‘ ایک ایسا سپرالٹرا ساؤنڈ بھی مارکیٹ میں آرہا ہے جو موجودہ الٹرا ساؤنڈ سے ہزار گنا بہتر ہوگا ‘ ایک ایسا لیزر بھی ایجاد ہو چکا ہے جو غیر ضروری ٹشوز کو چھیڑے بغیر صرف اس ٹشو تک پہنچے گا جس کا علاج ہو نا ہے‘ ایک ایسا سسٹم بھی سامنے آ جائے گا جو پورے ملک کی بجلی اسٹور کر لے گا اور سرن کا گرڈ کمپیوٹر بھی عنقریب مارکیٹ ہو جائے گا‘ یہ کمپیوٹر پوری دنیا کا ڈیٹا جمع کرلے گا۔
یہ تمام ایجادات سرن میں ہوئیں اور یہ اس بنیادی کام کی ضمنی پیداوار ہیں‘ سرن کے سائنس دان اس ٹنل میں مختلف عناصر کو روشنی کی رفتار (ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ) سے لگ بھگ اسپیڈ سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور پھر تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ یہ عناصر ایٹم سے اربوں گنا چھوٹے ہوتے ہیں‘ یہ دنیا کی کسی مائیکرو اسکوپ میں دکھائی نہیں دیتے‘ سائنس دانوں نے 2013ء میں تجربے کے دوران ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو تمام عناصر کو توانائی فراہم کرتا ہے‘ یہ عنصر ’’گاڈ پارٹیکل‘‘ کہلایا‘ اس دریافت پر دو سائنس دانوں پیٹر ہگس اور فرینکوئس اینگلرٹ کونوبل انعام دیا گیا‘ یہ دنیا کی آج تک کی دریافتوں میں سب سے بڑی دریافت ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے مادے کی اس دنیا کا آدھا حصہ غیر مادی ہے‘ یہ غیر مادی دنیا ہماری دنیا میں توانائی کا ماخذ ہے‘ یہ لوگ اس غیر مادی دنیا کو ’’اینٹی میٹر‘‘ کہتے ہیں‘یہ اینٹی میٹر پیدا ہوتا ہے‘کائنات کو توانائی دیتا ہے اور سیکنڈ کے اربوں حصے میں فنا ہو جاتا ہے‘ سرن کے سائنس دانوں نے چند ماہ قبل اینٹی میٹر کو 17 منٹ تک قابو رکھا ‘ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا‘ یہ لوگ اگر ’’اینٹی میٹر‘‘ کو لمبے عرصے کے لیے قابو کر لیتے ہیں تو پھر پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت چند سیکنڈز میں پوری ہو جائے گی‘ دنیا کو بجلی اور پٹرول کی ضرورت نہیں رہے گی‘
سرن ایک انتہائی مشکل اورمہنگا براجیکٹ ہے اور سائنس دان یہ مشکل کام65 سال سے کر رہے رہے ہیں۔
یہ لیبارٹری دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جن میں پاکستان اور پاکستانیوں کی بہت عزت کی جاتی ہے‘ اس عزت کی وجہ ڈاکٹر عبدالسلام ہیں‘ ڈاکٹر عبدالسلام کی تھیوری نے سرن میں اہم کردار ادا کیا‘ عناصر کو ٹکرانے کے عمل کا آغاز ڈاکٹر صاحب نے کیا تھا‘ ڈاکٹر صاحب کا وہ ریکٹر اس وقت بھی سرن کے لان میں نصب ہے جس کی وجہ سے انھیں نوبل انعام ملا۔
دنیا بھر کے فزکس کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں اگر ڈاکٹر صاحب تھیوری نہ دیتے اور اگر وہ اس تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے یہ پلانٹ نہ بناتے تو شاید سرن نہ بنتا اور شاید کائنات کو سمجھنے کا یہ عمل بھی شروع نہ ہوپاتا چنانچہ ادارے نے لیبارٹری کی ایک سڑک ڈاکٹر عبدالسلام کے نام منسوب کر رکھی ہے‘ یہ سڑک آئین سٹائن کی سڑک کے قریب ہے اور یہ اس انسان کی سائنسی خدمات کا اعتراف ہے جسے ہم نے مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھا دیا‘ جسے ہم نے پاکستانی ماننے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
سرن میں اس وقت 10 ہزار لوگ کام کرتے ہیں‘ ان میں تین ہزار سائنس دان ہیں یوں یہ دنیا کی سب سے بڑی سائنسی تجربہ گاہ ہے‘یہ تجربہ گاہ کبھی نہ کبھی اس راز تک پہنچ جائے گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات تخلیق کی تھی‘ یہ راز جس دن کھل گیا اس دن کائنات کے سارے بھید کھل جائیں گے‘
ہم اس دن قدرت کو سمجھ جائیں گے۔
علامہ عنایت اللّٰہ خان المشرقی نےفرمایاتھا کہ ایک دن انسان قدرت کے تمام بھید جان لےگا اور وہ دن انسانیت کی تکمیل کا دن ہوگا اور اسکےساتھ ہی انسان کو خلیفہ بنانے کا قدرت کا مقصد پورا ہوجائیگا۔
سرن میں ایک نوجوان پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر مہر شاہ بھی کام کرتے ہیں۔‘ یہ بہت متحرک‘ کامیاب اور ایکٹیو قسم کے سائنس دان ہیں‘اللہ نے انھیں ابلاغ کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے‘ ڈاکٹر مہر سمیت ہمیں وہاں ہزاروں درویش ملے‘ ایسے درویش جو اس راز کی کھوج میں مگن ہیں جسے آج تک مذہب نہیں کھول سکا‘
یہ لوگ اصل درویش ہیں‘ یہ انسانیت کے بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں‘
یہ لوگ واقعی عظیم اور قابل عزت ہیں۔
پاکستان بھی سرن کا ممبر ہے‘ حکومت پاکستان ہر سال 22کروڑ روپے فیس ادا کرتی ہے‘ہمیں اس فیس کا فائدہ اٹھانا چاہیے ‘ڈاکٹر مہر کے بقول سرن طالب علموں کومفت تعلیم دیتا ہے‘ ہمارے نوجوانوں کو اس سہولت کا فائدہ اٹھانا چاہیے‘ ہمارے نوجوان ایف ایس سی سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے لیے سرن سے وظائف لے سکتے ہیں ‘ دوسرا سرن ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے اوپن ادارہ ہے‘ اس کا ہر ممبر کوئی بھی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے‘ پاکستان کو اس سہولت کا بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ہم اگر سرن سے صرف میڈیکل سائنس اور زراعت کی ٹیکنالوجی ہی لے لیں تو یہ بھی ہمارے کے لیے کافی ہو گی ‘ ہمارے بے شمار مسائل حل ہو جائیں گے۔۔
English Unveiled;
"CERN: The Greatest Human Marvel!
CERN is the greatest human-made wonder, a testament to human achievement and scientific progress. It's a laboratory where scientists from around the world collaborate to advance our understanding of the universe. This laboratory was established by Switzerland and France, but it's not just a project of two countries or a few hundred scientists. Over time, 38 countries and 177 universities have joined this project, with over 3,000 physics professors involved.
The scientists first built a 27-kilometer-long metal tunnel 100 meters underground. They then installed powerful magnets inside this tunnel, which are a hundred times stronger than the Earth's magnetic field. A 21-meter-high and 14,000-ton chamber was built in the middle of this magnetic field. This chamber is so heavy that it's twice the weight of the largest metal structure in the world.
Pakistan is also a part of this project, and a component of this chamber was built at the Heavy Mechanical Complex in Pakistan, with the Pakistani flag proudly displayed on it. It took 40 years for scientists to complete this project, and during this time, there were wars and conflicts between countries, but scientists from different countries and religions worked together without any discrimination.
This project has led to numerous innovations, including the internet, CT scans, and MRI technology. The scientists at CERN are working on a system that will store electricity for the entire country, and they are also developing a supercomputer that will collect data from all over the world.
The scientists at CERN are working on a project to collide different elements at a speed of 186,000 miles per second, which is close to the speed of light. They are studying the changes that occur when these elements collide, and this research has led to the discovery of a new element called the "God particle," which provides energy to all elements.
The scientists believe that half of the universe is made up of non-material elements, which are the source of energy for our universe. They have named this non-material element "antimatter," which is produced and then disappears in a fraction of a second. If scientists can control antimatter for a longer period, it will provide enough energy for the entire world, and we will no longer need electricity or petrol.
CERN is a very difficult and expensive project, and scientists have been working on it for 65 years. This laboratory is one of the few places in the world where Pakistan and Pakistanis are highly respected, and this respect is due to Dr. Abdus Salam, who played a crucial role in the discovery of the Higgs boson particle.
Dr. Abdus Salam's theory and work at CERN led to the development of the Large Hadron Collider, which has enabled scientists to study the universe in unprecedented ways. The world's top physicists believe that if Dr. Abdus Salam had not presented his theory and built this plant, CERN would not have been possible, and we would not have been able to understand the universe in the way we do today.
The organization has named a street at the laboratory after Dr. Abdus Salam, which is a recognition of his scientific services. This street is located near Einstein's street, and it's a testament to the fact that we have ignored a great scientist like Dr. Abdus Salam due to religious biases.
Currently, 10,000 people are working at CERN, including 3,000 scientists, making it the largest scientific research center in the world. This research center will one day uncover the secrets of the universe, and we will understand how God created this universe.
Allama Inayatullah Khan Al-Mashriqi said that one day humans will discover all the secrets of the universe, and that will be the day of human completion. And with that, God's purpose of making humans His caliph will be fulfilled.
There is a young Pakistani scientist, Dr. Maher Shah, who is also working at CERN. He is a very active and successful scientist who has been blessed with the ability to communicate complex ideas in a simple way. We met thousands of scientists like him at CERN who are working to uncover the secrets of the universe.
Pakistan is also a member of CERN, and the government pays an annual fee of 22 crores rupees. We should take advantage of this membership and the opportunities it provides. Dr. Maher says that CERN provides free education to students, and our young people can benefit from this opportunity. Additionally, CERN is an open institution for technology transfer, and any member country can acquire any technology from it. Pakistan should also take advantage of this opportunity.
If we can get just medical science and agricultural technology from CERN, it will be enough for us. Our numerous problems will be solved, and we will make progress in many fields."
Writer; Saleem Ullah