01/03/2026
بریکنگ ایران۔امریکہ سمجھتا ہے کہ اس بحری بیڑے کو اسی لمحے کے لیے بنایا گیا جس کے لیے چار سال میں 13 بلین ڈالر سے 4.5 ایکر بڑے ایریا پر ابراہم لنکن بنایا گیا۔وہاں پانچ ہزار امریکی فوجی پہرے دے رہے تھے۔لیکن ایران کو اس بات ہر یقین ہے نمبر جنگ کا فیصلہ نہی کرتے۔طاقت کا توازن نہی رہے گا۔اصل سوال یہ ہے کہ پینٹاگان کیا کر سکتا ہے وہ حاصل کیا کرنا چاہتا ہے کیونکہ سٹریٹجی ہمشہ ایکشن سے پہلے بنتی ہے۔اور امریکہ کا مقصد ابھی بھی غیر واضع ہے کیا یہ رجیم جینج ہے یا نیو کلیر ڈیل ہے یا ایران کے بیلسٹک میزائل کی تباہی۔بہت سارے فیکٹر ہیں حملہ کب اور کہاں کرتا ہے امریکہ۔دیر سے حملہ ہونے کا مطلب ایران توازن نہی کھو پائے گا۔ ایران اپنے جنگی توازن کو روس اور چین کی مدد سے بلند کر چکا ہےجون جنگ کے بعد سے ایران نے وقت ضائع نہی کیا۔جون جنگ کے بعد جدید
ہتھیا روں کی کمی پورا کرنے کے لیے مسلسل چین اور روس کے ساتھ ہر طرح کی جدید دفاعی نظام کی ڈیل جاری رہی اور آج ایران کے لوگ بھی متحد ہیں کہیں سے بھی حملہ ہوا ایران ہر طرح سے کسی بھی جگہ دشمن کو وار کرے گا تا کہ وہ مجبور ہوجائے جنگ بندی پر۔ایران ہر طرح کا وار کرے گا دشمن کو مشرق وسطی میں موجود ہر جگہ شکست دینے کی کوشش کرے گا۔اس سے شاید مشرق وسطی میں امریکہ کے قریبی ساتھی بھی اسے چھوڑ دیں۔پھر تباہی ہی تباہی ہو گی۔جس کا انجام امریکہ کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور اسرائیل کا بھی شاید خاتمہ ہو جائے ورنہ کم از کم ایرانی بیلیسٹک میزائل سسٹم سے اسرائیل کی معیشت تو نست و نابود ہو جانی ہے ۔یا اللہ ایران کو کامیاب فرما۔ سب کہین آمین۔