06/06/2026
10 روپوں اوواخہ 😭😭🥲🥲
یہ ویڈیو تو آپ لوگوں نے دیکھی ہوگی جس میں ایک بندہ اپنے پیسوں کے گھمنڈ میں آکر ایک غریب ڈھول والے سے اتنی بدتمیزی سے کہتا ہے کہ "دس روپے کا تو بجا دو یہ ڈھول!"۔ وہ غریب کی غربت کا مذاق اڑا رہا تھا، لیکن اس ڈھول والے نے آگے سے جو جواب دیا، اس نے سب کا سر شرم سے جھکا دیا۔ اس نے بڑے پیار سے کہا: "نہیں بھائی، پڑوس میں فوتگی ہوئی ہے، میں نہیں بجا سکتا۔"
اس بات پر مجھے اداکارہ سشمتا سین کا ایک جملہ یاد آگیا کہ,
سامنے والا جتنا مرضی بدتمیزی سے سوال کرے، آپ اتنی ہی تمیز سے جواب دیں، کیونکہ آپ کا جواب آپ کی اپنی پہچان ہوتا ہے۔ اس غریب ڈھول والے نے یہی کر کے دکھایا۔ ایک گھٹیا سوال کا اتنا بڑا اور بااصول جواب دیا کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔ جس بندے کا گھر اس ڈھول سے چلتا ہے، جس کے بچے شاید بھوکے بیٹھے ہوں، وہ چند پیسوں کے لیے اپنے پڑوس کا غم نہیں بھولا۔ اس نے بھوک چن لی، لیکن انسانیت کو نہیں بیچا۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ غریب لوگ ہی ہمارے معاشرے کے سب سے مخلص اور حساس لوگ ہیں، لیکن افسوس کہ ہم نے ان جیسے اچھے انسانوں کے لیے معاشرے میں کوئی عزت اور جگہ ہی نہیں چھوڑی۔ ہم پیسے والے کو سلام کرتے ہیں اور ایسے سچے انسانوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔