30/03/2026
*مستونگ مسائل کا گھڑ بن چکا ہے۔۔ اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی صورتحال ، شہر میں پانی کا بحران، شہر میں صفائی کی گھمبیر صورتحال ، تعلیم و صحت کے مسائل عوام کےلیے درد سر بن گئے ہیں۔۔لوگوں کے جان و مال محفوظ نہیں۔۔سمارٹ لاک ڈاؤن اور توانائی بحران کے نام پر سکولوں کی بندش سے بلوچستان مزید تعلیمی پسماندگی کا شکار ہورہا ہے۔۔بلوچستان کا مسلہ طاقت سے نہیں سیاسی طور پر حل ہوسکتا ہے۔۔حالیہ ایران امریکہ اسرائیل تنازعہ پوری دنیا خصوصا وسطی اور جنوبی ایشیاء کو بری طرح متاثر ہونگے۔۔موجودہ تنازعہ کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کےلیے تمام ممالک کوششیں تیز کریں*
*نیشنل پارٹی مستونگ*
*مستونگ////نیشنل پارٹی مستونگ کے ضلع سیکرٹریٹ میں پارٹی کے ضلعی، تحصیل و لیبر ونگ کے عہدیداران کا علاقائی ، ملکی، بین الاقوامی سیاسی صورتحال سمیت پارٹی کی تنظیمی امور و علاقائی مسائل پر اظہار خیال۔۔۔اس موقع پر ضلعی صدر میر سکندر ملازئی، جنرل سیکرٹری سجاد دہوار، سوشل میڈیا سیکرٹری وزیر خان شاہوانی، ضلعی لیبر ونگ کے صدر ظفر بلوچ، تحصیل سٹی کے صدر رحمت بلوچ، نائب صدر امداد بلوچ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عمران بلوچ و دیگر سینئر دوستوں موجود تھے۔۔پارٹی رہنماؤں نے مستونگ کے عوامی مساحل پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا۔۔خصوصا لاک ڈاؤن کے نام پر تعلیمی اداروں کی بندش کو حکومت کی جانب سے تعلیم دشمن اقدام قرار دیتے ہوۓ اس عمل کی بھرپور مذمت کی گئی اور کہا کہ بلوچستان پہلے ہی ےعلیمی پسماندگی کا شکار ہے۔۔فارم 47 کی صوبائی حکومت بلوچستان کو مزید تعلیمی پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔لہذا حکومت اپنے اس تعلیم دشمن اقدام کو فوری واپس لیکر تعلیمی اداروں کے جلد کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔۔ ۔۔پارٹی رہنماؤں نے مستونگ میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائمز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ پولیس انتظامیہ کی غفلت و لاپروائی کی وجہ سے لوگوں کی نہ جان محفوظ نہیں مستونگ شہر سمیت پورے ضلع میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں عام ہیں دن دھاڑے اور سر شام مستونگ شہر میں دکانوں میں ڈکیتی اور موٹرسائیکل چھینے کی واردات اس کی واضع ثبوت ہیں۔۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مستونگ بڑھتے ہوۓ جرائم اور واداتوں لیکر مستونگ شہر سمیت پورے ضلع میں امن و امان کی بحالی کےلیے فوری اقدامات کریں۔ نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ مستونگ شہر میں پینے کے پانی کا بحران بدستور جاری ہے۔۔15 واٹر سپلائی ٹیوب ویلوں کے ہوتے ہوۓ عوام کو پینے کا پانی میسر نہ ہونا محکمہ پی ایچ ای کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔۔ ڈپٹی کمشنر مستونگ اور ایکسین پی ایچ ای پانی کی بہتر فروانی کےلیے اقدامت کریں تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔۔پارٹی رہنماؤں نے حالیہ عالمی تنازعات کو خطے کےلیے انتہاہی خطرناک قرار دیتے ہوۓ کہا کہ موجودہ حالات بہت بڑے انسانی المیے کی جانب گامزن نظر آرہے ہیں۔۔جس کے اثرات پورے دنیا خصوصا وسطی و جنوبی ایشیاء پر زیادہ پڑہیں گے۔۔۔انہوں نے کہا کہ ملک خصوصا بلوچستان کی گھمبیر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ جہاں بھی طاقت کا استعمال ہورہا ہے حالات بہتر ہونے کے بجاۓ مزید ابتر ہوتے جارہے ہیں جس کی اصل وجہ مسائل کو سیاسی طریقے سے حل نہ کرنا ہے کیونکہ بلوچستان کا مسلہ سیاسی ہے لیکن حکمران مسلے کو بات چیت کے بجاۓ گزشتہ ستر سالوں سے طاقت کی ایماء پر حل کرنا چارہے ہیں۔۔جب تک اسلام آباد کی سوچ بلوچستان کے بارے تبدیل نہیں ہوگی۔۔ بلوچستان کی صورتحال مزہد گھمبیر ہوگی۔۔بلوچستان سمیت پورے ملک کے مسائل کا حل صاف شفاف انتخابات اور حقیقی جمہورہت کے قیام پر منحصر ہے۔۔فارم 47 کی پیداوار حکومت کے پاس کوئی سیاسی وژن نہیں ہے۔حقیقی سیاسی و عوامی جماعتوں کا راستہ نہ روکھا جاتا تو ملک اور بلوچستان کے حالات اس نہج پر نہ پہنچتے۔۔۔۔۔تنظیمی امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔۔ ضلعی صدر میر سکندر ملازئی نے کہا کہ عنقرہب ضلع کونسل کا اجلاس طلب کرکے اہم تنظیمی فیصلے کیے جائیں گے۔۔۔*