22/03/2026
*ایک بھائی نے میسج کیا جو میں آپ لوگوں سے شیئر کر رہا*
السلام علیکم
آج تسنیم ہسپتال بن حافظ جی میں ایمرجنسی مریض لے کر جانا ہوا ہاں پہلے بھی مریضوں کا رش تھا
میں نے بھی فرنٹ ڈسک پر ایمرجنسی رسید کٹوائی جب میں نے رسید چیک کی کہ پہلے تو ایمرجنسی ڈاکٹر چیکنگ فیس500 روپے تھی
آج جب میں نے رسید چیک کی تو ڈاکٹر صاحب کی چیکنگ فیس 1500 روپے تھی
میں نے جب اور بندوں کی رسیدیں چیک کی تو ادھر بھی سب کی رسید 1500 روپے کٹی ہوئی تھی
ادھر ڈاکٹر عامر صاحب موجود تھے اور ان کے ساتھ عملہ بھی تھا اور ڈاکٹر فرحان صاحب بھی موجود تھے تو میں نے ڈاکٹر صاحب سے ریکویسٹ کی کہ سر پہلے تو ایمرجنسی فیس 500روپے ہوتی تھی تو اج 1500روپے کیوں لی جا رہی ہے
تو ڈاکٹر عامر صاحب نے جوابا کہا کہ اج تو عید منانے کا دن ہے ہم ہر مریض سے ہزار روپے عیدی لے رہے ہیں اس ہسپتال کا سنا تو یہ تھا کہ یہ عوامی ہاسپٹل ہے اور عوام کی سہولت کے لیے ہر ٹائم اوپن رہتا ہے مگر اج ڈاکٹر عامر صاحب نے کہا کہ ہم تو عید منانے کے لیے بیٹھے ہیں
میری ڈپٹی کمشنر میانوالی
*ڈی سی میانوالی صاحب سے ریکویسٹ ہے کہ یہ غریب عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے اور خصوصا جن مریضوں کے پاس عید دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ مریض کہیں اور لے جاؤ ہم نے چیک نہیں کرنا پہلے ہم عیدی لیں گے پھر مریض چیک کریں گےمیری اعلی حکام سے اپیل ہے کہ یہ اس ہسپتال اور خصوصا جو ڈاکٹر یہ عیدی لے رہے تھے ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے
اور میری علاقائی سیاسی میڈیا والے بھائی اور سوشل میڈیا والے بھائیوں سے اپیل ہے کہ ایسے ڈاکٹر جو اس ہسپتال میں جلاد بن کے بیٹھے ہیں ان کے خلاف اعلی حکام تک غریب عوام کی اواز پہنچائیں.