Numal Info

Numal Info Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Numal Info, Media/News Company, Mianwali.

18/12/2025

*ہر انسان کا اللہ سبحان وتعالی سے ایک مضبوط مگر پوشیدہ تعلق ہوتا ہے جسے کوئی انسان نہ تو سمجھ سکتا ہے نا جان سکتا ہے ضروری نہیں ہے کہ اس تعلق کو بنانے کے لیے آپ کے پاس بہت زیادہ علم ہو یا آپ عالم کہلایں بلکہ یہ وہ تعلق ہے جو انسان کی روح سے وابستہ ہوتا ہے جس میں کسی حد تک اللہ کا خوف لیکن زیادہ اللہ کی محبت ہوتی ہے انسان اللہ کے قرب کو محسوس کرتا ہے اور اس کی دوری یا عبادات میں ذرہ سی کمی اس کے دل کو غمگین کرنے لگتی ہے ایک مومن کی زندگی اسی کیفیت میں گزرتی ہے وہ اللہ کے لیے اپنے نفس سے لڑتا ہے جنگ کرتا ہے توبہ کرتا ہے بار بار پلٹتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملتا ہے*

پہاڑ توڑ کر راستہ بنانے والا سچا ہیرو — دسارتھ مانجھی کی ناقابلِ یقین حقیقتآپ نے فرہاد اور شیریں کی کہانی تو سنی ہوگی، ل...
30/11/2025

پہاڑ توڑ کر راستہ بنانے والا سچا ہیرو — دسارتھ مانجھی کی ناقابلِ یقین حقیقت

آپ نے فرہاد اور شیریں کی کہانی تو سنی ہوگی، لیکن آج میں آپ کو ایک ایسے سچے فرہاد کی کہانی سنانے جا رہا ہوں جس نے حقیقت میں پہاڑ کا سینہ چیر کر راستہ بنا دیا۔
یہ شخص تھا دسارتھ مانجھی — بھارت کے بہار کا ایک غریب مگر غیر معمولی ہمت والا انسان۔

1959 میں مانجھی کی بیوی فالگونی شدید بیمار پڑ گئی۔ گاؤں میں ڈاکٹر نہیں تھا اور قریبی اسپتال 70 کلومیٹر دور تھا۔
راستہ پہاڑوں سے گھرا ہونے کے باعث مشکل تھا، اور بدقسمتی سے مانجھی اپنی بیوی کو بروقت ڈاکٹر تک نہ پہنچا سکا۔ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔

یہ صدمہ مانجھی کی زندگی بدل گیا…

اس نے عہد کیا کہ:

“میں اپنے گاؤں کے لوگوں کے لیے راستہ بنا کر رہوں گا، چاہے مجھے اپنی پوری زندگی لگا دینی پڑے۔”

صرف ایک ہتھوڑا اور چھینی کے ساتھ اس نے اکیلے پہاڑ کاٹنا شروع کیا۔
لوگ اسے پاگل کہتے، اس کا مذاق اُڑاتے، مگر وہ روزانہ پتھر پر ضرب لگاتا رہا۔

یہ سفر ایک دو دن یا ایک دو سال کا نہیں تھا…

پوری 22 سال کی جدوجہد!

1960 سے 1982 تک وہ بغیر تھکے پہاڑ کاٹتا رہا۔
اور پھر آخرکار ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

مانجھی نے:

پہاڑ کے اندر سے 15 کلومیٹر طویل راستہ بنایا

راستہ 30 فٹ چوڑا تھا

جس سے لوگوں کا سفر 55–70 کلومیٹر سے گھٹ کر صرف چند منٹ رہ گیا

گاؤں والوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے آسان ہوگئی۔

2007 میں 73 سال کی عمر میں مانجھی کا انتقال ہوا تو حکومت نے اسے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا۔ بعد میں اس کی زندگی پر فلم "Manjhi – The Mountain Man" بھی بنائی گئی۔

یہ کہانی سکھاتی ہے کہ:

ایک شخص کی ہمت پورے علاقے کی تقدیر بدل سکتی ہے

محبت اور عزم پہاڑ بھی ہلا سکتے ہیں

لوگ چاہے مذاق اُڑائیں، مگر مستقل مزاجی ناممکن کو ممکن کر دیتی ہے

سچا ہیرو وہ نہیں جو طاقت دکھائے،
بلکہ وہ ہے جو دوسروں کی زندگی آسان کرے۔

Please follow like and comnts

28/11/2025
08/09/2025
30/07/2025

"وقت آ گیا ہے انصاف کا! عمران خان
کو رہا کرو – 5 اگست کی پکار!"









ویسے تو پانی کو زندگی کی علامت کہا جاتا ہے مگر یہ ندی کا ہو، نہر، دریا، سمندر کا پھر ’چُلو بھر‘ موت کے ساتھ بھی اس کا گہ...
20/07/2025

ویسے تو پانی کو زندگی کی علامت کہا جاتا ہے مگر یہ ندی کا ہو، نہر، دریا، سمندر کا پھر ’چُلو بھر‘ موت کے ساتھ بھی اس کا گہرا تعلق نکلتا ہے تاہم دنیا میں ایک ایسا سمندر بھی موجود ہے جس کے نام کا مطلب ہی ’موت‘ ہے مگر کوئی اس میں ڈوبنا بھی چاہے تو نہیں ڈوب سکتا۔

اس کی وجہ کیا ہے لیکن اس سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ یہ کہاں پہ ہے اور اس میں مزید کون کون سے راز چھپے ہیں۔

انگریزی ویب سائٹ سائنس سائٹ اور بریٹینکا ڈاٹ کام پر اس حوالے سے کافی تفصیل بتائی گئی ہے۔

یہ نسبتاً کم بڑا سمندر ہے اسی لیے اس کے لیے ’سی‘ یا بحیرہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جبکہ بڑے سمندر کے لیے انگریزی میں اوشن اور اردو میں ’بحر‘ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

قدرت کا حیرت انگیز نمونہ

ڈیڈ سی فسلطین، اردن اور اسرائیل کے درمیان واقع ہے۔ اس کو دنیا کا سب سے نشیبی مقام بھی کہا جاتا ہے، یہ سطح سمندر سے تقریباً ساڑھے 14 ہزار فٹ نیچے ہے۔ اس لیے بارشوں کا پانی یہاں پر جمع تو ہوتا رہتا ہے مگر وہاں سے کہیں جاتا نہیں سوائے اس کے کہ بخارات میں تبدیل ہو کر اڑ جائے اور یہ عمل صدیوں سے جاری ہے۔

اسی وجہ سے نیچے صرف نمکیاتی مادہ اور کچھ معدنیات رہ گئی ہیں اور ان کے باعث اس کا پانی اس حد تک کثیف ہے کہ اس میں کسی جاندار چیز کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بحیرہ مردار میں بے تحاشا نمک اور دوسری معدنیات موجود ہیں (فوٹو: شٹر سٹاک)

یہی وجہ ہے کہ وہاں پر کوئی مچھلی پائی جاتی ہے نہ کوئی پودے، ہاں سائنسدانوں کو کچھ ایسے بیکٹیریا ضرور ملے ہیں جو اس قسم کے ماحول کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی خصوصیت کی بنا پر ہی اس کو ڈیڈ سی یا بحیرہ مردار کہا جاتا ہے یعنی وہ مقام جہاں زندگی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔
یہ 40 میل سے زائد کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی ایک ہزار دو سو 40 فٹ تک ہے۔ اس کی چوڑائی تقریباً 11 میل تک ہے۔

سیاحت اور ’علاج‘ ساتھ ساتھ
یہ سیاحت کے مقام کے طور پر بھی کافی مشہور ہے اور دنیا بھر سے لوگ اس کی سیر کے لیے آتے ہیں، چونکہ پانی میں نمک اور معدنیات کی کافی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے اس لیے لوگ کچھ بیماریوں کے علاج کے لیے بھی یہاں آتے ہیں۔

سیاح اس میں نہانے کے علاوہ وہاں کی مٹی کو بھی جسموں پر لگا کر ساحل پر لیٹے رہتے ہیں اور اس کو صحت کے لیے اچھا عمل قرار دیا جاتا ہے۔

ڈیڈ سی ایک سیاحتی مقام بھی ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں وہاں سیر کے لیے جاتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اس میں انسان کیوں نہیں ڈوبتے؟
صدیوں سے چلے آنے والے اس سلسلے کے بارے میں ماضی میں کافی دیومالائی کہانیاں بھی مشہور رہی ہیں تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق ایک ساننسی وجہ سے ہے۔
اس کو کھارے پانی کا سمندر بھی کہا جاتا ہے

اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کے پانی میں بے تحاشا نمک شامل ہے اور ہر ایک کلوگرام پانی میں ساڑھے تین سو گرام تک نمک ہوتا ہے جس سے ہر لیٹر پانی کی کثافت ایک اعشاریہ 24 کلوگرام تک ہوتی ہے۔
انسان کے خلیوں کی اوسط کثافت ایک لیٹر میں ایک کلوگرام سے کچھ اوپر ہوتی ہے جو کہ بحیرہ مردار کی پانی کی کثافت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی طور پر انسانی جسم کا وزن نمکین پانی کی کثافت سے کافی کم ہوتا ہے، اس لیے جب بھی کوئی پانی میں اترتا ہے تو بھلے وہ کتنے ہی گہرے مقام پر کیوں نہ ہو وہ ڈوبتا نہیں بلکہ چھلانگ کے وقت ڈوبنے کے بعد بھی فوراً اسی طرح سطح پر آ جاتا ہے جیسے وہ کسی ٹیوب پر بیٹھا ہو یا لائف جیکٹ پہنی ہوئی ہو۔
اس لیے وہاں جانے والے لوگ پانی کی سطح پر لیٹ کر باتیں کرتے یا کتابیں پڑھتے رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیڈ سی کے پانی کی سطح میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور اردگرد کا ایریا خشک ہو رہا ہے

چند دیگر خصوصیات
اس کے اردگرد ایسے تاریخی اور مذہبی مقامات موجود ہیں جو سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں

جبکہ ایسی متعدد غاریں بھی واقو ہیں جو زمانہ قدیم کی یاد دلاتی ہیں۔ وہاں جانے والے سیاح ان کی سیر بھی کرتے ہیں۔
یہیں پر ’مسادا‘ نام کا وہ تاریخی قلعہ بھی موجود ہے جہاں صہیونی باغیوں اور رومن فوجوں کے درمیان تاریخی جنگ بھی ہوئی تھی۔ اس مقام کو یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ بھی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے اردگرد کا علاقہ ارضیاتی طور پر فعال ہے یہاں پر اکثر آنے والے زلزلوں کی وجہ سے نمک کی غیرمعمولی چٹانیں اور وادیاں بن چکی ہیں۔
ڈیڈ سی کے پانی میں نمک کے علاوہ میگنیشیم، سوڈیم، برومائڈ اور دوسری معدنیات بھی پائی جاتی ہیں، جن کو بعض امراض کے علاج کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ وہاں جا کر لیٹنے یا پھر کی سطح پر تیرنے سے جوڑوں کے درد اور اوسٹیوپوروسس سے بھی شفا ملتی ہے۔

ان چیزوں کو خون کی گردش کو بڑھا کر سوزش اور تناؤ کو کم کرنے کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
وہاں جانے والے سیاح اپنے جسموں پر مٹی مَلتے ہیں اور اس عمل کو صحت کے لیے بہتر قرار دیا جاتا ہے

بحیرہ مردار جس طرح خود پوری دنیا سے الگ ہے اسی طرح وہاں کا موسم بھی کافی منفرد ہے۔ گرمیوں میں موسم کافی گم اور سردیوں میں کافی کم سرد ہوتا ہے جبکہ وہاں بارش بھی کافی کم ہوتی ہے۔
یہاں کہ فضا آکسیجن اور معدنیات کے اثرات سے بھرپور ہے جس کے بارے میں کچھ صحت کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ سانس سے متعلق جسم کے افعال بہتر ہوتے ہیں۔

اپنے منفرد محل وقوع اور مناظر کی وجہ سے جہاں ڈیڈ سی سیاحوں میں مشہور ہے وہیں فلم اور ٹی وی پروڈیوسرز کے لیے بھی بہت کشش رکھتا ہے اس لیے ایسی کئی فلمیں، ٹی وی ڈرامے اور شوز سامنے آ چکے ہیں جن کی شوٹنگ اسی ایریا میں ہوئی۔
اس سلسلے میں سب سے اہم ’دی ممی ریٹرنز‘ اور ’ہوم لینڈ‘ کو سمجھا جاتا ہے۔

شارک یا کسی دوسری مخلوق کا خطرہ نہیں
اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہاں جاتے ہوئے آپ کو کسی خطرناک مخلوق سے سامنا ہونے کا خدشہ نہیں رہتا جیسا کسی اور سمندر میں سفر کے وقت شارک مچھلی یا کسی دوسری مخلوق سے پالا پڑنے کا احتمال ہو سکتا ہے تاہم یہاں پر ایسا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے کیونکہ یہاں کوئی جاندار زندہ رہ ہی نہیں سکتا۔

ڈیڈ سی کے اردگرد کئی تاریخی اور مذہبی مقامات بھی موجود ہیں (فوٹو: ڈیڈ سی ڈاٹ کام)

بعض ماہرین کا اصرار ہے کہ اس کو بحیرہ کے بجائے ایک نمکین جھیل کہا جائے جس کا پانی عام سمندر کے پانیوں سے 10 گنا زیادہ نمکیات رکھتا ہے۔ ارضیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیڈ سی میں تقریباً 37 ارب ٹن سوڈیم کلورائیڈ موجود ہے۔

کیا اس کی سطح کم ہو رہی ہے؟

کچھ برس سے ماہرین نے نوٹ کیا ہے کہ بحیرہ مردار کی سطح میں مسلسل کمی آرہی ہے جس کو تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے اردگرد تیزی سے خشکی بڑھ رہی ہے جہاں بڑے بڑے گڑھے دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ گڑھے کبھی پانی سے بھرے رہتے تھے اور لوگ ان میں بھی بغیر کسی
خوف کے چھلانگ لگا دیا کرتے تھے۔

20/07/2025

*ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قبیلے والوں نے دعوت پر بلایا مگر وہ کھانے کی نہیں غیرت دکھانے کی دعوت تھی دونوں کو لے جا کر ایک چٹیل میدان میں کھڑا کردیا جاتا ہے

وہاں 19غیرت مند بلوچ مرد کھڑے ہیں جن میں سے پانچ کے پاس لوڈڈ اسلحہ ہے ، بڑی سی چادر میں لپٹی 24 سالہ شیتل اور 32 سالہ زرک کو گاڑیوں کے قافلے میں قتل گاہ پر لاکر اتارا جاتا ہے*
*شیتل جس کے ہاتھ میں قرآن تھا قبیلے کے مردوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے سکون سے آگے بڑھتی ہے صرف گولی مارنے کی اجازت ہے جبکہ اس کی اجازت کسی نے طلب ہی کب کی تھی

وہ قتل گاہ کی جانب خود بڑھی ، اسے معلوم تھا اپنا انجام اس لیے نہ اس کے پاؤں کانپے، نہ آنکھوں میں التجا تھی، نہ لبوں پر چیخ، نہ دامن میں رحم کی بھیک, اس کی خاموشی میں وہ شور تھا جو ان سب چیخوں پر بھاری تھا جو ظلم کے خلاف کبھی نہ نکل سکیں*

*پھر گولی نہیں ، 9 گولیاں ماری گئیں۔۔۔*

*پھر اس کے بعد زرک کی باری آئی ، اسے دو گنا ماری گئیں*

*صرف اس ایک جرم پر کہ اس نے من پسند انسان سے نکاح کیا ۔۔۔۔*

*اور موت سے کم سزا پر تو غیرت کو چین نہیں آتا*

*اس بلوچ قبیلے کی غیرت کو بھی سلام ، جو غیرت کے نام پر اپنی ہی بیٹی کو غیر مردوں کے مجمعے کے سامنے لائے اور میدان میں کھڑا کرکے غیرت کی پگ پر ایک اور کلغی سجا لی*

*ایک اور بیٹی ہار گئی ، پگڑیاں جیت گئیں*

💔💔

*زمانے کے چلن سے برسرِ پیکار عورت ہوں*

*سو ہر اک مرحلے پر جبر سے دوچار عورت ہوں*

*مرے اندر نمو پاتی ہیں آنے والی نسلیں بھی*

*خدا کے بعد میں تخلیق کا کردار عورت ہوں*

*_20-⁰⁷-²⁰²⁵ 𝐒υи∂αу

18/07/2025

Niklo Pakistan ki khater

•  Material: Silicone•  Product Feature: Anti-shock, Anti-drop•  Color: Grey•  Package Includes: 1 x 1 case•  Note: Plea...
12/07/2025

• Material: Silicone
• Product Feature: Anti-shock, Anti-drop
• Color: Grey
• Package Includes: 1 x 1 case
• Note: Please ensure to follow the instructions provided in the user manual for proper usage and safety precautions.
• Product Code: MZ704200001MTAS
Rs:1000 free delivery

Address

Mianwali

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Numal Info posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Numal Info:

Share