07/07/2026
اسلام آباد کے اس بائیکیا ڈرائیور کو شاید اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ 300 روپے کرائے والی یہ سواری چند گھنٹوں بعد ایک ایسے قت*ل کی تفتیش کا اہم ترین سرا بن جائے گی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد میں سڑک پر سعد عباسی نامی لڑکے اور نمرہ نامی لڑکی کے مابین بحث و تکرار کے دوران پاکستان فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق قت*ل ہوگئے تھے۔
اس کیس کے ملزم کو پکڑنے میں اسلام آباد کے ایک بائیکیا ڈرائیور نے بھی اہم کردار ادا کیا جن کی موٹرسائیکل پر ملزم اسلام آباد کے مختلف مقامات پر جاتا رہا۔ پولیس کے مطابق اس دوران کرایہ 300 روپے طے ہوا تھا لیکن فیض آباد اڈے پر اتر کر ملزم نے 250 روپے ادا کیے۔ ڈرائیور کے لیے بظاہر یہ معمول کی سواری تھی لیکن اسلام آباد پولیس کے لیے ان کی فراہم کردہ معلومات نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے مبینہ قا*تل سعد عباسی تک پہنچنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
اتوار کی رات آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے کہا کہ جدید تفتیشی تکنیک، سیف سٹی کیمروں، مصنوعی ذہانت اور روایتی پولیسنگ کے ذریعے ملزم کو واقعے کے صرف 9 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔ اس کیس کی تفتیش ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین کے سپرد کی گئی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے کام شروع کر دیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم سعد عباسی اور لڑکی نمرہ کھنہ کی رہائشی ہیں اور دونوں میلوڈی کے ایک کیش اینڈ کیری میں ملازم تھے۔ ’دونوں کی شناسائی تقریباً 10 سے 12 روز قبل ہوئی تھی اور سعد گزشتہ چند دنوں سے اسے اپنی موٹر سائیکل پر دفتر لاتا اور لے جاتا تھا۔‘
واقعہ کیسے ہوا؟
ایس پی سٹی ایاز حسین نے بتایا کہ ’لڑکا اور لڑکی دونوں بائیک پر میلوڈی جا رہے تھے۔ نائنتھ ایونیو پر لڑکی بائیک سے اتری اور دونوں کے درمیان کسی بات پر تکرار شروع ہو گئی۔ اسی دوران گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنی آفیشل اسائنمنٹ پر گھر سے راولپنڈی جا رہے تھے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’عاصم طارق نے گاڑی روکی اور نوجوان سے پوچھا کہ وہ لڑکی کے ساتھ زبردستی کیوں کر رہا ہے؟‘
ان کے بقول ’لڑکے نے کہا کہ یہ ان کا فیملی میٹر ہے، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس پر گروپ کیپٹن آگے بڑھ گئے لیکن جب انہوں نے بیک مرر میں دیکھا تو لڑکی پر لڑکے کا تشدد مزید بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے انہوں نے یوٹرن لیا اور دوبارہ وہاں پہنچ گئے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ جب عاصم طارق نے دوبارہ مداخلت کی تو انہوں نے نوجوان سے کہا کہ انہوں نے اس کے پاس پستول بھی دیکھی ہے اور وہ لڑکی کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کر رہا ہے؟ اس پر لڑکے نے لڑکی کے سامنے پستول لہراتے ہوئے بائیک پر بیٹھنے کا کہا، اس وقت لڑکی گرین بیلٹ پر تھی جبکہ گروپ کیپٹن کی گاڑی ان دونوں کے درمیان کھڑی تھی۔ ’گروپ کیپٹن کوشش کر رہے تھے کہ لڑکی کو بچایا جائے اس دوران لڑکے نے فائر کھول دیا اور گولی سیدھی کیپٹ عاصم طارق کے سینے میں لگی۔‘
بائیکیا پر سفر
پولیس کے مطابق یہ واقعہ دوپہر 11 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا۔ ایس پی ڈاکٹر ایاز حسین بتاتے ہیں کہ ’میں خود بھی موقع پر پہنچا، فرانزک کا عمل شروع ہوا اور نائن ایم ایم پستول کی گولی کا خ*ل ملا۔ تقریباً ڈیڑھ بجے تک ہم نے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دیں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے تفتیش کا آغاز کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ قتل کے بعد ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مسلسل حکمت عملی تبدیل کی اور پولیس کو چکما دینے کی کوشش کرتا رہا۔ ڈاکٹر ایاز حسین کے بقول ’ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن پہنچے جہاں اس نے اپنی موٹر سائیکل ایک گھر کے سامنے کھڑی کر کے اس پر کپڑا ڈالا تھا۔ اس کے بعد اس نے ایک بائیکیا بک کیا اور مارکیٹ سے نئی نیلی شرٹ خریدی۔ اس نے پہلے سبز رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ یوں اس نے وہیں پر اپنا بیگ ایک فارمیسی پر رکھوایا جس میں پستول بھی موجود تھا۔‘
پولیس نے اس دوران اپنی ٹیمیں مذکورہ مقامات پر بٹھا دیں تاکہ کسی بھی طور ملزم فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ سی سی ٹی وی کیمرے میں پولیس نے بائیکیا کے مالک کو ٹریس کرنا شروع کیا۔
اس حوالے سے ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین بتاتے ہیں کہ ’ہم بائیکیا والے کو بھی ٹریس کرتے رہے اور وہ جلد مل گیا۔ اس نے ہمیں پوری کہانی بتائی اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ملزم تک پہنچنا ہمارے لیے نسبتاً آسان ہو گیا۔‘