11/08/2020
میانوالی میں بڑھتی ہوئی قتل کی وارداتیں
پچھلے کئی سالوں سے اور خاص کر پچھلے چند دنوں سے میانوالی میں کئی قیمتی جانیں قتل ہوچکی ہیں، قتل گری کا یہ بازار بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔
ہمارے اکثر جھگڑے تھوڑی سی زمین، کسی راستے، پانی اور بد کلامی سے شروع ہوکر قتل کی دہلیز تک جا پہنچتے ہیں۔
اسکی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت بھی ہے کیونکہ ہم میں سے اکثر خدا کی بنائی ہوئی زمین پر خود خدا بننے کی کوشش میں ہیں ہمارے ہاں صرف میں ٹھیک ہاں کا نظریہ کار فرما ہے ۔
اس کے علاوہ ایک اور وجہ صلح کرانے کے لئے مخلص افراد کا ہمارے ہاں شدید فقدان ہے۔ جو لوگ صلح کرانے کی کوشش کرتے بھی ہیں ان میں سے اکثر غیر جانبدار نہیں ہو تے ۔
ہمارے معاشرے کا یہ بھی بہت بڑا المیہ رہا ہے کہ ہم اپنا چٹپوش اسی کو مانتے ہیں جو کسی دور میں سمگلر ڈکیت یا پھر 2 تین بندے پھڑکا نے کے بعد جیل سے واپس آیا ہو۔
اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے مگر ہم ایسے افراد کو اپنا ہیرو گردانتے ہیں ۔
فوری انصاف کا نام ملنا بھی قتل گری کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ ہمارا عدالتی نظام اتنا فرسودہ ہے کہ کیس دادا کی جوانی کا ہوتا ہے اور فیصلہ پوتے کی جوانی میں ہوتا ہے ۔
نظام تعلیم میں بھی ہمیں ایسا نصاب لانے کی ضرورت ہے کہ لوگوں میں برداشت اور تحمل پیدا ہو ۔
ہمیں اس بارے بھی سوچنا ہوگا کہ جس زمین ، درخت اور راستے سے ہمارا جھگڑا شروع ہوتا ہے اس کو بیچ کر وکیل کی فیس بھی پوری نہیں ہوتی اور جس عزت کی خاطر ہم قتل کرتے ہیں وہ بعد میں دردر رلتی اور دھکے کھاتی نظر آتی ہے
تحریر : محسن علی بخرے خیل