31/05/2026
میانوالی کے تھانہ موسیٰ خیل میں 80 سالہ بزرگ کی پگ تو چلو اتار لی جاتی خیر تھی خاندانی موچھیں بھی صاف کر دی گئیں ( یہ نیوز رپورٹ پورے میانوالی میڈیا پر چل رہی تھی)میں نے ابھی یہ نیوز پڑھی کیوں کہ عصر کے ٹائم پر مہمان خصوصی تھا وہاں گیا اور موبائل چارج نہیں تھا تو گھر چھوڑ گیا تھا دیکھا تو پچھلے 5 گھنٹہ سے یہ مسلہ زیر بحث تھا سوچا اپنی رائے دے دوں کسی کو اعتراض ہو تو اختلاف رائے اس کا حق ہے
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈی پی او صاحب نے نوٹس لیا اور ایس ایچ او کو لائن حاضر کیا تو ضرور کوئی غلطی ایس ایچ او کی بھی تھی ڈی پی او صاحب نے نوٹس لیا ویل ڈن جو کہ محکمانہ کاروائی کا آغاز ہے
دوسری بات یہ واقعہ گھریلو نوعیت کی وجہ سے پیش آیا بہو اور بیٹے کا جھگڑا ہوا تو بہو نے 15 پر کال کی پولیس کا فرض تھا ریسپانس دینا اور جب واضح ہو گیا گھریلو مسلہ ہے تو اس کو طریقہ سے یا تو صلح کے روپ میں ختم کر دیا جاتا یا پھر حسب ضرورت فیملی کورٹ کی طرف بھیج دیا جاتا لیکن جب بزرگ سمیت سب کو تھانہ لے جایا گیا تو بزرگ نے اپنی گھر کی عزت کو تھانہ کچہری دیکھ کر غصہ آ گیا اور ناز بياز بولا تو مزاحمت کا پرچہ دے دیا جاتا نہ کہ اس کی عزت و نفس کو ٹھیس پہنچائی جاتی یہ غلط تھا غلط کو غلط کہنا چاہیے
باقی کچھ لوگ لکھ رہے کہ بزرگ نے شلؤ ار اتاری ایسی ناز بياز حرکات میانوالی میں نہ تو کوئی اپنی بہو بیٹی کے سامنے کرتا ہے نہ ہی آج تک سنا اور نہ ہی ہے قابل یقین ہے
بہر حال اب نئے ایس ایچ کامران بخت ماشاءﷲ اچھے قابل ایس ایچ او ہیں وہ اس معملہ کو سمبھال لیں گے
آخر میں ایک گزارش ہے کہ کیوں کہ میانوالی ایک قبائلی علاقہ ہے تو گھر کے چھوٹے موٹے فیملی مسائل کو راز داری سے حل کرنا چاہئے تا کہ بہن بیٹی کی عزت و نفس بھی محفوظ رہے اور ایسے واقعات بھی نہ ہوں
شکریہ