Mianwali Media

Mianwali Media Mianwali Media © Profile Original & Official █║▌│█│║▌║▌││█║▌║▌║▌║▌ Verified Official
Mianwali Media Page and Media Network form Mianwali

میانوالی 5 سب سے بڑی ویب سایٹ کی ساتھ
ہمارا پیچ ان لوگوں کہ لے ہے جو میانوالی سے باہر ہیں تو ان کو میانوالی کا خوش آمند میانوالی نیوز خبرو اور علاقای رنگوں سے باخبر رکھتاہے
E.mail:[email protected]

21/12/2020
02/09/2020

In the field against PTI worker Tuk Tuk star Saud Butt | Saud butt tiktoker |Mianwali news |

25/08/2020

انوار حسین حقی کے صاحبزادے زین العابدین۔محفل مسالمہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ھوئے۔

24/08/2020
22/08/2020

انوار حسین حقی فاؤنڈیشن کے زیراہتمام سالانہ محفل مسالمه انشاءلله24 اگست 2020 ،4محرم الحرام بروز سوموار شام 5 بجے بقام جناح ہال میونسپل کمیٹی میانوالی منعقد ہوگا دوستوں سے شرکت کی استدعا ہے

18/08/2020

واردات سے 30 منٹ پہلے۔۔۔۔۔

والدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی جنید کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا. ہاتھا پائی ہوئی اور کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا.جنید گھر آیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ گیا. اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا. اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد آ گئی. دوست نے اسے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے 30 منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا.
جنید نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا. ایک گھنٹے بعد وہ گرفتار ہو گیا. گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں. اس کی ماں بے ہوش ہو گئی. مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا. ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی. بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے.بہنوں کے رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی. جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے والدین اور بہنیں ملاقات کے لئے جاتے. بہنوں کا ایک ہی سوال ہوتا کہ بھیا اب ہمارا کیا ہو گا؟ ہم اپنے بھائی کے بستر پر کسے سلائیں گی؟ ہم بھائی کے ناز کیسے اٹھائیں گی؟ بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا. فیصلے کا دن آیا اور جنید کو سزائے موت ہو گئی. سزائے موت کی تاریخ مقرر ہو گئی. 25 منٹ گزر چکے تھے اور جنید کے جسم پر لرزہ طاری ہو چکا تھا. جیل میں وہ اپنی موت کے قدم گن رہا تھا اور گھر میں والدین اور بہنیں اپنے کرب اور اذیت کی جہنم میں جھلس رہے تھے. جنید کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ دی گئیں اور اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا. 29 منٹ ہو چکے تھے. پھانسی گھاٹ پر پیر رکھتے ہی 30 منٹ پورے ہو گئے. جنید پسینہ پسینہ ہو چکا تھا. اس کے جسم میں کپکپی طاری تھی. اس نے پستول واپس الماری میں رکھ دیا. اس نے میز سے اپنی بہنوں کی دو کتابیں اٹھائیں اور بہنوں کے پاس گیا. بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری پیاری بہنو تمہارے پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے. خوب دل لگا کر پڑھو کیونکہ تمہیں ڈاکٹر بننا ہے.
چند ماہ بعد چند ایک اچھی پوسٹ پر ملازم ہو گیا. جنید کی دونوں بہنیں ڈاکٹر بن گئیں. وہ ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں. ان 30 منٹ کی تصوراتی واردات اور 30 منٹ کے مقدمے کی کارروائی نے ایک پورے گھر کو اجڑنے سے بچا لیا. آپ اپنی زندگی میں یہ 30 منٹ اپنے لئے ضرور بچا کے رکھئیے گا، یہ 30 منٹ کی تصوراتی اذیت آپ کو زندگی بھر کی اذیت سے بچا سکتی ہے۔
محسن علی بخرے خیل

16/08/2020

میانوالی میں ایک تربیتی نصاب لانے کی ضرورت ہے

14/08/2020
11/08/2020

میانوالی میں بڑھتی ہوئی قتل کی وارداتیں
پچھلے کئی سالوں سے اور خاص کر پچھلے چند دنوں سے میانوالی میں کئی قیمتی جانیں قتل ہوچکی ہیں، قتل گری کا یہ بازار بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔
ہمارے اکثر جھگڑے تھوڑی سی زمین، کسی راستے، پانی اور بد کلامی سے شروع ہوکر قتل کی دہلیز تک جا پہنچتے ہیں۔
اسکی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت بھی ہے کیونکہ ہم میں سے اکثر خدا کی بنائی ہوئی زمین پر خود خدا بننے کی کوشش میں ہیں ہمارے ہاں صرف میں ٹھیک ہاں کا نظریہ کار فرما ہے ۔
اس کے علاوہ ایک اور وجہ صلح کرانے کے لئے مخلص افراد کا ہمارے ہاں شدید فقدان ہے۔ جو لوگ صلح کرانے کی کوشش کرتے بھی ہیں ان میں سے اکثر غیر جانبدار نہیں ہو تے ۔
ہمارے معاشرے کا یہ بھی بہت بڑا المیہ رہا ہے کہ ہم اپنا چٹپوش اسی کو مانتے ہیں جو کسی دور میں سمگلر ڈکیت یا پھر 2 تین بندے پھڑکا نے کے بعد جیل سے واپس آیا ہو۔
اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے مگر ہم ایسے افراد کو اپنا ہیرو گردانتے ہیں ۔
فوری انصاف کا نام ملنا بھی قتل گری کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ ہمارا عدالتی نظام اتنا فرسودہ ہے کہ کیس دادا کی جوانی کا ہوتا ہے اور فیصلہ پوتے کی جوانی میں ہوتا ہے ۔
نظام تعلیم میں بھی ہمیں ایسا نصاب لانے کی ضرورت ہے کہ لوگوں میں برداشت اور تحمل پیدا ہو ۔
ہمیں اس بارے بھی سوچنا ہوگا کہ جس زمین ، درخت اور راستے سے ہمارا جھگڑا شروع ہوتا ہے اس کو بیچ کر وکیل کی فیس بھی پوری نہیں ہوتی اور جس عزت کی خاطر ہم قتل کرتے ہیں وہ بعد میں دردر رلتی اور دھکے کھاتی نظر آتی ہے
تحریر : محسن علی بخرے خیل

06/08/2020

میانوالی قتل و غارت کی ایک اور بڑی وجہ اپنے آپکو , اپنے قبیلہ , ذات برادری کو دوسری قوموں , قبیلوں سے بہتر سمجھنا ہے.... جس سے دوسرے قوم , قبیلے فرد سے بلا وجہ کا بغض , تعصب , عناد دل و دماغ میں گھر کر لیتا ہے... اور یوں بات معمولی جھگڑوں سے خاندانی دشمنیوں تک جا پہنچتی ہے ....
آپ سروے کرلیں...اکثریت قتل کرنے والا خاندان کا نکما ترین اور لوفر شخص ہوتا ہے.... جس کی سرزنش اور حوصلہ شکنی کے بجائے لاکھوں روپے اسکے کیس کی پیروی پر لگا دیئے جاتے ہیں... اسے جیل میں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی جاتی ....
جیل سے واپسی پر اسکا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا جاتا ہے... معاشرے میں اسے معزز, عزت دار اور غیرت مند جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے... حتیٰ کہ انہیں اپنی تقریبات میں مہمان خصوصی تک بنایا جاتا ہے... جس سے بچوں کے زہن میں ایک بات گھر کر لیتی ہے کہ لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت عزت اور مقام کا باعث ہیں...
حالانکہ چاہیے تو یہ کہ اس قسم کے لوگوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے ... انکو کسی میں مہمان خصوصی بلانے کے بجائے علیک سلیک بھی ناں رکھا جائے ... تاکہ مزید مجرم معاشرے میں پیدا ناں ہوں ...
اپنی تقریبات کے مہمان خصوصی اساتذہ , پروفیسرز , ڈاکٹرز , غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل طلباء کو بنایا جائے تاکہ بچوں کا رجحان قتل و غارت کے بجائے پڑھائی کی طرف بڑھے...
آج سے پندرہ سال پہلے تک گجرات کی حالت دشمنیوں کے معاملے میں میانوالی سے بھی بدتر تھی... پھر انہوں نے اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کی... اب وہاں حالات بہت بہتر ہیں... ہمیں بھی اپنی چند ہی عادات بدلنے کی ضرورت ہے ... پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس قتل وغارت جیسی لعنت سے نجات ناں حاصل کرسکیں ..
اللہ پاک نے ہم سب کو ایک ہی مٹی سے خلق کیا... پھر یہ نسلی تعصب کس بات کا ... اور نبی اکرم ص نے آخری خطبہ میں برتری کا معیار تقویٰ بتا دیا.... بات ختم ہوگئی تو میں کون ہوتا ہوں یہ فلاں کمی کمین اور فلاں خان , ملک , چوہدری کا فیصلہ کرنے والا
اللہ پاک ظالموں کو عبرت دے
دعا گو : محسن علی بخرے خیل

Address

Mianwali Media
Mianwali
42200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mianwali Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mianwali Media:

Share