06/08/2020
میانوالی قتل و غارت کی ایک اور بڑی وجہ اپنے آپکو , اپنے قبیلہ , ذات برادری کو دوسری قوموں , قبیلوں سے بہتر سمجھنا ہے.... جس سے دوسرے قوم , قبیلے فرد سے بلا وجہ کا بغض , تعصب , عناد دل و دماغ میں گھر کر لیتا ہے... اور یوں بات معمولی جھگڑوں سے خاندانی دشمنیوں تک جا پہنچتی ہے ....
آپ سروے کرلیں...اکثریت قتل کرنے والا خاندان کا نکما ترین اور لوفر شخص ہوتا ہے.... جس کی سرزنش اور حوصلہ شکنی کے بجائے لاکھوں روپے اسکے کیس کی پیروی پر لگا دیئے جاتے ہیں... اسے جیل میں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی جاتی ....
جیل سے واپسی پر اسکا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا جاتا ہے... معاشرے میں اسے معزز, عزت دار اور غیرت مند جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے... حتیٰ کہ انہیں اپنی تقریبات میں مہمان خصوصی تک بنایا جاتا ہے... جس سے بچوں کے زہن میں ایک بات گھر کر لیتی ہے کہ لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت عزت اور مقام کا باعث ہیں...
حالانکہ چاہیے تو یہ کہ اس قسم کے لوگوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے ... انکو کسی میں مہمان خصوصی بلانے کے بجائے علیک سلیک بھی ناں رکھا جائے ... تاکہ مزید مجرم معاشرے میں پیدا ناں ہوں ...
اپنی تقریبات کے مہمان خصوصی اساتذہ , پروفیسرز , ڈاکٹرز , غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل طلباء کو بنایا جائے تاکہ بچوں کا رجحان قتل و غارت کے بجائے پڑھائی کی طرف بڑھے...
آج سے پندرہ سال پہلے تک گجرات کی حالت دشمنیوں کے معاملے میں میانوالی سے بھی بدتر تھی... پھر انہوں نے اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کی... اب وہاں حالات بہت بہتر ہیں... ہمیں بھی اپنی چند ہی عادات بدلنے کی ضرورت ہے ... پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس قتل وغارت جیسی لعنت سے نجات ناں حاصل کرسکیں ..
اللہ پاک نے ہم سب کو ایک ہی مٹی سے خلق کیا... پھر یہ نسلی تعصب کس بات کا ... اور نبی اکرم ص نے آخری خطبہ میں برتری کا معیار تقویٰ بتا دیا.... بات ختم ہوگئی تو میں کون ہوتا ہوں یہ فلاں کمی کمین اور فلاں خان , ملک , چوہدری کا فیصلہ کرنے والا
اللہ پاک ظالموں کو عبرت دے
دعا گو : محسن علی بخرے خیل