01/09/2026
سوات میں بائی پاس دریائے سوات کے قریب آبادی کو 3 دن میں خالی کرنے کا الٹی میٹم، متاثرین پھٹ پڑے
’’ملکیتی جائیداد کو تجاوزات کہنا کھلی زیادتی ہے‘‘، آفرین خان و دیگر کا سوات میڈیا کلب میں پریس کانفرنس
سوات (بیورورپورٹ) بائی پاس دریائے سوات کے کنارے قائم آبادی کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی کارروائی اور تین روز میں آبادی خالی کرنے کے مبینہ الٹی میٹم پر سیاسی رہنماؤں اور متاثرین نے شدید احتجاج کیا ہے۔ آفرین خان، دوست محمد خان، قوی خان، نور خان، قیصر خان اور دیگر نے سوات میڈیا کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دریائے کنارے قائم آبادی کو تجاوزات قرار دینا حقائق کے منافی ہے، یہ لوگوں کی ملکیتی جائیداد ہے۔
آفرین خان نے کہا کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے تمام افراد کو فردِ ملکیت جاری کی، اس کے باوجود پوری آبادی کو تجاوزات کہنا زیادتی ہے۔ ٹی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ پہلے زمین کی قانونی حیثیت واضح کریں اور لوگوں کو مزید مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دریائے سوات میں لوگ ڈوبتے ہیں تو ان کی جان بچانا ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں؟
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو بھی ایک سال کا وقت دیا گیا، کیا پاکستان کے شہری ان سے بھی کم تر ہیں کہ انہیں صرف تین دن کا وقت دیا جا رہا ہے؟ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہونے کے باوجود کارروائی سمجھ سے بالاتر ہے۔
قیصر خان نے کہا کہ توہینِ عدالت کے چھ کیسز دائر کیے جاچکے ہیں، مگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، صرف ڈی سی کا شاہانہ حکم چل رہا ہے۔ ان کے مطابق سیشن کورٹ نمبر 3 میں کیس زیر سماعت ہے۔
مقررین کے مطابق تنازع سے مینگورہ کی 120 اور نویکلے کی 28 اقوام متاثر ہیں۔ مینگورہ میں خسرہ نمبر 1388/1 کے تحت 260 کنال جبکہ نویکلے میں خسرہ نمبر 1004 کے تحت 179 کنال اراضی شامل ہے۔ رہنماؤں نے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت اور عدالتی فیصلے تک کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا۔