28/07/2025
"قیدی نمبر 804 سے کرکٹ چیمپئن تک: عمران خان کی جدوجہد کا ناقابلِ فراموش سفر 💔🏏"
]
"کبھی کرکٹ کا شہزادہ، کبھی قیدی نمبر 804… یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ہر بار گرا، مگر ہر بار انقلاب بن کر اٹھا۔"🎬 1992… عمر 39 سال ۔۔۔ — جسم تھکا ہوا، لیکن کوشش پاکستان کو ورلڈ چیمپئن بنانے کی۔۔
آج وہ آخری بار پاکستانی شرٹ پہن کر ورلڈ کپ کے فائنل میں آیا — اور پھر، اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ صرف ایک جیت نہیں تھی… یہ پوری تاریخ کو مٹھی میں قید کرنے والا لمحہ تھا۔۔۔۔اگر کسی ایک شخص کو پاکستان کی ہسٹری کا سب سے متنازع، سب سے محبوب، اور سب سے اہم چہرہ کہا جائے — تو وہ ہے عمران خان۔آج کی اس ویڈیو میں جو کہانی ہم آپ کو سنانے جا رہے ہیں، وہ ہے عمران خان کی…
بچپن سے لے کر کرکٹ کی دنیا فتح کرنے تک، پھر سیاست کے میدان میں آنے… اور آج، 2025 میں، قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے تک۔تو چلیے شروع کرتے ہیں۔اگر آپ پیج پر پہلی بار آئے ہیں، تو پیج کو فالو ضرور کر لیں۔
اکسفورڈ کی درسگاہوں سے نکلنے والا وہ نوجوان، جسے دنیا "پلے بوائے" کہہ کر پہچانتی تھی…جب میدانِ کرکٹ میں اترتا، تو صرف گیند اور بلّا نہیں — پوری قوم کی امیدیں اُس کے ہاتھوں میں ہوتیں۔آخرکار وہ جیت گیا — لوگوں کے دل بھی اور ورلڈ کپ بھی۔اور بن گیا ایک زندہ ہیرو — پاکستان کا فاتح کپتان!پھر ایک دن خاموشی سے ریٹائر ہو گیا…
لیکن کہانی ختم نہیں ہوئی۔بلکہ اصل باب تو تب کھلا، جب اسی قوم نے اُسے وزیرِاعظم کی کرسی پر لا بٹھایا۔25 نومبر 1952 کو، لاہور کی زمان پارک کی خاموش گلیوں میں ایک بچے نے جنم لیا۔اُس وقت اُس کے والد، اکرام اللہ خان نیازی، تقریباً 30 سال کے ایک سنجیدہ سول انجینئر تھے — اور والدہ شوکَت خانم، برکی خاندان سے، ایک تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون۔اس خاندان نے اُسے اعلیٰ معیار کی تعلیم دی۔
ایچی سن کالج سے لے کر انگلینڈ کے رائل گرامر اسکول، اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی تک۔یہاں جا کر عمران نے صرف کتابیں نہیں پڑھیں — بلکہ ایک نیا اندازِ زندگی سیکھا۔انگریزی زبان روانی سے بولنا، وقار سے گفتگو کرنا، اور ہر جگہ اپنی موجودگی منوانا — وہ "خالص آکسفورڈ" کا لڑکا کہلاتا تھا۔لیکن دل میں ایک اور جذبہ پل رہا تھا — کرکٹ کا۔
ایچی سن کے میدان ہوں یا آکسفورڈ کے گراؤنڈ، بیٹ اور گیند اُس کے ہاتھ کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔18 سال کی عمر میں، دورانِ تعلیم، اُس نے پاکستان کے لیے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔علم اور کھیل — دونوں محاذوں پر بیک وقت کامیاب رہا!
1971 میں عمران خان کو قومی ٹیم میں باقاعدہ شامل کیا گیا۔انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلا — لوگوں نے کہا "یہ لڑکا پرنس لگتا ہے"۔مگر کارکردگی متاثر کن نہ رہی، تو عوام کی توجہ بھی کم ہو گئی۔پھر آیا 1976 — ویسٹ انڈیز کے خلاف 12 وکٹیں لیں، اور دنیا کو پیغام دیا:"اب میرا دور شروع ہو چکا ہے۔"80 کی دہائی کا عمران خان صرف ایک کرکٹر نہیں — ایک سلیبریٹی، اسٹائل آئیکون، اور قومی امید بن چکا تھا۔
1982 میں پاکستان کا کپتان بنایا گیا — اور پھر کرکٹ کی بلندیوں کا نیا سفر شروع ہوا۔1987 میں بھارت کے خلاف سیریز جیت کر اُس نے "کرکٹ ڈپلومیسی" متعارف کرائی۔پھر آیا 1987 کا ورلڈ کپ…محنت کی، خواب دیکھے، مگر ہار ہاتھ لگی۔مایوسی میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا — لیکن جنرل ضیاء الحق نے فون کر کے کہا:"عمران، پاکستان کرکٹ کو تمہاری ضرورت ہے۔"عمران واپس آیا — اس بار ایک مشن کے ساتھ:اپنی ماں کی یاد میں کینسر ہاسپٹل بنانے کا عزم۔
پھر آیا 1992…۔۔۔ورلڈ کپ کی تیاری کے دوران زخمی ہو گیا، مگر ہمت نہ ہاری۔ریکور کیا — اور ٹیم کے ساتھ میدان میں اترا۔پاکستان شروع میں ہارا، لڑکھڑایا، لیکن پھر سنبھلا…22 مارچ 1992 — فائنل، انگلینڈ کے خلاف۔عمران نے 72 رنز بنائے، میانداد کے ساتھ 139 رنز کی شراکت قائم کی —اور پاکستان نے تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ جیت لیا۔یہ صرف ایک جیت نہیں تھی — یہ قومی شعور کی فتح تھی۔ورلڈ کپ کے بعد تقریباً 50,000 آسٹریلین ڈالر کا انعام ملا — اور دنیا نے عمران خان کو عظیم رہنما کے طور پر دیکھا۔اسی سال، اُس کی ماں کینسر کے باعث وفات پا گئیں —یہ سانحہ عمران خان کو ہلا کر رکھ گیا۔1994 میں شوکَت خانم ہسپتال بنایا — لوگوں نے کہا "یہ پاگل پن ہے"، لیکن عمران نے کر دکھایا۔1996 — سیاست میں قدم رکھا۔۔۔۔۔تحریک انصاف بنائی… اور مذاق بن گیا۔کسی نے سنجیدہ نہ لیا۔۔۔۔2002 میں پہلا الیکشن جیتا — لیکن پارٹی چھوٹی تھی، اثر محدود۔مگر پھر آیا وہ لمحہ… 2011 کا مینارِ پاکستان جلسہ۔۔۔۔۔یہ جلسہ گیم چینجر تھا۔لاکھوں نوجوان، پرجوش چہرے، تبدیلی کا نعرہ…"نیا پاکستان" کا خواب عوام میں جڑیں پکڑنے لگا۔عمران خان نے عوامی طاقت کو محسوس کیا — اور ایک نیا سفر شروع کیا۔۔۔2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف قومی اپوزیشن بن کر ابھری۔پھر دھرنے، جلسے، ریلیاں…۔2014 میں اسلام آباد کا دھرنا —
اور بیانات جیسے:"یہ الیکشن چوری ہوا ہے۔""ہم نظام کو بدلیں گے۔"یہ سب سیاسی فضاء کو گرماتے رہے۔پھر آیا 2018 —عمران خان وزیراعظم بن گئے۔امیدیں بہت تھیں، لیکن معیشت، مہنگائی، اور اداروں سے ٹکراؤ نے مشکلات پیدا کیں۔2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے نکالا گیا۔پھر سڑکوں پر ہنگامے، جلسے، لانگ مارچ…2023 میں عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا۔کیسز، عدالتوں کے چکر… اور قید کی صعوبتیں۔مگر سپورٹ کم نہ ہوئی۔فالوورز آج بھی اُسے اپنا لیڈر مانتے ہیں۔
#قیدی804