Mirpur Khas Smart Farming

Mirpur Khas Smart Farming This page for Discussion for Agricultural issues and Solutions

06/06/2026

موسم 5 جون 2026/ عبدالرسول سدھو
موسم کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق
ملک میں آئندہ 3ماہ کم بارشیں، شدید گرمی اور پانی کی قلت کا خدشہ ہونے کے امکانات ہیں محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری
محکمہ موسمیات نے جون سمیت آئندہ تین ماہ کے دوران موسمی رجحانات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشیں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کے امکانات ہیں جس کے باعث گرمی کی شدت، ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک بھر میں اوسط 22.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے تقریباً 10 فیصد کم رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت 29.2 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو معمول سے 0.8 ڈگری زیادہ تھا۔
پنجاب میں 29.7 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 19 فیصد زیادہ رہی، تاہم سندھ میں صرف 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے 91 فیصد کم تھی۔ بلوچستان میں بارشوں کی کمی 71 فیصد رہی جبکہ گلگت بلتستان میں بارشیں معمول سے 33 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئیں۔
جون کے دوران ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا رجحان نمایاں ہو سکتا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز کے امکانات بڑھ جائیں گے۔//// AR SiDHU

05/06/2026
05/06/2026
05/06/2026
05/06/2026

میں نے کھانے کی ٹرے کھولی ، کانٹے سے گوشت کا ٹکڑا اٹھایا ، ھونٹوں کے قریب لے کر آیا مگر منہ میں ڈالنے سے قبل رک گیا- مجھے محسوس ھوا کہ یہ گوشت شاید حلال نہ ھو- میں نے یہ خیال آتے ھی کانٹا ٹرے میں رکھ دیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا- غیر ملکی ائیر لائینز میں یہ معاملہ روٹین ھے- یہ لوگ حلال حرام کی تمیز نہیں رکھتے چنانچہ ان کی خوراک بالخصوص گوشت میں حرام کی گنجائش موجود ھوتی ھے- میں نے ٹرے آگے کھسکائی اور سیٹ کے ساتھ پشت لگا کر لیٹ گیا- میرے ساتھ درمیانی عمر کا ایک خوبصورت امریکی بیٹھا تھا- وہ مزے سے کھانا کھا رھا تھا- ھم نیویارک سے شکاگو جا رھے تھے-
میں نے ایک دن شکاگو میں رک کر آگے نکل جانا تھا- آپ کو انٹرنیٹ پر مختلف ”پے اینگ“ میزبان مل جاتے ھیں- آپ ویب سائیٹس پر جائیں اور کسی منزل کا نام ڈالیں ، آپ سے مختلف فیملیز رابطہ کریں گی- یہ لوگ معمولی رقم لے کر آپ کو چند دنوں کیلئے اپنے گھر میں ٹھہرا لیتے ہیں- آپ کو ان ویب سائیٹس پر ایسی فیملیز بھی مل جاتی ھیں جو آپ کو اپنے پاس فری ٹھہرا لیتی ھیں- ان کا مقصد اجنبی لوگوں سے ملاقات ھوتی ھے- یہ لوگ اجنبیوں کو اپنا گھر ، اپنا ٹاﺅن دکھانا چاھتی ھیں چنانچہ یہ لوگ اپنا گھر سال میں چند دنوں کیلئے اجنبیوں کےلئے کھول دیتے ھیں- میں نے شکاگو سے دو گھنٹے کی مسافت پر ایک گاﺅں میں ایسا ھی خاندان تلاش کیا تھا- یہ لوگ مکئی کاشت کرتے تھے اور سال میں ایک بار کسی ایشیائی باشندے کو اپنا مہمان بناتے تھے- میں نے انٹر نیٹ پر اس خاندان کو تلاش کیا اور اب میں نیویارک سے انکے پاس ٹھہرنے اور شکاگو کی دیہاتی زندگی کو انجوائے کرنے جا رھا تھا لیکن جہاز میں حلال خوراک کا ایشو بن گیا-
میں نے لمبی سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں- ”برادر یہ کھانا حلال ھے ، آپ کھا سکتے ہیں“ یہ فقرہ اچانک میری سماعت سے ٹکرایا- میں نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں- میرا ھم سفر امریکی مسکراتی نظروں سے میری طرف دیکھ رھا تھا- اس نے میری آنکھوں میں حیرت پڑھ لی اور دوبارہ بولا، ”آپ کا کھانا حلال ھے ، آپ اطمینان سے کھا سکتے ھیں“- میں نے اس سے پوچھا کہ آپ یہ دعوے سے کیسے کہہ سکتے ھیں تو اس نے اپنا کانٹا نیچے رکھا ، میری ٹرے سے کھانے کا ریپر اٹھایا اور اس کے کونے پر انگلی رکھ دی ، ریپر پر سبز لفظوں میں حلال لکھا تھا-
میں حیران ھو گیا- میں نے اطمینان سے کھانا شروع کر دیا- کھانے کے دوران میں نے اس سے اس کے وطن کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ میں امریکی ھوں اور آرلینڈو میں رھتا ھوں- میں نے اس سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ کیا آپ مسلمان ھیں تو اس نے بلند آواز میں ”الحمد اللہ“ کہا اور پھر بولا کہ میں نے سات سال قبل اسلام قبول کیا تھا اور آج کل عربی سیکھ رھا ھوں- یہ سن کر میری حیرت میں اضافہ ھو گیا اور میں نے اس سے پوچھا کہ امریکن ائیر لائین میں حلال کھانا کیسے آ گیا؟ وہ مسکرایا اور نرم آواز میں بولا کہ میں جب بھی ھوائی سفر پر نکلتا ھوں ، میں ائیر لائین کے کچن میں فون کر کے پانچ حلال کھانوں کا آرڈر کر دیتا ھوں- میں نے جب پوچھا کہ پانچ کیوں تو اس کا جواب بہت دلچسپ تھا- اس کا کہنا تھا، "امریکن ائیر لائینز میں عموماً چار پانچ مسلمان مسافر ھوتے ھیں اور میں مسلمان ھونے کی وجہ سے ان کا مسئلہ سمجھتا ھوں- میں جہاز میں سوار ھو کر عملے کی مدد سے مسلمان مسافروں کو تلاش کرتا ھوں اور بعد ازاں یہ حلال کھانا انہیں پہنچا دیتا ھوں- میں جب فلائیٹ میں سوار ھوا تو میں نے لسٹ میں آپ کا نام پڑھ لیا چنانچہ میں نے آپ کیلئے حلال خوراک کی درخواست کر دی اور یوں آپ کو بھی حلال کھانا فراھم کر دیا گیا“.
میں نے جب اس سے پوچھا، ”لیکن جہاز کا عملہ آپ کو مسافروں کی لسٹ کیوں دے دیتا ھے؟“ تو اس نے قہقہہ لگایا اور بتایا، ” میں ایف بی آئی میں کام کرتا ھوں- میرا سروس کارڈ یہ مرحلہ آسان بنا دیتا ھے“۔ وہ عبداللہ تھا ، اس کا پرانا نام ایڈم تھا ، وہ آرلینڈو کا رھنے والا تھا مگر ان دنوں وہ نیویارک میں کام کر رھا تھا اور ٹریننگ کیلئے شکاگو جا رھا تھا-
اس کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی اس کی شخصیت کی طرح حیران کن تھا- اس نے بتایا کہ وہ ٹیلی کام انجینئر تھا ، ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا ، اس کی والدہ کا انتقال ھو چکا تھا ، والد دھریہ تھا ، وہ بوڑھا ھو کر اولڈ پیپل ھوم میں پڑا تھا- اس کا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ جھگڑا ھوا اور یہ جھگڑا طول پکڑ گیا جس سے وہ شدید ڈپریشن کا شکار ھوا اور اس ڈپریشن نے اسے شراب ، کوکین اور چرس کا عادی بنا دیا- وہ چوبیس گھنٹے نشے میں ڈوبا رھتا ، اس کی راتیں شراب خانوں میں گزرتیں ، وہ دھت ھو کر شراب خانے میں گر جاتا اور شراب خانے کے ملازمین اسے اٹھا کر فٹ پاتھ پر پھینک جاتے- وہ اگلے دن اٹھتا تو گرتا پڑتا گھر پہنچتا- اس کی نوکری چلی گئی ، اس کے سارے اثاثے بک گئے ، اس پر دوست احباب کا قرض چڑھ گیا اور وہ پوری دنیا میں تنہا رہ گیا- وہ بری طرح برباد ھو چکا تھا لیکن پھر اس کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا- وہ ایک رات نشے میں دھت ھو کر شراب خانے میں گرا ، شراب خانے کے سٹاف نے اسے اٹھایا اور فٹ پاتھ پر لٹا دیا- وہاں سے ایک نوجوان گزرا ، اس نے اسے اٹھایا ، وہ اسے اپنے فلیٹ میں لے آیا ، گرم تولئے سے اس کا جسم صاف کیا ، صاف سلیپنگ سوٹ پہنایا اور اسے صاف بستر پر لٹا دیا- صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس نوجوان نے اسے ناشتہ کرایا ، اپنے کپڑے پہنائے اور اسے اس کے فلیٹ پر چھوڑ آیا- وہ اس رات دوبارہ شراب خانے گیا ، اسے اس رات بھی حسب معمول فٹ پاتھ پر لٹا دیا گیا ، وہ نوجوان دوبارہ آیا ، اسے اٹھایا اور اپنے فلیٹ پر لے گیا اور اس کے بعد یہ معمول بن گیا کہ وہ روز رات کے آخری پہر فٹ پاتھ پر گرا دیا جاتا اور وہ نوجوان آتا اور اسے اٹھا کر لے جاتا- یہ اس اجنبی نوجوان کے ساتھ بدتمیزی بھی کرتا لیکن وہ ھٹ کا پکا تھا ، وہ مسکراتا رھتا اور اس کی خدمت کرتا رھتا- اس سارے عمل کے دوران اسے معلوم ھوا کہ وہ نوجوان فلسطینی مسلمان ھے ، وہ پیزا ھٹ پر کام کرتا ھے اور فارغ وقت میں اس بگڑے ھوئے امریکی کی خدمت کرتا ھے-
یہ سلسلہ چلتا رھا یہاں تک کہ وہ دونوں دوست بن گئے- ایڈم فلسطینی نوجوان عبداللہ کے رویئے اور خدمت سے متاثر ھوا اور آہستہ آہستہ اسلام کے حلقے میں داخل ھونے لگا اور پھر ایک دن اس نے اسلام قبول کر لیا- یہ اس کہانی کا ایک باب تھا-
کہانی کا اگلا باب اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ایڈم نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عبداللہ رکھا اور اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا- مطالعے کے دوران اسے معلوم ھوا کہ اسلام میں والدین کا بہت مقام ھے- والدین کی خدمت کرنے والے لوگ جنتی ھوتے ھیں- یہ معلوم ھونے کے بعد عبداللہ سیدھا اولڈ پیپل ھوم گیا اور اپنے والد کو اپنے گھر لے آیا- اس کا والد کینسر کے مرض میں مبتلا ھو چکا تھا-
وہ دھریہ تھا ، وہ کسی مذھب اور خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا ، اس نے پوری زندگی نہ کوئی عبادت کی اور نہ ھی کسی مذہب کا مطالعہ۔ اس نے بس گستاخی میں پوری عمر گزار دی تھی- عبداللہ ایڈم والد کو گھر لے آیا اور اس نے والد کی خدمت شروع کر دی- وہ ایک سٹور میں چار گھنٹے کام کرتا اور اس کے بعد گھر آ کر اپنے فلسطینی دوست کے ساتھ مل کر والد کو نہلاتا تھا- وہ اسے اپنے ھاتھوں سے کھانا بھی کھلاتا تھا- اسے ویل چیئر پر بٹھا کر سیر کیلئے بھی لے جاتا تھا- وہ اسے کتابیں پڑھ کر سناتا تھا اور اس کی باتیں سنتا تھا-
والد کےلئے یہ رویہ عجیب تھا- امریکا میں بچے اپنے والدین کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتے- وھاں والدین کی آخری عمر ھمیشہ تنہائی اور اولڈ پیپل ھوم میں گزرتی ھے لیکن نو مسلم عبداللہ نے یہ روایت بدل دی- اس نے والد اور والد کے دوستوں کو حیران کر دیا- یہ سلسلہ چلتا رھا یہاں تک کہ والد کینسر کی آخری سٹیج پر پہنچ کر ھسپتال میں داخل ھو گیا- عبداللہ ھسپتال میں بھی والد کی خدمت کرتا رھا اور اس خدمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس کا وہ والد جس نے زندگی بھر اللہ کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا ، اس نے انتقال سے چھ ماہ قبل اسلام قبول کر لیا- وہ ایمان کی حالت مین دنیا سے رخصت ھوا-
والد کے انتقال کے بعد عبداللہ نے مختلف جابز کیں- وہ ان نوکریوں سے ھوتا ھوا ایف بی آئی میں پہنچ گیا۔ وہ اس وقت میرے ساتھ بیٹھا تھا- وہ مسلمان تھا مگر اس کا حلیہ مسلمانوں جیسا نہیں تھا- وہ حلئے سے امریکی لگتا تھا- میں نے جب اس سے پوچھا کہ آپ نے داڑھی کیوں نہیں رکھی تواس نے اس سوال پر ایک عجیب انکشاف کیا- اس نے بتایا کہ ھم نے امریکا میں تبلیغ کا ایک نیٹ ورک بنا رکھا ھے- ھم لوگ اپنا حلیہ نہیں بدلتے ، ھم امریکا میں امریکی بن کر زندگی گزارتے ھیں اور غیر مسلموں کو صرف اپنے رویئے ، خدمت اور محبت سے مسلمان بناتے ھیں-
میں نے جب اس سے عرض کیا کہ آپ یہ کام داڑھی رکھ کر بھی کر سکتے ھیں تو عبداللہ نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا کہ ھاں لیکن ھمارا خیال ھے کہ ھم نے اگر اسلامی حلیہ اپنا لیا تو شاید امریکی لوگ ھمارے قریب نہ آئیں اور تبلیغ کیلئے دوسرے فریق کا آپ کے قریب آنا ضروری ھوتا ھے- میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کی یہ تکنیک کس حد تک کامیاب ھوئی تو اس نے ھنس کر جواب دیا کہ ھم الحمداللہ اس تکنیک سے سینکڑوں لوگوں کو مسلمان بنا چکے ھیں اور یہ سب نومسلم اسکی طرح ھیں ، باھر سے ایڈم اور اندر سے "عبداللہ"

Address

Mirpur Khas City
Mirpur Khas
72000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mirpur Khas Smart Farming posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share