30/03/2025
اک طرف تو ہے اک طرف زمانے کے دکھ
بھلاؤ کیسے میں تیرے جانے کے دکھ
رکھتا ہوں سر پر نیند نہیں آتی
کس کو بتاؤں تیرے سرہانے کے دکھ
خود پر گزری تو سمجھ آیا مجھے
کیسے ہیں خواب جلانے کے دکھ
پڑھ سکو تو پڑھ لو لکھ دیئے ہیں سب
جو سینے میں تھے راز چھپانے کے دکھ
اس قدر دیتے ہیں اذیت مجھے
جا کر واپس پلٹ آنے کے دکھ
اس عید پر اوں گا لے جاؤں گا
سنبھال رکھنا آشیانے کے دکھ
بن سنور کر بیٹھے ہیں دیکھو تو حماد
کب ہیں تیرے بھلانے کے دکھ
رائٹر : (حماد کیانی)