Dadyal News Network

Dadyal News Network Get Latest News & Updates Around The Globe

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیرکل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیرBeing slave, weak and poor, hark’ the Kashmir calls...
30/07/2026

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

Being slave, weak and poor, hark’ the Kashmir calls, whom a sharp sighted call’d ‘Persia Small.’
سینۂ افلک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر

From sky their raises a sigh of grief, when a trueman is gagged by a tyrant chief.

کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقان پیر

(غم خانہء دہقان پیر: بوڑھے کسان کا گھر۔)

Of ruthless times she is telling a tale, from dales of hills, of peasants sad and pale.

آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر؟

(قوم نجیب: شریف، اصیل۔
چرب دست: ہاتھوں سے نفیس کام کرنے والے، ہنرمند۔
تر دماغ: ذہین۔
روز مکافات: بدلے کا دن۔
خدائے دیر گیر: دیر سے گرفت کرنے والا خدا ۔)

So famed in skill Oh this noble race where is thy avenge O’ Lord of each base?

Poet - ( Allama Iqbal)
[Translated by Q A Kabir]

جو انگریز افسران ہندوستان میں ملازمت کرنے کے بعد واپس انگلینڈ جاتے تو ان کو وہاں پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتیدلیل یہ...
05/02/2026

جو انگریز افسران ہندوستان میں ملازمت کرنے کے بعد واپس انگلینڈ جاتے تو ان کو وہاں پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتی

دلیل یہ تھی کہ

تم ایک غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو

جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے

یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے گئی

تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گے

اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھئے

ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا

خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے

واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی

خاتون نے لکھا ہے کہ :

میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی

ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے

ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے

روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پرواگرام بنتے ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے

اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا

ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ

برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے

ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا

جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو

سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا

اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا

اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی

ایک بار ایسا ہوا کہ

ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی

اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا

اُس نے ڈرائیور سے کہا کہ ;

ٹرین نہیں چلانی

ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ :

جو حکم چھوٹے صاحب

کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ

اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا

لیکن

بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا

بالآخر

بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہوا

چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی

ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے

ہماری منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا

بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی

قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی

جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیا

جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا

وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا

وہ زور زور سے کہہ رہا تھا

یہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہے

ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے

میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گا

میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ :

یہ اُس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے

یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا

وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ

اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکے

آج یہ واضع ہے کہ :

ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہے

البتہ غلامی کو دیس سے نہیں نکال سکے

یہاں آج بھی کئی

1- ڈپٹی کمشنرز
2- ایس پیز
3- وزرا مشیران
4- سیاست دان
5- جرنیل

صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سٹرکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں

اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ

ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالا طاق رکھ کر ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہئیے

ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئیے کہ ہم آزاد ہیں

Address

Main Squares Dadyal
Mirpur
10530

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dadyal News Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dadyal News Network:

Shortcuts

Share