Radio Pakistan Mithi

Radio Pakistan Mithi Station Director: Dr Ali Akbar Hingorjo

12/05/2026
📢 ریڈیو پاکستان واٹس ایپ  چینل! 📱کیا آپ باخبر رہنا چاہتے ہیں؟ ریڈیو پاکستان کے آفیشل واٹس ایپ چینل کے ذریعے  تازہ ترین خ...
12/05/2026

📢 ریڈیو پاکستان واٹس ایپ چینل! 📱

کیا آپ باخبر رہنا چاہتے ہیں؟ ریڈیو پاکستان کے آفیشل واٹس ایپ چینل کے ذریعے تازہ ترین خبریں، مستند معلومات اور تفریحی پروگرام براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
✨ ہمارے واٹس ایپ چینل پر آپ دیکھ سکیں گے
🌍 تازہ ترین ملکی و عالمی خبریں۔
📜 تاریخی اور ثقافتی پروگرام۔
🎙️ خصوصی انٹرویوز اور لائیو اپڈیٹس۔
🌦️ موسم اور کھیلوں کی صورتحال۔
🔗 فالو کرنے کا طریقہ:
نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور "Follow" کا بٹن دبا کر بیل آئیکن (🔔) آن کر دیں تاکہ کوئی اپڈیٹ مس نہ ہو!
👇🏿 https://whatsapp.com/channel/0029VaSPQKjDTkJulbL6BZ36

ریڈیو پاکستان: آپ کی آواز، آپ کی پہچان۔ 🇵🇰



Follow the Radio Pakistan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaSPQKjDTkJulbL6BZ36

Follow Radio Pakistan's WhatsApp Channel. Welcome to Radio Pakistan’s Official WhatsApp Channel — bringing you a diverse range of engaging programmes and exclusive digital content from across Pakistan.

Stay connected with:
• Special programmes featuring your favourite hosts
• Content in multiple regional and national languages
• Exclusive web reports and feature stories
• Cultural, educational, literary, and entertainment content
• A platform to connect with us in your mother tongue

Experience the true voice of Pakistan through inspiring stories, meaningful conversations, and quality programming — all in one place.. Join 149 followers for the latest updates.

12/05/2026

‏امریکی آرمی وار کالج کے وفد کا اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کا دورہ۔

‏نیویارک: امریکہ کے آرمی وار کالج کے 40 رکنی وفد نے، جس میں پانچ خواتین افسران بھی شامل تھیں اور جس کی قیادت کرنل اسٹیفن والٹرز کر رہے تھے، آج اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کا دورہ کیا تاکہ پاکستان سے متعلق بریفنگ میں شرکت کی جا سکے۔

‏اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے وفد کو اقوام متحدہ کے امور میں پاکستان کی فعال شمولیت اور کثیرالجہتی سفارت کاری میں اس کے کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے وسیع خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر پاکستان کے مؤقف کی وضاحت بھی کی۔

‏سفیر عاصم نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان وسیع البنیاد اور متحرک تعلقات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں سلامتی، دفاع، انٹیلی جنس، انسداد دہشت گردی، اقتصادی تعاون، تجارت اور عوامی روابط شامل ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے تعمیری اور مصالحانہ کردار کو بھی اجاگر کیا۔

اردو ادب کی کہکشاں میں سید ضمیر جعفری ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند ہیں جن کی روشنی میں طنز و مزاح کی شگفتگی بھی ہے او...
12/05/2026

اردو ادب کی کہکشاں میں سید ضمیر جعفری ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند ہیں جن کی روشنی میں طنز و مزاح کی شگفتگی بھی ہے اور فکر و شعور کی گہرائی بھی۔

1916ء میں جہلم کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے ضمیر جعفری کی شخصیت قدرت کا ایک ایسا شاہکار تھی جس میں فوجی ڈسپلن کی سختی اور شاعرانہ مزاج کی نرمی کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کی زندگی کا سفر صحافت، فوج اور ادب کے مختلف مراحل سے گزرتا ہوا ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت پر منتج ہوا جس نے اردو مزاح نگاری کو محض ہنسانے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کا ایک مؤثر ہتھیار بنا دیا۔ ان کا قد آور پیکر اور چہرے پر ہمہ وقت رقصاں مسکراہٹ ان کی باطنی نفاست اور ہمدردانہ فطرت کی عکاسی کرتی تھی۔

ضمیر جعفری کی شاعری کا خاصہ وہ مخصوص لب و لہجہ ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے۔ انہوں نے اردو نظم اور غزل دونوں میں طبع آزمائی کی، لیکن ان کی شہرت کا اصل ستون ان کی مزاحیہ شاعری بنی۔ ان کے ہاں مزاح، تضحیک یا تمسخر سے پاک ہے؛ وہ زندگی کی ناہمواریوں پر اس طرح چوٹ کرتے ہیں کہ قاری کے لبوں پر مسکراہٹ بھی آ جاتی ہے اور دل میں کسک بھی پیدا ہوتی ہے۔ ان کی شاعری میں دیہاتی اور شہری زندگی کا ٹکراؤ، مہنگائی، سیاسی منافقت اور روزمرہ کے انسانی رویوں کو جس مہارت سے برتا گیا ہے، وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے "ضمیر پاشی" کے ذریعے اردو ادب کو وہ تازگی عطا کی جو برسوں گزرنے کے بعد بھی اپنی خوشبو کھونے نہیں پائی۔

بطور مزاح نگار، ضمیر جعفری نے زبان و بیان کے ایسے تجربات کیے جو اردو کی شعری روایت میں منفرد تسلیم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے انگریزی اور مقامی الفاظ کو اردو تراکیب میں اس خوبصورتی سے پرویا کہ وہ اجنبی ہونے کے بجائے بیان کا لازمی حصہ معلوم ہونے لگے۔ ان کی تخلیقات، جیسے کہ 'مافی الضمیر'، 'ضمیر حاضر ضمیر غائب' اور 'نشاطِ تماشا'، ان کے گہرے مشاہدے اور تخلیقی زرخیزی کا ثبوت ہیں۔ وہ صرف لفظوں کے جادوگر نہیں تھے بلکہ سماج کے نبض شناس بھی تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کا طنز کبھی تلخ نہیں ہوتا بلکہ ایک ہمدرد مصلح کی مانند معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھتا محسوس ہوتا ہے۔

ان کی ادبی خدمات کا دائرہ محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ ان کی نثری تحریریں، خاکے اور یاداشتیں بھی اردو ادب کا بیش بہا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اردو ادب کو ایک نیا آہنگ دیا اور مزاح کے دامن کو وسعت عطا کی۔ ضمیر جعفری نے ثابت کیا کہ مزاح نگاری محض لفظی بازی گری نہیں بلکہ ایک سنجیدہ فن ہے جس کے لیے وسیع مطالعہ اور حساس دل درکار ہوتا ہے۔
سید ضمیر جعفری کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 'تمغۂ حسنِ کارکردگی' (پروائیڈ آف پرفارمنس) جیسے اعلیٰ اعزاز سے نوازا۔
ادب کا یہ روشن چراغ 12 مئی 1999ء کو ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔
آج بھی جب اردو مزاح کا ذکر ہوتا ہے تو سید ضمیر جعفری کا نام ایک ایسے معتبر حوالے کے طور پر ابھرتا ہے جس نے اپنی مسکراہٹوں کے پیچھے زندگی کے تلخ حقائق کو چھپائے رکھا اور انسانیت کو جینے کا ایک نیا حوصلہ عطا
کیا۔

شاعری مجموعے:
مافی الضمیر، آگ، مسدس بدحالی، ولایتی زعفران (انگریزی سے ترجمے)، نشاط تماشا(کلیات) ،اکتارہ ، کارزار ، لہو ترنگ ، جزیروں کے گیت ، من کے تار ، قریۂ جاں ، ضمیر یات۔

نثر کی کتابیں:
کتابی چہرے، اڑاتے خاکے، کالے گورے سپاہی، جنگ کے رنگ، ہندوستان میں دو سال، آنریری خسرو، ضمیرحاضر ضمیر غائب،سوزِ وطن، شاہی حج، سفیر لکیر، کنگرو دیس میں، پہچان کا لمحہ، نشانِ منزل، مسافرِ شہرِ نو، جدائی کا
موسم ، بھید بھرا شہر اور عالمی جنگ کی دُھند میں

ہم زمانے سے فقط حسن گماں رکھتے ہیں
ہم زمانے سے توقع ہی کہاں رکھتے ہیں

ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں

کچھ ہمارے بھی ستارے ترے دامن پہ رہیں
ہم بھی کچھ خواب جہان گزراں رکھتے ہیں

چند آنسو ہیں کہ ہستی کی چمک ہے جن سے
کچھ حوادث ہیں کہ دنیا کو جواں رکھتے ہیں

جان و دل نذر ہیں لیکن نگہ لطف کی نذر
مفت بکتے ہیں قیامت بھی گراں رکھتے ہیں

اپنے حصے کی مسرت بھی اذیت ہے ضمیرؔ
ہر نفس پاس غم ہم نفساں رکھتے ہیں

11/05/2026

معرکہ حق میں ہمارے شاہینوں کا غلبہ اور دشمن کے طیاروں کا ملبہ تھا۔

~وزیراعظم شہباز شریف کا معرکہ حق کی تقریب سے خطاب

اردو نظم کے افق پر مجید امجد ایک ایسے ستارے کی مانند ہیں جس کی روشنی بظاہر مدھم سہی، مگر اس کی لو میں وہ گہرائی اور تپش ...
11/05/2026

اردو نظم کے افق پر مجید امجد ایک ایسے ستارے کی مانند ہیں جس کی روشنی بظاہر مدھم سہی، مگر اس کی لو میں وہ گہرائی اور تپش ہے جو بڑے بڑے روشن چراغوں کو مات دے دیتی ہے۔
29 جون 1914ء کو جھنگ کی سرزمین پر آنکھ کھولنے والے اس عظیم شاعر نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور پھر محکمہ خوراک میں سرکاری ملازمت اختیار کی، جہاں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر کی حیثیت سے ان کا زیادہ وقت ساہیوال میں گزرا۔
مجید امجد، جھوٹے رعب و داب اور ادبی گروہ بندیوں سے دور، زندگی بھر درویشی اور سادگی کا نمونہ بنے رہے۔ انہوں نے اپنی ذات کو ایک ایسے صدف میں بند کر لیا تھا جس کے اندر تخلیق کے موتی تو مسلسل بنتے رہے، مگر انہوں نے کبھی اپنی نمائش کی تمنّا نہیں کی۔ ان کی شخصیت کا یہی ٹھہراؤ اور متانت ان کی نظموں کے لہجے میں بھی رچی بسی نظر آتی ہے۔
مجید امجد کا شمار علامہ اقبال کے بعد والی نسل میں فیض احمد فیض، میرا جی اور ن م راشد جیسے بلند پایہ شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری محض لفظوں کا گورکھ دھندہ نہیں، بلکہ یہ کائنات کے ان خاموش نوحوں کی آواز ہے جنہیں عام انسانی سماعتیں سننے سے قاصر رہتی ہیں۔ انہوں نے وسیع و عریض کائنات کے پس منظر میں انسان کی بے بساطی اور وقت کے بے رحم بہاؤ کو اپنا موضوع بنایا۔ ان کے ہاں درخت، پرندے، شام کی ڈھلتی ہوئی پرچھائیاں اور عام گلی کوچوں کے مناظر محض استعارے نہیں بلکہ وہ جیتی جاگتی حقیقتیں ہیں جو زندگی کے گہرے فلسفوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ اردو کے ان چند شعرا میں سے ہیں جنہوں نے روایتی مضامین سے ہٹ کر جدید انسان کے وجودی کرب اور تنہائی کو ایک نئی لسانی تشکیل عطا کی اور ایک ایسا کائناتی شعور پیش کیا جو فرد کو کائنات کے کل کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے۔
ادبی خدمات کے حوالے سے دیکھا جائے تو مجید امجد نے اردو نظم کو وہ وسعت، تنوع اور ہمہ گیریت عطا کی جس کی مثال معاصرین میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے ہیئت کے تجربات کے ساتھ ساتھ موضوعات کی سطح پر بھی اردو ادب کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ ان کے شعری مجموعے 'شبِ رفتہ'، 'شبِ رفتہ کے بعد'، 'چراغِ طاقِ جہاں'، 'طاقِ ابد' اور 'مرے خدا مرے دل' ان کی فنی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ خاص طور پر 'شبِ رفتہ' میں انہوں نے ماضی کی یادوں، حال کی تلخیوں اور مستقبل کے خدشات کو جس خوبصورتی سے ایک لڑی میں پرویا ہے، وہ انہی کا خاصہ ہے۔ وہ لفظوں کے پارکھ تھے اور ان کی استعارہ سازی کا عمل براہِ راست فطرت کے مشاہدے سے پھوٹتا تھا۔
11 مئی 1974ء کو اردو ادب کا یہ منفرد لہجہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا، مگر ان کی تخلیقات کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ مجید امجد کی شاعری آج بھی قاری کو ایک ایسی پراسرار دنیا میں لے جاتی ہے جہاں خاموشی کلام کرتی ہے اور کائنات کا ہر ذرہ اپنی داستان سناتا محسوس ہوتا ہے۔
اردو ادب کی تاریخ انہیں ہمیشہ ایک ایسے سچے تخلیق کار کے طور پر یاد رکھے گی جس نے شہرت کی طلب سے بے نیاز ہو کر فن کی سچی آبیاری کی اور اردو نظم کو ایک نیا وقار بخشا۔
بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی
وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی
ابد کی راہ پہ بے خواب دھڑکنوں کی دھمک
جو سو گئے انہیں بجھتے جگوں میں چھوڑ گئی
یہ زندگی کی لگن ہے کہ رت جگوں کی ترنگ
جو جاگتے تھے انہی کو یہ دھن جھنجھوڑ گئی
وہ ایک ٹیس جسے تیرا نام یاد رہا
کبھی کبھی تو مرے دل کا ساتھ چھوڑ گئی
رکا رکا ترے لب پر عجب سخن تھا کوئی
تری نگہ بھی جسے نا تمام چھوڑ گئی
فراز دل سے اترتی ہوئی ندی امجدؔ
جہاں جہاں تھا حسیں وادیوں کا موڑ گئی

اردو نظم کے افق پر مجید امجد ایک ایسے ستارے کی مانند ہیں جس کی روشنی بظاہر مدھم سہی، مگر اس کی لو میں وہ گہرائی اور تپش ہے جو بڑے بڑے روشن چراغوں کو مات دے دیتی ہے۔

29 جون 1914ء کو جھنگ کی سرزمین پر آنکھ کھولنے والے اس عظیم شاعر نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور پھر محکمہ خوراک میں سرکاری ملازمت اختیار کی، جہاں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر کی حیثیت سے ان کا زیادہ وقت ساہیوال میں گزرا۔

مجید امجد، جھوٹے رعب و داب اور ادبی گروہ بندیوں سے دور، زندگی بھر درویشی اور سادگی کا نمونہ بنے رہے۔ انہوں نے اپنی ذات کو ایک ایسے صدف میں بند کر لیا تھا جس کے اندر تخلیق کے موتی تو مسلسل بنتے رہے، مگر انہوں نے کبھی اپنی نمائش کی تمنّا نہیں کی۔ ان کی شخصیت کا یہی ٹھہراؤ اور متانت ان کی نظموں کے لہجے میں بھی رچی بسی نظر آتی ہے۔

مجید امجد کا شمار علامہ اقبال کے بعد والی نسل میں فیض احمد فیض، میرا جی اور ن م راشد جیسے بلند پایہ شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری محض لفظوں کا گورکھ دھندہ نہیں، بلکہ یہ کائنات کے ان خاموش نوحوں کی آواز ہے جنہیں عام انسانی سماعتیں سننے سے قاصر رہتی ہیں۔ انہوں نے وسیع و عریض کائنات کے پس منظر میں انسان کی بے بساطی اور وقت کے بے رحم بہاؤ کو اپنا موضوع بنایا۔ ان کے ہاں درخت، پرندے، شام کی ڈھلتی ہوئی پرچھائیاں اور عام گلی کوچوں کے مناظر محض استعارے نہیں بلکہ وہ جیتی جاگتی حقیقتیں ہیں جو زندگی کے گہرے فلسفوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ اردو کے ان چند شعرا میں سے ہیں جنہوں نے روایتی مضامین سے ہٹ کر جدید انسان کے وجودی کرب اور تنہائی کو ایک نئی لسانی تشکیل عطا کی اور ایک ایسا کائناتی شعور پیش کیا جو فرد کو کائنات کے کل کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے۔

ادبی خدمات کے حوالے سے دیکھا جائے تو مجید امجد نے اردو نظم کو وہ وسعت، تنوع اور ہمہ گیریت عطا کی جس کی مثال معاصرین میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے ہیئت کے تجربات کے ساتھ ساتھ موضوعات کی سطح پر بھی اردو ادب کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ ان کے شعری مجموعے 'شبِ رفتہ'، 'شبِ رفتہ کے بعد'، 'چراغِ طاقِ جہاں'، 'طاقِ ابد' اور 'مرے خدا مرے دل' ان کی فنی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ خاص طور پر 'شبِ رفتہ' میں انہوں نے ماضی کی یادوں، حال کی تلخیوں اور مستقبل کے خدشات کو جس خوبصورتی سے ایک لڑی میں پرویا ہے، وہ انہی کا خاصہ ہے۔ وہ لفظوں کے پارکھ تھے اور ان کی استعارہ سازی کا عمل براہِ راست فطرت کے مشاہدے سے پھوٹتا تھا۔

11 مئی 1974ء کو اردو ادب کا یہ منفرد لہجہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا، مگر ان کی تخلیقات کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ مجید امجد کی شاعری آج بھی قاری کو ایک ایسی پراسرار دنیا میں لے جاتی ہے جہاں خاموشی کلام کرتی ہے اور کائنات کا ہر ذرہ اپنی داستان سناتا محسوس ہوتا ہے۔
اردو ادب کی تاریخ انہیں ہمیشہ ایک ایسے سچے تخلیق کار کے طور پر یاد رکھے گی جس نے شہرت کی طلب سے بے نیاز ہو کر فن کی سچی آبیاری کی اور اردو نظم کو ایک نیا وقار بخشا۔

بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی
وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی

ابد کی راہ پہ بے خواب دھڑکنوں کی دھمک
جو سو گئے انہیں بجھتے جگوں میں چھوڑ گئی

یہ زندگی کی لگن ہے کہ رت جگوں کی ترنگ
جو جاگتے تھے انہی کو یہ دھن جھنجھوڑ گئی

وہ ایک ٹیس جسے تیرا نام یاد رہا
کبھی کبھی تو مرے دل کا ساتھ چھوڑ گئی

رکا رکا ترے لب پر عجب سخن تھا کوئی
تری نگہ بھی جسے نا تمام چھوڑ گئی

فراز دل سے اترتی ہوئی ندی امجدؔ
جہاں جہاں تھا حسیں وادیوں کا موڑ گئی

معرکۂ حق: 11 مئی 2025 کی دستاویزی جھلکیاں۔۔ترتیب و پیشکش: زبیر بشیر ،ریڈیو پاکستان لاہور
11/05/2026

معرکۂ حق: 11 مئی 2025 کی دستاویزی جھلکیاں۔۔
ترتیب و پیشکش: زبیر بشیر ،ریڈیو پاکستان لاہور

معرکۂ حق: 11 مئی 2025 کی دستاویزی جھلکیاں۔۔
ترتیب و پیشکش: زبیر بشیر ،ریڈیو پاکستان لاہور

Message of President Asif Ali Zardari on the First Anniversary of Maarka-e-HaqOne year ago, Pakistan was put to the test...
10/05/2026

Message of President Asif Ali Zardari on the First Anniversary of Maarka-e-Haq

One year ago, Pakistan was put to the test, and it did not blink.
The events of April and May last year were not simply a military episode. They were a moment of national reckoning. When India, under the guise of the Pahalgam false flag operation, launched unprovoked strikes on our soil, targeting mainly civilian areas besides military installations, Pakistan responded with discipline, precision, courage and unity. Operation Bunyan-um-Marsoos, the decisive centrepiece of Maarka-e-Haq, demonstrated what our armed forces are capable of when the country stands behind them as one. Our response was calibrated, measured, precise and proportionate. Our message was unambiguous.
Maarka-e-Haq showed the world that Pakistan's deterrence is not a slogan. It rests on professional competence, tri-service coordination and the resolve of a people who shall not accept aggression lying down. We salute our men and women in uniform and we bow our heads in honour of every martyr who gave their life so that this nation could stand tall. It is part of our DNA that when a war is imposed on us, every Pakistani becomes a soldier, some in uniform and most without.
Pakistan today is recognised as a state that not only knows how to defend itself but also serves as a guarantor of peace and stability. In the context of recent tensions in West Asia, Pakistan, through responsible and balanced diplomacy, played a key role in facilitating a ceasefire between the United States and Iran and bringing both sides to the negotiating table. Our efforts helped avoid further bloodshed and contributed to stabilising the broader regional environment. Pakistan will continue its efforts to promote peace, dialogue and stability wherever it can make a difference.
I would like to take this opportunity to reiterate that the Kashmir dispute remains the root cause of instability in this region. No honest account of South Asia's security challenges can avoid that truth. The aspirations of the Kashmiri people, enshrined in United Nations Security Council resolutions, have not been extinguished by decades of occupation. They shall not be. Pakistan's commitment to a just and lawful resolution remains unchanged.
India's suspension of the Indus Waters Treaty is tantamount to weaponisation of water. The Treaty, brokered by the World Bank and signed in 1960, has survived four wars and sixty-five years of bitter rivalry between two nuclear-armed neighbours. It was designed to be beyond the reach of political crises. India's decision to put it in abeyance, without any legal basis for unilateral suspension, is a threat to the livelihoods of millions. Water is not a bargaining chip. Pakistan shall defend its water rights with the same resolve it has shown in defence of its territory.
We also reiterate our position on terrorism with complete clarity. Pakistan is a victim of terrorism. We remain determined to root out the Fitna al-Khawarij and Fitna al-Hindustan in all their manifestations. We have engaged the Afghan de facto authorities with seriousness and expect that commitments made under the Doha framework, that Afghan territory will not be used against Pakistan or any other state, are honoured fully.
Pakistan seeks no conflict. But it shall never accept thuggish, coercive behaviour. We are committed to sovereignty, to international law, and to a stable region where differences are resolved through dialogue rather than domination.
Maarka-e-Haq is now etched into our national consciousness. It was not a moment we sought, but the one we met with everything we had. Let it stand, each year, as a reminder that a nation which knows its worth will always find the strength to defend it.
——

10/05/2026

LIVE: NATIONAL BUNYAN UM MARSOOS CEREMONY 2026

10/05/2026

مٺي - 10 مئي 2026
ڊپٽي ڪمشنر ٿرپارڪر عبدالحليم جاگيراڻي پاران “مرڪه حق” جي حوالي سان ضلعي ۾ 6 مئي کان 10 مئي 2026 تائين 5 ڏينهن وارين “معرڪه حق” جون تقريبون شاندار نموني سان ملهائڻ وارين ڏنل هدايتن تي معرڪه حق جون تقريبون هلندڙ آهن ان سلسلي ۾ اڄ تعليم کاتي ٿرپارڪر پاران“معرڪو حق” ۽ “آپريشن بنيان المرصوص” جي پهرين سالگرهه جي موقعي تي وطن جي غازين ۽ شھيدن کي ڀيٽا پيش ڪرڻ لاءِ گورنمينٽ هاءِ اسڪول مٺي کان ڪشمير چوڪ تائين هڪ باوقار ريلي ڪڍي وئي. ريلي ۾ تعليم کاتي جي آفيسرن، استادن، شاگردن ۽ مختلف مڪتبہ فڪر سان تعلق رکندڙ ماڻهن جي وڏي انگ شرڪت ڪئي. ريلي ۾ شرڪت ڪندڙن “پاڪستان زنده باد”، “پاڪ فوج پائنده باد”، جا فلڪ شگاف نعرا هڻي پاڪ فوج سان پنهنجي محبت ۽ يڪجهتي جو اظهار ڪيو.
ريلي جي پڄاڻي تي خطاب ڪندي ڊسٽرڪٽ ايجوڪيشن آفيسر پرائمري ٿرپارڪر نصرالله ساهڙ، ڊپٽي ڊسٽرڪٽ ايجوڪيشن آفيسر سيڪنڊري ٿرپارڪر ارجن لال سوٽهڙ، غلام محمد محمداني، هدايت الله بچاڻي، عطا الرحمان بجير تعلقه ايجوڪيشن آفيسر پرائمري، نصير ڪنڀار ۽ ٻين مقررن جو چوڻ هو ته “معرڪو حق” 10 مئي جي شهيدن جي عظيم قربانين ۽ پاڪ فوج سان قوم جي محبت جو عملي ثبوت آهي. مقررين جو وڌيڪ چوڻ هو ته ڀارت جي جارحيت جي جواب ۾ پاڪستان “آپريشن بنيان المرصوص” شروع ڪيو ۽ دشمن کي ڀرپور ۽ مؤثر جواب ڏنو. هنن پاڪ فضائيه ۽ پاڪ فوج جي پيشاورانه مهارت، بهادري ۽ قربانين کي ساراهيندي کين خراج تحسين پيش ڪيو ۽ چيو ته پاڪستاني قوم پنهنجي هٿياربند فوجن سان گڏ بيٺل آهي ۽ هميشه بيٺل رهندي.

Address

Gaddi Bhit Mithi, Distt. Tharparkar, Sindh
Mithi
69230

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Radio Pakistan Mithi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Radio Pakistan Mithi:

Share

Category