Multan One Digital

Multan One Digital Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Multan One Digital, Media/News Company, Multan.

03/04/2026

غریب کی مشکلات سے بھری زندگی
سبق آموز کہانی

دوسرے عشرہ کی دعا
07/03/2026

دوسرے عشرہ کی دعا

تذکرۂ صالحاتسیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہُ عنہااللہ پاک کے پیارے محبوب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی شہ...
21/02/2026

تذکرۂ صالحات

سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہُ عنہا

اللہ پاک کے پیارے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شہزادیوں میں سے آپ کی سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء ہیں ، آپ ہی وہ ہستی ہیں جنہیں “ سَیّدۃُ نِساء اہل الجنّۃ “ اور “ سیّدۃ نِساء العالمین “ جیسے القابات عطا ہوئے۔ آپ وضع قطع اور شکل و صورت میں آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بہت مشابہ تھیں۔ [1]

پُرنور ولادت : سیّدہ فاطمۃ الزہراء کی ولادتِ با سعادت اعلانِ نبوت سے 5 سال پہلے ہوئی۔ [2] جب آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت ہوئی تو فضا آپ کے چہرے کے نور سے منور ہوگئی۔ آپ کی ولادت حضرت خدیجۃُ الکبری رضی اللہ عنہا کے گھر پر ہوئی اسی لئے اسے مولدِ فاطمہ کہا جاتا تھا ، [3] حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دیگر اولاد کی طرح آپ کو دائی کے سپرد نہیں کیا کہ وہ آپ کو دودھ پلائے بلکہ انہوں نے خود اپنے زیرِ سایہ آپ کی شاندار پرورش کی ۔
عبادت و ریاضت : آپ روزوں اور عبادت و ریاضت کا بہت شوق رکھتی تھیں کئی بار ایسا ہوا کہ آپ نے پوری رات نماز پڑھتے ہوئے گزار دی۔ [5]

پردہ و حیا : شرم و حیا اور پردہ کرنا آپ کے اعلیٰ اوصاف میں سے تھا ، کبھی کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑی ، بلکہ آپ کی یہ تمنا تھی کہ وصا ل کے بعد بھی مجھ پرکسی غیر مرد کی نظر نہ پڑے ، چنانچہ بروزِ محشر لوگوں کو نگاہیں جھکانے کا حکم ہوگا تاکہ آپ رضی اللہ عنہا پل صراط سے گزر جائیں۔ [6]

راہِ خدا میں خرچ : اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنا آپ کا محبوب اور پسندیدہ ترین عمل تھا۔ چنانچہ آپ کی یہ شان اللہ پاک نے قراٰنِ کریم میں بھی بیان فرمائی۔ [7]

ازدواجی زندگی : حضرت مولیٰ علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہُ عنہما کا نکاح یقیناً بہت عمدہ اور شاندار تھا جس میں خود ربّ کریم کی رضا اور نبیِّ کریم کی دُعائیں ، نصیحتیں اور شفقتیں شامل تھیں ، یہ مبارک نکاح ایک قول کے مطابق 26 یا 27 صفرسن 2ھ میں ہوا۔ [8]

نکاح کے بعد بی بی فاطمہ نے امورِ خانہ داری کی ذمہ داریوں کو نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے سے نبھایا اور ہر طرح کی مشکلات پر صبر کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا ، چکی پیسنے سے ہاتھوں میں نشان پڑجاتے ، پانی کی مشک بھر کر لانے کی مشقت ہوتی[9] آپ نے پھر بھی اپنی ازدواجی زندگی کا سفر صبر و شکر سے طے کیا۔
تربیتِ اولاد : آپ کے 3 بیٹے حسن ، حسین ، محسن اور 3 بیٹیاں زینب ، رقیہ اور ام کلثوم تھیں ، ان میں حضرت محسن اور رقیہ کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا۔ [10]

عشقِ رسول : آپ اپنے بابا جان سے بے انتہا محبت فرماتیں انہیں اپنی جگہ بٹھاتیں ان کی خوشی سے خوش اور ان کی تکلیف پر رنجیدہ ہوجاتیں ، ایک بار کفارِ مکہ نے مَعاذَ اللہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نماز کی حالت میں اونٹنی کی بچہ دانی ڈال دی ، آپ کو معلوم ہوا تو بہت غمگین ہوئیں اور فوراً جا کر اسے ہٹایا۔ [11] غزوۂ احد کے موقع پر شدید جنگ میں کئی صحابۂ کرام شہید ہوئے بہت سے زخمی بھی ہوئے ، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک چہرہ پر بھی زخم آیا ، سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے بابا جان کا مبارک چہرہ پانی سے دھو رہی تھیں ، مگر خون بند نہیں ہوتا تھا بالآخر کھجور کی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا اور اس کی راکھ مبارک چہرے کے زخم پر رکھی جس سے خون تھم گیا۔ [12]

آقا کی اِن سے محبت : نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی اپنی لختِ جگر سے بہت محبت و شفقت کا معاملہ فرماتے اور ان کو اپنی نشست پر بٹھاتے۔ [13] نیز آپ سفر سے واپسی پر سب سے پہلے بی بی فاطمہ کے ہاں تشریف لاتے۔ [14] ایک موقع پر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : میری بیٹی فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو چیز اسے بُری لگے وہ مجھے بُری لگتی ہے اور جو چیز اسے ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔
[15]

ازواجِ مطہرات سے محبّت : ازواجِ مطہرات سے بی بی فاطمہ کا تعلق نہایت محبت بھرا تھا ، اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو ، ایک بار امّاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے سوال کیا : حضور کو کون زیادہ محبوب تھا؟ فرمایا : فاطمہ ، پوچھا مَردوں میں؟ فرمایا : ان کے شوہر۔ [16] مفتی احمد یارخان رحمۃُ اللہِ علیہ یہاں فرماتے ہیں : یہ ہے حضرتِ عائشہ صِدیقہ کی حق گوئی کہ آپ نے یہ نہ فرمایا کہ حضور کو سب سے زیادہ پیاری میں تھی اور میرے بعد میرے والد بلکہ جو آپ کے علم میں حق تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اگر یہ ہی سوال حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ہوتا تو آپ فرماتیں کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو زیادہ پیاری جنابِ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں پھر ان کے والد۔ معلوم ہوا کہ ان کے دل بالکل پاک و صاف تھے۔ افسوس ان لوگوں پر ہے جواِن حضرات کو ایک دوسرے کا دُشمن کہتے ہیں۔ [17]

وصالِ پُر ملال : آپ آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد حضور کی یاد اور فراق میں بے چین رہتیں ، آخر کار حضور کی وفات کے 6 ماہ بعد 3 رمضان المبارک کو آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئیں۔ [18] صحیح قول کے مطابق اسلام کے پہلے خلیفہ ، امیرالمؤمنین حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ [19] مختار قول یہ ہے کہ آپ کا مزارِ پُر انواربقیع شریف میں ہے۔ [


,r.a

پہلے عشرے کی دعا
19/02/2026

پہلے عشرے کی دعا

All three ICC trophies winning Playing XI of Pakistan 🇵🇰From 1992 to 2017 — generations of match-winners who made histor...
08/02/2026

All three ICC trophies winning Playing XI of Pakistan 🇵🇰
From 1992 to 2017 — generations of match-winners who made history.
World Cup, T20 World Cup, Champions Trophy 🏆🏆🏆


نیچے اپنی رائے کا اظہار کیجیئے !!
26/01/2026

نیچے اپنی رائے کا اظہار کیجیئے !!

اسرائیل کے متعلق ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا بیان ۔۔
25/01/2026

اسرائیل کے متعلق ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا بیان ۔۔

قادرپورراں میں کھلی کچہری وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی اوپن ڈور پالیسی کے تحت ضلع بھر میں کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری...
24/01/2026

قادرپورراں میں کھلی کچہری وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی اوپن ڈور پالیسی کے تحت ضلع بھر میں کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری ہے سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کی ہدایت پر آج تھانہ قادرپورراں میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ایس پی گلگشت ڈویژن سیف اللہ گجر نے شرکت کی کھلی کچہری میں سائلین کی بڑی تعداد موجود تھی ایس پی گلگشت نے تمام سائلین کے فرداً فرداً مسائل سنے اور انہیں موقع پر ہی حل کرنے کے احکامات جاری کیے کھلی کچہری میں صدر سرکل کے ایس ایچ اوز ڈی ایس پی اور تمام تفتیشی افسران موجود تھے ایس پی گلگشت نے تمام تفتیشی افسران کو ہدایات جاری کیں کہ شہریوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش ائیں انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد ان سائلین کے لیے انصاف ان کی دہلیز پر مہیا کرنا ہے جو سائلین میرے دفتر نہیں پہنچ سکتے
رپورٹ
محمد علی رضا شاہین
نیوز رپورٹر ملتان ون ڈیجیٹل قادرپورراں

گل پلازہ کے ساتویں روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے، سانحے میں 71 اموات کی تصدیق ہوگئی جب کہ 77 افراد اب بھی لاپتا ہیں، 22 افر...
23/01/2026

گل پلازہ کے ساتویں روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے، سانحے میں 71 اموات کی تصدیق ہوگئی جب کہ 77 افراد اب بھی لاپتا ہیں، 22 افراد کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت ہوچکی ہے۔ دوسری طرف ڈائریکٹر ریسکیو 1122 نے گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر بھی لاشوں کے موجود ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ گل پلازہ کے ملبے سے گولڈ، تجوریاں اور پیسے ملنے کا سلسلہ بھی 7 روز سے جاری ہے۔

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقعہ گل پلازہ کی آتشزدگی کو جمعے کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے تاہم جاری ریسکیو آپریشن میں ملبے سے انسانی باقیات ملنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ سینئر فائر افسر ظفر خان کہتے ہیں کہ اب لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سعید کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں اب تک 71 لاشیں اور باقیات اسپتال پہنچائی گئی ہیں، جن میں سے 22 افراد کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت ہوچکی ہے جب کہ 48 افراد کی ڈی این اے رپورٹس آنا باقی ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق واقعے کے بعد 82 افراد لاپتہ ہیں جب کہ ڈی سی ساؤتھ کے شکایتی سیل نے لاپتہ افراد کی تعداد 88 بتائی ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک ایک ایک لاپتہ شخص کی باقیات نہ مل جائیں۔ حکام کے مطابق عمارت کو منہدم کرنے کا فیصلہ سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

گل پلازہ کے ملبے سے تجوریاں اور پیسے برآمد
دوسری جانب گل پلازہ آتشزدگی کے بعد جاری سرچ آپریشن کے دوران ملبے سے لاشوں اور انسانی باقیات ساتھ تجوریاں اور پیسے ملنے کا سلسلہ بھی 7 روز سے جاری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گل پلازہ کے ملبے سے اب تک 3 تجوریاں برآمد ہو چکی ہیں، جن میں مجموعی طور پر 14 کروڑ روپے کی رقم موجود تھی اور یہ تمام رقم ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے پاس موجود ہے۔

اس کے علاوہ ملبے سے صحیح سلامت اورجلی ہوئی ملکی اور غیر ملکی کرنسی بھی بڑی تعداد میں ملی ہے، ان کرنسی نوٹس کی مجموعی مالیت ایک کروڑ کے قریب بتائی جارہی ہے۔

Scotland will replace Bangladesh in T20 World Cup 2026
23/01/2026

Scotland will replace Bangladesh in T20 World Cup 2026

اللہ تعالیٰ نے شب معراج حضور علیہ السلام کو بہت سے فضائل، بہت سی بزرگیاں، بہت سی نوازشیں اور بہت سی عنائتیں فرمائیں۔ ان ...
16/01/2026

اللہ تعالیٰ نے شب معراج حضور علیہ السلام کو بہت سے فضائل، بہت سی بزرگیاں، بہت سی نوازشیں اور بہت سی عنائتیں فرمائیں۔ ان تمام نشانیوں اور نعمتوں سے سب سے بڑی نعمت جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا کی گئی وہ دیدار الہی تھا اور بہت سے معجزات اور امتیازات حضور علیہ السلام کو عطا ہوئے مگر دیگر انبیاء علیم السلام کو انکی شان، ان کی بساط، ان کے درجے، ان کے رتبے کے مطابق عطا کئے گئے تھے اور وہ سارے مراتب اور فضائل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذاتِ اقدس میں یکجا کر دیئے اور جمع بھی یوں کئے گئے، اُن میں سے ہر فضیلت اپنے رتبہ اور مقام کے اعتبار سے بھی حضور علیہ السلام کی ذات میں منتہائے کمال کو پہنچے۔ مگر رؤیت باری تعالیٰ کا شرف، دیدار الہی کا شرف یہ صرف حضور علیہ السلام کے لیے خاص تھا۔

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰیo

(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا۔

(النجم، 53: 11)

میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں نے جو کچھ دیکھا دل نے اسے جھٹلایا نہیں، دل نے اس کی تصدیق کر دی۔ یہ ترجمہ کہ کیسے تصدیق کی؟ یہ تفسیر طلب مسئلہ ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا اللہ کے دیدار سے شرف یاب ہونا اس مسئلے پر صحابہ کرام سے لے کر آئمہ کرام تک اور علماء کرام کی آراء، اقوال اور نکتہ ہائے نظر مختلف رہے ہیں اس پر بحثیں بھی ہوئیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلاشک و شبہ اللہ پاک کو دیکھا ہے اور وہ قول جس میں تھا کہ اللہ کو نہیں دیکھا اس کا مفہوم یہ لیا کہ اس دنیا میں نہیں دیکھا۔ اس میں نفی شب معراج کی نہیں ہے۔ بلکہ عمومی قول ہے اس دنیا میں جو آنکھیں ہیں وہ اللہ پاک کے دیدار کی طاقت نہیں رکھتیں۔

لَا تُدْرِکُهُ الْاَبْصَارُ ز وَهُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ ج.

نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیںاور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

(الانعام، 6: 103)

یہاں نہیں دیکھا سے مراد اس دنیا میں نہیں دیکھا اور جو اثبات کیا کہ اللہ پاک کو دیکھا اس سے مراد لیا کہ شب معراج جب

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰیo فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰیo

پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ پھر (جلوۂِ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میںصِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا)۔

(النجم، 53: 8۔9)

جب ان منزلوں پر حضور علیہ السلام کو سرفراز کر دیا گیا ساری مسافتوں، فاصلوں کو ہٹا دیا گیا اور قربت اور وصال میں کمال تک پہنچا۔ تو وہاں حجابات اٹھا دیئے گئے اور حضور علیہ السلام کو اللہ پاک نے اپنا جلوہ عطا کر دیا۔

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے اور بہت سے صحابہ کرام کا قول ہے مگر امام حسن بصری رضی اللہ عنہ سے اللہ کے دیدار سے شرف یاب ہونے کی بات آئی تو آپ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے اللہ کو دیکھا ہے، یہ ان کی اس مسئلے پر پختگی، شرح صدر اور یقین اور پختگی کا عالم ہے۔

اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آپ نے فرمایا:

رای رسول اللہ صلی الله علیه وآله وسلم رای ربه رای ربه رای ربه.

ہاں حضور علیہ السلام نے اللہ کا دیدار کیا بار بار فرمایا۔ حتی کہ یہ فرماتے فرماتے ان کا سانس رک گیا یعنی بار بار ان کلمات کو دہراتے رہے۔ سانس ختم ہونے تک۔ مقصد کیا ہوا کہ ان حضرات کو اس مسئلے پر اتنا پختہ یقین تھا کہ وہ پوری قطعیت کے ساتھ اس کو بیان کرتے۔

حضور علیہ السلام نے اللہ کا دیدار کیا ہے اور بعضوں نے کہا کہ آنکھوں سے نہیں دل سے دیدار کیا۔ بعضوں نے کہا دل اور آنکھوں دونوں سے دیدار کیا۔ یہ مختلف اقوال ہیں انہیں اگر یکجا کرکے ساروں کو ایک بنا کر سمجھا جائے تو ایک صورت تطبیق کی بھی ہے کہ آنکھوں سے بھی دیکھا اور دل سے بھی دیکھا اور یہ کہنا کہ آنکھوں سے نہیں دیکھا بلکہ دل سے دیکھا اور قرآن کا کہنا کہ دل نے اسے نہیں جھٹلایا۔ واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی روشنی میں سمجھنا آسان ہے جب سیدنا موسی علیہ السلام نے طور پر اللہ رب العزت کے حضور عرض کیا۔

رَبِّ اَرِنِیْ.

اے اللہ! مجھے اپنا آپ دکھا، اس پر اللہ جل مجدہ نے ارشاد فرمایا:

لَنْ تَرٰنِیْ.

اے موسی تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔

(الاعراف، 7: 143)

اس بات کی نفی نہیں کہ مجھے دیکھا نہیں جاسکتا۔ مجھے کوئی دیکھ نہیںسکتا یہ نہیں فرمایا: فرمایا لَنْ تَرٰنِیْ اے موسی تو مجھے نہیں دیکھ سکتا اس جواب کے اندر ایک وضاحت پوشیدہ ہے اور اس نفی کے اندر ایک اثبات پوشیدہ ہے کہ تم نہیں دیکھ سکتے مراد یہ ہے کہ اے موسی مجھے دیکھا تو جا سکتا ہے اور میرا جلوہ حسن ممکن ہے کوئی آنکھ اگر تاب نظارہ رکھتی ہو، تو میرا جلوہ دیکھ تو سکتی ہے مگر اے موسی یہ کام تیرے لئے مشکل ہے اگر بات یہاں ختم ہو جاتی پھر بھی اسکی ایک حد تھی مگر اس سے آگے جو واقعہ پیش آیا یہ ایک اور حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا:

وَلٰـکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَهٗ فَسَوْفَ تَرَانِیْ.

مگر پہاڑ کی طرف نگاہ کرو پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تم میرا جلوہ کرلوگے۔

(الاعراف، 7: 143)

یعنی اے موسی علیہ السلام ! ہم ایسا کرتے ہیں اپنی تجلی اس پہاڑ پر ڈالتے ہیں اور تم اس پہاڑ کی طرف دیکھو فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَهٗ فَسَوْفَ تَرَانِیْ اگر یہ پہاڑ ہماری تجلی برداشت کر گیا۔ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تم مجھے دیکھ لو گے۔ تجلی کہتے ہیں ظاہر ہونے کو، اپنے جلوہ حسن کو ظاہر کرنا۔ فرمایا:

فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَکًّا وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا ج

پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر (اپنے حسن کا) جلوہ فرمایا تو (شدّتِ انوار سے) اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ ( علیہ السلام ) بے ہوش ہوکر گرپڑا۔

(الاعراف، 7: 143)

اب دو سوال پیدا ہوئے۔ تین چیزوں میں اللہ پاک نے اپنا ظہور فرمایا:

1۔ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ اللہ پاک نے اپنے جلوہ حسن کو ظاہر فرمایا۔

2۔ دوسری بات جَعَلَهٗ دَکًّا پہاڑ میں اتنی طاقت نہ تھی کہ اسے جذب کرسکتا۔ وہ برداشت نہ کرسکا اور جل اٹھا، ریزہ ریزہ ہوگیا۔ دو باتیں ہوگئیں۔ وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا اگر اس جلوہ حسن کے ظہور کا کوئی حصہ موسی علیہ السلام پر پڑا نہ ہو تو آپ کے لئے بے ہوش ہو جانے اور گر پڑنے کا کیا معنی؟ جو اثر پہاڑ پر ہوا وہی اثر حضرت موسی علیہ السلام پر ہوا فرق یہ تھا پہاڑ پر براہ راست ظہور ہوا وہ جل اٹھا، موسی علیہ السلام نے انعکاسی ظہور کا اثر لیا وہ بے ہوش ہوگئے۔قرآن مجید نے فرمایا تھا:

فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَهٗ فَسَوْفَ تَرَانِیْ.

اگریہ قائم رہا اے موسی تم مجھے دیکھ لو گے۔

(الاعراف، 7: 143)

جیسے سورج کا ظہور آئینے پر ہو اور آئینے میں وہ سورج چمکنے لگے اور کوئی آئینے کو دیکھے تو اس نے سورج کو دیکھ لیا۔ اگر اس کا شیشہ ٹوٹ جائے، چور چور ہو جائے پھر نہیں دیکھا جاسکے گا کہ اب آئینہ مظہر نہ رہا۔ چور چور ہوگیا، ٹوٹ گیا جب اپنی حالت پر قائم نہ رہا۔ تو مظہر نہ ہو سکا، اگر اپنی حالت پر برقرار رہا تو سورج اس میں چمک اٹھا اور دیکھنے والے نے اس آئینہ میں سورج کو دیکھ لیا۔ اس پہاڑ کو اللہ جل مجدہ نے آئینے کی مثل بنایا۔

مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰیo

(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا۔

(النجم، 53: 11)

یعنی دل نے اسے جھٹلایا نہیں، اب اس مقام کی تشریح اس واقعہ سے کرتے ہیں کہ تاکہ تطبیق ہو جائے آنکھیں براہ راست لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ دیکھ نہیں سکتیں ۔اب وہ سارے اقول جمع کر رہے ہیں۔ بے شک آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں مگر دکھائے جانے کا اہتمام تو کیا۔ یہ نفی رؤ یت کی بالعین کہ آنکھیں ادراک نہیں کرسکتیں۔ باوجود اس کے آنکھیں دیکھ نہیں سکتی تھیں مگر اس نظارہ حسن کی ایک صورت تو پیدا کی تھی۔ یہ مظہریت کی طریق پر حضرت موسی علیہ السلام کو اپنا دیدار کرا دیا جو وہ دیکھ نہ سکے، نہ برداشت کرسکے۔

حضور علیہ الصلوۃ السلام کے بارے میں فرمایا:

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بشریت کی تھیں اور دل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا عرش الہی سے بھی بلند و بالا تھا۔ اس مقام پر اللہ پاک نے چاہا کہ اپنے محبوب کو دیدار سے نوازا جائے وہاں تو اہتمام یوں کیا تھا کہ طور کو مظہر بنایا تھا۔ اس پر اپنا جلوہ کیا۔

اب یہاں نہ تو کوئی پہاڑ تھا اور نہ کسی پہاڑ کی حاجت و ضرورت۔ فرمایا: تیرے دل کو اپنی جلوہ گاہ بناتے ہیں ان آنکھوں نے نظر اُٹھائی دیکھا مگر نور ایک حجاب تھا فرمایا نورمیری آنکھوں نے دیکھا۔ مگر وہ نور ہی نور تھا۔ اس نور سے آگے کیسے دیکھتا؟ آنکھوں کے سامنے تو نور حجاب تھا مگر قلب اطہر کے لئے کوئی حجاب نہ تھا۔ حضور علیہ السلام کے دل اطہر کو اللہ پاک نے اپنی جلوہ گاہ بنا دیا اور وہ عمل جو صفاتی تجلی کے اعتبار سے طور پر جلوہ ذات ملا تھا۔ جلوہ صفات تھا، وہ اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام اللہ پاک کے صفاتی مظہر ہوتے ہیں، اولیائے کرام اللہ پاک کے اسمائی مظہر ہوتے ہیں، ساری مخلوق اللہ کی افعالی مظہر ہے۔ تنہا تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی ذات کے مظہر ہیں۔ حضور کی شان مظہریت میں اللہ کے اسماء افعال اور ذات کی مظہریت بھی شامل ہے۔ قلب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ پاک نے اپنا مظہر بنایا۔ فرمایا محبوب ہم اپنا جلوہ تیرے دل میں اتارتے ہیں۔

جیسے ہم نے حضرت موسی سے کہا تھا کہ جب ہم جلوہ اتاریں گے پہاڑ پر اگر پہاڑ برقرار رہا تو وہ میرا مظہر بن جائے گا۔ تم اگر برقرار رہے تم مجھے دیکھ لوگے اسی طرح محبوب! ہم تیرے قلب اطہر میں اپنی ذات کا جلوہ اتارتے ہیں فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ اگر تیرا دل میری ذات کے جلوے پر برقرار رہا اور اس نے میرے جلوہ ذات کو اپنے اندر سمو لیا اور میرے جلوے کا مظہر بن گیا۔ وہ آنکھیں جو میرے جلوے کو براہ راست نہیں دیکھ سکتیں۔تیرے دل کو دیکھ کر پھر مجھے دیکھ سکیں گئیں۔

آئینہ دل میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

مزید فرمایا:

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰیo

(النجم، 53: 17)

آنکھ نہ بھٹکی اور نہ بے راہ ہوئی نہ حد سے بڑھی، تیرے دل کو اپنی جلوہ گاہ بناتے ہیں اپنی ذات کا جلوہ حسن تیرے دل میں چمکاتے ہیں ۔اے محبوب! اب تیری آنکھیں تیرے دل کو دیکھیں گئی میں نظر آ جاؤنگا۔

مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰیo

(النجم، 53: 11)

آنکھوں نے دیکھا کہ جلوہ ذات الہی ہے شاہد کسی کو خیال ہوتا کہ جو آنکھوں نے دیکھا وہ اللہ کا جلوہ تھا یا نہ تھا۔ تو دل نے تصدیق کر دی۔ یہی اس کی ذات کا جلوہ ہے۔ آنکھوں نے جو کچھ دیکھا دل نے جھٹلایا نہیں۔ یہ ہے فرق کہ طور برداشت نہیں کرسکا تھا۔ قلب مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برداشت کر گیا۔ وہ جلوہ صفات کو برداشت نہ کرسکا اور یہ جلوہ ذات کو برداشت کر گیا۔ اللہ نے برداشت کی طاقت عطا فرمائی جب جلوہ ذات کو برداشت فرمایا تو وہ مظہر ہوگیا۔ حضور علیہ السلام کی آنکھوں نے بھی دیکھا اور دل نے بھی دیکھا۔ دل نے یوں دیکھا کہ خود جلوہ گاہ بن گیا اور آنکھیں پھر سیر ہو کر تکتی رہیں۔ خدا جانے کتنی دیر تک تکتی رہیں تو آنکھوں نے بھی دیکھا، دل نے بھی دیکھا۔ اب موسی علیہ السلام کی بھی ایک تشنگی باقی تھی۔ فسوف ترانی والی، پہاڑ تو ریزہ ریزہ ہوگیا تھا اور جلوہ کیا تھا۔ شعاع کی انعکاس کا اثر جو پڑا تھا۔ مگر برداشت نہ کرسکے مگر تشنگی باقی تھی۔ کاش طور قائم رہتا وہ مظہر بن جاتا۔ نہ طور برقرار رہا او رنہ موسی علیہ السلام کا ہوش برقرار رہا۔ جب ہوش میں آئے عرض کیا مولا!

اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ.

بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔

(الاحقاف، 46: 15)

میں اپنے سے تائب ہوتا ہوں مگر آرزو کی تشنگی تو باقی تھی بلکہ بڑھ گئی تھی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کہتے ہیں کہ اس واقع کے بعد تشنگی اور بڑھ گئی۔ توبہ توکر دی، یہ ادب بارگاہ الہی تھا مگر وہ جو لذت تھوڑی سی بے ہوشگی میں ملی تھی۔ اس نے تو اندر آگ لگا دی تھی۔ دیکھا نہ تھا، خالی آرزو تھی۔ اس واقعے کے بعد تو حضرت موسی علیہ السلام کی آرزو میں شدت آگئی۔ انتظار کرتے رہے، شب معراج آگئی۔ پلٹے عرض کی مولا! طور تو جلوہ گاہ نہیں بن سکا تھا۔ جل گیا تھا۔ تیرا محبوب تو جلوہ گاہ بن گیا ہے۔

فرمایا: اے موسی! لو ہم محبوب کو پچاس نمازیں دے دیتے ہیں تم راستے میں کھڑے ہو جاؤ، معلوم ہے آخر رہ جانی پانچ ہیں۔ مگر موسی تو بھی محبوب نبی ہے۔ تیری تشنگی باقی تھی۔ آج اس تشنگی کو بھی بجھا دیتے ہیں۔ راستے میں کھڑا ہو جا۔ میرا محبوب آئے گا۔ پوچھنا کتنی نمازیں لائے ہو۔ وہ فرمائیں گے پچاس تو انہیں کہنا کہ کہ محبوب کی امت اتنا بوجھ برداشت نہیں کرسکے گی۔ کم کروا لائیں۔ بعض کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے نو مرتبہ التجا کی، ہر بات کی التجا پوری کرتے ہیں۔ طور برداشت نہ کرسکا اور میرا محبوب برداشت کرکے آ رہا ہے۔ حتی کہ اس کا سراپا میرے حسن ذات کا جلوہ گاہ بن گیا۔ جتنی بار دعا کی تھی ہر ہر دعا کے عوض ایک بار دیدار نصیب ہوا لوگ کہتے ہیں کہ آقا نے اللہ کو نہ دیکھا۔ بھئی دیکھنا تو بعد کی بات ہے وہ تو نہ صرف دیکھ کر آئے بلکہ دیکھنے والوں کو دکھا کر بھی آئے۔ خود بھی دیکھ کر آئے اور حضرت موسی علیہ السلام کو اپنے اندر سے دکھا بھی گئے۔ حضور مظہر کامل ہوگئے:

وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَـلَا تُبْصِرُوْنَo

اور خود تمہارے نفوس میں (بھی ہیں)، سو کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔

(الذاریات، 51: 21)

اس آیت کے مظہر اتم شب معراج حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہوئے اور پھر آقا کو یہ شان دائمی نصیب ہوگئی اس لیے نیچے آئے تو فرمایا:

من رآنی فقد رأی الحق .

جس نے مجھے دیکھا اس نے اللہ کو دیکھا۔

(هندی، کنزل العمال، 15، 163، الرقم: 41475)

طور اگر چند لمحوں کے لیے برقرار رہتا۔ تو چند لمحوں کی جلوہ گاہ بنتا مگر آقا علیہ السلام برقرار ہوئے عمر بھر کی جلوہ گاہ بن گئے اور آج تک آقا دو جہاں اللہ کے حسن ذات کی جلوہ گاہ ہیں۔ فرمایا: من رانی فقد راہ الحق ’’مجھے دیکھو میرے اندر حق کا جلوہ نظر آتا ہے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالی حضور کے فیضان سے ہمیں اور حضور کی پوری امت کو خصوصی رحمت و برکت عطا فرمائے۔

تاجدارِ کائنات ﷺ اپنی حیاتِ ظاہری میں ’’حق الیقین‘‘ کے درجے پر فائز ہو ئے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
16 جنوری 2026ء
اللہ تعالیٰ نے بیداری میں اپنے حبیب ﷺ کو معراج کا معجزہ عطا فرمایا: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
اللہ تعالیٰ نے بیداری میں اپنے حبیب ﷺ کو معراج کا معجزہ عطا فرمایا: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری
15 جنوری 2026ء
بیداری کی حالت میں معراجِ مصطفیٰ ﷺ کا انکار دراصل قدرتِ الٰہی کا انکار ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
بیداری کی حالت میں معراجِ مصطفیٰ ﷺ کا انکار دراصل قدرتِ الٰہی کا انکار ہے:

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Multan One Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share