Mera Apna Multan

Mera Apna Multan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mera Apna Multan, Digital creator, Multan.

Multan ki Tehzeeb | Multan ki Awaaz 🗣️
Sufiya ki sar-zameen se har maslay par nazar. 🕌
Humara maqsad: Behtar aur Shandaar Multan! ✨

ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ دوسروں کی عدالتیں لگانے اور ان کے اعمال کا ناپ کرنے میں گزر جاتا ہے۔ ہم اپنی مرضی کے پیمانے ب...
11/08/2026

ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ دوسروں کی عدالتیں لگانے اور ان کے اعمال کا ناپ کرنے میں گزر جاتا ہے۔ ہم اپنی مرضی کے پیمانے بناتے ہیں اور ان پر دوسروں کے اخلاق کا موازنہ کرتے ہیں۔ لیکن کبھی سوچا ہے کہ جس ذات نے ہمیں یہ زندگی بخشی ہے، اس نے ہمیں غلطی کرنے کی مہلت بھی دی ہے؟ ہم کس حق سے اس مہلت کو چھین لیتے ہیں؟ معافی کوئی احسان نہیں، یہ تو اس بات کا ادراک ہے کہ ہم سب اس دنیا میں بے بس اور ناتمام ہیں۔ یہ دنیا ایک بڑا امتحان گاہ ہے، جہاں ہر شخص اپنی جنگ لڑ رہا ہے، اپنے نفس کے خلاف، اپنی کمزوریوں کے خلاف۔ کسی کی غلطی اس کا امتحان ہے، اور اسے معاف کرنا ہمارا اپنا امتحان۔ جب ہم دوسرے کے بوجھ کو سمجھتے ہیں، تو ہمارا اپنا دل ہلکا ہو جاتا ہے، اور ہماری اپنی روح کو سکون ملتا ہے۔ غلطیاں امتحان کا حصہ ہیں، لیکن معافی کائنات کا اصل ہنر اور سب سے بڑا مرہم ہے۔

Important
03/08/2026

Important

*وراثت* (جاوید چوھدری کے ایک کالم سے انتہائی خوبصورت انتخاب)بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور تاجر تھا‘ اس ن...
27/07/2026

*وراثت*

(جاوید چوھدری کے ایک کالم سے انتہائی خوبصورت انتخاب)

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور تاجر تھا‘
اس نے بے تحاشا پیسہ کمایا اور آخر میں دل کے عارضے کی وجہ سے فوت ہو گیا‘

والد کی جائیداد زیادہ تھی
لہٰذا دونوں بھائیوں کے درمیان پھڈا ہو گیا‘

بڑے بھائی نے والد کی زمین‘ گھر اور حجرے پر قبضہ کر لیا
جب کہ چھوٹا بھائی دکانوں پر قابض ہو کر بیٹھ گیا‘
یہ تنازع آہستہ آہستہ کورٹ کچہری اور دنگا فساد تک چلا گیا اور دونوں بھائی دس بارہ سال تک ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے‘

چھوٹا خان شہر میں رہتا تھا‘ وہ ایک دن اپنی بیگم‘ بیٹی اور بیٹے کے ساتھ کہیں جا رہا تھا‘

راستے میں خانہ بدوشوں نے خربوزوں کی ڈھیری لگائی ہوئی تھی اور دس بارہ سال کی ایک خانہ بدوش لڑکی ڈھیری پر کھڑی
ہو کر خربوزے بیچ رہی تھی‘

چھوٹے خان کی بیٹی خربوزہ کھانے کی ضد کرنے لگی
چناں چہ اس نے اپنی گاڑی خربوزوں کی ڈھیری کے ساتھ کھڑی کر دی‘

بھائی کی بیگم کنجوس تھی‘ اس نے ایک خربوزہ خریدا اور خانہ بدوش بچی کے ساتھ بھاؤ تاؤ شروع کر دیا‘

بچی خربوزے کے دس روپے مانگ رہی تھی
جب کہ بیگم پانچ روپے سے زیادہ دینے کے لیے تیار نہیں تھی‘

بہرحال دس منٹ کی تکرار کے بعد چھ روپے میں سودا ہو گیا‘

خانہ بدوش بچی جب چھ روپے لے کر جانے لگی تو چھوٹے خان کے بیٹے نے بھی خربوزہ مانگ لیا‘

بیگم نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور خانہ بدوش لڑکی سے کہا

*’’اے لڑکی بھائی کو بھی ایک خربوزہ دے دو‘‘*

لڑکی دوڑتی ہوئی گئی‘
ایک خربوزہ اٹھایا اور گاڑی کی طرف واپس دوڑ لگا دی‘

سڑک کے قریب اینٹ پڑی تھی‘ اس کا پاؤں ٹکرایا‘
وہ گری‘ خربوزہ اس کے ہاتھ سے نکل کر زمین
پر گرا اور ٹوٹ گیا‘

بچی اٹھ کر واپس دوڑی اور دوسرا خربوزہ اٹھا کر لے آئی‘

بیگم نے لڑکی سے کہا

’’میں تمہیں زمین پر گرنے والے خربوزے کے پیسے نہیں دوں گی‘ وہ تمہاری غلطی تھی‘‘

خانہ بدوش لڑکی نے ہنس کر کہا

’’میں آپ سے دونوں خربوزوں کے پیسے نہیں لے رہی‘‘

بیگم نے حیران ہو کر پوچھا
’’کیوں؟‘‘

لڑکی نے ہنس کر جواب دیا

*’’آپ نے کہا تھا بھائی کو بھی ایک خربوزہ دے دو‘ آپ نے اسے میرا بھائی کہہ دیا‘*

*میری ماں نے مجھے وصیت کی تھی بھائیوں کے ساتھ کبھی حساب نہیں کرنا‘ ان سے کبھی سودا نہیں کرنا‘*

*آپ کا بیٹا آپ کے کہنے کے بعد میرا بھائی بن گیا‘ میں اب اس سے سودا کیسے کر سکتی ہوں‘؟؟ اس سے حساب کیسے مانگ سکتی ہوں؟؟؟*
*چناں چہ دونوں خربوزے میری طرف سے میرے بھائی کے لیے تحفہ سمجھ کر قبول کریں‘‘*

یہ بات سیدھی بیگم اور خان کے دل میں لگی‘
بیگم نے رونا شروع کر دیا اور نیچے اتر کر اپنا پرس لڑکی کی جھولی میں الٹ دیا‘

بیگم روتی جاتی تھی اور خانہ بدوش لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیرتی جاتی تھی‘

اس نے آخر میں اپنی چوڑیاں اور کانوں کے بندے بھی اتار کر لڑکی کے ہاتھوں میں دے دیے‘لڑکی انکار کرتی رہی لیکن بیگم صاحبہ اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر کے گاڑی میں واپس آئی‘

چھوٹا خان بھی اس دوران اپنا سر سٹیئرنگ پر رکھ کر رو رہا تھا‘

بیگم اس کا دکھ سمجھ رہی تھی‘ اس بے وقوف نے اپنے بھائی کے ساتھ حساب میں دس بارہ سال ضائع کر دیے تھے

بہرحال وہ لوگ آگے روانہ ہوئے‘ تھوڑی دور جا کر خان نے گاڑی روکی‘ فون اٹھایا اور اپنے بڑے بھائی کو فون کر دیا‘

بڑا بھائی پریشان ہو گیا‘ چھوٹے بھائی نے بس ایک فقرہ کہا‘

*"بھائی میں آپ کی تقسیم پر راضی ہوں‘ آپ جو مناسب سمجھتے ہیں آپ کر دیں‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں‘ میں اپنا دعویٰ اور کیس دونوں واپس لے رہا ہوں‘"*

بڑے بھائی نے پریشان ہو کر پوچھا

*’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے‘ کیا ہوا تمہیں‘‘*

چھوٹے بھائی نے ساری بات سنائی اور کہا

*’’ ہم کتنے بے وقوف ہیں‘ ہم یہ موٹی سی بات نہیں سمجھ سکے کہ بھائیوں کے ساتھ حساب نہیں کیا جاتا‘*

*وہ خانہ بدوش لڑکی ہم خانوں سے کتنی زیادہ سمجھ دار تھی‘ میں آپ سے پاؤں پکڑ کر معافی مانگنے کے لیے سیدھا آپ کے پاس آ رہا ہوں‘‘*

بڑے بھائی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے‘
وہ بھی دھاڑیں مار کر رونے لگا۔

میں نے یہ واقعہ ایک پشتون بھائی کے کلپ میں سنا‘ آج کے زمانے میں یوٹیوب‘ ٹک ٹاک اور انسٹا گرام انفارمیشن اور نالج کا سب سے بڑا سورس ہیں

بس یہ احتیاط
ضروری ہے آپ اچھی ریلز دیکھیں ورنہ
سوشل میڈیا آپ کا
سارا دن برباد کر دیتا ہے‘ بہرحال اس ریل نے ہماری زندگی کی بہت بڑی حقیقت آشکار کر دی۔

مجھے آج تک یہ
سمجھ نہیں آئی

*والدین کے انتقال کے بعد وارث وراثت تقسیم کرتے ہیں یا پھر وراثت وارثوں کو تقسیم کرتی ہے‘*

ہمارے نوے فیصد کیسز میں وراثت وارثوں کو تقسیم کرتی ہے

اور تقسیم کے عمل کے دوران رشتے اور احساس دونوں ختم ہو جاتے ہیں‘

ہم اگر اس تقسیم سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین فارمولا خانہ بدوش لڑکی نے دیاتھا

*’’بھائیوں کے ساتھ سودا بازی ہو سکتی ہے اور نہ حساب‘‘*

آپ یہ کر کے دیکھیں
آپ کے رشتے بھی بچ جائیں گے

15/07/2026

ملتان والو تیار ہو

13/07/2026

ملتان میں ہونے والی آج کی بارش میں سیداں والا بائی پاس مکمل طور پر ڈوبا
ہوا ہے

دیکھی ہے اپنے 10-10 روپے کی پاور، اسی لیے سیانے کہتے ہیں قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔🫣
12/07/2026

دیکھی ہے اپنے 10-10 روپے کی پاور، اسی لیے سیانے کہتے ہیں قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔🫣

نشتر روڈ ملتان: عوام کی مشکلات کے فوری حل کے لیے ڈپٹی کمشنر ملتان سے مؤدبانہ اپیلنشتر روڈ ملتان پر جاری ترقیاتی کام کے ب...
08/07/2026

نشتر روڈ ملتان: عوام کی مشکلات کے فوری حل کے لیے ڈپٹی کمشنر ملتان سے مؤدبانہ اپیل

نشتر روڈ ملتان پر جاری ترقیاتی کام کے باعث شہری، تاجر، طلبہ، مریض اور روزانہ سفر کرنے والے افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ٹریفک جام، گرد و غبار، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور آمدورفت کی دشواری نے عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔

نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر ملتان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس اہم منصوبے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے تعمیراتی کام کی رفتار تیز کی جائے، متعلقہ اداروں کی مؤثر نگرانی کی جائے اور منصوبہ جلد از جلد مکمل کر کے شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

ہم سب کی خواہش ہے کہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوں تاکہ عوام کو سہولت اور شہر کو بہتر انفراسٹرکچر میسر آ سکے۔

عوام کی سہولت، ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

#ملتان #پنجاب

ملتان میں مٹی کا طوفان
06/07/2026

ملتان میں مٹی کا طوفان

06/07/2026

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mera Apna Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share