Nazary with Sunny

Nazary with Sunny See the world with Sunny
Join my tribe

03/04/2026

@ملتان

31/10/2025
31/10/2025
31/10/2025
31/10/2025
اگر آپ کا کوئی بھی مسلہ ہو اور کہیں بھی آپ کی داد رسی نہ ہو رہی ہو تو اس نمبر پر وٹس ایپ کریں۔شکریہ
10/10/2025

اگر آپ کا کوئی بھی مسلہ ہو اور کہیں بھی آپ کی داد رسی نہ ہو رہی ہو تو اس نمبر پر وٹس ایپ کریں۔شکریہ

10/10/2025
10/10/2025

دل تو ہم نے بھی لگایا تھا کسی سے اب نہ وہ دل رہا
اور نہ ہی وہ شخص

یوہی گرتے گرتے ایک روز سنبھل جائیں گے
بدلہ نہیں لیں گے کسی سے۔۔ بس بدل جائیں گے

ختم ہو گئے اُن لوگوں سے بھی رشتے۔۔ جن سے مل کر لگتا تھا یہ زندگی بھر ساتھ دیں گے۔۔ ! !
10/10/2025

ختم ہو گئے اُن لوگوں سے بھی رشتے۔۔

جن سے مل کر لگتا تھا یہ زندگی بھر ساتھ دیں گے۔۔ ! !

06/01/2025

🌀 *`‏رات کے وقت پیشاب آنا`*

رات کے وقت پیشاب آنا (Nocturia) مثانے کا نہیں بلکہ دل کا مسئلہ ہے۔

ڈاکٹر عبدالنصیر کے مطابق، رات کو بار بار پیشاب آنا دراصل دل اور دماغ تک خون کے بہاؤ میں رکاوٹ کی علامت ہے۔
خاص طور پر بزرگ افراد رات کو بار بار پیشاب کی ضرورت کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
وہ نیند خراب ہونے کے خوف سے سونے سے پہلے پانی پینے سے گریز کرتےہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ پانی پینے سے پیشاب کیلئے بار بار اٹھنا پڑے گا۔

لیکن یہ نہیں جانتے کہ سونے سے پہلے یا رات میں پیشاب کے بعد پانی نہ پینا صبح سویرے دل کے دورے یا فالج کا اہم سبب بن سکتا ہے۔

حقیقت میں، رات کو بار بار پیشاب آنا مثانے کی خرابی نہیں بلکہ دل کی کمزوری کی علامت ہے۔

بڑھتی عمر کے ساتھ دل کے افعال کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ جسم کے نچلے حصے سے خون کو واپس کھینچنے کےقابل نہیں رہتا۔
دن کے وقت جب ہم کھڑے ہوتے ہیں تو خون کا بہاؤ نچلے حصے میں زیادہ ہوتا ہے۔
اگر دل کمزور ہو تو خون کی مقدار ناکافی ہو جاتی ہے اور جسم کے نچلے حصے پر دباؤ بڑھ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ دن کے وقت بزرگ افراد کے نچلے حصے میں سوجن ہو جاتی ہے۔

رات کو لیٹنے کے بعد جسم کے نچلے حصے کو دباؤ سے نجات ملتی ہے اور ٹشوز میں جمع پانی واپس خون میں شامل ہو جاتا ہے۔
جب پانی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے تو گردے اضافی پانی کو الگ کرکے مثانے میں بھیج دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ رات کے وقت بار بار پیشاب آتا ہے۔

عام طور پر سونے کے تین یا چار گھنٹے بعد پہلی بار پیشاب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
اسکے بعد خون میں پانی کی مقدار دوبارہ بڑھتی ہے اور ہر تین گھنٹے بعد دوبارہ پیشاب کی ضرورت پڑتی ہے۔

❓ دل کے دورے یا فالج کا سبب کیسے بنتا ہے۔

رات میں دو یا تین بار پیشاب کے بعد خون میں پانی کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے سانس لینے سے بھی جسم کا پانی کم ہو جاتا ہے جس سے خون گاڑھا اور چپچپا ہو جاتا ہے۔
نیند کے دوران دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے خون کے گاڑھا ہونے اور بہاؤ کے سست ہونے کی وجہ سے تنگ شریانیں آسانی سے بند ہو سکتی ہیں۔
اسی لیے بزرگ افراد کو اکثر صبح 5-6 بجے کے قریب دل کا دورہ یا فالج ہوتا ہے اور یہ حالت نیند کے دوران موت کا سبب بن سکتی ہے۔

👇 *اہم ہدایات:*

❶ رات کو پیشاب آنا بڑھتی عمر کی علامت ہے، مثانے کی خرابی نہیں۔

❷ سونے سے پہلے اور رات میں پیشاب کےبعد نیم گرم پانی ضرور پئیں۔

❸ پانی پینے سے نہ گھبرائیں، کیونکہ پانی نہ پینا جان لیوا ہو سکتا ہے۔

❹ دل کی کارکردگی بڑھانے کیلئے باقاعدگی سے ورزش کریں۔
انسانی جسم مشین نہیں ہے کہ زیادہ استعمال سے خراب ہو جائے بلکہ جتنا استعمال ہوگا اتنا مضبوط ہوگا۔

❺ غیرصحت بخش غذا، خاص طور پر زیادہ نشاستہ اور تلی ہوئی اشیاء، کھانے سے پرہیز کریں۔

یہ معلومات بزرگ افراد کے لیے نہایت اہم ہیں۔ براہ کرم اپنے دوستوں بزرگوں کے گروپ میں یہ مضمون ضرور شیئر کریں۔copy

Address

Multaniwala
Multan
60060

Telephone

+923049485800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nazary with Sunny posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share