Malaika Sheikh Writer

Malaika Sheikh Writer I want to live every moment with u and I want to love u till my last Breath❤️🌹🖇️😘
(1)

27/03/2026

Assalamualaikum Dear Members!
Ab Kuch din kalia us page per post nhi hu gyi writer abi wapis nahi ayi thi us page ko ma ny sambhla huwa tha or ab Meri b shadi hai 🥹🥹🥹

 قسط نمبر 13ازقلم ہاشمی ہاشمی کسی کو کانٹے چوبھے ، کسی کو پھولوں نے مار ڈالا              جو دونوں سے بچ گئے اس کو اصولو...
24/03/2026


قسط نمبر 13
ازقلم ہاشمی ہاشمی
کسی کو کانٹے چوبھے ، کسی کو پھولوں نے مار ڈالا
جو دونوں سے بچ گئے
اس کو اصولوں نے مار ڈالا

شاہ اندر ایا تو نور بیڈ پر بیٹھی تھی نور کیا ہوا ہے
نور وارث کو دیکھا کر اس کے پاس آئ مسٹر آفیسر مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے میرے گھر واپس جانا ہے مجھے میں بابا کے پاس جانا ہے نور نے جلدی سے کہا شاہ کو وہ ٹھیک نہیں لگئی
نور اوکے ری یلکس شاہ نے اس کا ہاتھ پکرا جو کے انتی سردی میں گرم تھا اووو نور تمہیں تو بخار ہے شاہ پریشان ہوا
میری بات سننے وہ آنٹی وہ انکل انتے عجیب ہے مجھے یہاں کچھ اچھا نہیں لگ رہا ہے نور نے گہرا سانس لیتے ہوے کہا
اس کا سانس خراب ہونے لگا اور نور نور کیا ہوا ہے شاہ پریشان ہوا نور کا سانس اٹک اٹک کے ارہا تھا
جلدی سے شاہ نے اس کو مصنوئ سانس دی یا
کچھ دیر تک اس کا سانس ٹھیک ہوا لیکن اب وہ بے ہوش ہو چوکی تھی اووو شٹ نور نور شاہ اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتا رہا
بلال بلال اب شاہ نے بلال کو آواز دی بلال جو روم سے باہر موجود تھا وارث کی آواز سن کر پریشان سا اندر ایا
بلال ڈاکٹر کو فون کرو جلدی شاہ نے نور کو بیڈ پر لیٹے ہوے کہا نور کیا ہوا ہے اس کو بلال اس کو بے ہوش دیکھ کر گھبرایا
کچھ دیر تک ڈاکٹر ایا سب لوگ وارث کے روم میں موجود تھے
مسٹر وارث میں نے پہلے ہی کہا تھا ان کے سر پر گہری چوٹ ائی ہے یہ مسلسل کیسی چیز کی پریشانی لے رہی ہے اور مجھے لگتا ہے انہوں نے کچھ دن سے ٹھیک سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے بی پی لو ہے ان کو میں نے سکون کا انجکیشن دیا ہے جتنا سوے گئی ان کے لیے بہت ہے اور بخار اگر تیز ہو جائے تو ٹھڈے پانی کی پٹیا کرے گا ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد کہا اور چلا گیا
آپ لوگ میرے ساتھ ائے وارث نے سب کو کہا اور حریم تو رو رہی تھی
حنسں بچے آپ اپنی بھابھی کے پاس رہے میں آتا ہو وارث نے حنسں سے کہا جی بھائ حنسں نے کہا اور ایک نظر اپنی بھابھی کو دیکھا جو ابھی ابھی اس کی نئی دوست بنی تھی
نور کو کیا ہوا ہے شاہ یہ کسی چیز کی پریشانی لے رہی ہے احمد نے پوچھا
چھوٹے پاپا یار اس کے بابا دو دن پہلے فوت ہوے ہے بس وہ یہ سب قبول نہیں کرپا رہی ہے وارث نے کہا
چھوٹی ماں پلیز رورے نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا مجھے پر بھروسہ رکھ وارث نے کہا
شاہ ہم اس کو یہ کیوں نہیں بتاتا ہے ہم اس کی فمیلی ہے احمد نے کہا
کیونکہ وہ اپنی فمیلی سے نفرت کرتی ہے وہ ہم سے دور چلی جائے گئی بلال نے آخر سچ بتایا
کیا مطلب احمد نے کہا
بابا بس ابھی نہیں پھر کبھی بلال نے احمد سے کہا
ٹھیک ہے آپ جاو میں نور کے پاس ہو شاہ نے بات ختم کی وہ اور بلال نہیں چاہتے تھے کہ گھر میں کیسی کو پتا چلے کہ نور اپنے ماں باپ کے بارے میں کیا سوچتی ہے اور وہ ہڑٹ ہوے
سب کے جانے کے بعد بلال وارث کے پاس ایا اب بتا ہوا کیا تھا بلال نے پوچھا
تو شاہ نے ساری بات بتائی بلال مجھے لگتا ہے میں نے جلدی کی ہے ایک انسان کی زندگی میں اچانک اتنا سب ہو جائے گا تو وہ پاگل ہی ہو گا مجھے ابھی نور کو گھر نہیں لانا چاہے تھا وارث نے کہا
بات تیری ٹھیک ہے لیکن پریشان نہیں ہو اللہ بہتر کرے گا بلال نے کہا اس کی بات پر شاہ نے سر ہلایا
____________________
رات کے کیسی وقت وارث کی آنکھیں کھولی ایسا محصوص ہوا کہ کوئی آواز دے رہا ہے
بیڈ کی ایک سائیڈ پر نظر گئی تو نور نیند میں بول رہی تھی شاہ اس کے پاس ایا اور سننے کی کوشش کی
بابا ماں بابا نور بول رہی تھی نور میری جان میں یہاں ہے شاہ نے اس کا ہاتھ پکرا وہ خود نہیں جانتا تھا کہ کیا بول رہا ہے
وارث نے ماتھے کو چھو تو وہ گرم تھا لگتا ہے بخار تیز ہو گیا ہے وارث جلدی سے نیچے ایا فریج سے پانی نکالا
نور کو پیٹیا کی ٹھیڈے پانی کی نور کو کچھ منٹ کے لیے ہوش ایا تھا وہ وارث کو دیکھتی رہی لیکن پھر نیند کی وادی میں چلی گئی
______________________
صبح نور کی آنکھیں کھولی تو وارث کو بیٹھ بیٹھ سوتے دیکھا کر شرمندہ ہوئی اس کو دیا ایا رات میں کیسے اس کی تیبماردی کر رہا تھا
پھر یاد ایا کہ کل وارث کے گھر والوں کے بارے میں کتنی بکوس کی تھی وہ اور بھی شرمندہ ہوئی


قسط نمبر 14
ازقلم ہاشمی ہاشمی
نور بیڈ سے اٹھی تھی کہ اچانک سر چکرایا اور پھر سے بیڈ پر بیٹھ گئی اس ہی وقت شاہ کی آنکھ کھولی نور کیا ہوا وارث نے پوچھا جو سر پکرے بیٹھی تھی وہ مجھے وشروم جانا ہے نور نے شرمندہ ہوتے ہو کہا
وارث اس کو سہارا دے کر وشروم کے درواذ تک لے گیا آپ جائے میں باہر ہو وارث نے کہا اور نور چلی گئی
کچھ دیر بعد اندر سے آواز ائی وارث پریشان اندر گا
کیا ہوا وارث نے نور سے پوچھا وہ بیسن کے پاس کھڑی تھی وہ مجھے وضو کرو دے مجھے نماز پڑھنی ہے نور نے کہا نور کو اپنی بے بسی پر غصہ ارہا تھا لیکن کچھ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی
ٹھیک ہے وارث نے کہا اور نور کو وضو کرویا
نور پڑھ رہی تھی وارث روم سے باہر چلا گیا نور نے نماز ادا کی جب وارث روم میں ایا اس کی ہاتھ میں ٹرے تھی
نور آپ کچھ کھا لو آپ نے کل سے کچھ نہیں کھایا وارث نے کہا اور ٹرے اس کو دی
کل اتنا سب ہو گیا وہ یہ ایسے بی ہیو کر رہا ہے کہ سب ٹھیک ہو نور نے سوچا
آپ نہیں کھاے گیا کیا نور نے پوچھا اس کی بات پر وارث مسکرایا یعنی میری فکر ہے محترمہ کو وارث نے سوچا
نہیں میں سوے گا وارث نے کہا اور بیڈ پر لیٹ گیا
اس کی بات پر نور شرمندہ ہوئی اس کی وجہ سے وہ ساری رات جاگتا رہا ہے
مجھے آپ سے بات کرنے ہے نور نے کہا تو وارث نے اس کی طرف کڑوٹ لی جی
کل جو ہوا میں شرمندہ ہو مجھے آپ کے گھر والوں کے بارے میں ایسے نہیں کہنا چاہے تھا شائد میری طبعیت ٹھیک نہیں تھی نور نے کہا
اس کو شرمندہ دیکھ کر وارث اٹھا کر اس کے پاس ایا نور میں جانتا ہو یہ سب قبول کرنا آپ کے لیے مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں وارث نے کہا
جی میں کوشش کرو گئی نور نے کہا اوکے اب آپ ناشتہ کرو پھر میڈیسن بھی لینی ہے وارث نے کہا
کچھ دیر تک وارث سو گیا لیٹ تو نور بھی گئی تھی لیکن نیند نہیں آئی
نور نیچے ائی تو سب ناشتہ کر رہے تھے نور نے سب کو اسلام کیا
سب نور کو دیکھا کر خوش ہوے اور اسلام کا جواب دیا نور بیٹا طعبیت کیسی ہے احد صاحب نے پوچھا
یہ سب کتنے اچھے ہے نور نے سوچا
جی اب بہتر ہے نور نے کہا چلو ناشتہ کرو حریم نے کہا اور جلدی سے اس کو بیٹھیا
وہ مجھے آپ سب سے بات کرنے تھی میں شرمندہ ہوے جو کل ہو ایسا نہیں ہونا چاہے تھا نور نے خود پر قابو پاتے ہو کہا
کوئی بات نہیں ڈول آپ ناشتہ کرو احمد نے پیار سے کہا احمد کو اپنی ڈول پر بہت پیار ارہا تھا
نہیں آپ لوگ کرے میں کر چوکی ہو نور نے کہا
______________________
رات کے کیسی پہرہ کیسی کے رونے کی آواز سے وارث کی. آنکھیں کھولی
وارث نے کڑوٹ لی جانتا تھا کہ کون ہے
نور جائے نماز پر بیٹھی دعا کر رہی تھی اور رو بھی رہی تھی کچھ دیر وہ دیکھاتا رہا
دو دن ہو گے تھا نور کو یہاں آے وہ تہجد کی نماز پڑھ کر ایسے ہی روتی تھی
نور کو احساس ہوا کوئی اس کو دیکھا رہا ہے جلدی سے آنسوس صاف کیے اور دعا ختم کی
نور کو غصہ بہت آتا تھا وارث کی اس حرکت پر یعنی حد ہے وہ اپنے اللہ سے بات بھی نہیں کر سکتی
_______________
وارث تیار تھا آفیس جانے کے لیے جب نور نے اس کو آواز دی مجھے یونی جانا ہے نور نے کہا
ٹھیک ہے لیکن ابھی آپ کی طعبیت ٹھیک نہیں ہوئی دو دن بعد چلی جائے گا وارث نے کہا
لیکن بس سر میں درد ہی ہے وہ ٹھیک ہو جائے گا نور نے کہا
نور بس وارث نے کہا تو نور نے منہ بنایا اس کے منہ بننے پر وارث کو وہ بہت کیوٹ لگئی اوکے میں چلتا ہو وارث نے مسکراتے ہوے کہا اور نور کے سر پر بوسہ دیا اور چلا گیا اور نور شاک سی اس کی حرکت پر بے ساختہ اس کا ہاتھ اپنے ماتھے پر گیا جہاں اب بھی وارث کا لمس محسوس ہو رہا تھا
بدتیمز انسان نور نے کہا اور اپنا ھاتھ ماتھے پر ڑگرا
_______________________
وارث روم میں ایا تو نور روم میں موجود نہیں تھی وہ مسکرایا اور بالکنی کی طرف برھا
نور سینے پر کوئی کتاب رکھے سو رہی تھی شاہ مسکرایا شائد وہ پڑھتے ہوے سو گئی تھی اس کو یاد ایا جب وہ نور کے گھر گیا تھا
نور مجھے نہیں لگتا تھا کہ مجھے کبھی محبت ہو گئی لیکن جب جب تم کو دیکھتا ہو مجھے لگتا ہے مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے وارث نے سوئی ہو نور سے کہا اور اس کے سر پر بوسہ دیا اس کو اٹھا کر بیڈ پر لیٹیا
اور بالکنی کا درواذ بند کیا اور خود بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لیٹ گیا نور کو سردی لگ رہی تھی تو وہ نیند میں وارث کے سینے سے لگ گی اس کی حرکت پر شاہ مسکرایا اور کاپبتی ہو نور کو اپنے حصارص میں لیا
صبح نور کی آنکھ کھولی تو اپنا سر وارث کے سینے پر دیکھا تو اس کو کرنٹ لگ جلدی سے پیچھے ہوئی
اس کے پیچھے ہونے سے وارث کی آنکھ کھولی گئی ا نور کو دیکھا تو وہ شرمندہ سی وشروم کی طرف گئی اور وارث نے مسکراتے ہوے کڑوٹ لی
______________
کیسی لگئی آج کی اپیی آپ کو اچھے اچھے کمنٹ کرے اور دعاوں میں یاد رکھے گا اللہ حافظ 😇😇

 قسط نمبر 11ازقلم ہاشمی ہاشمی وہ دونوں اس وقت ہپستال کے ایمرجیسی روم کے باہر پریشان کھڑے تھے اس ہی وقت ڈاکٹر باہر آیا ھا...
23/03/2026


قسط نمبر 11
ازقلم ہاشمی ہاشمی
وہ دونوں اس وقت ہپستال کے ایمرجیسی روم کے باہر پریشان کھڑے تھے اس ہی وقت ڈاکٹر باہر آیا ھاٹ اٹیک ہو ہے حالت کافی خراب ہے آپ بس دعا کرے ڈاکٹر نے کہا اور چلا گیا
وارث نے نور کو دیکھا جو بے یقین سی کھڑی تھی کچھ وقت بعد نرس باہر آئ نور کون ہے نرس نے پوچھا جی میں نور نے کہا آپ اندر ائے وہ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن خیال رہے گا ان کی طعبیت خراب ہے نرس نے کہا نور ہاں میں سر ہلاتی اندر چلی گئی
نور اندر ائی تو اس نے اپنے بابا کو دیکھا جو ایک ہی دن میں کمزور لگ رہے تھے نور کے دل میں کچھ ہوا
بابا کیسی طبعیت ہے آپ کی نور نے کہا اور ان کے سینے پر اپنا سر رکھا نور میرا بچا کہاں تھی تم عبداللہ صاحب کو بولے میں مسائلہ ہو رہا تھا
ان کی بات سن کر نور پریشان ہو اور پھر ساری بات بتائی( نکاح والی بھی )
نور بچا انتا سب ہو گیا عبداللہ صاحب نے افسوس سے کہا بابا میں ٹھیک ہو نور جانتی تھی وہ بات سن کر پریشان ہو گئے لیکن وہ جھوٹ بھی نہیں بول سکتی تھی
نور وہ بچا کہاں ہے عبداللہ صاحب نے وارث کا پوچھا بابا باہر ہی ہے نور نے پریشان ہوتے ہوے کہا اچھا تم جاو اور اس کو اندر بیجو عبداللہ صاحب نے کہا کیوں بابا نور نے پوچھا مجھے بات کرنی ہے بچے جاو عبداللہ صاحب نے کہا
نور باہر آئ مسٹر آفیسر بابا آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے نور نے وارث سے کہا اس کی بات پر وارث نے سر ہاں میں ہلایا اور اندر ایا اسلام و علیکم انکل کیسی طبعیت ہے اب آپ کی وارث نے کہا اس کی بات پر عبداللہ صاحب نے گہرا سانس لیا نام کیا ہے تمہارا عبداللہ صاحب نے پوچھا وارث علی شاہ جواب ایا
نور باہر پریشان تھی بہت دیر ہو گئی لیکن وارث باہر نہیں آیا تو نور خود اندر ائی
بابا نور نے عبداللہ صاحب کو آواز دی نور بچے میرے پاس او عبداللہ صاحب نے کہا تو نور ان کے پاس ائی
نور ایک وعدہ کرو مجھے سے یہ نکاح جیسے بھی ہوا ہے یہ انسان شوہر ہے اب تمہارا وعدہ کرو تم اس نکاح کو نہبھو گئی عبداللہ صاحب نے کہا
بابا آپ ٹھیک ہوں جائے ہم پھر اس بارے میں بات کرے گئے نور کو عبداللہ صاحب کی بات برئی لگئی اس نے بات کو ٹالنا چاہا
نہیں نور وعدہ کرو یہ میری آخری خواہش ہے عبداللہ صاحب نے کہا
بابا کیسی باتے کر رہے ہے آپ نور تڑپ کر بولی
نور وعدہ کرو عبداللہ صاحب نے پھر کہا اور آخرکار نور کو ہار مانئی پڑئی ٹھیک ھے بابا نور نے کہا
وارث بچا ادھر او عبداللہ صاحب نے وارث کو بلایا جو کچھ دور کھڑا تھا اور ان کے پاس ایا عبداللہ

نے نور کا کا ھاتھ وارث کے ھاتھ میں دیے اور کہا میری بیٹی کا خیال رکھا اور آنکھیں بند کر لی نور کو انہوئی کا احساس ہوا بابا بابا ڈاکٹر ڈاکٹر ڈاکٹر
ڈاکٹر. اندر ایا آپ لوگوں باہر جائے ڈاکٹر نے کہا
کچھ وقت بعد ڈاکٹر باہر آیا ائی ایم سوری ڈاکٹر نے کہا اور نور کو لگ اب سانس نہیں آے گئی شاہ پریشان سا کبھی ڈاکٹر کو دیکھتا تو کبھی نور کو
اور اس ہی وقت نور بے ہوش ہو گئی
_____________________
توحید کرسی پر بے ہوش تھا جب بلال اندر ائے اور پانی اس پر ڈالا توحید نے آنکھیں کھولی خود کو ایک اندھیر کمرے میں پایا
کون ہو تم توحید نے پوچھا وہ اندھیر کی وجہ سے بلال کو دیکھا نہیں سکتا تھا
اچھا سوال ہے کون ہو میں بلال نے کہا اور توحید کے پاس ایا آزان تم توحید کو شاک لگ نہیں آزان نہیں کپیٹن بلال جواب ایا
میں نے تم پر بھروسہ کیا اور تم نے کیا کیا توحید نے اب صدمہ سے کہا
تمہیں کچھ بتانا چاھتے ہو تمہارا دس گودام کو میں نے آگ لگا دی ہے اور وہ لڑکیوں بھی اپنے اپنے گھر چلی گئی ہے بلاسٹ کے لیے تم نے جن کو کہا تھا وہ جنہم میں ہے اور سیاسی پارٹی کا سربراہ وہ ہی جنہم میں جاچوکا ہے اور اب تمہاری باری ہے بلال نے. کہا
اس کی بات پر اب توحید کو ڈدر لگ رہا تھا دیکھوں تمہیں کیا چاہے مجھے بتاو میں دو گا بس مجھے جانے دو توحید.نے کہا
اس کی بات. پر بلال مسکرایا مجھے تمہاری موت چاہے تم نے اس پاک زمیں کو گندہ کرنے کی کوشسش کی ہے اب تم جنہم میں جاو گئے
تم نے اس ھاتھ سے ورذی کو ھاتھ لگیا تھا بلال نے توحید کا ہاتھ موڈر تو اس کی چیخے نکالی ان آنکھیں سے میری ڈول پر نظر رکھی تھی بلال نے اس کی آنکھوں پر مکار مارا
ابھی اس کو وہ اور چارچر کرتا اس ہی وقت اس کا فون بجا شاہ کی کال تھی سو اس نے کال پک کی اگے جو خبر ملی سن کر بلال پریشان ہو
_______________________
دو دن گزرا گئے ان دو دنوں میں نور کی آنکھیں خشک نہیں ہوئی اور باہر بادل بھی برستے رہے دو دن سے شاہ اس کے پاس تھا آج وہ اس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا
نور مجھے آپ سے بات کرنی ہے وارث اس کے روم میں موجود تھا جی نور بولی
نور. مجھے آپ کے بابا کا افسوس ہے لیکن اب آپ تیاری کر لے ہمیں آج گھر. جانا ہے وارث نے کہا
اس کی بات پر نور نے پریشان ہوتے وارث کو دیکھا
کیا کچھ نہیں تھا اس کی آنکھوں میں دکھ ،ردر ،غم ،تکلیف
میں آج یہاں رہنا چاہتی ہوں پلیز نور نے کہا وہ منع کرنا چاہتا تھا لیکن کچھ سوچ کر چپ کر گیا
ٹھیک ہے میں دوسرے روم میں ہو کچھ چاہے ہو گا تو بتا دینا وارث نے کہا اور چلا گیا
اللہ یہ سب کیا تھا مجھے اس شخص کو شوہر تسلم کرنا ہو گا اس کے گھر جانا ہو گا بابا یہ آپ نے مجھے کس آزمائش میں ڈال دیا ہے نور نے روتے ہوئے کہا
ساری رات وہ سوئی نہیں روتی رہی لیکن خود کو مبضوظ کیا جو بھی تھا اب اپنے بابا کا وعدہ پورا کرنا تھا
چلے وارث کی آواز پر ہوش میں ائی جی نور نے کہا اور وارث نے اس کا سامان لیا کر گاڑھی میں رکھا
نور صحن میں کھڑی ہوئی ایک نظر اس گھر کو دیکھا جو اس کے بابا ماں کا تھا
سب کچھ یاد ایا ماں کی مامتہ بابا کا پیار ایک آنسو نور کی آنکھیں سے گرا نور کا دل کر رہا تھا کہ وہ وارث سے کہ مجھے کہی نہیں جانا لیکن آہ اپنے بابا کا وعدہ
گاڑھی میں وارث نے اس سے بات کرنے کی کوشسش کی لیکن نور نے اس طرح ایکٹ کیا کہ کچھ سنا ہی نہ ہو
وارث اس کی غائب دماغی نوٹ کر رہا تھا اس لیے چپ رہو گیا
_____________________
لو بھئی نور کی رخصتی ہو گئی ہے😭😭 لیکن مجھے رخصتی والا کوئی گانا نہیں آتا😂😂 سو دوستوں بتائیں اپیی کیسے لگئی آپ کو
دعوں میں یاد رکھے گا اللہ حافظ 😇😇


قسط نمبر 12
ازقلم ہاشمی ہاشمی
💔💔 یہ اداس اداس سا پھرنا، یہ کسی سے نہ ملنا

یوں بے سبب نہیں، کچھ تو سانحہ ہوا ہے💔💔

گاڑھی ایک بنگلے کے سامنے رکی اور نور کی سوچوں کا تسلسل توڑا وارث باہر نکالا خاں بابا گاڑھی سے سامان نکالے اور میرے روم میں رکے دے وارث نے گھر کے ملازم سے کہا
جی شاہ صاحب خاں بابا نے کہا اس ہی وقت نور گاڑھی سے باہر آئ ایک نظر گھر کو دیکھا جو باہر سے بہت خوبصوت تھا چلے وارث نے نور کو کہا جو گھر کو گھورنے میں مصروف تھی
وہ دونوں لان میں ائے تو بلال ان کو ملا
بلال نے نور سے کہا welcome Home نور بلال کو دیکھا کر دل سے خوش ہوئی اور یہ خوش وہ سمجھنے سے قاصر تھی شکریہ بھائ نور نے کہا
وہ اب گھر کے اندر تھے نور یہ میرے ماما اور پاپا ہے وارث نے دعا بیگم اور احد صاحب کو دیکھا کر کہا
اسلام و علیکم نور نے ان سے اسلام لی احد صاحب نے نور کے سر پر ھاتھ رکھا اور دعا بیگم نے اس کو گلے سے لگیا اور اسلام کا جواب دیا
جبکہ حریم اور احمد چپ اپنے آنسو پیتے اپنی ڈول کو دیکھا رہے اور یہ میرے ماما پاپا اب بلال بولا نور نے ان سے بھی اسلام لیا دونوں نے نور کو گلے سے لگیا
اور نور پریشان ہو گئی یہ لمس کنتا آپنا تھا بلکل اپنے بابا ماں جیسا
اب سین یہ تھا کہ نور اور دعا بیگم اور حریم ایک صوفہ پر تھی اور ان کے سامنے وارث اور بلال بیٹھ تھے اور سائیڈ والے صوفہ پر احد صاحب اور احمد بیٹھے تھے
نور سے حریم اور دعا باتے کر رہی تھی اور نور ان کی باتوں کا جواب دے رہی تھی نور آپ کے بابا کا سن کر افسوس ہوا احد صاحب نے کہا ان کی بات پر نور کے چہرہ پر ایک رنگ گزرا تھا اس رنگ کو سب نے محصوص کیا
جی بس اللہ کا حکم نور کی آواز میں درد تھا نور آپ کو یہ چوٹ کیسے لگئی حریم نے فکر سے پوچھا اس کی بات پر وارث نے نور اور نور نے وارث کی طرف دیکھا دونوں کی نظریں ملی
چھوٹی ماں یہ گر گئی تھی وارث نے جلدی سے کہا اور نور چپ ہی رہی اب نور کی برداشت جواب دے رہی تھی ایک تو وہ ساری رات روتی رہی اور دوسرا. سر میں درد ہو رہا تھا اپر سے ان کی باتے ختم نہیں ہو رہی تھی اور وہ کچھ عجیب محسوس کر رہی تھی اس گھر میں کچھ ایسا جو اس کی سمجھ میں نہیں ارہا تھا اب گھنٹا ہو رہی تھی اس ماحول سے ، اور اس کی یہ بات وارث اور بلال نوٹ کر رہے تھے
آنٹی مجھے نماز پڑھنی ہے نور نے بہانہ بنیا نور نے حریم سے کہا پہلی بارا اس نے حریم کو مخاطب کیا تھا
اور حریم اس کے منہ سے آنٹی لفظ سن کر اس کے دل میں کچھ ہو حریم کا بس نہیں چل رہا تھا وہ نور سے کہتی میں تمہاری ماما ہو لیکن اپنے پر قابو پایا
چلو حریم نے کہا اور نور کو لیے کر چلی گئی
شاہ کیا سوچ رہا ہے بلال نے پوچھا کچھ نہیں یار وارث نے کہا ایک بات میں نے نوٹ کی ہے بلال نے مصنوئ سنجیدگئ سے کہا کیا وارث نے پوچھا
تم میری بہن کو گھور گھور کر دیکھ رہے تھے بلال نے مصنوئ غصہ سے کہا اس کی بات پر وارث نے بلال کو گھورا
کمینا انسان میری بیوی ہے وہ شاہ نے کہا اور بلال نے قہقہا لگایا اور شاہ بھی مسکرایا
________________
حریم نور کو وارث کے روم میں لائی یہ آپ کا روم ہے آپ نماز پڑھ لو بیٹا حریم نے کہا
اور نور پریشان سی وضو کرنے چلی تھی جب حریم نے رکا نور میں جانتی ہو یہ سب آپ کے لیے مشکل ہے لیکن کوشش کرو بس اسان ہو جائے گا وارث آپ کو خوش رکھے تھا حریم نے کہا اور نور کے سر پر بوسہ دیے اور چلی گئی آخر ماں تھی وہ اپنی بچی کی پریشانی محصوص کر سکتی تھی
اور نور پریشان سی اس کی بات پر غور کرنے لگئی آنٹی کو کیسے پتا میں پریشان ہو نور نے سوچا
یہ لوگ کچھ عجیب ہے کچھ اپنے اپنے سے لگتا میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہو اللہ مجھے صبر دے اور اس گھر میں رہنے کا حوصلہ بھی نور نے خود سے کہا اور نماز ادا کی
ابھی وہ فارغ ہوئی تھی پھر ایک نظر اس روم کو دیکھا کو کے حوبصورت تھا ہر چیز قمیتی تھی ایک چیز اس روم کی نور کو پسند ائی وہ تھی بلکنی جس سے آسمان نظر آتا تھا اور گھر کا لان بھی
اس ہی وقت روم کا درواذ کھولا اور ایک وجود اندر ایا اسلام و علیکم بھابھی میں حنسں آپ کا دیور اس کے اندز پر نور مسکرائ وہ سکول کے یونیفارم میں تھا اور حنسں کو اسلام کا جواب دیا
بھابھی آپ جانتی نہیں ہے میں کب سے آپ کا صبری سے انتظارا کر رہا تھا حنسں نے کہا
کب سے نور نے پوچھا بچپن سے حنسں نے کہا کیا مطلب نور نے پوچھا
شاہ بھائ وہ بلال بھائ آپس میں دوست ہے اور میرا گھر میں کوئی دوست نہیں ہے آپ میری دوست بنیے گئی حنسں نے پوچھا. اور اس کی مصعومت پر نور کو پیار ایا ہاں نور نے کہا اور اس کے سر پر ھاتھ رکھا اور حنسں نے یاہو کا نعرہ لگیا اور نور مسکرائ
اس ہی وقت شاہ اندر ایا نور کو مسکراتے دیکھ کر کچھ سکون ہوا حنسں بچے آپ کچھ کہا تھا وارث نے کہا
اووو بھائ میں بھول گیا حنسں نے سر پر ھاتھ مار بھابھی نیچے سب کھانے پر آپ کا انتظارا کر رہے ہے آپ جاو میں کپڑے بدل کر آتا ہو حنسں نے کہا اور چلا گیا
اس کی بات سن کر نور پریشان ہو گئی یعنی پھر سب کا سامنا کرنا ہو گا اس ہی وقت وارث وشروم سے باہر آیا
کیا نیچے جانا ضروری ہے نور نے وارث سے پوچھا ہاں کیوں کوئی مسلہ ہے وارث نے پوچھا جی یہاں کچھ عجیب ہے نور نے کہا اور وارث اس کی بات پر مسکرایا اور کوئی جواب نہیں دیا چلے وارث نے کہا نور نےگہرا سانس لیا اور نیچے آئ
____________________
۔ٹیبل پر سب نور کا انتظارا کر رہے تھے نور بیٹھی اور سب نے کھانا شروع کیا نور پریشان ہوئی اور اب سر چکرا سب اس کی پسند کا کھانا تھا
حریم نے وہ سب بنایا تھا جب وہ ماں بننے والی تھی اور یہ کھانے سب سے زیادہ کھاتی تھی
نور شروع کرو حریم نے کہا نور نے بریانی لی ابھی ایک چمچہ ہی لیا تھا اور نفی میں سر ہلایا اور اوپر کی طرف بھاگی
اس کے ری ایکشن پر سب پریشان ہوئی وہ سیرھوں سے گرتا ہوے دو بارا بچی تھی اور بلال اور احمد وارث بھاگ تھا
آپ لوگ باہر رہے میں دیکھتا ہو وارث نے کہا اور روم میں گیا
____________________
اسلام دوستوں 😍😍
رمضان کی آمد آمد ہے سو گھر کی صافیوں میں
میں مصروف ہو کچھ وقت نکال کر میں. نے یہ اپیی لکھی ہے سو اچھے اچھے کمنٹ کرے ❤❤
اور دعاوں میں یاد رکھے گا اللہ حافظ 😇😇

 قسط نمبر 9ازقلم ہاشمی ہاشمی نور میرا بچا میں نے ہمیشہ سے تمہیں ماں باپ کا انتظارا کیا ہے اور اس بات کا میرا خدا گوہ ہے ...
22/03/2026


قسط نمبر 9
ازقلم ہاشمی ہاشمی
نور میرا بچا میں نے ہمیشہ سے تمہیں ماں باپ کا انتظارا کیا ہے اور اس بات کا میرا خدا گوہ ہے لیکن تمہاری ماں اس دنیا میں نہیں رہی اب مجھے میں ہمت نہیں ہے کہ میں تمہیں بینا رھ لو آج تمہیں فون ایا میرے دل میں کچھ ہوا میں بہت ڈدر گیا تھا میری گڑیا
عبداللہ صاحب نے نور کے سر پر ھاتھ رکھا کر کہا
بابا ایسی باتے نہیں کرے سوری مجھے پتا نہیں تھا کہ طعبیت انتی خراب ہو جاے گئی ورنہ میں یونی نہیں جاتی اور نہ مسڑ سیئنر کی مدر لینی پڑتی
نور نے عبداللہ صاحب کے سینے پر سر رکھا کر کہا
نور ایسے نہیں کہتے اس بچے نے تمہاری مدر کی ہے تم اس کا شکریہ کرو گئی عبداللہ صاحب نے کہا
ان کی بات پر نور نے منہ بنایا
بابا میں نہیں کرو کی کوئی شکریہ وکریہ ان کا نور نے کہا
اچھا ٹھیک ہے نہ کرنا میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں عبداللہ صاحب نے کہا اور چکن میں چلے گئے
ایک بات وہ جانتے تھا کہ نور نے کیسی بات پر نہ کر دی تو کوئی ھاں نہیں کرو سکتا اس سے
_____________________
آج نور یونی ائی تھی دو دن بعد اس نے کلاس لی
اور اب وہ گھاس پر بیٹھ کر کاپی پر کچھ نوٹ کر رہی تھی اس کو اپنے اوپر کیسی کی نظروں کی تپسش محصوص ہوئی
ایسا پہلی بارا نہیں ہو تھا اکثر ایسا ہی ہوتا تھا اس کی وجہ اس کا خوبصوت چہرہ تھا اس لیے اس کو اپنی خوبصوتی سے نفرت تھی ایک دو بارا اس نے نقاب کرنے کا سوچ اور کیا بھی لیکن اس کو سانس لینے میں مسلہ ہوا اور ہپستال جانے پڑا تو عبداللہ نے اس کو منع کر دیا نقاب کرنے سے بچپن سے ہی نور کو سانس کا مسلہ تھا
نور اپنے کام میں مصروف رہی لیکن کوئی مسلسلہ اس کو دیکھا رہا تھا غصہ میں نور نے دیکھا تو سر توحید تھے نور نے گہرا سانس لیا اور سر کے پاس آئ
اسلام و علیکم سر نور نے کہا
سر کے سر ہلا کر جواب دیا سر کوئی مسلسلہ ہے آپ کو کچھ کہنا ہے نور نے پوچھا
اس کی بات پر سر مسکرائے نہیں کوئی مسلسلہ نہیں ہے
ٹھیک ھے سر نور نے ضبط کرتے ہوے کہا اور وہاں سے جانے لگئی تھی توحید بولا مس نور طبعیت کیسی ہے اب آپ کی میں نے سن تھا کہ آپ یونی میں بے ہوش ہو گئی تھی
جی ٹھیک سن ہے آپ نے اب میں ٹھیک ہو اور آنئدہ اگر آپ نے مجھے اس طرح دیکھا تو میں یہ بھول جاو گئی کہ آپ میرے ٹیچر ہے نور نے غصہ سے کہا اور چلی گئی
آہ نور تمہاری یہ ہی ادا پر ہی میں مر گیا ہو توحید نے ایک گہری نظر نور پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا
______________________
ھلیو ہاں میں نے تم سے کچھ کہا تھا اس دن RD نے کیسی کو فون پر کہا اگے سے جو خبر ملی وہ سن کر R,D نے غصہ سے فون زمیں پر دے مارا
کچھ دیر بعد خود پر قابو پایا آزان R,D نے آزان کو آواز دی آزان کچھ ہی وقت میں R,D کے سامنے تھا
جی باس آزان نے کہا
آزان کام ہو گیا باس نے پوچھا جی باس گاڈھی تیار ہے آج رات. لڑکیوں دبئی پہیچ جائے گئی
گڈ باس نے کہا باس ایک بات پوچھوں آپ سے آزان نے کہا
ھاں بولو بوس آپ نے ایک لڑکی کا کہا تھا وہ نہیں جائے گئی کیا آزان نے پوچھا
اس کی بات پر بوس مسکرایا اس کو نور یاد ائی.
نہیں وہ چڑیل مجھے بہت پسند آئ ہے وہ میری منظور نظر ہو گئی
اس کی بات پر آزان ضبظ کر گیا جی بوس میں جاو
ٹھیک ھے باس نے کہا اور خود نور کے بارے میں سوچنے لگا
باہر اکر( آزان یعنی بلال ) نے شاہ کو فون کیا
_____________________
نور یونی سے واپس آرہی تھی کہ اچانک وین رکی
کیا ہوا چچا نور نے وین والے سے پوچھا
بیٹا لگتا ہے وین خراب ہو گئی ہے وین والے نے پریشان ہو کر کہا
اب کیا ہو گا نور بھی پریشان ہو گئی میں کوئی راکشہ دیکھتا ہو تم اس میں بستی چلی جانا وین والے نے کہا ٹھیک ہے نور نے کہا
اچانک ایک کار اکر رکی اور بلال باہر آیا نور کو وہ دیکھا چوکا تھا
کیا ہوا کوئی مسلہ ہے بلال نے پوچھا نور بلال کو دیکھا کر خوش ہوئی
اووو بلال بھائ آپ نور نے کہا
جی میں کیا ہوا بلال اس کو خوش دیکھا کر مسکرایا
نور نے ساری بات بتائی اوو چلے میں آپ کو گھر ڈاپ کر دیتا ہو بلال نے کہا
بلال کی بات پر نور کنفثور ہو گئی پھر بولی نہیں بھائ میں خود چلی جاو گئی
اس کو کنفثور دیکھ کر بلال بولا نور بہنا پلیز ائے میں چھوڑ دیتا ہوں
کیا کچھ تھا بلال کے لہجہ میں مان عزت جو نور نے محصوص کیا اور وہ چاہ کر بھی منع. نہیں کر سکی
بلال نے نور کے گھر کی گلی کے پاس گاڑھی رکی
بھائ ائے نا گھر میں بابا سے آپ کو ملوتی ہو نور نے گاڑھی سے اترتے ہوے کہا
نہیں مجھے کچھ کام ہے پھر کبھی بلال نے منع کیا
بھائ میں کوئی نہیں نہیں سن رہی ابھی اندر چلے نور نے حکم دیتا ہوے کہا
اس کے حکم دینی پر بلال مسکرایا ٹھیک ہے چلے
اسلام و علیکم بابا نور نے گھر اکر عبداللہ صاحب سے کہا
بچا آج انتی لیٹ میں ارشد (وین والے) کو فون کر رہا تھا اس نے نہیں اٹھا عبداللہ صاحب نے کہا
جی بابا یہ بلال بھائ ہے اور پھر نور نے ساری بات بتائی اسلام و علیکم انکل بلال جو چپ اپنی ڈول کو سن رہا تھا بولا
بھائ پلیز بیٹھ میں چائے لے کر اتی ہوں نور نے کہا
نور چائے بننا چلی گئی اور عبداللہ صاحب اور بلال باتے کرنے لگ
انکل نور کیسی پر گئی ہے میرا مطلب آپ پر یا آنٹی پر نہیں گئی بلال نے عبداللہ صاحب کی بیوی کی تصیور دیکھ کر کہا
نہیں بیٹا ہم پر ابھی عبداللہ صاحب بات پوری ہی کرتے نور چائے لے کر اندر ائی
نہیں بھائ میں کیسی کی ناجائز اولاد ہو نور نے مزہ سے کہا
اور بلال اس کو کرنٹ لگ نور کے الفاظ تھا کہ کوئی بم بلال کو لگ اب سانس نہیں آے گا
نور عبداللہ صاحب نے نور کو آنکھیں دیکھائی
ایسے نہیں کہتے بچے عبداللہ صاحب نے کہا
اوکے بابا ہمیشہ کی طرح نور نے جواب دیا
اور بلال وہ اکھڑ ہوگیا انکل مجھے کچھ کام ہے میں چلتا ہو بلال نے کہا اور وہاں سے چلا گیا پیچھے نور آواز دیتی رہ گئی
گاڑھی میں بیٹھ کر بلال نے گاڑھی چلانی شروع کر دی بلال کو کچھ بھی سنئنی نہیں دے رہا تھا بس نور کے الفاظ
"میں کیسی کی ناجائز اولاد ہو "
"میں کیسی کی ناجائز اولاد ہو "



قسط نمبر 10
ازقلم ہاشمی ہاشمی
بلال گھر آیا تو وارث اس کا انتظارا کر رہا تھا بلال کہاں تھا تو کب سے فون کر رہا ہوں وارث نے غصہ سے پوچھا
جبکہ بلال نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے روم کی طرف چل پڑا وارث اب پریشان ہوا گیا اور بلال کے پیچھے ایا بلال کیا ہوا یار وارث نے پوچھا کچھ نہیں شاہ مجھے ابھی بات نہیں کرنی جاو یہاں سے بلال نے کر اور بیڈ پر لیٹ گیا
بلال کیوں پریشان ہے تمہیں پتا ہے نا کہ آج رات کتنی اہم ہے وارث نے کہا
ہاں پتا ہے میں تیار ہو بلال نے کہا پریشانی اپنی جگہ لیکن فرض پہلے
بلال RD کی وجہ سے پریشان ہے وارث نے پوچھا نہیں یار بس آج کی رات اور کل اس RD کا کام ختم ہو جائے گا بلال نے کہا
انشاءاللہ وارث نے کہا لیکن بلال کل کا دن بہت اہم ہے آج رات ہم لڑکیوں کو بچا لیے گئے
لیکن نور کے بارے میں کیا سوچا ہے شاہ بلال نے پوچھا
اس کی فکر نہیں کرو دعا اور زویا اس کے پاس ہوئی گئی وارث نے کہا لیکن تو پریشان کیوں ہے وارث نے پوچھا پھر کبھی بتاو گا بلال نے ٹلانا چاہا اس کی بات پر شاہ نے گھورا
اس کے گھورانے پر بلال بولا یار ایسے نہیں دیکھا بلال نے کہا لیکن مسلسلہ اس کو گھورا رہا تھا
بلال نے تنک اگر اس کو ساری بات بتائی اور اپنی ڈول کے الفاظ بھی اس کی بات سن کر شاہ نے کچھ نہیں کہا اس کو نکاح کا دن یاد ایا تھا
یار سب ٹھیک ہو جائے گا وارث نے کہا امید ہے مجھے بھی بلال نے افسوس سے کہا
_________________________
نور یونی میں تھی جب ایک لڑکے اس کے پاس ایا
مسں نور آپ کو سر توحید بلا رہے ہے لڑکے نے کہا
اس کی بات غصہ کر نور کو غصہ ایا لیکن ضبط کر گئی سر کہاں ہے نور نے پوچھا جی وہ یونی کی بیک سائیڈ پر لڑکے نے کہا اور چلا گیا
نور اس جگہ پر گئی وہاں کوئی نہیں تھا نور واپس جانے لگئی جب کیسی نے اس کے منہ پر ھاتھ رکھا اور وہ بے ہوش ہو گئی
نور کہاں ہے دعا نے زویا سے پوچھا یار ادھر ہی تھی زویا نے کہا یار وہ کہاں نظر نہیں آرہی ہے چلو دیکھتے ہے اس کو
____________________
شاہ اور بلال اس پر RD کے اڈید پر موجود تھے انہوں نے لڑکیوں کو وہاں سے نکالا اور اس جگہ پر موجود تمام مال یعنی (شرب ،مختلف اقسام کے ڈگز ) کو آگ لگا دی
اس کے وقت شاہ کے فون پر کال ای اس کو سن کر وارث پریشان ہو گیا اور بلال کو لے کر یونی ائی
________________________&
کہاں تھی آپ دونوں ایک کام کہا تھا آپ سے وہ بھی نہیں ہو وارث ان دونوں پر غصہ کر رہا تھا
سوری سر مسں نور کلاس میں ہی تھی پھر اچانک ہی غائب ہو گئی دعا نے کہا
شاہ اس سے پہلے اور کچھ کہتے بلال بولا ٹھیک ہے جائے آپ
شاہ یہ وقت غصہ کرنا کا نہیں ہے کنٹرول کر بلال نے کہا ٹھیک ہے پلین بی اس ہی وقت شروع کرتے ہے RD یہ تم نے اچھا نہیں کیا وارث نے غصہ سے کہا
___________________________
نور کو ہوش ایا تو خود کو ایک کمرے میں پایا
کچھ وقت لگا پھر سب یاد ایا
اللہ پھر کیسی نے مجھے اغوہ کر لیا ہے نور نے کہا اور کمرے میں ٹہلے لگئی اس وقت کمرے کا درواذ کھولا اور RD اندر ایا نور اس کو دیکھا کر پریشان ہو گئی
سر آپ نے مجھے اغوہ کیا ہے نور نے پوچھا ہاں میری چڑیا سر توحید یعنی RD نے کہا
نور تم مجھے پہلے ہی دن پسند آئ تھی آہستہ آہستہ تم نے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا ہے توحید نے کہا
سر دیکھا میں آپ نے بہت عزت کرتی تھی لیکن آپ عزت کے قابل نہیں ہے نور نے غصہ سے کہا
اوووو رسی جل گئی بل نہیں گیا نور یہ نہیں بھولوں تم اس وقت میرے بیڈ روم میں موجود ہو توحید نے کمنیگی سے کہا
اس کی بات پر نور مسکرائ تم نے مجھے اگر ھاتھ بھی لگیا تو میں تمہارا منہ توڑا دو گئی
اس کی بات پر توحید مسکرایا اور ایک گہری نظر سے نور کو دیکھا اور اس کی طرف ایا
اووو تم نازک سی کیا کرلو گئی بےبی توحید نے کہا اور اس پر جھکا
نور نے ایک ٹھپر اس کے منہ پر مار اس کی حرکت پر توحید کو غصہ ایا اور اس کے نور کے بالوں سے پکرا اور ایک ٹھپر اس کے منہ پر مار اور نور نیچے گرئی اور سر پر بیڈ کا کونا لگا اور ماتھے سے خون نکالنا شروع ہوگیا
گالی تیری ہمت کیسے ہوئی RD کو مارنے کی توحید نے غصہ سے کہا اور نور کو پکرا کر بیڈ پر پیھکا اور اپنی شرٹ کے اتاری اور نور کے پاس ایا
نور مسلسلہ مزاحمت کررہی تھی اور زبان پر اللہ کا نام تھا
اس ہی وقت شاہ اندر ایا RD شاہ کو دیکھا کر پریشان ہوا تم جبکہ وہ نور پر جھکا تھا وارث غصہ سے توحید کے پاس ایا اور اس کو مارانا شروع ہو گیا اور نور پریشان سی شاہ کو دیکھا رہی تھی جو اس وقت آرمی یونفارم میں تھا
نور نے جلدی سے اپنا دوپٹہ سر پر لیا جو کہ توحید سے لڑئی کے وقت زمیں پر گر گیا تھا نور کا سر چکرا رہا تھا اس ہی وقت بلال اندر ایا شاہ چھوڑ اس کو مر جائے تھا بلال نے کہا
بلال اس کی ہمت کیسے ہوئی نور کو ھاتھ لگنے کی شاہ نے کہا اور نور کے پاس ایا نور تم ٹھیک ہو شاہ نے پوچھا دور ہو کر بات کرتے یہ سب کیا ہے نور نے پوچھا ٹھیک ہے لیکن پہلے چلو یہاں سے شاہ نے کہا اور نور کا ھاتھ پکرا لیکن نور اس ہی وقت بے ہوش ہو گئی نور نور شاہ نے اس کے گال پر ھاتھ رکھا کر کہا
__________________________
ڈاکٹر باہر آیا ان کے سر پر بہت چوٹ ائی ہے اس کی وجہ سے یہ بے ہوش ہوئی ہے ہوش انے میں کچھ وقت لگا گا لیکن کچھ دن سر میں درد رہے گا ڈاکٹر نے کہا اور چلا گیا
نور کو ہوش ایا تو خود کو ہپستال کے روم میں پایا سامنے شاہ بیٹھ کر اس کو دیکھا رہا تھا اس کو دیکھا کر نور اٹھا کر بیٹھ گئی
یہ سب کیا تھا نور نے پوچھا اب آپ کیسی ہے نور وارث نے اس کے سوال کو نظراندرذ کیا یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے مسٹر آفیسر نور نے کہا
توحید ایک برا انسان تھا وہ یونی سے لڑکیوں کو غائب کروتا اور ان کو بیچ دیتا اور اس کے علاوہ وہ اور بھی بہت سے ایسے کام کرتا تھا جو اس ملک کے لیے نقصان دے ہے میں بہت دیر سے اس ے پیچھے تھا اللہ نے آج مجھے کامیاب کیا ہے وارث نے کہا
نور اس کی بات غور سے سن رہی تھی پھر کچھ یاد ایا میں یہاں کب سے ہو نور نے پوچھا
کل سے وارث نے جواب دیا کیونکہ پوری رات نور بے ہوش رہی تھی
آپ نے بابا کو بتایا نور نے پریشان ہو کر پوچھا اس کی بات پر شاہ بھی پریشان ہو گیا کل اتنا سب ہو گیا تھا کہ عبداللہ صاحب کا خیال ہی نہیں آیا
اچھا آپ پریشان نہیں ہو میں فون کرتا ہو وارث نے کہا نہیں مجھے گھر جانا ہے پلیز نور نے کہا
ابھی آپ کی طعبیت ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر چھٹی نہیں دے گا وارث نے کہا
پلیز مجھے گھر جانا ہے میرے بابا پریشان ہو رہے ہو گئے نور نے کہا
شاہ نور کو اس کے گھر لایا نور گھر ائی کو عبداللہ صاحب کہی نظر نہیں ائے بابا بابا بابا نور آواز دینے لگئی
نور روم میں آئ تو اس کی نظر اپنے بابا پر پڑی جو بے ہوش تھے وہ جلدی سے ان کے پاس آئ بابا بابا آنکھیں کھولے بابا



اسلام علیکم ریڈرز!! کیسے ہیں سب ؟؟اور عید کیسی گزری سب کی اور ناول کیسا لگ رہا ہے اگر اچھی سٹوری نہیں لگ رہی تو میں چھوڑ دیتی ہوں بتائیں سب مجھے ریسپانس تو اچھا نہیں مل رہا ۔۔

 قسط نمبر 7از ہاشمی ہاشمی نور گھر ائی تو  بھاگ کر اپنے بابا کے سینے سے لگئی بابا آپ ٹھیک ہو نور نے پریشان ہو کر پوچھا عب...
20/03/2026


قسط نمبر 7
از ہاشمی ہاشمی
نور گھر ائی تو بھاگ کر اپنے بابا کے سینے سے لگئی بابا آپ ٹھیک ہو نور نے پریشان ہو کر پوچھا
عبداللہ صاحب اس کی حرکت پر پریشان ہو
جی بابا کا بیٹا بابا ٹھیک ہے آج میرا بچا جلدی اگئے
عبداللہ صاحب نے اس کو خود سے الگ کرنے کی کوشسش کی لیکن نور نہیں ہوئی
بابا آپ کہاں تھے نور نے پوچھا میں تو کام پر تھا کیوں کیا ہوا نور بچے کوئی پریشانی کی بات ہے
اس بات پر نور ان سے الگ ہوئی
بابا آپ کو پتا ہے میں آج ڈدر گئی تھی نور نے پیار بھرئ نظرو سے عبداللہ صاحب کو دیکھا
کیوں میری بیٹی تو کیسی سے ڈدرتی نہیں ہے انہوں نے پیار کرتے ہوے کہا
نہیں بابا میں ڈدرتی ہو آپ کو کھو دینے سے نور نے کہا اور پھر سے ان کے سینے لگ گئی
میرا بچا کیا ہو ہے کیوں اپنے بابا کو پریشان کررہی ہو اس کی باتوں سے اب وہ پریشان ہو گئے تھے
بابا آپ کو پتا ہے نا کہ میں نے آج تک آپ سے جھوٹ نہیں بولا آج بھی نہیں بولو گئی لیکن مجھے کچھ وقت دے سچ بتانے کے لیے نور افسوس سے بولی
نور بچے کیا بات ہے یونی میں کچھ ہوا ہے ان نے پوچھا
بابا پلیز ابھی نہیں نور سے کہا
کچھ وقت وہ خاموش رہے پھر بولے ٹھیک ہے میرے بچے بابا انتظارا کرے گئے میری بیٹی مجھے کب پریشانی بتائے گئی
شکریہ بابا آپ کو پتا ہے آپ دنیا کے سب سے اچھے بابا ہے نور نے کہا
اس کی بات پر وہ مسکرائے چلو کچھ وقت آرام کر لو پھر دونوں مل کر بریانی بناے گئے
اس پر مسکرائ جی بابا اور اپنے روم میں چلی گئی
اللہ میری بچی کی پریشانی دور فرما انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا کر کہا
نور اپنے روم میں آئ یہ میں نے کیا کیا اگر بابا کو پتا چلا تو کیا ہو گا یا اللہ میری مدر فرما مجھے صبر دے آمین
__________________________
وارث بلال کے روم میں ایا بلال میرے بھائی ناراض ہے مجھے سے کیا بلال جو اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشسش کر رہا تھا اس کی بات سن کر اور آیا
اس وقت وہ وارث سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے چپ کر کے روم سے جانے. لگا تو وارث اس کے راستہ میں دیوار بن کر کھڑا ہو گیا بلال پلیز میری بات تو سن وارث نے کہا
اس کی بات اور حرکت پر وہ پہلے ضبط کیے ہو تھا
ایک مکار وارث کے منہ پر مارا سالے تم نے میری ڈول کو مجھے سے اغوہ کرویا اور اس سے زبردستی نکاح کیا یہ تو نے اچھا نہیں کیا شاہ جتنے غصہ سے بلال نے بات شروع کی آخر میں انتا ہی بے بس ہوا
وارث کو پتا تھا کہ وہ ناراض ہو گا لیکن اس طرح ری اکٹ کرے گا اس کو اندزہ نہیں تھا
بلال پلیز ناراض نہیں ہو مجھے خود دو دن پہلے پتا چلا ہے کہ وہ ڈول ہے میں پھر اس کو محفوظ کرنا چاہتا تھا
شاہ مجھے ڈول سے ملنا ہے بلال نے کہا بلال میرے پیارے بھائ ایسا ممکن نہیں ہے تو جانتا ہے نا
شاہ مجھے نہیں پتا تو جانتا ہے نا میں ڈول سے کتنی محبت کرتا ہوں بلال نے کہا اور ایک آنسو اس کی آنکھ سے گرا
اس کی تڑپ پر شاہ نے جلدی سے اس کو گلے لگیا
ٹھیک ہے میں کچھ کرتا ہو لیکن تو اس کو بھابھی بولے گا
اس کی بات پر بلال مسکرایا ٹھیک ہے شاہ میں خوش ہو میری ڈول کی شادی میرے دوست سے ہوئی ہے
اس کی بات پر شاہ نے اس کو گھورا اس لیے تم نے اپنی بہن کے شوہر کو مارا ہے
اس کی بات پر بلال نے قہقہا لگایا یار میرے دوست نے حرکت ہی ایسی کی تھی
اچھا سالے ابھی توجے بتاتا ہو شاہ نے کہا اور ایک مکار بلال کو مارا
دونوں ایک دوسرے کو مارنے میں مصروف تھا کہ حنسں روم میں ایا اور پریشان ہو گیا
بھائ کیا ہو آپ لڑ کیوں رہے ہو حنسں نے پوچھا
اس کی بات پر دونوں چونکے تم دونوں ایک ساتھ بولے اور پھر ہسنے لگے
جبکہ حنسں کو دونوں کی دماغی حالت پر شک ہو
بھائ آپ دونوں ٹھیک ہو نا آپ دونوں ہسنے کیوں رہے ہو
دونوں مسکرائے اور دونوں نے حنسں کو گلے سے لگیا
یار ہم بہت خوش ہیں کیوں بھائ حنسں نے پوچھا
کیوں کہ شاہ نے نکاح کر لیا ہے بلال نے شرارت سے کہا
کیا اس کی بات پر حنسں کو کرنٹ لگ
بھائ حنسں نے صدمہ سے کہا جبکہ شاہ سے بلال کو آنکھیں دیکھائی
بھائ میں نہیں بولتا آپ سے حنسں نے. کہا اور روم سے چلا گیا
یار یہ کیا کیا ہے تم نے حنسں ناراض ہو گیا ہے مجھے سے شاہ نے کہا
اچھا ہوا تمہیں کس نے کہا تھا اس طرح نکاح کرو بلال نے کہا اور روم سے بھاگ گیا کیونکہ اب بلال کو پتا تھا شاہ اس کو نہیں چھورنے والا ہے
______________________
آج نور یونی ائی خود کافی حد تک نارامل کر لیا تھا
کلاس لیے کر باہر ائی اس کی نظر سر توحید پر پرئی وہ اس کی طرف ارہے تھے
ھلیو مس نور کیسی ہے آپ کل کیوں نہیں ائی سر نے پوچھا
ٹھیک ہو سر نور نے سر جھکائے کر جواب دیا سر مجھے. آپ سے ضروری بات کرنی ہے
ہاں کہے سر نے کہا
سر مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی نور نے کہا اس کی بات پر توحید کو غصہ ایا وجہ کیا میں جان سکتا ہوں کیوں
سر آپ اچھے انسان ہے میں نہیں چاہتی آپ میرے ھاتھوں سے قتل ہو جائے آئند اس لہجے میں مجھے سے بات نہیں کریے گا نور نے سخت لہجہ میں کہا اور وہاں سے چلی گئی
دو آنکھیں اس کی بات پر مسکرائ
توحید وہ بھی اس کی بات پر غور کرنے لگا
_____________________
ایک ہفتہ گزرا گیا نور کا یونی میں شاہ سے سامنا بھی ہو جاتا تو دونوں ایک دوسرے کو اگنور کرتا
نور آج نہیں جاو بچے آپ کو بخار ہے عبداللہ صاحب نے فکر سے کہا
اوووو بابا میں ٹھیک ہو اور ایک ضروری کلاس ہے آج نور نے کہا تیار ہونے لگئی
اچھا ٹھیک ہے لیکن پہلے دوائی کھاو پھر جانا عبداللہ صاحب کو دوائی ھاتھ میں لیے کھڑا تھے بولا
ٹھیک ہے لائے نور نے کہا اور دوائی کھا لی اور عبداللہ صاحب کو خدا حافظ کہا اور چلی گئی


قسط نمبر 8
از ہاشمی ہاشمی
بوس ایک بری خبر ہے آزان نے کہا
بوس جو کسی گہرائی سوچ میں تھا آزان کی آواز پر ہوش میں ایا کیا ہو بوس نے پوچھا
بوس ہمارے مال پکڑا گیا ہے آزان نے پریشانی سے کہا
اس کی بات پر بوس کو غصہ ایا
کس (گالی) کی انتی ہمت ہوئی ہے بوس نے پوچھا
بوس یہ کام کسی پولیس والا کا نہیں ہے یہ کام آرمی والوں کا ہے آزان نے. بتایا
اووو تو R D کا مقابلہ اب آرمی والوں سے ہے مزہ ائے گا بوس نے مسکراتے ہوے کہا
اب کیا کرنا ہے بوس آزان نے پوچھا
جو کرنا ہے اب میں کرو گا تم بس اب لڑکیوں کو دبئی میں بیجنے کی تیاری کرو بوس نے کہا
اوکے بوس آزان نے کہا اور چلا گیا
آزان کے جانے کے بعد بوس نے فون کیا
ھلیو ہاں کراچی میں بلاسٹ کرو دو ہاں ٹھیک ھے بائے بوس نے کہا اور فون بند کیا
اہم ہم اب R,D کا نقصان ہوا ہے تو کچھ نقصان اس ملک کا بھی بناتا ہے R,D نے مسکراتے ہوے کہا
_____________________
نور کلاس لیے کر باہر آئ تو اچانک آنکھیں کے اگے اندھیر ایا
اللہ لگتا ہے طعبیت زیادہ خراب ہو گئی ہے نور نے کہا اور بیج پر بیٹھ گئی مجھے سے تو اٹھا بھی نہیں جارہا ہے چکرا ارہے ہے اب کیا کرو
اس ہی وقت شاہ نور کے پاس ایا
شاہ آج بلال کو نور سے ملونے لایا تھا کیونکہ. آج سر توحید چھٹی پر تھے
نور نے سر اٹھا کر شاہ کو دیکھا وہ اس وقت نور کو فرشتہ ہی لگا اس سے پہلے شاہ کچھ کہتا نور بولی
مسٹر سنئیر پانی پلیز
شاہ اس کی بات پر پریشان ہوا نور تم ٹھیک ہو
جی میں. ٹھیک ہوں پانی پلیز نور نے اٹک اٹک کے کہا
ھاں بلال پانی لینے چلا گیا اور
شاہ نے پانی کی بوتل نور کو دی نور اس سے پہلے پانی پیتی آنکھیں کے سامنے اندھیر ایا اور وہ بے ہوش ہو گئی
شاہ اور بلال دونوں پریشان ہوگئے نور شاہ نے اگر ہو کر نور کے چہرہ پر ھاتھ رکھا اوشٹ اس کو بہت بخار ہے شاہ نے کہا اور نور کو اٹھا کر ہپستال لے ایا
______________________
دونوں پریشان سے باہر بیٹھے تھے جب ڈاکٹر باہر آیا
پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے پی بی لو کی وجہ سے یہ بے ہوش ہوئی ہے کچھ وقت بعد ہوش اجاگا ڈاکٹر نے کہا اور چلے گیا
کچھ وقت بعد نور کو ہوش ایا تو خود کو ہپستال کے روم میں پایا
اس ہی وقت شاہ روم میں ایا
اووو شکر ہے تم ٹھیک ہو نور شاہ نے کہا جی ٹھیک ہو اب نور نے سنجیدر لہجہ میں کہا
تمہیں بخار تھا تو یونی ائی کیوں شاہ نے پوچھا
نور اس کے جواب میں چپ رہی
اس ہی وقت بلال اندر ایا نور بلال کو دیکھا کر پریشان ہوئی اور شاہ کی طرف دیکھا جیس پوچھ رہی ہو یہ کون ہے
شاہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر بولا
یہ بلال ہے میرا دوست اور بھائ شاہ نے کہا
اور بلال یہ نور ہے تمہاری بھابھی شاہ نے شرارت سے کہا
اسلام و علیکم بھابھی بلال نے کہا
نور نے پہلے شاہ کو گھورا پھر بلال کو
و علیکم اسلام بلال بھائ میں آپ کی بھابھی نہیں ہو نور نے منہ بنتے ھوے کہا
بلال کو وہ بہت کیوٹ لگئی اوکے بہنا طعبیت ٹھیک ہے اب آپ کی بلال نے پوچھا
جی الحمداللہ ٹھیک ھے نور نے کہا
میرا پرس کہاں ہے نور نے شاہ سے پوچھا تو شاہ نے اس کو پرس دی یا نور نے اپنے بابا کو فون کیا
اچھا بہنا میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا بلال نے کہا اور نور کے سر پر ھاتھ رکھا
یہ لمس نور کو اتنا اپنا لگا تھا بلال بھائ نور کے منہ سے بے ساختہ نکالا
بلال جو جانے کے لیے مڑا تھا نور کو دیکھا
کچھ وقت نور بلال کو کنفثور نظروں سے دیکھتی رہی اللہ حافظ نور سے جلدی سے کہا
بلال اس کی بات پر مسکرایا اور چلا گیا اس کے جانے کے بعد نور پریشان سی بلال کے بارے میں سوچتی رہی
شاہ نور کو پریشان دیکھ کر مسکراتا ہوا باہر چلا گیا
بلال جو ضبظ کر رہا تھا جب نور نے کہا بلال بھائ بلال کا دل کیا کہ نور کو اپنی ڈول کو گلے سے لگ لے
بلال تو ٹھیک ہے شاہ نے پوچھا
شاہ میں بہت خوش ہو تم نے دیکھا اس نے مجھے رکا اس کی نظروں میں دیکھ تم نے بلال نے خوشی سے کہا
ھاں یار ایک بات ہے اس کی چٹھی حسس تیز ہے شاہ نے سوچتا ہوے کہا
عبداللہ صاحب ہپستال ائے نور کے پاس ائے نور میں بچا کہا بھی تھی نہیں جاو یونی عبداللہ صاحب پریشان ہوتے کہا
بابا میں ٹھیک ہو بس اب تو ڈاکٹر نے بھی چھٹی دے دی ہے نور نے اپنے بابا کو پریشان ہوتے ہوئے دیکھ کر پیار سے کہا
میری بچا عبداللہ صاحب نے اس کی بات پر نور کو خود سے لگیا اور نور مسکرا دی
جبکہ روم سے باہر شاہ اور بلال دونوں یہ سب دیکھا کر گہرائی سوچ میں چلے گئے
_________________
بلال گھر آیا تو حریم اس کا انتظارا کر رہی تھی بلال حریم کو دیکھا کر مسکرایا ماما آپ سوئی نہیں بلال نے پوچھا
نہیں میں کھانا لاو آپ کے لیے حریم نے کہا
جی آپ گرم کرے میں فریش ہو کر آتا ہو بلال نے کہا
کچھ وقت بعد بلال کھانا کھا رہا تھا اور حریم اس کو دیکھا رہی تھی
کیا ہوا ماما ایسے کیا دیکھ رہی ہے بلال نے پوچھا
دیکھ رہی ہوں ابھی کل کی بات تھی جب تم ضد کرتے تھے کہ میں نے بابا کے ھاتھ سے کھانا کھانا ہے
اور آج بلال میرا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا ہے وقت کا پتا نہیں چلا
ان کی بات پر بلال مسکرایا جی ماما یاد ہے مجھے
بلال میری جان اب شادی کر لو حریم نے کہا
اس کی بات پر بلال خاموش ہو گیا اور گہرا سانس لیا
ماما مجھے نہیں کرنی شادی ابھی بلال نے کہا
کیوں ابھی تو شاہ نے بھی کر لی ہے وہ افسوس سے بولی
ماما آپ کو پتا ہے میں آج نور سے ملا ہوں بلال نے خوشی سے کہا
کیا کیسی ہے میری ڈول حریم نے بیھگی لہجہ میں پوچھا
ماما بہت اچھی ہے اور اتنی پیاری ہے بلال نے کہا
بلال ڈول کب ائے گئی گھر حریم نے پوچھا ماما بہت جلد ہماری فمیلی مکمل ہو جائے گئی انشاءاللہ
انشاءاللہ حریم نے کہا
_____________
کسی لگئی آج کی اپیی سو پلیز جلدی بتائیں اگر یہ ناول بھی اچھا نہیں لگ رہا تو سٹوپ کر دیتی ہوں ۔

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malaika Sheikh Writer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share