22/03/2026
قسط نمبر 9
ازقلم ہاشمی ہاشمی
نور میرا بچا میں نے ہمیشہ سے تمہیں ماں باپ کا انتظارا کیا ہے اور اس بات کا میرا خدا گوہ ہے لیکن تمہاری ماں اس دنیا میں نہیں رہی اب مجھے میں ہمت نہیں ہے کہ میں تمہیں بینا رھ لو آج تمہیں فون ایا میرے دل میں کچھ ہوا میں بہت ڈدر گیا تھا میری گڑیا
عبداللہ صاحب نے نور کے سر پر ھاتھ رکھا کر کہا
بابا ایسی باتے نہیں کرے سوری مجھے پتا نہیں تھا کہ طعبیت انتی خراب ہو جاے گئی ورنہ میں یونی نہیں جاتی اور نہ مسڑ سیئنر کی مدر لینی پڑتی
نور نے عبداللہ صاحب کے سینے پر سر رکھا کر کہا
نور ایسے نہیں کہتے اس بچے نے تمہاری مدر کی ہے تم اس کا شکریہ کرو گئی عبداللہ صاحب نے کہا
ان کی بات پر نور نے منہ بنایا
بابا میں نہیں کرو کی کوئی شکریہ وکریہ ان کا نور نے کہا
اچھا ٹھیک ہے نہ کرنا میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں عبداللہ صاحب نے کہا اور چکن میں چلے گئے
ایک بات وہ جانتے تھا کہ نور نے کیسی بات پر نہ کر دی تو کوئی ھاں نہیں کرو سکتا اس سے
_____________________
آج نور یونی ائی تھی دو دن بعد اس نے کلاس لی
اور اب وہ گھاس پر بیٹھ کر کاپی پر کچھ نوٹ کر رہی تھی اس کو اپنے اوپر کیسی کی نظروں کی تپسش محصوص ہوئی
ایسا پہلی بارا نہیں ہو تھا اکثر ایسا ہی ہوتا تھا اس کی وجہ اس کا خوبصوت چہرہ تھا اس لیے اس کو اپنی خوبصوتی سے نفرت تھی ایک دو بارا اس نے نقاب کرنے کا سوچ اور کیا بھی لیکن اس کو سانس لینے میں مسلہ ہوا اور ہپستال جانے پڑا تو عبداللہ نے اس کو منع کر دیا نقاب کرنے سے بچپن سے ہی نور کو سانس کا مسلہ تھا
نور اپنے کام میں مصروف رہی لیکن کوئی مسلسلہ اس کو دیکھا رہا تھا غصہ میں نور نے دیکھا تو سر توحید تھے نور نے گہرا سانس لیا اور سر کے پاس آئ
اسلام و علیکم سر نور نے کہا
سر کے سر ہلا کر جواب دیا سر کوئی مسلسلہ ہے آپ کو کچھ کہنا ہے نور نے پوچھا
اس کی بات پر سر مسکرائے نہیں کوئی مسلسلہ نہیں ہے
ٹھیک ھے سر نور نے ضبط کرتے ہوے کہا اور وہاں سے جانے لگئی تھی توحید بولا مس نور طبعیت کیسی ہے اب آپ کی میں نے سن تھا کہ آپ یونی میں بے ہوش ہو گئی تھی
جی ٹھیک سن ہے آپ نے اب میں ٹھیک ہو اور آنئدہ اگر آپ نے مجھے اس طرح دیکھا تو میں یہ بھول جاو گئی کہ آپ میرے ٹیچر ہے نور نے غصہ سے کہا اور چلی گئی
آہ نور تمہاری یہ ہی ادا پر ہی میں مر گیا ہو توحید نے ایک گہری نظر نور پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا
______________________
ھلیو ہاں میں نے تم سے کچھ کہا تھا اس دن RD نے کیسی کو فون پر کہا اگے سے جو خبر ملی وہ سن کر R,D نے غصہ سے فون زمیں پر دے مارا
کچھ دیر بعد خود پر قابو پایا آزان R,D نے آزان کو آواز دی آزان کچھ ہی وقت میں R,D کے سامنے تھا
جی باس آزان نے کہا
آزان کام ہو گیا باس نے پوچھا جی باس گاڈھی تیار ہے آج رات. لڑکیوں دبئی پہیچ جائے گئی
گڈ باس نے کہا باس ایک بات پوچھوں آپ سے آزان نے کہا
ھاں بولو بوس آپ نے ایک لڑکی کا کہا تھا وہ نہیں جائے گئی کیا آزان نے پوچھا
اس کی بات پر بوس مسکرایا اس کو نور یاد ائی.
نہیں وہ چڑیل مجھے بہت پسند آئ ہے وہ میری منظور نظر ہو گئی
اس کی بات پر آزان ضبظ کر گیا جی بوس میں جاو
ٹھیک ھے باس نے کہا اور خود نور کے بارے میں سوچنے لگا
باہر اکر( آزان یعنی بلال ) نے شاہ کو فون کیا
_____________________
نور یونی سے واپس آرہی تھی کہ اچانک وین رکی
کیا ہوا چچا نور نے وین والے سے پوچھا
بیٹا لگتا ہے وین خراب ہو گئی ہے وین والے نے پریشان ہو کر کہا
اب کیا ہو گا نور بھی پریشان ہو گئی میں کوئی راکشہ دیکھتا ہو تم اس میں بستی چلی جانا وین والے نے کہا ٹھیک ہے نور نے کہا
اچانک ایک کار اکر رکی اور بلال باہر آیا نور کو وہ دیکھا چوکا تھا
کیا ہوا کوئی مسلہ ہے بلال نے پوچھا نور بلال کو دیکھا کر خوش ہوئی
اووو بلال بھائ آپ نور نے کہا
جی میں کیا ہوا بلال اس کو خوش دیکھا کر مسکرایا
نور نے ساری بات بتائی اوو چلے میں آپ کو گھر ڈاپ کر دیتا ہو بلال نے کہا
بلال کی بات پر نور کنفثور ہو گئی پھر بولی نہیں بھائ میں خود چلی جاو گئی
اس کو کنفثور دیکھ کر بلال بولا نور بہنا پلیز ائے میں چھوڑ دیتا ہوں
کیا کچھ تھا بلال کے لہجہ میں مان عزت جو نور نے محصوص کیا اور وہ چاہ کر بھی منع. نہیں کر سکی
بلال نے نور کے گھر کی گلی کے پاس گاڑھی رکی
بھائ ائے نا گھر میں بابا سے آپ کو ملوتی ہو نور نے گاڑھی سے اترتے ہوے کہا
نہیں مجھے کچھ کام ہے پھر کبھی بلال نے منع کیا
بھائ میں کوئی نہیں نہیں سن رہی ابھی اندر چلے نور نے حکم دیتا ہوے کہا
اس کے حکم دینی پر بلال مسکرایا ٹھیک ہے چلے
اسلام و علیکم بابا نور نے گھر اکر عبداللہ صاحب سے کہا
بچا آج انتی لیٹ میں ارشد (وین والے) کو فون کر رہا تھا اس نے نہیں اٹھا عبداللہ صاحب نے کہا
جی بابا یہ بلال بھائ ہے اور پھر نور نے ساری بات بتائی اسلام و علیکم انکل بلال جو چپ اپنی ڈول کو سن رہا تھا بولا
بھائ پلیز بیٹھ میں چائے لے کر اتی ہوں نور نے کہا
نور چائے بننا چلی گئی اور عبداللہ صاحب اور بلال باتے کرنے لگ
انکل نور کیسی پر گئی ہے میرا مطلب آپ پر یا آنٹی پر نہیں گئی بلال نے عبداللہ صاحب کی بیوی کی تصیور دیکھ کر کہا
نہیں بیٹا ہم پر ابھی عبداللہ صاحب بات پوری ہی کرتے نور چائے لے کر اندر ائی
نہیں بھائ میں کیسی کی ناجائز اولاد ہو نور نے مزہ سے کہا
اور بلال اس کو کرنٹ لگ نور کے الفاظ تھا کہ کوئی بم بلال کو لگ اب سانس نہیں آے گا
نور عبداللہ صاحب نے نور کو آنکھیں دیکھائی
ایسے نہیں کہتے بچے عبداللہ صاحب نے کہا
اوکے بابا ہمیشہ کی طرح نور نے جواب دیا
اور بلال وہ اکھڑ ہوگیا انکل مجھے کچھ کام ہے میں چلتا ہو بلال نے کہا اور وہاں سے چلا گیا پیچھے نور آواز دیتی رہ گئی
گاڑھی میں بیٹھ کر بلال نے گاڑھی چلانی شروع کر دی بلال کو کچھ بھی سنئنی نہیں دے رہا تھا بس نور کے الفاظ
"میں کیسی کی ناجائز اولاد ہو "
"میں کیسی کی ناجائز اولاد ہو "
قسط نمبر 10
ازقلم ہاشمی ہاشمی
بلال گھر آیا تو وارث اس کا انتظارا کر رہا تھا بلال کہاں تھا تو کب سے فون کر رہا ہوں وارث نے غصہ سے پوچھا
جبکہ بلال نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے روم کی طرف چل پڑا وارث اب پریشان ہوا گیا اور بلال کے پیچھے ایا بلال کیا ہوا یار وارث نے پوچھا کچھ نہیں شاہ مجھے ابھی بات نہیں کرنی جاو یہاں سے بلال نے کر اور بیڈ پر لیٹ گیا
بلال کیوں پریشان ہے تمہیں پتا ہے نا کہ آج رات کتنی اہم ہے وارث نے کہا
ہاں پتا ہے میں تیار ہو بلال نے کہا پریشانی اپنی جگہ لیکن فرض پہلے
بلال RD کی وجہ سے پریشان ہے وارث نے پوچھا نہیں یار بس آج کی رات اور کل اس RD کا کام ختم ہو جائے گا بلال نے کہا
انشاءاللہ وارث نے کہا لیکن بلال کل کا دن بہت اہم ہے آج رات ہم لڑکیوں کو بچا لیے گئے
لیکن نور کے بارے میں کیا سوچا ہے شاہ بلال نے پوچھا
اس کی فکر نہیں کرو دعا اور زویا اس کے پاس ہوئی گئی وارث نے کہا لیکن تو پریشان کیوں ہے وارث نے پوچھا پھر کبھی بتاو گا بلال نے ٹلانا چاہا اس کی بات پر شاہ نے گھورا
اس کے گھورانے پر بلال بولا یار ایسے نہیں دیکھا بلال نے کہا لیکن مسلسلہ اس کو گھورا رہا تھا
بلال نے تنک اگر اس کو ساری بات بتائی اور اپنی ڈول کے الفاظ بھی اس کی بات سن کر شاہ نے کچھ نہیں کہا اس کو نکاح کا دن یاد ایا تھا
یار سب ٹھیک ہو جائے گا وارث نے کہا امید ہے مجھے بھی بلال نے افسوس سے کہا
_________________________
نور یونی میں تھی جب ایک لڑکے اس کے پاس ایا
مسں نور آپ کو سر توحید بلا رہے ہے لڑکے نے کہا
اس کی بات غصہ کر نور کو غصہ ایا لیکن ضبط کر گئی سر کہاں ہے نور نے پوچھا جی وہ یونی کی بیک سائیڈ پر لڑکے نے کہا اور چلا گیا
نور اس جگہ پر گئی وہاں کوئی نہیں تھا نور واپس جانے لگئی جب کیسی نے اس کے منہ پر ھاتھ رکھا اور وہ بے ہوش ہو گئی
نور کہاں ہے دعا نے زویا سے پوچھا یار ادھر ہی تھی زویا نے کہا یار وہ کہاں نظر نہیں آرہی ہے چلو دیکھتے ہے اس کو
____________________
شاہ اور بلال اس پر RD کے اڈید پر موجود تھے انہوں نے لڑکیوں کو وہاں سے نکالا اور اس جگہ پر موجود تمام مال یعنی (شرب ،مختلف اقسام کے ڈگز ) کو آگ لگا دی
اس کے وقت شاہ کے فون پر کال ای اس کو سن کر وارث پریشان ہو گیا اور بلال کو لے کر یونی ائی
________________________&
کہاں تھی آپ دونوں ایک کام کہا تھا آپ سے وہ بھی نہیں ہو وارث ان دونوں پر غصہ کر رہا تھا
سوری سر مسں نور کلاس میں ہی تھی پھر اچانک ہی غائب ہو گئی دعا نے کہا
شاہ اس سے پہلے اور کچھ کہتے بلال بولا ٹھیک ہے جائے آپ
شاہ یہ وقت غصہ کرنا کا نہیں ہے کنٹرول کر بلال نے کہا ٹھیک ہے پلین بی اس ہی وقت شروع کرتے ہے RD یہ تم نے اچھا نہیں کیا وارث نے غصہ سے کہا
___________________________
نور کو ہوش ایا تو خود کو ایک کمرے میں پایا
کچھ وقت لگا پھر سب یاد ایا
اللہ پھر کیسی نے مجھے اغوہ کر لیا ہے نور نے کہا اور کمرے میں ٹہلے لگئی اس وقت کمرے کا درواذ کھولا اور RD اندر ایا نور اس کو دیکھا کر پریشان ہو گئی
سر آپ نے مجھے اغوہ کیا ہے نور نے پوچھا ہاں میری چڑیا سر توحید یعنی RD نے کہا
نور تم مجھے پہلے ہی دن پسند آئ تھی آہستہ آہستہ تم نے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا ہے توحید نے کہا
سر دیکھا میں آپ نے بہت عزت کرتی تھی لیکن آپ عزت کے قابل نہیں ہے نور نے غصہ سے کہا
اوووو رسی جل گئی بل نہیں گیا نور یہ نہیں بھولوں تم اس وقت میرے بیڈ روم میں موجود ہو توحید نے کمنیگی سے کہا
اس کی بات پر نور مسکرائ تم نے مجھے اگر ھاتھ بھی لگیا تو میں تمہارا منہ توڑا دو گئی
اس کی بات پر توحید مسکرایا اور ایک گہری نظر سے نور کو دیکھا اور اس کی طرف ایا
اووو تم نازک سی کیا کرلو گئی بےبی توحید نے کہا اور اس پر جھکا
نور نے ایک ٹھپر اس کے منہ پر مار اس کی حرکت پر توحید کو غصہ ایا اور اس کے نور کے بالوں سے پکرا اور ایک ٹھپر اس کے منہ پر مار اور نور نیچے گرئی اور سر پر بیڈ کا کونا لگا اور ماتھے سے خون نکالنا شروع ہوگیا
گالی تیری ہمت کیسے ہوئی RD کو مارنے کی توحید نے غصہ سے کہا اور نور کو پکرا کر بیڈ پر پیھکا اور اپنی شرٹ کے اتاری اور نور کے پاس ایا
نور مسلسلہ مزاحمت کررہی تھی اور زبان پر اللہ کا نام تھا
اس ہی وقت شاہ اندر ایا RD شاہ کو دیکھا کر پریشان ہوا تم جبکہ وہ نور پر جھکا تھا وارث غصہ سے توحید کے پاس ایا اور اس کو مارانا شروع ہو گیا اور نور پریشان سی شاہ کو دیکھا رہی تھی جو اس وقت آرمی یونفارم میں تھا
نور نے جلدی سے اپنا دوپٹہ سر پر لیا جو کہ توحید سے لڑئی کے وقت زمیں پر گر گیا تھا نور کا سر چکرا رہا تھا اس ہی وقت بلال اندر ایا شاہ چھوڑ اس کو مر جائے تھا بلال نے کہا
بلال اس کی ہمت کیسے ہوئی نور کو ھاتھ لگنے کی شاہ نے کہا اور نور کے پاس ایا نور تم ٹھیک ہو شاہ نے پوچھا دور ہو کر بات کرتے یہ سب کیا ہے نور نے پوچھا ٹھیک ہے لیکن پہلے چلو یہاں سے شاہ نے کہا اور نور کا ھاتھ پکرا لیکن نور اس ہی وقت بے ہوش ہو گئی نور نور شاہ نے اس کے گال پر ھاتھ رکھا کر کہا
__________________________
ڈاکٹر باہر آیا ان کے سر پر بہت چوٹ ائی ہے اس کی وجہ سے یہ بے ہوش ہوئی ہے ہوش انے میں کچھ وقت لگا گا لیکن کچھ دن سر میں درد رہے گا ڈاکٹر نے کہا اور چلا گیا
نور کو ہوش ایا تو خود کو ہپستال کے روم میں پایا سامنے شاہ بیٹھ کر اس کو دیکھا رہا تھا اس کو دیکھا کر نور اٹھا کر بیٹھ گئی
یہ سب کیا تھا نور نے پوچھا اب آپ کیسی ہے نور وارث نے اس کے سوال کو نظراندرذ کیا یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے مسٹر آفیسر نور نے کہا
توحید ایک برا انسان تھا وہ یونی سے لڑکیوں کو غائب کروتا اور ان کو بیچ دیتا اور اس کے علاوہ وہ اور بھی بہت سے ایسے کام کرتا تھا جو اس ملک کے لیے نقصان دے ہے میں بہت دیر سے اس ے پیچھے تھا اللہ نے آج مجھے کامیاب کیا ہے وارث نے کہا
نور اس کی بات غور سے سن رہی تھی پھر کچھ یاد ایا میں یہاں کب سے ہو نور نے پوچھا
کل سے وارث نے جواب دیا کیونکہ پوری رات نور بے ہوش رہی تھی
آپ نے بابا کو بتایا نور نے پریشان ہو کر پوچھا اس کی بات پر شاہ بھی پریشان ہو گیا کل اتنا سب ہو گیا تھا کہ عبداللہ صاحب کا خیال ہی نہیں آیا
اچھا آپ پریشان نہیں ہو میں فون کرتا ہو وارث نے کہا نہیں مجھے گھر جانا ہے پلیز نور نے کہا
ابھی آپ کی طعبیت ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر چھٹی نہیں دے گا وارث نے کہا
پلیز مجھے گھر جانا ہے میرے بابا پریشان ہو رہے ہو گئے نور نے کہا
شاہ نور کو اس کے گھر لایا نور گھر ائی کو عبداللہ صاحب کہی نظر نہیں ائے بابا بابا بابا نور آواز دینے لگئی
نور روم میں آئ تو اس کی نظر اپنے بابا پر پڑی جو بے ہوش تھے وہ جلدی سے ان کے پاس آئ بابا بابا آنکھیں کھولے بابا
اسلام علیکم ریڈرز!! کیسے ہیں سب ؟؟اور عید کیسی گزری سب کی اور ناول کیسا لگ رہا ہے اگر اچھی سٹوری نہیں لگ رہی تو میں چھوڑ دیتی ہوں بتائیں سب مجھے ریسپانس تو اچھا نہیں مل رہا ۔۔