Muhammad Ahmad

Muhammad Ahmad Quran and Hadees
Bayanaat
Personal writes
and Tableegh

‎🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 ‎ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ‎   ‎* *‎    ‎ ...
12/05/2026

‎🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
‎ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

‎* *

‎ ━━❰・ *پوسٹ نمبر 15* ・❱━━━

‎ *بڑے جانوروں میں حصے*

‎ اونٹ، اونٹنی ، بیل، گائے، بھینس، بھینسا اور کٹرے میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں اور بکری، بکرا اور بھیڑ دنبہ میں صرف ایک فرد واجب قربانی کرسکتا ہے، بڑے جانوروں میں یہ ضروری نہیں ہے کہ سات افراد ہی شریک ہوں گے بلکہ سات سے کم افراد بھی شریک ہوسکتے ہیں مثلا دو افراد ملکر گائے خریدے ، البتہ سات افراد سے زیادہ وجوبی قربانی کی نیت سے شریک نہیں ہوسکتے۔

‎*تمام شرکاء کا عبادت کی نیت کرنا ضروری ہے*
‎ قربانی چونکہ ایک مستقل عبادت ہے اس لیے اس میں عبادت کی نیت بھی ضروری ہے اور بڑے جانور میں حصہ لینے والے تمام افراد کا عبادت کی نیت کا ہونا ضروری ہے، اگر کسی کی نیت محض گوشت کی ہو تو سب کی قربانی خراب ہوجائے گی، اور قربانی کے جانور میں عقیقہ اور ولیمہ کا حصہ رکھنا جائز ہے کیونکہ عقیقہ اور ولیمہ بھی عبادت ہے۔

‎📚حوالہ:
‎☆ شامی زکریا 9/472
‎☆ بدائع الصنائع زکریا 4/207
‎☆ ملتقی الابحر 4/167
‎☆ تاتارخانیہ 17/450

‎مرتب:✍
‎*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
‎+92 307 9819544
‎ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‎▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
‎ ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ   * *          ━...
10/05/2026

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* *

━━❰・ *پوسٹ نمبر 14* ・❱━━━

*فتنہ کے ڈر سے گائے کی قربانی ترک کرنا*

گائے کی قربانی کرنا اسلام میں بلاشبہ جائز ہے ، اور اس کی قربانی پر پابندی محض ظلم ہے؛ لیکن اگر کسی جگہ ملکی قانون کی خلاف ورزی سے فتنہ کے اندیشہ کی وجہ سے گائے کی قربانی سے احتراز کیا جائے تو یہ جائز ہے اور مجبور لوگ گناہ گار نہ ہوں گے۔

*قانونا ممنوع ہونے کے باوجود گائے کی قربانی اورگوشت کا حکم*
اگر کسی جگہ گائے کے ذبح پر قانونا پابندی ہو پھر بھی کسی نے قربانی میں گائے ذبح کرلی تو یہ قربانی شرعا درست ہے اور اس کے گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، کیوں کہ گائے کی قربانی شرعا جائز ہے اور فی نفسہ حلال جانور ہے جو کسی قانون کی وجہ سے حرام نہیں ہوسکتا۔

📚حوالہ:
☆ فتاوی محمودیہ ڈابھیل 17/333
☆ امداد الاحکام 4/191
☆ کتاب المسائل مع ترمیم یسیر 2/312

مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
+92 307 9819544
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                 ...
10/05/2026

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


* *
━━❰・ *پوسٹ نمبر 9* ・❱━━━

*کیا عشر ادا کرنے کے لیے زرعی اخراجات منہا کیے جائیں گے؟*
باغ اور کھیتی سے حاصل شدہ پیداوار پر جتنے اخراجات ہوتے ہیں یعنی زمین کو کاشت کے قابل بنانے سے لے کر پیداوار حاصل ہونے اور اس کو سنبھالنے تک جو اخراجات ہوتے ہیں مثلا ہل چلانا، زمین کو جڑی بوٹیوں سے خالی کرنا ، اسے ہموار کرنا ، تخم ریزی کرنا ، کھاد ڈالنا ، حفاظت کے لیے سپرے کرنا ، مزدوروں کو کٹائی وغیرہ کی اجرت دینا ، تریشر کا خرچہ وغیرہ ، غرض یہ کہ پیداوار حاصل ہونے تک تمام مراحل میں جتنے اخراجات آتے ہیں ، وہ فقہی اصطلاح میں "مونتہ الزرع" کہلاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ خرچے عشر سے منہا نہیں کیے جائیں گے بلکہ پوری پیداوار سے عشر (دسواں یا بیسواں حصہ) نکالا جائے گا۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/244 بیروت
▪☆ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 41

مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
+92 307 9819544
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

10/05/2026

”مجھ پر یہ بات بڑی گراں گزرتی ہے کہ دنیا اُن لوگوں کو ہلکان کر دے جن کے سینے میں قرآن ہے!“

(إمام أهل السنة أحمد بن حنبل رحمه الله تــ ٢٤٢ھ)

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ   * *          ━...
10/05/2026

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* *

━━❰・ *پوسٹ نمبر 13* ・❱━━━

*قربانی کے جانور اور ان کی عمریں*

شریعت مطہرہ میں ہر حلال جانور کی قربانی درست نہیں ہے بلکہ قربانی کے لیے بعض حلال جانوروں کو متعین کیا گیا ہیں، جوکہ درجہ ذیل ہیں:
☆ اونٹ ، اونٹنی (کم از کم پانچ سال کا ہو یا زیادہ ہو)
☆ گائے ، بیل، بھینس، بھینسا ( کم از کم دو سال کا ہو یا زیادہ ہو)
☆ بکرا ، بکری (کم از کم ایک سال کا ہو یا زیادہ ہو)
☆ دنبہ ، مینڈھا ، بھیڑ ( دنبہ ، مینڈھا اور بھیڑ اگر ایک سال یا زیادہ کے ہو تب تو کوئی مسئلہ نہیں البتہ اگر چھ ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن سال سے کم ہو اور اتنا موٹا ، فربہ ہو کہ اس میں اور سال کی عمر والے میں فرق محسوس نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں قربانی درست ہے، یاد رہے یہ حکم صرف بھیڑ ، دنبہ اور مینڈھا کیلئے ہے بکرا اور بکری کیلئے سال کا ہونا ضروری ہے۔
● شریعت میں جانور ، حلال یا حرام ہونے میں ماں کا تابع ہوتا ہے لہذا اگر مذکورہ جانوروں میں سے کوئی مادہ جانور کسی حرام جانور سے حاملہ ہوجائے تو بچہ حلال ہوگا اور اس کی قربانی جائز ہوگی۔
● جانوروں کی عمروں میں اسلامی قمری سال کا اعتبار ہوگا ، شمسی کا نہیں۔

📚حوالہ:
☆ الدرالمختار مع ردالمحتار زکریا 9/499
☆ ھندیہ 5/297
☆ بدائع الصنائع زکریا 4/205
☆ کتاب المسائل 2/311

مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
+92 307 9819544
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

10/05/2026
09/05/2026

تم رات کا کھانا اپنی ماں کے ساتھ کھا کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی کرو، یہ میرے نزدیک نفلی حج سے زیادہ پسندیدہ ہے-
حسن بصری رحمہ اللّٰہ

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                 ...
09/05/2026

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


* *
━━❰・ *پوسٹ نمبر 8* ・❱━━━

*کیا آبیانہ کی رقم عشر میں شمار ہوسکتی ہے؟*
حکومت زمینداروں سے جو رقم آبیانہ کے طور پر وصول کرتی ہے، دراصل یہ اس پانی کاحصول ہوتا ہے جو حکومت نہروں کے ذریعے عوام الناس کو مہیا کرتی ہے۔ یہ رقم عشر کے حکم میں نہیں ہے لہذا اس رقم کو عشر میں شمار نہیں کیا جاسکتا البتہ آبیانہ کی وجہ سے پیداوار سے عشر یعنی 10 فیصد کے بجائے پیداوار کا نصف عشر یعنی 5 فیصد حصہ نکالا جائے گا۔

*اگر پانی خرید کر زمین کو سیراب کیا جائے تو عشر کا حکم؟*
☆۔۔۔اگر پانی خرید کر کسی زمین کو سیراب کیا جائے تو اس صورت میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لازم آئے گا، آسان الفاظ میں 20 بوریوں میں سے ایک بوری اور 20 من میں سے ایک من۔ اور ریاضی کے اصطلاح میں اس کو 5 فیصد کہتے ہیں۔

📚حوالہ:
▪☆الدرالمختار 3/244 بیروت
▪☆ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 40

مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
+92 307 9819544
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

‎🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 ‎ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ‎   ‎* *‎    ‎ ...
09/05/2026

‎🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
‎ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

‎* *

‎ ━━❰・ *پوسٹ نمبر 12* ・❱━━━

‎ *گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی اس کے صاحب نصاب اہل و عیال کی طرف سے کافی نہیں۔*

‎ آج کل بعض لوگ عوام میں قربانی کے حوالے سے ایک غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ یہ کہ گھر کا سربراہ اگر اپنی طرف سے قربانی کرلے اور اس قربانی میں صاحب نصاب اہل و عیال کی قربانی کی نیت کرلے یا نیت نہ بھی کرے تو اس سربراہ کی ذاتی قربانی کی وجہ سے اس کے اہل و عیال کے دیگر تمام افراد کی طرف سے قربانی ادا ہوجائے گی اور اس کیلئے مسند احمد کی ایک روایت کا سہارا لیا جاتا ہے ، تو یہ مسئلہ یاد رکھیں کہ احناف اور متعدد ائمہ کرام رحمھم اللہ تعالی کے نزدیک ہر صاحب نصاب شخص پر قربانی واجب ہے اور ایک شخص کی قربانی دیگر صاحب نصاب افراد کی طرف سے کافی نہیں، لہذا اگر کسی گھر میں صرف سربراہ ہی صاحب نصاب ہو تو ایک قربانی کافی ہوگی اور اگر سربراہ کے علاوہ دیگر افراد بھی صاحب نصاب ہو تو ہر ایک پر اپنے حصے کی قربانی لازم ہوگی، اور مسند احمد کی روایت کا مذکورہ مطلب جو بعض لوگ لیتے ہیں جمہور محدثین کرام اور فقہاء عظام رحمھم اللہ تعالی کے مطلب کے خلاف ہے۔

‎ 📚حوالہ:
‎☆ قربانی شریعت کے مطابق کیجیے۔ ص 98-91
‎☆ عمدة القاری ، باب الاشتراک فی الھدی و البدن

‎مرتب:✍
‎*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
‎+92 307 9819544
‎ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‎▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
‎ ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                 ...
08/05/2026

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


* *
━━❰・ *پوسٹ نمبر 7* ・❱━━━

*عشر کے لیے سال گزرنا شرط نہیں ہے۔*
جس طرح زکواة میں مال زکواة پر سال کا گزرنا ضروری ہے اس طرح عشر واجب ہونے کے لیے پیداوار پر سال کا گزرنا شرط نہیں ہے بلکہ جب بھی پیداوار حاصل ہوجائے تو عشر ادا کرنا واجب ہوگا۔

*اگر پانی مفت ہو لیکن دیگر اخراجات ہوں تو عشر ہے یا نصف عشر؟*
☆۔۔۔ پیداوار پر عشر یعنی 10 فیصد یا نصف عشر یعنی 5 فیصد لازم ہونے کا تعلق پانی کے خرچہ یا اس پر ہونے والی محنت کے ساتھ ہے ، لہذا اگر زمین کو ایسے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے جس پر خرچہ نہیں آتا تو محض کھاد ، بیچ اور اسپرے وغیرہ کے خرچہ کی وجہ سے حکم میں تبدیلی نہیں آئے گی اور بدستور عشر یعنی 10 فیصد ہی لازم آئے گا۔ خلاصہ یہ کہ کھاد، بیچ اور اسپرے وغیرہ کے خرچہ کو منہا نہیں کیا جائے گا۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/244 بیروت
▪مبسوط 3/4

مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
+92 307 9819544
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ *مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ* █▓
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

Address

Street No 3
Multan
66000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share