09/03/2026
____“ گشتی عورتیں “
عمارہ درمیانے قد آور سانولے رنگ کی خوبصورت لڑکی تھی
میں تب بمشکل دس سال کا ہوں گا جب اس کا نکاح اس کے کزن سے پڑھایا گیا تھا
وہ لڑکا گونگا تھا اور اپاہچ بھی، یہ افواہ پھیل چکی تھی کہ وہ حاملہ ہو گئی تھی اسلئے اسے علی گونگے کے سر تھونپ دیا گیا ہے
نکاح سے اگلے دن اس کی ماں بازار میں روتی ہوئی نکلی اور سر پیٹنے لگی... جنت نے خود کشی کر لی تھی۔
اس کو آخری بار میں نے تب دیکھا تھا جب اس کی میت کو غسل دیا گیا مجھے یاد ہے اس کے ہونٹ سیاہ ہو چکے تھے۔
یہ میری بلوغت سے بہت پہلے کی بات ہے مجھے ہمیشہ اس سے عجیب سی کشش محسوس ہوتی تھی تب مجھے ادراک نہیں تھا لیکن اگر اب میں اسے انایلسز کروں تو اسے سیکشوئل اٹریکشن کا نام دیا جا سکتا ہے
جب وہ مر گئی تو میں نے اس کے تایا کے منہ سے سنا تھا
“ کالک تھی وہ۔۔۔ شکر ہے خود ہی صاف ہو گئی ورنہ کون اس گشتی کا قتل اپنے ذمے لیتا “
یہ “ گشتی “ لفظ تب دیر تک میرے ذہن میں بجتا رہا۔
ایک بار جب میں صبح مدرسہ سے واپس آ رہا تھا تو ایک فائر کی آواز نکلی اور اس کے ساتھ ایک چیخ جو نکلتے ہی دب گئی
عمران نے اپنی بڑی بہن کو مار دیا تھا، میں اور ممتاز بھاگتے ہوے ان کے گھر گئے
گھر کے دروازے پہ اس کی ماں سر پیٹ رہی تھی
اس کا ابا ایک چارپائی پہ سر جھکائے بیٹھا تھا دوسری طرف کوثر کا مردہ جسم خون سے لت پت پڑا تھا۔
میں نے اس روز اماں سے پوچھا
“ کیا کوثر بھی گشتی عورت تھی “
امی نے میری طرف دیکھا تو سہی لیکن کوئی جواب نہیں دیا
لیکن یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی تھی کہ کچھ عورتیں گشتی ہوتی ہیں جنہیں مار دینا چاہیے
کوثر کی موت کے ایک سال بعد عمران ( جس نے کوثر کو قتل کیا تھا ) نے اپنے ایک کلاس فیلو کی بہن کو گھر سے بھگا لیا اور کورٹ میرج کر لی۔
محلے کی عورتیں عمران کی اس بیوی کو بھی گشتی کہہ رہی تھیں
لیکن میرا سوال تھا کہ اگر وہ بھی گشتی ہے تو عمران نے اسے اسی طرح قتل کیوں نہیں کر دیا جیسے اپنی بہن کو کیا تھا؟
فیصل اور میں پانچویں کلاس میں ایک ساتھ بیٹھتے تھے
کلاس میں سب جانتے تھے کہ جب وہ ڈیڑھ سال کا تھا تو اس کی ماں اسے چھوڑ کر کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی
اس کے بعد اس کا وجود گالی بن گیا
کلاس میں وہ کسی سے بھی اونچی آواز میں بات کرتا تو اسے وہی گالی سننے کو ملتی
وہ ماں کے کئے اس گناہ کی سزا بھگت رہا تھا جس سے متعلق اسے شناسائی بھی نہ تھی
ایک بار جب میری اس سے لڑائی ہوئی تو میں نے بھی اسے وہی گالی دی
“ گشتی کی اولاد۔۔۔۔ “
اس نے اس کے بعد مجھ سے کچھ نہیں کہا اور اپنا بیگ اٹھا کر آخر میں جا کر بیٹھ گیا
اس کے بعد کے دن وہ ہمیشہ اکیلا ہی بیٹھتا تھا
اور میں جیسے ہی اسے دیکھتا اپنی ہی نظروں میں گر جاتا
پہلی بار مجھے احساس گناہ تب محسوس ہوا تھا جس نے شدت سے مجھے بھینچا
میں نے بہت بار اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن میرا ریگڑٹ ایسا تھا کہ مجھے اپنے وجود سے کوفت ہونے لگی۔
جس دن ہمارا آخری پیپر تھا میں نے اسے ایک خط لکھا تھا
کاش کہ وہ خط میرے پاس ہوتا ، جس کا بقیہ متن تو میں بھول گیا ہوں لیکن اتنا یاد ہے کہ میں نے اس سے معافی مانگی تھی
پھر میں اس سے ملنے بھی گیا اور اس کے پیروں پہ ہاتھ رکھ کر کہا کہ تو اگر معاف کر دے تو۔۔۔۔۔
وہ بڑا انسان تھا اس کی اعلی ظرفی کہ اس نے مجھے معاف کر دیا لیکن وہ ریگرٹ اب بھی میرے اندر موجود ہے جس کے بچھو ابھی بھی مجھے ڈستے ہیں
فیصل سے ملے ہوے ایک عرصہ ہو گیا ہے اب تو رابطہ بھی نہیں ہے
ایک بار میں نے اسے گھر بلایا تھا اور امی سے ملوا کر کہا کہ میری ماں تیری بھی ماں ہی ہے
وہ خوش ضرور ہوا لیکن اسے احساس تھا کہ کوئی مروت میں جو بھی کہے
ماں تو صرف اپنے والی ہی ہوتی ہے۔
فیضان میٹرک میں میرا کلاس فیلو تھا، استاد کہتے تھے کہ فیضان کا دماغ شیطانی چرکھا ہے جسے کبھی بھی سکون نہیں پڑتا
وہ ایسا ہی تھا کسی بھی بات کو سیریس نہ لینے والا اور ہر بات کو جُگت میں اڑا دینے والا
ایک دن غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ وہ میرے پاس آیا کہ اسے مجھ سے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔
“ عامر وہ ہم بھائیوں میں سب سے بڑی تھی، ابا نے بہت کوشش کی کہ اس کی شادی ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، اس سے چھوٹی تینوں بہنیں ہم نے بیاہ دی تھیں
بیچ میں ایسا ہوتا تھا کہ وہ راتوں کو غائب ہو جاتی تھی پہلے پہل یہ بات گھر میں صرف مجھے معلوم پڑی اور میں نے اس سے بات کرنا چھوڑ دی
پھر ابا کو بھی بھنک پڑی تو وہ اسے مارنے لگے، اسے پیٹتا دیکھ کر مجھے عجیب سی تسکین ملتی تھی
پھر ایک دن گاؤں میں یہ خبر پھیل گئی کہ وہ پچھلی رات فلاں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے
اور اس سے اگلی رات جب وہ سوئی ہوئی تھی تو مجھ سے بڑے بھائی نے اس کا گلا دبا دیا “
( یہاں آ کر فیضان کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہنے لگے )
“ اس کے مرنے سے مجھے بہت خوشی ہوئی لیکن اب میں راتوں کو سو نہیں سکتا
مجھے بار بار اس کی یاد آتی ہے جب وہ مجھے کھیلاتی تھی اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے ہی علی نے اس کا گلا دبا دیا “
میں نے کچھ بھی کہے بغیر اس کی پوری بات سنی
اس نے آخر میں مجھ سے کہا
“ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں بہن سے محبت کرو یا ایک گشتی سے نفرت ؟د____🌼
( نام فرضی ہیں لیکن واقعات اور کردار حقیقی ہیں )